بنوں /لاہور/اسلام آباد(کرائم نیوز)ضلع بنوں میں رات گئے دہشت گردوں نے پولیس چوکی فتح خیل پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی جس کے نتیجے میں اب تک شہید اہلکاروں کی تعداد 15 ہوگئی۔پولیس کے مطابق تین اہلکاروں کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔

شہدا میں رحمت ایاز، ثنا اللہ، نیاز علی، صحیب، سعداللہ، کامران ولد محمود خان، نعمت اللہ، کامران، عابد جانی، عمران، نعیم اللہ، صدیق اللہ، میر عالم خان، راحت اللہ خان اور فاروق داد شامل ہیں۔ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان نے رات گئے ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کرتے ہوئے زخمی اہلکاروں کی عیادت کی۔

ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی بنوں ریجن نے کہا کہ بنوں پولیس کے حوصلے بلند ہیں، دہشت گرد اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ڈی آئی جی بنوں نے کہا کہ یہ دہشت گردوں کی آخری بزدلانہ کارروائی ثابت ہوگی، بنوں پولیس دہشت گردوں کو چن چن کر انجام تک پہنچائے گی اور علاقے سے ان کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔پولیس کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری تھا۔

بعد ازاں چوکی فتح خیل پر حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائن بنوں میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی ۔نمازِ جنازہ میں ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان، ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی، ایس پی سی ٹی ڈی فضل الواحد، ایس پی ہیڈکوارٹر محمود نواز، ایس پی سٹی توحید خان، ایس پی رورل حیدر خان سمیت اعلیٰ پولیس افسران، پولیس اہلکاروں اور شہداء کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر شہداء کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کرنے کے انتظامات کیے گئے جبکہ نمازِ جنازہ کے بعد شہداء کے بلند درجات اور لواحقین کے صبرِ جمیل کے لیے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں۔ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنوں پولیس ایک بہادر فورس ہے جس نے ہر مشکل اور کٹھن حالات میں جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی یہ بزدلانہ کارروائی ناقابلِ برداشت ہے اور شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ڈی آئی جی نے اعلان کیا کہ شہداء کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اور دہشتگردوں کو چن چن کر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین کو ہر ممکن تعاون اور مکمل سرپرستی کی یقین دہانی بھی کرائی۔

دریں اثناء وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع بنوں میں فتح خیل پولیس اسٹیشن پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔سہیل آفریدی نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے شہدا کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف خیبر پختونخوا کی نہیں بلکہ پورے ملک کی جنگ ہے، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں اور مسلط کردہ پالیسیوں نے ملک کو بدامنی کی دلدل میں دھکیلا، دہشت گردی سے متاثرہ ہر خاندان کے ساتھ خیبر پختونخوا حکومت کھڑی ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف صف اول میں رہ کر عظیم قربانیاں دی ہیں، شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے، دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔

دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے رابطہ کرکے بنوں میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کو ہرممکن معاونت فراہم کریں گے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ روز بنوں میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی۔

وزیراعظم نے دہشت گردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے افسوس اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے واقعے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے درجات کی بلندی کی دعا کی اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ وزیراعظم نے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ انہوں نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے وفاق کی طرف سے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کو ہرممکن معاونت فراہم کریں گے۔

دونوں رہنمائوں نے دہشت گردی کے خلاف نبردآزما پاک افواج، سکیورٹی فورسز اور پولیس کو خراج تحسین پیش کیا اور ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بنوں میں فتح خیل چوکی پر خودکش حملے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں وزیر داخلہ نے شہدا کے خاندانوں سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت بھی کیا اور زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔ محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس فرنٹ لائن پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلکاروں نے فرض کی راہ میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے شہادت کا عظیم رتبہ پایا ہے،خیبر پختونخوا پولیس کے شہید اہلکاروں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بعد ازاں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بنوں میں پولیس اسٹیشن فتح خیل پر فتنہ الخوارج کے دہشتگردانہ حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے پولیس کے عملے کو خراجِ عقیدت پیش کیا ۔

صدرِ مملکت نے شہدا کے خاندانوں کو صبر کی تلقین کی اور شہدا کی مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی۔صدرِ پاکستان نے واقعے میں مقامی افراد کے گھروں کو پہنچنے والے نقصان پر اظہارِ افسوس کیا ۔صدر نے صوبائی اور وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ زخمیوں اور متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائے۔انہوںنے کہاکہ دہشت گرد عناصر کے ناپاک عزائم ناکام بنائے جائیں گے، قوم اپنی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

انہوںنے کہاکہ ایسے وقت جب پاکستان علاقائی اور عالمی امن کیلیے کوشاں ہے، بھارتی پشت پناہی پر پلنے والے دہشتگرد طالبان رجیم کی فراہم کردہ پناہ گاہوں سے پاکستان کی شہری آبادی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان عالمی امن کی کوششوں میں بھی کامیاب ہوگا اور ہم دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کو بھی شکست دیں گے۔

صدرِ زر داری نے کہاکہ ہم صرف دہشتگردوں کو نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کو بھی نشانہ بنائیں گے۔ دریں اثناء وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ(ن)خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے ضلع بنوں میں فتح خیل پولیس سٹیشن پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔یہاں جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے حملے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے خصوصی دعا کی۔انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *