کوئٹہ (سٹاف رپورٹر)بلاول بھٹو زرداری 15 مئی کو دو روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچیں گے جہاں وہ پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے تنظیمی، سیاسی اور اندرونی معاملات پر اہم ملاقاتیں اور مشاورت کریں گے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری اپنے دورہ کوئٹہ کے دوران پیپلز پارٹی بلوچستان کے ناراض رہنماں، کارکنان اور اراکین سے ملاقاتیں کریں گے اور ان کے تحفظات، شکایات اور سیاسی اختلافات کو براہ راست سنیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کوئٹہ میں دو روزہ خصوصی بیٹھک لگائیں گے جس میں پارٹی کے صوبائی رہنما، سابق عہدیداران، ضلعی صدور اور دیگر اہم شخصیات شرکت کریں گی۔ اس اجلاس کا مقصد بلوچستان میں پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے اختلافات کو ختم کرنا، تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور آئندہ سیاسی حکمت عملی مرتب کرنا بتایا جا رہا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے اندرونی ذرائع نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں پارٹی کے بعض رہنماں اور کارکنان کی جانب سے طویل عرصے سے تحفظات سامنے آ رہے تھے جن میں تنظیمی فیصلوں، سیاسی نمائندگی، ترقیاتی منصوبوں اور پارٹی امور میں نظر انداز کیے جانے جیسے معاملات شامل ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری ان تمام امور پر نہ صرف اجتماعی بلکہ انفرادی سطح پر بھی ناراض رہنماں سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے تاکہ ہر رہنما کو اپنا مقف پیش کرنے کا موقع مل سکے ذرائع کے مطابق یہ ملاقاتیں بلوچستان میں موجود سیاسی اختلافات کے خاتمے کے لیے انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہیں۔

پارٹی قیادت کی کوشش ہے کہ تمام ناراض دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کو مزید فعال اور منظم بنایا جائے دورہ کوئٹہ کے دوران بلاول بھٹو زرداری ایک اہم تقریب میں شرکت بھی کریں گے جہاں وہ تقریبا 500 مستحق افراد میں امدادی چیکس تقسیم کریں گے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ چیکس ان مزدوروں اور لیبر کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے مختص ہیں جو روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک گئے ہوئے ہیں۔

ان افراد کو اخراجات اور مالی معاونت کی مد میں امدادی رقوم فراہم کی جائیں گی ہہ تقریب وزیراعلی بلوچستان کے سی ایم اوورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت منعقد کی جائے گی، جس کا مقصد بیرون ملک روزگار حاصل کرنے والے محنت کش طبقے کو مالی سہولت فراہم کرنا اور ان کے سفری و دیگر اخراجات میں معاونت کرنا ہے۔

تقریب میں صوبائی وزرا، پارٹی رہنما اور سرکاری حکام بھی شریک ہوں گے بلاول بھٹو زرداری کا یہ دورہ بلوچستان کی سیاست میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ایک جانب وہ پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ دوسری جانب عوامی اور فلاحی اقدامات کے ذریعے بلوچستان میں اپنی سیاسی موجودگی کو مزید مستحکم بنانے کی حکمت عملی اپنائیں گے پارٹی کارکنان اور رہنماں نے بلاول بھٹو زرداری کے دورہ کوئٹہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس دورے سے نہ صرف ناراض رہنماں کے تحفظات دور ہوں گے بلکہ بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی مزید فعال اور مضبوط ہو کر سامنے آئے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *