jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان میں امن کی خواہش، قومی سلامتی اور پانی کے تحفظ کا عزم

تجزیہ بی این پی
پاکستان کی قومی تاریخ میں بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب ایک قوم اپنے ماضی کی کامیابیوں کو یاد کرتے ہوئے مستقبل کے لیے نئے عزم کا اظہار کرتی ہے۔ اسلام آباد میں یادگارِ فتح کے افتتاح کی تقریب بھی اسی نوعیت کا ایک اہم موقع تھی، جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی، ملکی خودمختاری، امن، علاقائی استحکام اور دفاعِ وطن کے حوالے سے واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کیا۔ تقریب میں جہاں معرکہ حق میں کامیابی کو خراج تحسین پیش کیا گیا، وہیں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن کا خواہش مند ہے۔ تاہم امن کی خواہش کو کسی بھی صورت کمزوری نہیں سمجھا جا سکتا اور قومی مفادات، خصوصاً پانی کے بنیادی حق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ اعلان کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ریڈ لائن ہے، موجودہ علاقائی حالات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت، زراعت، خوراک، صنعت اور انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ دریاؤں کا پانی لاکھوں ایکڑ زرعی زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے پانی کے مسئلے کو قومی سلامتی کے وسیع تر تناظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم کی جانب سے پانی کے تحفظ کو قومی ترجیح قرار دینا اس امر کا اظہار ہے کہ پاکستان اپنے بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے سیاسی، سفارتی اور قانونی تمام راستے استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے جنگ کے بجائے امن کی خواہش کا اظہار کر کے پاکستان کی مجموعی خارجہ پالیسی کا ایک اہم پہلو بھی واضح کیا۔ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ جنگ کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع، معاشی تباہی، نقل مکانی اور علاقائی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اگر تنازعات کو مذاکرات، سفارت کاری اور عالمی قوانین کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے تو یہی راستہ زیادہ بہتر اور پائیدار ہے۔ تاہم امن کے لیے آمادگی کا مطلب یہ نہیں کہ قومی خودمختاری، سلامتی اور بنیادی حقوق پر خاموشی اختیار کر لی جائے۔
بھارت کے حوالے سے وزیراعظم کا پیغام بھی اسی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اگر بھارت نے راہ راست اختیار نہ کی تو پاکستان اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ اس مؤقف میں جارحیت کی خواہش نہیں بلکہ دفاعی صلاحیت اور قومی خوداعتمادی کا اظہار ہے۔ جنوبی ایشیا کی دو بڑی جوہری ریاستوں کے درمیان کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک جذباتی بیانات کے بجائے ذمہ دارانہ سفارت کاری، بامعنی مذاکرات اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کریں۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** پاکستان کے لیے سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قومی سلامتی اور امن کی پالیسی کو ایک دوسرے کی ضد نہ بنایا جائے۔ مضبوط دفاع امن کے لیے رکاوٹ نہیں بلکہ بعض اوقات امن کی ضمانت بنتا ہے، جبکہ مؤثر سفارت کاری جنگ کے امکانات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ پاکستان کو اسی متوازن حکمت عملی کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف ملک کو اپنی دفاعی صلاحیت، آبی حقوق اور سرحدی سلامتی کا تحفظ کرنا چاہیے اور دوسری طرف دنیا کو یہ پیغام بھی دینا چاہیے کہ پاکستان تصادم کے بجائے تعاون اور استحکام کا حامی ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کے عمل میں دنیا کے ساتھ ہے اور کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا۔ یہ مؤقف پاکستان کی اس کوشش کو نمایاں کرتا ہے جس کے تحت وہ علاقائی اور عالمی تنازعات میں ایک ذمہ دار اور مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ موجودہ دور میں کسی ملک کی طاقت صرف اس کی عسکری صلاحیت سے نہیں ناپی جاتی بلکہ سفارتی اثر و رسوخ، اقتصادی استحکام، عالمی اعتماد اور بحرانوں کے حل میں اس کے کردار کو بھی اہمیت حاصل ہے۔
پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرنے کا حوالہ بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ اگر پاکستان مختلف فریقوں کے درمیان رابطے اور مفاہمت کا ذریعہ بن سکتا ہے تو اس سے نہ صرف عالمی سطح پر ملک کا مثبت تشخص مضبوط ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کے سفارتی مفادات کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔ آج دنیا کو ایسے ممالک کی ضرورت ہے جو طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے، مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔فلسطین کا مسئلہ بھی تقریب میں زیر بحث آیا اور غزہ میں انسانی المیے کو ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ پاکستان طویل عرصے سے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا آیا ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں فلسطین کے مسئلے پر انسانی بنیادوں پر مؤثر آواز اٹھانا نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ دنیا میں امن اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک انسانوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کا احترام نہ کیا جائے۔
اسی طرح مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا اصولی مؤقف بھی واضح ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا ہے اور ان کی قربانیوں کو فراموش نہ کرنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔ تاہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی سفارتی اور سیاسی ذرائع کو ترجیح دینا خطے کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے مسئلہ کشمیر کے انسانی پہلو، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کو مسلسل اجاگر کرتے رہنا چاہیے۔
افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم کا یہ پیغام بھی قابل توجہ ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم ہیں، مگر دہشت گردی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ افغانستان میں پائیدار امن پاکستان کے لیے بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ ایک پرامن افغانستان خطے میں تجارت، رابطوں اور معاشی تعاون کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ اور مؤثر سکیورٹی تعاون ناگزیر ہے۔
یادگارِ فتح کا قیام بھی محض ایک عمارت یا یادگار کی تعمیر نہیں بلکہ قومی یادداشت کو محفوظ رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ قومیں اپنے ماضی کی کامیابیوں، قربانیوں اور تجربات سے مستقبل کا راستہ متعین کرتی ہیں۔ شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھنا نئی نسل میں حب الوطنی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے۔ تاہم ایسی یادگاروں کا اصل مقصد صرف جذبات کو ابھارنا نہیں بلکہ قوم کو اتحاد، نظم و ضبط، محنت اور امن کی اہمیت کا شعور دینا بھی ہونا چاہیے۔
تقریب میں مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، پولیس اور مختلف صوبوں و علاقوں کے دستوں کی شرکت نے قومی وحدت کی خوبصورت تصویر پیش کی۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے دستوں کے ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پولیس کے اہلکاروں کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ پاکستان کی دفاعی اور قومی قوت مختلف اکائیوں کے اتحاد سے تشکیل پاتی ہے۔ قومی پرچم تلے مختلف علاقوں کے افراد کا یکجا ہونا اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ملک کی سلامتی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تقریب میں جدید ٹیکنالوجی، فن تعمیر اور قومی تاریخ کو یکجا کرتے ہوئے یادگارِ فتح کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک علامت بنانے کی کوشش کی گئی۔ قومی پرچم کشائی، دستوں کی سلامی اور فضائی مظاہرے نے تقریب کو وقار بخشا، لیکن اس پورے منظرنامے کا بنیادی پیغام یہی ہونا چاہیے کہ قومی طاقت کا اصل مقصد ملک کے شہریوں کو محفوظ، باوقار اور خوشحال مستقبل فراہم کرنا ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** پاکستان کو آج ایک ایسے قومی بیانیے کی ضرورت ہے جس میں دفاعی قوت کے ساتھ معاشی ترقی، سیاسی استحکام، تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی انصاف کو بھی قومی سلامتی کا حصہ سمجھا جائے۔ ایک مضبوط ملک صرف مضبوط دفاع سے نہیں بنتا بلکہ مضبوط معیشت، مستحکم اداروں اور متحد معاشرے سے بھی بنتا ہے۔ اگر قوم اپنے اختلافات کو سیاسی اور جمہوری دائرے میں رکھتے ہوئے قومی مفادات پر متحد ہو جائے تو پاکستان داخلی اور خارجی دونوں چیلنجز کا زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکتا ہے۔
قومی اتحاد کے حوالے سے وزیراعظم کا یہ کہنا بھی اہم ہے کہ اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے ایک فطری عمل ہے۔ سیاسی جماعتیں پالیسیوں پر اختلاف کر سکتی ہیں، حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر تنقید کر سکتی ہیں، لیکن ریاستی مفادات، قومی سلامتی اور عوامی بہبود کے معاملات پر ایک وسیع تر اتفاق رائے ضروری ہے۔ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنا ملک کے اداروں اور معاشرتی یکجہتی کو کمزور کرتا ہے۔
پاکستان کو آنے والے برسوں میں کئی پیچیدہ چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، معاشی دباؤ، دہشت گردی، علاقائی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت ایسے مسائل ہیں جن سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی درکار ہے۔ پانی کے معاملے پر پاکستان کو عالمی سطح پر مؤثر سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اپنے اندر بھی پانی کے بہتر انتظام، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، جدید آبپاشی اور پانی کے ضیاع کی روک تھام پر توجہ دینا ہوگی۔
اسی طرح امن کے لیے پاکستان کی خواہش کو عملی سفارت کاری میں تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔ امریکہ، چین، ترکیہ، ایران، خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو اقتصادی اور سفارتی بنیادوں پر مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اگر علاقائی تجارت، توانائی، مواصلات اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو آگے بڑھاتا ہے تو اس کی معاشی طاقت میں اضافہ ہوگا اور یہی معاشی استحکام مستقبل میں قومی سلامتی کو مزید مضبوط کرے گا۔
یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب کا سب سے مثبت پہلو یہی ہے کہ اس میں فتح کے فخر کے ساتھ امن کا پیغام بھی دیا گیا۔ دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت پر اعتماد رکھتا ہے، اپنی خودمختاری اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، مگر جنگ کو اپنا مقصد نہیں سمجھتا۔ یہی توازن ایک ذمہ دار ریاست کی پہچان ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی جذبات کو وقتی نعروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں تعمیر وطن کی قوت بنایا جائے۔ شہدا کی قربانیاں ہم سے تقاضا کرتی ہیں کہ ہم ملک کو مضبوط، مستحکم، خوشحال اور پرامن بنائیں۔ آزادی کی اصل قدر بھی یہی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ، انصاف، معاشی مواقع اور باوقار زندگی فراہم کرے۔
یادگارِ فتح آنے والی نسلوں کو ماضی کی داستان ضرور سنائے گی، لیکن اس یادگار کا حقیقی پیغام اس وقت مکمل ہوگا جب پاکستان دفاعی اعتبار سے مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی، سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی مستحکم ملک بنے۔ پانی کے تحفظ کو قومی ترجیح، امن کو خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول، سفارت کاری کو تنازعات کے حل کا ذریعہ اور قومی اتحاد کو داخلی طاقت بنایا جائے تو پاکستان کے لیے مستقبل کے امکانات کہیں زیادہ روشن ہو سکتے ہیں۔پاکستان کا پیغام واضح ہونا چاہیے: ہم امن چاہتے ہیں، مگر عزت کے ساتھ؛ ہم مذاکرات چاہتے ہیں، مگر قومی مفادات کی قیمت پر نہیں؛ ہم علاقائی استحکام چاہتے ہیں، مگر اپنی خودمختاری اور بنیادی حقوق سے دستبردار ہو کر نہیں۔ یہی متوازن سوچ پاکستان کو ایک ذمہ دار، باوقار اور مؤثر ریاست کے طور پر آگے لے جا سکتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More