رضوان کو انکوائری شروع ہونے سے قبل تقریبا دو گھنٹے انتظار کروایا گیا، انکوائری کا دورانیہ مختصر رہا ، اندرونی کہانی
لاہور (این این آئی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹر و وکٹ کیپر محمد رضوان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی Èئی اے)لاہور Èفس میں پیشی کی اندرونی کہانی سامنے Èگئی، ذرائع کے مطابق محمد رضوان کو تاحال موبائل فون واپس نہیں کیا گیا، رضوان کو انکوائری شروع ہونے سے قبل تقریبا دو گھنٹے انتظار کروایا گیا، وکٹ کیپر سے انکوائری کا دورانیہ انتہائی مختصر رہا۔محمد رضوان سے موبائل فون کے استعمال کے حوالے سے سوالات کیے گئے، انہیں بتایا گیا کہ موبائل فون فورنزک کےلئے بھیجا گیا ہے، رضوان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دورانِ انکوائری نہیں دئیے گئے۔ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیم کے کیپر محمد رضوان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جلد جوابات دینے کا عندیہ دیا گیا ہے، دورانِ انکوائری ضرورت پڑنے پر رضوان کو دوبارہ این سی سی Èئی اے طلب کیے جانے کا عندیہ بھی دیا گیاجبکہ قومی ٹیم کے کھلاڑی سے انکوائری خوشگوار ماحول میں ہوئی۔خیال رہے کہ انگلینڈ کے دورے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کے 2 کھلاڑی محمد رضوان اور امام الحق کی مشکلات میں کمی نہیں آ سکی۔دونوں کھلاڑی گزشتہ ماہ دورہ انگلینڈ سے واپسی کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی لاہور کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں دونوں کھلاڑیوں نے سوالوں کے جواب دینے کے لیے مزید وقت مانگ لیا تھا۔کرکٹ بورڈ نے دونوں کھلاڑیوں کے موبائل فون این سی سی آئی اے کے حوالے کیے تھے، تحقیقات میں فون رابطوں، پیغامات، ملاقاتوں، کنڈکٹ اور مبینہ ڈریسنگ روم لیکس سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ایک کھلاڑی کے کم اسکور پر Èٹ ہونے اور دوسرے کھلاڑی کے انجری کے باعث میدان سے باہر ہونے کے پس منظر کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے تاہم ان واقعات کو کسی سازش، بدعنوانی یا دیگر غیر قانونی سرگرمی سے جوڑنے کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں Èیا۔خیال رہے کہ محمد رضوان اور امام الحق ان کرکٹرز میں شامل ہیں جنہیں لارڈز ٹیسٹ کے بعد ٹیم سے ریلیز کر دیا گیا تھا۔