پاکستان میں مالی سال 2025-26کے دوران تنخواہ دار طبقے نے اپنی آمدن پر تقریباً 633ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو برآمد کنندگان، رئیل اسٹیٹ کے شعبے اور ریٹیل کاروبار سے مجموعی طور پر وصول کیے گئے انکم ٹیکس سے زیادہ رہا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 30جون 2026کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 13ہزار 10ارب روپے محصولات جمع کیے، ان میں تنخواہ دار طبقہ نمایاں ٹیکس دہندگان میں شامل رہا۔
ایف بی آر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق زیر جائزہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے 633ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جبکہ گزشتہ مالی سال یہ رقم 585ارب روپے تھی۔
دوسری جانب برآمد کنندگان نے 30جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں 174ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جبکہ اس سے پہلے کے مالی سال میں ان کی جانب سے 176ارب روپے ٹیکس جمع کراویا گیا تھا۔
رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے ایف بی آر نے 191ارب روپے ٹیکس وصول کیا، گزشتہ مالی سال ایف بی آر نے اس شعبے سے 118ارب روپے ٹیکس وصول کیا تھا۔
شق 236-Gکے تحت مالی سال میں ریٹیلرز سے 25ارب روپے وصول کیے گئے، جبکہ ایک سال قبل یہ وصولیاں 24 ارب روپے تھیں، اسی طرح شق 236-Hکے تحت مالی سال 2025-26میں 45ارب روپے جمع کیے گئے جبکہ گذشتہ مالی سال یہ رقم 38 ارب روپے تھی۔پاکستان میں موجودہ مالی سال کے لیے 15264ارب روپے کا ٹیکس وصولی کا ہدف رکھا گیا ہے، اس سال بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کی شرح میں کچھ کمی کر کے ریلیف دیا گیا ہے جب کہ ریٹیلرز پر فکسڈ ٹیکس متعارف کروایا گیا ہے۔
