jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

نامور گلو کار مسعود رانا کومداحوں سے بچھڑے 31برس بیت گئے

اپنی فنی زندگی کا آغاز 1955میں کیا جبکہ فلم انقلاب کیلئے ان کا پہلا گانا 1962 میں ریکارڈ کیا گیا

لاہور(این این آئی)پاکستانی فلم انڈسٹری کے نامور گلو کار مسعود رانا کومداحوں سے بچھڑے 31برس بیت گئے۔مسعود رانا 9جون 1938کو میر پور خاص سندھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز 1955میں کیا جبکہ فلم انقلاب کیلئے ان کا پہلا گانا 1962 میں ریکارڈ کیا گیا۔انہیں پاکستانی رفیع ہونے کا اعزاز بھی دیا گیا۔مسعود رانانے یوں تو سینکڑوں انتہائی خوبصورت اور دل کے تار چھیڑ دینے والے سدا بہار نغمے گائے لیکن ان کے ٹاپ ٹین اردو گانوں میں فلم آئینہ کا گانا تم ہی ہو محبوب میرے میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں، فلم ہمراہی کا گانا کرم کی اک نظر ہم پر خدارا یا رسول اللہ، فلم بدنام کا گانا کوئی ساتھ دے کہ نہ ساتھ دے یہ سفر اکیلے ہی کاٹ لے، فلم چاند اور چاندنی کا گانا تیری یاد آ گئی غم خوشی میں ڈھل گئے، فلم دل میرادھڑکن تیری کا گانا جھوم اے دل وہ میرا جان بہار آئے گا،فلم نازنین کا گانا میرا خیال ہو تم میری آرزو تم ہو،فلم نیند ہماری خواب تمہارے کا گانا میرامحبوب آگیا من میرا لہرا گیا، فلم آنسو کا گانا تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں جیسے صدیاں بیت گئیں، فلم بہارو پھول برسا ئوکا گانا میرے دل کی ہے آواز کہ بچھڑا یار ملے گااور فلم دل لگی کا گانا آ گ لگا کر چھپنے والے سن میرا افسانہ شامل ہیں۔اسی طرح انہوں نے پنجابی میں تانگے والا خیر منگدا، سجناں نے بوہے اگے چک تان لئی، یاراں نال بہاراں سجناں، سوچ کے یار بناویں بندیا، تیرے ہتھ کی بے درد ے آیا پھلاں جیا دل توڑ کے، دل دیاں لگیاں جانے نہ، یا اپنا کسے نوں کر لے یا آپ کسے دا ہو ویلیا، تیرے مد بھرے نین مل پین تے چندرا شراب چھڈ دے،سجنوں اے نگری داتا دی ایتھے آند اکل زمانہ اور یار منگیا سی ربا تیتھوں رو کے کیہڑی میں خدائی منگ لئی گا کر خود کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے امر کر لیا۔ مسعود رانا 4اکتوبر 1995کو عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے باعث اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More