jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

وزیراعظم اور پاکستان پوسٹ۔ قومی ادارے کی ازسرنو تشکیل وقت کی ضرورت

تجزیہ بی این پی

پاکستان پوسٹ محض خطوط پہنچانے والا ایک سرکاری ادارہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی زندگی، عوامی خدمت اور ریاستی رسائی کی ایک اہم علامت ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ملک کے دور دراز دیہات، قصبوں اور شہروں میں پاکستان پوسٹ ہی وہ ادارہ تھا جس کے ذریعے لوگوں کے درمیان رابطہ قائم رہتا، ضروری دستاویزات ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتیں، منی آرڈر کے ذریعے گھر بیٹھے رقم ملتی اور عام شہری اپنی محدود آمدنی میں سے کچھ رقم محفوظ مستقبل کے لیے پوسٹل سیونگ اسکیموں میں جمع کراتا تھا۔ پوسٹ آفس صرف ڈاک خانہ نہیں بلکہ عام آدمی کے لیے ریاست کا ایک ایسا دروازہ تھا جہاں اسے نسبتاً آسانی سے بنیادی مالی اور مواصلاتی سہولتیں میسر آتی تھیں۔
مگر وقت کے ساتھ دنیا بدل گئی، مواصلات کے ذرائع جدید ہوئے، نجی کورئیر کمپنیوں نے تیزی سے ترقی کی، بینکنگ کا نظام ڈیجیٹل ہوگیا اور آن لائن ادائیگیوں نے روایتی طریقہ کار کی جگہ لینا شروع کردی۔ بدقسمتی سے پاکستان پوسٹ اس رفتار سے خود کو تبدیل نہ کرسکا جس رفتار سے دنیا تبدیل ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک بھر میں ہزاروں ڈاک خانوں پر مشتمل وسیع ترین نیٹ ورک رکھنے کے باوجود یہ قومی ادارہ اپنی سابقہ کارکردگی اور عوامی اہمیت برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہوگیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بھی ادارے کی انتظامی اور مالی صورتحال پر تشویش کا اظہار اور اصلاحات پر زور دیا جانا اس امر کی واضح نشاندہی ہے کہ پاکستان پوسٹ کو اب محض معمول کی انتظامی اصلاحات نہیں بلکہ جامع تشکیل نو کی ضرورت ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان پوسٹ کی اصل طاقت اس کا وہ وسیع نیٹ ورک ہے جو نجی شعبے کے بہت سے اداروں کے پاس موجود نہیں۔ ملک کے بڑے شہروں سے لے کر انتہائی دور دراز علاقوں تک اس کے دفاتر اور افرادی قوت موجود ہے۔ اگر اسی نیٹ ورک کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرلیا جائے تو پاکستان پوسٹ ایک مرتبہ پھر قومی معیشت اور عوامی خدمت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اسے ماضی کی یادگار سمجھنے کے بجائے مستقبل کا جدید ادارہ بنانے کے منصوبے پر سنجیدگی سے عمل کرے۔
وزیراعظم پاکستان اس معاملے میں بنیادی اور فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان پوسٹ کی ازسرنو تشکیل کے لیے ایک جامع پالیسی بنائی جائے، جس میں ادارے کے مالی، انتظامی، تکنیکی اور انسانی وسائل کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ کہاں وسائل ضائع ہورہے ہیں، کہاں افرادی قوت کو جدید تربیت کی ضرورت ہے اور کن شعبوں کو دوبارہ فعال کرکے ادارے کو آمدن اور عوامی خدمت دونوں کے اعتبار سے مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں پوسٹل ادارے وقت کے ساتھ صرف خطوط کی ترسیل تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے کورئیر سروس، ای کامرس، لاجسٹکس، مالیاتی خدمات، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور حکومتی سہولت کاری جیسے شعبوں میں قدم رکھا اور اپنے روایتی نیٹ ورک کو جدید معیشت کا حصہ بنا لیا۔ پاکستان پوسٹ بھی ایسا کرسکتا ہے۔ اس کے پاس عمارتیں، دفاتر، گاڑیاں، تربیت یافتہ افرادی قوت اور سب سے بڑھ کر عوام تک رسائی کا ایک وسیع نظام موجود ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو جدید انتظامی سوچ اور ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کیا جائے۔
