Welcome to jahan-e-imroz   Click to listen highlighted text! Welcome to jahan-e-imroz
jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کی فتح

تجزیہ بی این پی
پانی صرف زندگی کی بنیادی ضرورت ہی نہیں بلکہ موجودہ دور میں ریاستوں کے درمیان ایک اہم تزویراتی اور سفارتی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنازع کئی دہائیوں سے باہمی تعلقات کی پیچیدگیوں میں ایک بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت کے بارے میں عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے لیے نہ صرف ایک اہم قانونی پیش رفت ہے بلکہ اس کی سفارتی حکمتِ عملی، بین الاقوامی قانون پر اعتماد اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے عزم کا بھی اظہار ہے۔ دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت کی جانب سے متفقہ طور پر یہ قرار دیا جانا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم نہیں کرسکتا، پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی واضح تائید ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پانی کے وسائل کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، زرعی ضروریات اور توانائی کے بڑھتے ہوئے تقاضوں نے دریائی پانی کو محض قدرتی وسیلہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے قومی سلامتی، معیشت اور علاقائی استحکام سے جوڑ دیا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں زراعت کا بنیادی کردار ہے اور اس کے وسیع زرعی نظام کا انحصار دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی پر ہے۔ چنانچہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق کسی بھی غیر یقینی صورت حال کے پاکستان کی معیشت، زراعت اور عوامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذالعمل ہے اور بھارت کے پاس اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کی کوئی قابل قبول قانونی بنیاد موجود نہیں۔ عدالت نے بھارت کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا کہ مخصوص حالات یا کسی دوسرے جواز کی بنیاد پر معاہدے کو یکطرفہ طور پر غیر مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ یوں پاکستان کا وہ بنیادی مؤقف مضبوط ہوا ہے کہ بین الاقوامی معاہدے محض سیاسی حالات کی تبدیلی سے یکطرفہ طور پر ختم یا معطل نہیں کیے جاسکتے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے مؤقف کو محض سیاسی بیانات اور سفارتی احتجاج تک محدود رکھنے کے بجائے اسے باقاعدہ بین الاقوامی قانونی فورم پر پیش کیا۔ حکومتِ پاکستان نے 4 مارچ 2026ئ کو بھارتی اقدامات کے خلاف عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا اور اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر انداز میں مقدمہ پیش کیا۔ یہ اقدام اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے پانی کے مسئلے کو وقتی سیاسی تنازع کے بجائے ایک سنجیدہ بین الاقوامی قانونی معاملے کے طور پر لیا۔ عالمی سطح پر کسی ریاست کی کامیاب سفارت کاری کا ایک اہم پیمانہ یہی ہے کہ وہ اپنے قومی مفاد کو عالمی قوانین اور بین الاقوامی اداروں کے دائرہ کار میں کس مؤثر انداز سے پیش کرتی ہے۔
رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے حوالے سے عدالت کی جانب سے عبوری اقدامات بھی اس فیصلے کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں۔ عدالت نے بھارت کو رتلے ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کے بعض حصوں پر مخصوص سطح سے زائد تعمیراتی کام اور کنکریٹ ڈالنے سے روکنے کا حکم دیا ہے۔ یہ پابندیاں غیر جانبدار ماہر کے حتمی فیصلے کے بعد بھی مخصوص مدت تک برقرار رہیں گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی درخواست کو محض ایک سیاسی اعتراض نہیں سمجھا گیا بلکہ عدالت نے اسے ایسے معاملے کے طور پر لیا جس میں حتمی فیصلے تک صورت حال کو تبدیل ہونے سے روکنا ضروری ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں سے متعلق بعض معاملات عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیر جانبدار ماہر کے سامنے بھی زیرِ غور ہیں۔ اس لیے حالیہ فیصلہ پانی کے تنازع کے تمام پہلوؤں کا آخری فیصلہ نہیں بلکہ ایک اہم قانونی مرحلے کی تکمیل ہے۔ رتلے منصوبے کے حوالے سے غیر جانبدار ماہر کے فیصلے کا انتظار بھی کیا جائے گا۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ حالیہ کامیابی کو سفارتی جذباتیت کے بجائے مسلسل قانونی، تکنیکی اور سفارتی حکمتِ عملی میں تبدیل کرے۔
پاکستان کی حکومت کو اس کامیاب پیش رفت پر خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے سندھ طاس معاہدے کے معاملے کو عالمی سطح پر مسلسل اجاگر کیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کا دیرینہ مؤقف یہی تھا کہ کسی پابند بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بھی فیصلے کو پاکستان کے اصولی، قانونی اور سفارتی مؤقف کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ حکومتی سطح پر سامنے آنے والے یہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان نے اس معاملے کو ریاستی پالیسی کے طور پر آگے بڑھایا۔
دراصل کامیاب سفارت کاری کا مطلب صرف عالمی فورمز پر اپنی بات بلند آواز میں کہنا نہیں بلکہ اپنے موقف کے حق میں قابلِ اعتماد قانونی، تاریخی اور تکنیکی شواہد فراہم کرنا بھی ہے۔ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے یہی راستہ اختیار کیا۔ حکومت نے عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرکے یہ مؤقف اختیار کیا کہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور کسی ایک فریق کو اپنی مرضی سے اس کے آپریشن کو روکنے کا اختیار حاصل نہیں۔ عدالت کی جانب سے پاکستان کے بنیادی مؤقف کی توثیق اس حکمتِ عملی کی کامیابی کی اہم علامت ہے۔
یہ پیش رفت بھارت کے لیے بھی ایک واضح پیغام رکھتی ہے کہ دوطرفہ معاہدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو یکطرفہ فیصلوں سے غیر مؤثر نہیں بنایا جاسکتا۔ ریاستیں اپنی خارجہ پالیسی میں سخت مؤقف اختیار کرسکتی ہیں، اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے نئے راستے تلاش کرسکتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اپنے تحفظات پیش کرسکتی ہیں، لیکن جب وہ کسی پابند بین الاقوامی معاہدے کا حصہ ہوں تو اس معاہدے سے متعلق ذمہ داریاں بھی ان پر عائد رہتی ہیں۔ یہی اصول بین الاقوامی نظام میں استحکام پیدا کرتا ہے۔
تاہم پاکستان کے لیے اس کامیابی کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ صرف عدالت سے ایک فیصلہ حاصل کرلینے سے مکمل نہیں ہوجاتا۔ پانی کے مسئلے پر مسلسل قانونی اور تکنیکی تیاری کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان کو اپنے آبی ماہرین، بین الاقوامی قانون کے ماہرین، انجینئرز اور سفارتی اداروں کے درمیان مربوط رابطہ مزید مضبوط کرنا چاہیے تاکہ دریاؤں، ڈیموں اور پن بجلی منصوبوں سے متعلق ہر معاملے پر بروقت اور مؤثر موقف اختیار کیا جاسکے۔
اسی طرح پاکستان کو اپنے اندرونی آبی انتظام پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ اگرچہ عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے بین الاقوامی حقوق کے لیے اہم ہے، لیکن ان حقوق سے بھرپور فائدہ اسی وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب ملک اپنے پانی کے وسائل کو بہتر انداز میں محفوظ اور استعمال کرے۔ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، نہری نظام کی بہتری، پانی کے ضیاع میں کمی، جدید آبپاشی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق سندھ طاس معاہدے پر حالیہ فیصلہ پاکستان کے لیے محض ایک عدالتی کامیابی نہیں بلکہ ایک سفارتی سبق بھی ہے۔ جب ریاستیں اپنے قومی مفادات کو جذباتی نعروں کے بجائے قانون، دلیل، شواہد اور عالمی اداروں کے ذریعے آگے بڑھاتی ہیں تو ان کے مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ وزن حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان نے اس معاملے میں یہی راستہ اختیار کیا اور عالمی فورم سے اپنے مؤقف کی تائید حاصل کی۔ اس کامیابی کو مستقل سفارتی سرمایہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں پانی سے متعلق کسی بھی تنازع میں پاکستان مضبوط پوزیشن کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کرسکے۔
یہ امر بھی قابلِ ستائش ہے کہ پاکستان نے اس معاملے کو جنگی زبان یا غیر ضروری اشتعال کے بجائے قانونی راستے سے آگے بڑھایا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے ہی متعدد حساس مسائل موجود ہیں۔ ایسے میں پانی جیسے بنیادی مسئلے کو عالمی قانون کے دائرے میں حل کرنے کی کوشش خطے میں ذمہ دارانہ ریاستی طرزِ عمل کی علامت ہے۔ اگر دونوں ممالک بین الاقوامی معاہدوں اور طے شدہ قانونی طریقہ کار کی پاسداری کریں تو تنازعات کے باوجود کشیدگی کو ایک خطرناک سطح تک پہنچنے سے روکا جاسکتا ہے۔
پاکستانی حکومت کی سفارتی کارکردگی کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے اس معاملے میں بین الاقوامی اداروں کے کردار کو تسلیم کیا۔ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیر جانبدار ماہر اور مستقل ثالثی عدالت، دونوں کے سامنے معاملے کا موجود ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان نے اپنے حقوق کے لیے دستیاب قانونی راستوں سے استفادہ کیا۔ مستقبل میں بھی اسی تسلسل کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔
حکومت کے لیے یہ موقع بھی ہے کہ وہ عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے آبی مسائل کو زیادہ جامع انداز میں پیش کرے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو پہلے ہی سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور پانی کی غیر یقینی دستیابی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں پانی کے وسائل کا منصفانہ اور معاہداتی بنیادوں پر انتظام صرف پاکستان اور بھارت کا دوطرفہ مسئلہ نہیں رہتا بلکہ انسانی سلامتی اور علاقائی استحکام کا مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کی کوشش کے مقابلے میں عدالت کا یہ مؤقف کہ معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے، پاکستان کے لیے قانونی اعتبار سے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس فیصلے کو سفارتی محاذ پر مؤثر انداز میں استعمال کرے، عالمی دارالحکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور دوست ممالک کو اس فیصلے کے قانونی مضمرات سے آگاہ کرے اور دنیا کے سامنے یہ مؤقف واضح کرے کہ پاکستان پانی کو تنازع کا نہیں بلکہ تعاون اور علاقائی امن کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔
یہاں حکومت کے ساتھ سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ، میڈیا، ماہرین اور سول سوسائٹی کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس قومی معاملے پر غیر ضروری سیاسی تقسیم سے گریز کریں۔ پانی کا مسئلہ کسی ایک حکومت، جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری ریاست اور آنے والی نسلوں کا مسئلہ ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے قومی اتفاقِ رائے پاکستان کی سفارتی طاقت میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔
حالیہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس نے ایک بنیادی بین الاقوامی اصول کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے: معاہدوں کی پاسداری ریاستی نظام کا بنیادی ستون ہے۔ اگر طاقتور ریاستیں اپنی سہولت کے مطابق بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے لگیں تو عالمی نظام میں اعتماد اور استحکام کا تصور کمزور پڑ جائے گا۔ اس لیے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عدالت کا فیصلہ صرف پاکستان اور بھارت تک محدود اہمیت نہیں رکھتا بلکہ بین الاقوامی معاہداتی نظام کے لیے بھی ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔
پاکستان کو اس کامیابی پر اطمینان ضرور ہونا چاہیے، مگر اسے منزل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان اپنے قانونی حق کے ساتھ ساتھ اپنے آبی وسائل کی حفاظت، بہتر انتظام اور مستقبل کی نسلوں کے لیے پانی کی دستیابی یقینی بنانے میں بھی کامیاب ہوگا۔ سفارت کاری نے راستہ ضرور ہموار کیا ہے، لیکن اس راستے پر مستقل مزاجی، فنی تیاری اور قومی یکجہتی کے ساتھ چلنا ہوگا۔مجموعی طور پر سندھ طاس معاہدے کے بارے میں عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اور قانونی کامیابی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے عالمی فورم پر اپنے مؤقف کو جس سنجیدگی، تیاری اور قانونی بنیاد کے ساتھ پیش کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ اس فیصلے نے یہ ثابت کیا ہے کہ مؤثر سفارت کاری، مضبوط قانونی مقدمہ اور بین الاقوامی قانون پر اعتماد کسی بھی ریاست کے قومی مفادات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس کامیابی کو وسیع تر سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ بنائے، بھارت کے ساتھ پانی کے معاملات میں معاہداتی ذمہ داریوں کی پاسداری پر زور دیتا رہے اور ساتھ ہی اپنے داخلی آبی نظام کو مضبوط بنائے۔
سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے محض ایک دستاویز نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، زراعت، معیشت اور مستقبل سے وابستہ ایک اہم ضمانت ہے۔ عالمی ثالثی عدالت کا حالیہ فیصلہ اس ضمانت کے قانونی پہلو کو تقویت دیتا ہے۔ حکومت پاکستان کی یہ کامیاب حکمتِ عملی اس اعتبار سے یقیناً قابلِ تحسین ہے کہ اس نے ایک انتہائی حساس قومی معاملے کو عالمی قانون کے ایوان میں دلیل کے ساتھ پیش کیا اور وہاں سے اپنے بنیادی مؤقف کی تائید حاصل کی۔ اب اصل امتحان اس کامیابی کو دیرپا سفارتی، قانونی اور آبی پالیسی میں تبدیل کرنے کا ہے۔ اگر پاکستان نے یہ مرحلہ بھی کامیابی سے طے کرلیا تو سندھ طاس معاہدے پر حالیہ فیصلہ صرف ایک عدالتی فتح نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کی دانشمندانہ اور مؤثر سفارت کاری کی ایک نمایاں مثال بن جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

Click to listen highlighted text!