تجزیہ بی این پی
پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی وطن کو اندرونی یا بیرونی خطرات کا سامنا ہوا، پاکستانی قوم اور اس کی بہادر مسلح افواج نے اتحاد، قربانی اور عزم کے ساتھ ہر چیلنج کا مقابلہ کیا۔ وطنِ عزیز کا دفاع صرف سرحدوں پر کھڑے سپاہیوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ قومی سلامتی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب ریاستی ادارے، عوام، سیاسی قیادت، مذہبی و سماجی حلقے اور نوجوان نسل ایک ہی مقصد کے لیے یکسو ہوں، اور وہ مقصد پاکستان کا امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی ہو۔
جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، جس میں بارودی مواد سے بھری خودکش گاڑی کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا، اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ہر لمحہ دشمن کے ناپاک عزائم پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح بنوں اور ملحقہ علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران متعدد دہشت گردوں کا خاتمہ اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت، حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ جاری ہے۔ ایسی کامیاب کارروائیاں صرف عسکری برتری ہی نہیں بلکہ مضبوط انٹیلی جنس نظام، جدید منصوبہ بندی اور جوانوں کی بے مثال جرات کا بھی مظہر ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج دنیا کی ان بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود نہ صرف ملکی سرحدوں کا دفاع کیا بلکہ دہشت گردی جیسے پیچیدہ خطرے کے خلاف بھی بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔ پاکستانی قوم اپنے شہدائ ، غازیوں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ انہی قربانیوں کی بدولت ملک میں امن کی فضا قائم ہوئی اور ترقی کا سفر ممکن بنا۔
دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے جو صرف انسانی جانوں ہی کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ معیشت، تعلیم، سرمایہ کاری، سیاحت، سماجی ہم آہنگی اور قومی اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے اس چیلنج کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور عام شہریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان قربانیوں کی بدولت دہشت گردی کے بڑے نیٹ ورکس کو توڑا گیا، ان کے مراکز ختم کیے گئے اور ملک کے بیشتر علاقوں میں امن بحال کیا گیا۔
یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دشمن عناصر اپنی ناکامی کے بعد اب روایتی جنگ کے بجائے غیر روایتی ذرائع اختیار کر رہے ہیں۔ کبھی خودکش حملے، کبھی بارودی سرنگیں، کبھی سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈا اور کبھی نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں ان کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ایسے حالات میں صرف فوجی کارروائیاں ہی کافی نہیں ہوتیں بلکہ قومی شعور، سماجی اتحاد، مؤثر تعلیم، معاشی مواقع اور مضبوط ریاستی ادارے بھی دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے اہم ستون ہوتے ہیں۔
پاکستان کی مغربی سرحد سے ملحقہ بعض علاقوں میں دہشت گرد عناصر کو بیرونی سرپرستی حاصل ہونے کے شواہد کئی مرتبہ سامنے آ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدی نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سفارتی سطح پر مؤثر اقدامات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ خطے کا امن تمام ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
قومی سلامتی کا ایک اہم پہلو داخلی استحکام بھی ہے۔ جب عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد مضبوط ہو، قانون کی حکمرانی قائم ہو، انصاف بروقت ملے اور نوجوانوں کو مثبت مواقع فراہم کیے جائیں تو انتہا پسند نظریات کے لیے جگہ خود بخود محدود ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف بندوق کی جنگ نہیں بلکہ نظریات، تعلیم، ترقی اور قومی شعور کی جنگ بھی کہا جاتا ہے۔
پاکستانی نوجوان اس جنگ میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ جدید تعلیم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی، قومی خدمت اور مثبت سوچ کے ذریعے ملک کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ دشمن کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ نوجوانوں کو مایوسی، انتشار اور نفرت کی طرف دھکیلا جائے، مگر ایک باشعور نوجوان اپنے وطن کی ترقی اور سلامتی کو ہمیشہ مقدم رکھتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستانی قوم کی اصل طاقت اس کا اتحاد، حب الوطنی اور اپنی مسلح افواج پر غیر متزلزل اعتماد ہے۔ جب قوم اور فوج ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہی اتحاد دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے تمام منصوبوں کو ناکام بناتا ہے اور یہی جذبہ مستقبل میں بھی پاکستان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج نے ہر دور میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ چاہے روایتی دفاع ہو، دہشت گردی کے خلاف جنگ، قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیاں، اقوام متحدہ کے امن مشنز یا عوامی خدمت کے دیگر مواقع، پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریاں مثالی انداز میں نبھائی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام اپنی افواج پر فخر کرتے ہیں اور انہیں قومی وقار کی علامت سمجھتے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ میڈیا، تعلیمی ادارے، مذہبی رہنما اور سول سوسائٹی مثبت قومی بیانیے کو فروغ دیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ذہنوں اور افکار میں بھی لڑی جاتی ہے۔ جب نوجوانوں کو سچ، تحقیق، آئین، قانون اور حب الوطنی کی تعلیم دی جائے گی تو شدت پسند سوچ خود بخود کمزور ہوتی جائے گی۔
اقتصادی استحکام بھی قومی سلامتی کا لازمی جزو ہے۔ ایک مضبوط معیشت ہی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم بناتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے اور عوام میں اعتماد پیدا کرتی ہے۔ سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ، انفراسٹرکچر کی بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ پاکستان کو ہر میدان میں مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امن اور معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ جہاں امن ہوگا وہاں ترقی بھی ہوگی۔
قومی اتحاد کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی اختلاف فطری عمل ہے، مگر قومی سلامتی، ریاستی خودمختاری اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے معاملات پر پوری قوم کو ایک آواز ہونا چاہیے۔ یہی قومی یکجہتی دشمن کی سب سے بڑی شکست ہے۔
آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف دہشت گردی اور انتشار کی قوتیں ہیں اور دوسری طرف امن، ترقی، تعلیم اور خوشحالی کا راستہ۔ اس راستے کا انتخاب پوری قوم نے کرنا ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستانی عوام نے ہر مشکل وقت میں ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے وطن، اپنی آزادی اور اپنے قومی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہمیں اپنے شہدائ کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ان کی قربانیاں صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ شہدائ کے خاندانوں کا احترام، غازیوں کی خدمات کا اعتراف اور سکیورٹی فورسز کی حوصلہ افزائی دراصل قومی ذمہ داری ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو نئی نسل کو بھی وطن کی خدمت کے لیے آمادہ کرتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائیاں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان کی ریاست ہر اس قوت کے خلاف پوری قوت سے کھڑی ہے جو ملک کے امن کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ انٹیلی جنس اداروں، سکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر تعاون نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا ہے اور ان کے متعدد منصوبے ناکام بنائے ہیں۔ مستقبل میں بھی جدید ٹیکنالوجی، عوامی تعاون اور قومی یکجہتی کے ذریعے اس کامیابی کے سفر کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کا مستقبل امن، استحکام، ترقی اور اتحاد سے وابستہ ہے۔ دشمن کی ہر سازش اسی وقت ناکام ہوگی جب پوری قوم اپنی مسلح افواج، ریاستی اداروں اور قومی مفادات کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ وطن کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں، کیونکہ یہی ہماری آزادی، ہماری شناخت اور ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔پاکستان ایک ذمہ دار، مضبوط اور پْرامن ریاست ہے، اور اس کی بہادر مسلح افواج ہر لمحہ وطن کے دفاع کے لیے سینہ سپر ہیں۔ پوری پاکستانی قوم اپنے محافظوں کو سلام پیش کرتی ہے، ان کے عزم، قربانی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر فخر کرتی ہے اور اس یقین کا اظہار کرتی ہے کہ اتحاد، ایمان، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی کی بدولت پاکستان ہر آزمائش سے پہلے بھی سرخرو ہوا ہے اور آئندہ بھی ایک مضبوط، مستحکم اور ناقابلِ تسخیر ملک کے طور پر اپنی ترقی کا سفر جاری رکھے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *