تجزیہ بی این پی
پاکستان کی معاشی ترقی، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع اور عام آدمی کے معیارِ زندگی میں بہتری کا براہِ راست تعلق توانائی کی مسلسل، قابلِ اعتماد اور سستی فراہمی سے ہے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک پائیدار معاشی ترقی کی منزل حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کے پاس بجلی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ اسے ملک کے ہر حصے تک مؤثر انداز میں پہنچانے کا مضبوط اور جدید نظام موجود نہ ہو۔ اسی بنیادی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی حکومت کی جانب سے بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے 2035 تک کا توسیعی منصوبہ ایک اہم پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے 2035 تک ملک کی بجلی کی پیداوار اور ترسیل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 47 ارب ڈالر سے زائد کے بجلی توسیعی منصوبے کی منظوری دی ہے۔ یہ منصوبہ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کی جانب سے پیش کیے گئے مربوط نظام کے منصوبے کا حصہ ہے، جس میں آنے والے برسوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب، نئے بجلی گھروں کی ضرورت اور ترسیلی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے تقاضوں کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان کی معیشت کو مستقبل میں بڑھتی ہوئی صنعتی، تجارتی اور گھریلو ضروریات کے لیے زیادہ بجلی درکار ہوگی۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان میں بجلی کے شعبے کا مسئلہ صرف بجلی کی پیداوار تک محدود نہیں بلکہ اصل چیلنج پیدا ہونے والی بجلی کو مؤثر، قابلِ اعتماد اور کم لاگت کے ساتھ صارفین تک پہنچانا بھی ہے۔ اگر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہو لیکن ترسیلی نظام کمزور ہو تو اس صلاحیت کا مکمل فائدہ عوام اور معیشت کو نہیں پہنچ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نئے منصوبے میں بجلی گھروں کی تعمیر کے ساتھ ٹرانسمیشن لائنوں کی اپ گریڈیشن کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 2025 میں تقریباً 26 ہزار 950 میگاواٹ تھی، جو 2035 تک بڑھ کر 35 ہزار 521 میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے مجموعی طور پر 26 ہزار 45 میگاواٹ نئی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت درکار ہوگی۔ اس میں 17 ہزار 485 میگاواٹ پہلے سے مختص منصوبے جبکہ 8 ہزار 560 میگاواٹ نئی اور بہتر انداز میں تجویز کردہ صلاحیت شامل ہے۔ اسی دوران تقریباً 2 ہزار 577 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی موجودہ صلاحیت ریٹائر ہونے کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو آنے والے برسوں میں توانائی کے شعبے میں دوراندیش منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔ اگر آج سے بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کا اندازہ لگا کر منصوبہ بندی نہ کی گئی تو مستقبل میں ایک مرتبہ پھر طلب اور رسد کے درمیان فرق پیدا ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی سرگرمیاں متاثر، کاروباری لاگت میں اضافہ اور عوام کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کی جانب سے طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی پر توجہ ایک مثبت حکومتی ترجیح کے طور پر سامنے آتی ہے۔
منصوبے کے مطابق بجلی پیدا کرنے کے مختلف منصوبوں پر تقریباً 47.13 ارب ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ ترسیلی نظام کو اپ گریڈ کرنے کے لیے مزید 10.65 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ بظاہر یہ ایک بہت بڑی رقم ہے، لیکن توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو محض اخراجات کے طور پر دیکھنے کے بجائے مستقبل کی معاشی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مضبوط ترسیلی نظام نئی صنعتوں، خصوصی اقتصادی زونز، زرعی شعبے، کاروباری سرگرمیوں اور شہری ضروریات کے لیے بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف گزشتہ عرصے کے دوران توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی کے نظام میں بہتری اور معاشی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں۔ حکومت کے لیے اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب بڑے منصوبوں کے ساتھ ان کے معاشی ثمرات بھی عام صارف تک پہنچیں اور بجلی کی قیمت، لوڈشیڈنگ، ترسیلی نقصانات اور نظام کی مجموعی کارکردگی میں واضح بہتری دکھائی دے۔ اس حوالے سے طویل المدتی منصوبہ بندی ایک درست سمت ضرور فراہم کرتی ہے۔
اس منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ریگولیٹر نے 90 کروڑ ڈالر کی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم سرمایہ کاری کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی کے شعبے میں ہر بڑی سرمایہ کاری کو صرف حجم کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی افادیت، ضرورت اور معاشی اثرات کی بنیاد پر جانچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ طرزِ فکر انتہائی اہم ہے، جہاں محدود مالی وسائل کو زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
اسی طرح نیپرا کی جانب سے بجلی کے ایک اہم منصوبے کے حوالے سے حقیقت پسندانہ مدت مقرر کرنے پر زور بھی قابلِ توجہ ہے۔ کے الیکٹرک کے لیے این جی سی۔کے ای ایل انٹرکنکشن ٹرانسمیشن لائن کو 2028 میں مکمل کرنے کی تجویز کو ریگولیٹر نے حقیقت پسندانہ قرار نہیں دیا اور نشاندہی کی کہ اس منصوبے کی تعمیر میں تقریباً پانچ سال درکار ہوسکتے ہیں۔ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ بڑے قومی منصوبوں کے اہداف زمینی حقائق، تعمیراتی مراحل اور تکنیکی تقاضوں کو سامنے رکھ کر مقرر کیے جانے چاہئیں تاکہ بعد میں تاخیر اور اضافی اخراجات سے بچا جاسکے۔
پاکستان کے بجلی کے شعبے کو درپیش ایک بنیادی مسئلہ ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت اور اس کے باوجود بلند بجلی نرخوں کا تضاد بھی ہے۔ نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار نے بھی اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی ادائیگی کررہا ہے، جس کے باعث بجلی کے بل مہنگے ہورہے ہیں۔ اس مسئلے کا حل محض مزید بجلی گھر تعمیر کرنا نہیں بلکہ موجودہ نظام کی مؤثر منصوبہ بندی، طلب میں اضافہ، صنعتی استعمال کو فروغ، ترسیلی نقصانات میں کمی اور سستی بجلی کے ذرائع کو ترجیح دینا بھی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق نئے توسیعی منصوبے کی سب سے مثبت بات یہی ہوسکتی ہے کہ اس میں مستقبل کی ضرورت کو موجودہ تجربات کی روشنی میں دیکھنے کا موقع موجود ہے۔ پاکستان کے پاس بعض اوقات اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود رہی ہے، لیکن معاشی سرگرمیوں میں مطلوبہ رفتار نہ ہونے کے باعث اس صلاحیت کا مکمل استعمال نہیں ہوسکا۔ اگر مستقبل میں صنعتی پیداوار، برآمدات، زرعی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کو توانائی کی بہتر فراہمی کے ساتھ جوڑا جائے تو بجلی کے شعبے کی اضافی صلاحیت بھی معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اس ضمن میں قابلِ تجدید توانائی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ نیپرا کے ایک اختلافی نوٹ میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ کے الیکٹرک کی 2024 کے آخر میں قابلِ تجدید توانائی کی نیلامی میں 3.09 امریکی سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ تک کے ٹیرف حاصل ہوئے، جو پاکستان میں اب تک کے کم ترین ٹیرف میں شمار ہوتے ہیں۔ تقریباً 640 میگاواٹ کے ان منصوبوں کو قومی منصوبہ بندی میں بروقت شامل نہ کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ بعد میں اعداد و شمار کی درستی سے یہ بات سامنے آئی کہ سستی بجلی کو شامل کرنے سے نظام کی لاگت بڑھنے کے بجائے کم ہوسکتی ہے۔
یہ پہلو پاکستان کے مستقبل کی توانائی پالیسی کے لیے نہایت اہم سبق رکھتا ہے۔ اگر شمسی، ہوا، پن بجلی اور دیگر کم لاگت ذرائع سے بجلی حاصل کی جاسکتی ہے تو قومی منصوبہ بندی میں ان ذرائع کو ترجیح دینا چاہیے۔ اس سے ایک طرف درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوسکتا ہے اور دوسری طرف بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ سستی بجلی صنعتی مسابقت، برآمدات اور عام صارف کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔
اگرچہ مختلف اسٹیک ہولڈرز نے اس منصوبے کے حجم اور اضافی سرمایہ کاری کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے ہیں، تاہم ان تحفظات کو منصوبے کی مخالفت کے بجائے بہتر منصوبہ بندی کے لیے مفید تجاویز کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی 15 سے 20 گیگاواٹ اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور موجودہ بجلی گھر اپنی مکمل صلاحیت کے بجائے تقریباً 45 فیصد صلاحیت پر چل رہے ہیں۔ یہ صورتحال حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے یقیناً قابلِ غور ہے، کیونکہ مستقبل کے منصوبوں میں نئی صلاحیت کے ساتھ موجودہ صلاحیت کے بہتر استعمال کو بھی مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔
گردشی قرضہ اور کیپیسٹی پیمنٹس بھی توانائی کے شعبے کے ایسے مسائل ہیں جن کا مستقل حل ناگزیر ہے۔ اگر نئی سرمایہ کاری کے نتیجے میں ان مالی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر بالآخر صارفین کے بجلی بلوں پر پڑے گا۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ نئے منصوبوں کے ساتھ مالیاتی نظم، شفاف معاہدوں، مسابقتی نرخوں اور سستی توانائی کے ذرائع کو یقینی بنانے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے لیے ایک جامع اور متوازن پالیسی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔نیپرا کے ارکان کی جانب سے الگ الگ تحفظات سامنے آنا بھی اس بات کی علامت ہے کہ توانائی کے شعبے میں فیصلے تکنیکی، معاشی اور انتظامی پہلوؤں کو سامنے رکھ کر کیے جارہے ہیں۔ بعض پن بجلی منصوبوں کو منصوبے سے نکالے جانے پر اعتراض بھی سامنے آیا ہے۔ گبرال کالام، مڈیان، کالام اسریت اور اسریت کیڈم جیسے منصوبوں کی شمولیت یا اخراج کا معاملہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہر منصوبے کی معاشی افادیت، ماحولیاتی اثرات، لاگت اور قومی ضرورت کو شفاف طریقے سے جانچا جائے۔ اس عمل سے منصوبہ بندی کا معیار مزید بہتر ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں بجلی کے شعبے کی بہتری دراصل معیشت کے ہر شعبے کی بہتری ہے۔ جب صنعت کو مسلسل بجلی ملے گی تو پیداوار بڑھے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، کاروباری سرگرمیاں تیز ہوں گی اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا۔ اسی طرح زرعی شعبے میں بجلی کی بہتر فراہمی جدید آبپاشی، ٹیوب ویل، کولڈ اسٹوریج اور زرعی پراسیسنگ کو فروغ دے سکتی ہے۔ شہری علاقوں میں بھی قابلِ اعتماد بجلی تعلیم، صحت، کاروبار اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے بنیادی سہولت کی حیثیت رکھتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کے لیے یہ منصوبہ ایک بڑے موقع کی حیثیت رکھتا ہے کہ پاکستان کے توانائی نظام کو محض زیادہ بجلی پیدا کرنے کے تصور سے نکال کر سستی، قابلِ اعتماد، قابلِ رسائی اور معاشی طور پر پائیدار بجلی** کے تصور کی طرف لے جایا جائے۔ 2035 تک کی منصوبہ بندی اس حوالے سے ایک طویل مدتی فریم ورک فراہم کرتی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ منصوبوں پر عمل درآمد کس رفتار اور شفافیت سے ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو آج ایسی توانائی پالیسی کی ضرورت ہے جو ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرے اور مستقبل کے تقاضوں کو سامنے رکھے۔ 47 ارب ڈالر کی بجلی پیداوار سے متعلق سرمایہ کاری اور 10.65 ارب ڈالر کی ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن اگر مؤثر منصوبہ بندی، سستی توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط نگرانی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو یہ ملک کی معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
عام شہری کے لیے کسی بھی حکومتی منصوبے کی اصل اہمیت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب اس کا اثر اس کی زندگی میں محسوس ہو۔ بجلی کی فراہمی میں تسلسل، لوڈشیڈنگ میں کمی، ترسیلی نظام کی بہتری، بجلی کے نرخوں میں ممکنہ کمی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اس منصوبے کے حقیقی ثمرات ہوسکتے ہیں۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف حکومت کو اپنی توانائی پالیسی کو لے کر جانا چاہیے۔
آخرکار پاکستان کو بجلی کی کمی اور اضافی صلاحیت، دونوں کے تجربات سے گزرنے کے بعد ایک ایسے متوازن نظام کی ضرورت ہے جہاں ضرورت کے مطابق پیداوار ہو، سستی بجلی کو ترجیح ملے، موجودہ صلاحیت پوری طرح استعمال ہو اور ترسیلی نظام اتنا مضبوط ہو کہ پیدا ہونے والی بجلی ضائع ہوئے بغیر صارفین تک پہنچ سکے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی حکومت کی جانب سے 2035 تک کے لیے اس بڑے توسیعی منصوبے کی منظوری اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اگر اس منصوبے کو شفافیت، میرٹ، معاشی دانش مندی اور عوامی مفاد کے اصولوں کے مطابق آگے بڑھایا گیا تو پاکستان نہ صرف اپنی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوگا بلکہ مضبوط، مستحکم اور خود کفیل معیشت کی جانب بھی زیادہ اعتماد کے ساتھ بڑھ سکے گا۔