پاکستان پوسٹ کے ساتھ پوسٹل لائف انشورنس کا معاملہ بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ ایسے شہری جنہوں نے برسوں اپنی آمدنی میں سے رقم بچا کر انشورنس پالیسی حاصل کی اور اس امید پر سرمایہ جمع کیا کہ ضرورت کے وقت یہ رقم ان کے بچوں کی تعلیم، بیٹیوں کی شادی یا خاندان کی کسی بڑی ضرورت میں کام آئے گی، اگر انہیں اپنے جائز کلیم کے حصول کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑے تو یہ صورت حال صرف انتظامی کمزوری نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد پالیسی ہولڈرز طویل عرصے سے اپنے واجب الادا کلیمز کے منتظر ہیں۔ ایسے معاملات فوری توجہ کے مستحق ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ پوسٹل لائف انشورنس کے زیر التوا کلیمز کا جامع آڈٹ کرایا جائے، مستحق افراد کی فہرست مرتب کی جائے اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ادائیگیوں کا قابلِ عمل شیڈول بنایا جائے۔ جہاں مالی مشکلات موجود ہوں وہاں خصوصی حکومتی معاونت فراہم کی جائے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ادارے کی آئندہ مالی پائیداری یقینی بنائی جائے تاکہ نئے کلیمز بھی بروقت ادا ہوسکیں۔ کسی شہری کی زندگی بھر کی جمع پونجی انتظامی فائلوں اور دفتری تاخیر کی نذر نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستان پوسٹ کی بحالی کا ایک اہم پہلو اس کے ماضی کے عوامی فلاحی کردار کا جائزہ بھی ہے۔ مختلف ادوار میں ادارے سے منسلک بعض خدمات، منصوبوں اور مالی سہولتوں کی نوعیت میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ بعض انتظامی فیصلوں اور اثاثہ جاتی پالیسیوں کے باعث ادارے کے دائرہ? کار پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ موجودہ حکومت اگر واقعی پاکستان پوسٹ کو دوبارہ مضبوط قومی ادارہ بنانا چاہتی ہے تو اسے ماضی کے تمام فیصلوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا چاہیے اور یہ طے کرنا چاہیے کہ کون سی ایسی سہولتیں یا منصوبے ہیں جنہیں دوبارہ پاکستان پوسٹ کے ذریعے عوام تک پہنچایا جاسکتا ہے۔
خصوصاً پوسٹل سیونگ، مالیاتی خدمات، منی آرڈر، دیہی علاقوں میں بنیادی مالی سہولتوں اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں کو جدید شکل دے کر دوبارہ فعال کیا جاسکتا ہے۔ آج بھی ملک کی ایک بڑی آبادی ایسی ہے جو جدید بینکاری کی سہولتوں تک مکمل رسائی نہیں رکھتی۔ پاکستان پوسٹ کے وسیع نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے ایسے شہریوں تک بنیادی مالی خدمات پہنچائی جاسکتی ہیں۔ اگر ہر پوسٹ آفس کو جدید ڈیجیٹل سہولتوں سے آراستہ کیا جائے تو وہ دیہی اور کم سہولت یافتہ علاقوں میں چھوٹے پیمانے کے مالیاتی مرکز کے طور پر کام کرسکتا ہے۔اس مقصد کے لیے افرادی قوت کی تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، کسٹمر سروس، ڈیجیٹل بینکاری، سائبر سکیورٹی، لاجسٹکس اور ای کامرس کے شعبوں میں پوسٹ آفس کے ملازمین کو باقاعدہ تربیت دی جائے۔ کسی بھی ادارے کی اصلاح صرف نئی عمارتوں، کمپیوٹرز اور گاڑیوں سے نہیں ہوتی؛ اصل تبدیلی اس وقت آتی ہے جب اس کے کارکن نئے نظام کو سمجھنے اور عوام کو بہتر خدمت فراہم کرنے کے قابل ہوں۔ پاکستان پوسٹ کے ملازمین کو بھی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تربیت دے کر ادارے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جاسکتی ہے۔پاکستان پوسٹ کو ای کامرس کے بڑھتے ہوئے کاروبار سے بھی جوڑا جاسکتا ہے۔ ملک میں آن لائن خریداری کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے، مگر سامان کی ترسیل اور لاجسٹکس اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان پوسٹ اگر اپنی موجودہ رسائی کو استعمال کرتے ہوئے ایک قابلِ اعتماد قومی لاجسٹکس نیٹ ورک قائم کرے تو نہ صرف نجی کورئیر کمپنیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے بلکہ چھوٹے تاجروں، گھریلو کاروبار کرنے والی خواتین، نوجوانوں اور دیہی علاقوں کے کاروباری افراد کو بھی اپنی مصنوعات ملک بھر میں پہنچانے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔اسی طرح سرکاری دستاویزات، شہری خدمات، پنشن، مختلف سرکاری ادائیگیوں اور عوامی سہولتوں کے لیے بھی پاکستان پوسٹ کے مراکز کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس سے ایک طرف حکومت کے اخراجات میں کمی آسکتی ہے تو دوسری طرف عوام کو ایک ہی مقام پر متعدد سہولتیں میسر آسکتی ہیں۔ یوں پاکستان پوسٹ محض ڈاک کی ترسیل کرنے والے ادارے کے بجائے جدید عوامی خدمت کے مرکز میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق وزیراعظم پاکستان کو پاکستان پوسٹ کی بحالی کے لیے محض اعلانات کے بجائے واضح ٹائم لائن، ذمہ دار اداروں اور قابلِ پیمائش اہداف پر مشتمل منصوبہ تشکیل دینا چاہیے۔ پہلے مرحلے میں مالی اور انتظامی اصلاحات، دوسرے مرحلے میں ڈیجیٹلائزیشن اور افرادی قوت کی تربیت، جبکہ تیسرے مرحلے میں نئی مالیاتی، لاجسٹکس اور ای کامرس خدمات متعارف کرائی جاسکتی ہیں۔ اس پورے عمل کی نگرانی کے لیے ایک بااختیار اصلاحاتی کمیٹی بھی قائم کی جاسکتی ہے جو وزیراعظم کو براہِ راست پیش رفت سے آگاہ کرے۔
پاکستان پوسٹ کی بحالی صرف ایک سرکاری ادارے کی بحالی نہیں بلکہ ریاست اور عام شہری کے درمیان ایک اہم رابطے کو مضبوط کرنے کا عمل ہے۔ آج بھی لاکھوں پاکستانی ایسے ہیں جو اس ادارے سے براہِ راست یا بالواسطہ وابستہ ہیں۔ اگر حکومت اس قومی نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پاکستان پوسٹ دوبارہ عوام کے اعتماد کا ادارہ بن سکتا ہے۔
وزیراعظم پاکستان سے توقع کی جانی چاہیے کہ وہ پاکستان پوسٹ کی تشکیل نو کو قومی ترجیحات میں شامل کریں گے۔ ادارے کے مالی معاملات کا شفاف جائزہ، زیر التوا واجبات اور بیمہ کلیمز کی ادائیگی، غیر ضروری اخراجات میں کمی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، افرادی قوت کی تربیت اور ماضی کی مفید عوامی خدمات کی بحالی اس اصلاحاتی عمل کے بنیادی نکات ہونے چاہئیں۔ اسی طرح ایسے تمام منصوبوں اور سہولتوں کا بھی جائزہ لیا جائے جنہیں ماضی میں مختلف انتظامی فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان پوسٹ کے دائرہ کار سے نکالا گیا، تاکہ قومی مفاد میں موزوں خدمات دوبارہ اس ادارے کو سونپنے کے امکانات پیدا کیے جاسکیں۔
پاکستان پوسٹ کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا کرنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ جس ادارے کے پاس ملک بھر میں عوام تک پہنچنے کا اتنا وسیع نظام موجود ہو، اسے ختم ہوتی ہوئی اہمیت کے ساتھ چھوڑ دینا دانش مندی نہیں۔ حکومت اگر سیاسی مداخلت سے بالاتر ہوکر میرٹ، شفافیت، جدید انتظام اور عوامی ضرورت کو بنیاد بنائے تو یہی ادارہ مستقبل میں قومی معیشت کا معاون، روزگار کا ذریعہ اور لاکھوں شہریوں کے لیے قابلِ اعتماد عوامی سہولت بن سکتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان پوسٹ کو ماضی کی داستان نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت سمجھا جائے۔ وزیراعظم پاکستان کی توجہ اور ایک مضبوط اصلاحاتی فیصلے سے اس قومی ادارے کو نئی زندگی دی جاسکتی ہے۔ عوام آج بھی ایسی ریاستی خدمات چاہتے ہیں جو آسان، سستی، شفاف اور قابلِ اعتماد ہوں۔ پاکستان پوسٹ کے پاس یہ کردار دوبارہ حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت صرف ایک واضح سمت، مضبوط سیاسی عزم اور مستقل نگرانی کی ہے۔ اگر حکومت اس قومی ادارے کی حقیقی تشکیل نو کا فیصلہ کرلے تو پاکستان پوسٹ ایک بار پھر وہی مقام حاصل کرسکتا ہے جو کبھی اسے ملک کے عام شہری کی زندگی میں حاصل تھا، بلکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر اس سے بھی زیادہ مؤثر عوامی خدمت کا ادارہ بن سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More