تجزیہ بی این پی
مہنگائی کسی بھی معاشرے کیلئے محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، اخلاقی اور انسانی بحران بھی ہوتی ہے۔ جب روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیائ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہونے لگیں، تنخواہ دار طبقہ مہینے کے اختتام سے پہلے ہی مالی مشکلات میں گھر جائے، مزدور کی دیہاڑی گھر کا چولہا جلانے کیلئے ناکافی ہو اور متوسط طبقہ اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے قرض لینے پر مجبور ہو جائے تو یہ صورتحال صرف اعدادوشمار کا معاملہ نہیں رہتی بلکہ قومی تشویش کا عنوان بن جاتی ہے۔
وفاقی ادار? شماریات کے حالیہ اعدادوشمار اسی حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ مہنگائی کا دباؤ بدستور برقرار ہے۔ ہفتہ وار بنیادوں پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اس امر کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں استحکام پیدا کرنے کیلئے اختیار کیے گئے اقدامات ابھی تک مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے۔ آٹا، چینی، گھی، سبزیاں، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ تجزیہ بی این پی کے مطابق یہ صورتحال صرف معاشی اشاریوں کی خرابی نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور سماجی استحکام کیلئے بھی ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اس وقت معاشی اصلاحات کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ حکومت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس نظام کی بہتری، برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن کے مثبت اثرات مستقبل میں سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم ان اصلاحات کی کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب ان کے ثمرات عام شہری تک بھی پہنچیں۔ اگر معاشی ترقی کے اشاریے بہتر ہوں لیکن عوام کی زندگی آسان نہ ہو تو ایسی ترقی کا فائدہ محدود رہ جاتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کا براہِ راست اثر خوراک، زرعی پیداوار، صنعتی لاگت، تعمیراتی شعبے اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز پر پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں قیمتوں میں اضافے کا رجحان فوری طور پر نظر آتا ہے لیکن عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کی صورت میں اس کا فائدہ صارفین تک بروقت منتقل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کی لہر ختم ہونے کے بجائے مسلسل برقرار رہتی ہے۔
ایک بڑی وجہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی بھی ہے۔ جب مارکیٹ کی نگرانی کمزور ہو جائے، قیمتوں کی چیکنگ صرف نمائشی کارروائیوں تک محدود رہ جائے اور قانون کی گرفت کمزور پڑ جائے تو چند عناصر مصنوعی قلت پیدا کرکے عوام کی مشکلات سے ناجائز منافع کمانے لگتے ہیں۔ ایسے عناصر نہ صرف معیشت بلکہ معاشرتی انصاف کے بھی دشمن ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
حکومت نے مختلف ادوار میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں، مجسٹریٹس، ضلعی انتظامیہ اور خصوصی مانیٹرنگ سیل قائم کیے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر ان اداروں کی موجودگی کے باوجود مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے تو پھر ان کے نظام کار کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔ صرف جرمانے یا وقتی چھاپے مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ ایسا مربوط نظام درکار ہے جو مصنوعی مہنگائی کے ہر امکان کو ابتدا ہی میں ختم کر دے۔
زرعی شعبہ بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود اکثر سبزیوں، دالوں اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں ناقص ذخیرہ کاری، ترسیل کے مسائل، درمیانی منافع خوروں کا کردار اور جدید زرعی منصوبہ بندی کا فقدان شامل ہے۔ اگر کسان کو مناسب سہولتیں، سستی کھاد، معیاری بیج، آبپاشی کی بہتر سہولت اور منڈی تک براہ راست رسائی فراہم کی جائے تو نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ صارفین کو بھی مناسب قیمتوں پر اشیاء دستیاب ہو سکیں گی۔
اسی طرح بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے صنعت اور تجارت دونوں کو متاثر کیا ہے۔ جب پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو اس کا بوجھ بالآخر صارف پر منتقل ہو جاتا ہے۔ اس لیے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نقصانات میں کمی، بجلی چوری کی روک تھام اور متبادل توانائی کے فروغ پر سنجیدگی سے کام کرنا ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں عوام پر اضافی مالی دباؤ کم کیا جا سکے۔
مہنگائی سے نمٹنے کیلئے صرف قیمتوں کو کنٹرول کرنا کافی نہیں بلکہ عوام کی آمدنی میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ اگر تنخواہوں، اجرتوں اور روزگار کے مواقع میں متناسب اضافہ نہ ہو تو قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی شدید بحران پیدا کر دیتا ہے۔ اس لیے حکومت کو صنعتی ترقی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، نوجوانوں کیلئے آسان قرضوں، ہنر مندی کے پروگراموں اور نئی سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔ مضبوط معیشت وہی ہوتی ہے جہاں شہری باعزت روزگار کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔
کم آمدنی والے طبقات کیلئے سماجی تحفظ کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ مستحق خاندانوں کو مالی معاونت، راشن پروگرام، صحت اور تعلیم کی سہولتوں میں آسانی اور بنیادی ضروریات پر خصوصی سبسڈی جیسے اقدامات مہنگائی کے اثرات کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں جدید ڈیجیٹل نظام اور شفاف نگرانی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ امداد صرف حقیقی مستحقین تک پہنچے۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مہنگائی کے خلاف جنگ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کا کردار بھی اہم ہے۔ تاجر برادری کو منافع ضرور کمانا چاہیے لیکن ناجائز منافع ہرگز نہیں۔ صنعتکاروں کو بھی قومی مفاد کو پیش نظر رکھنا ہوگا، جبکہ صارفین کو غیرضروری خریداری، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ میڈیا کو بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے صرف مسائل کی نشاندہی ہی نہیں بلکہ مثبت تجاویز کو بھی اجاگر کرنا چاہیے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ معاشی فیصلوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے۔ پالیسیوں میں بار بار تبدیلی سرمایہ کاروں اور تاجروں کیلئے غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے جس کا اثر قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔ اگر حکومت طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی، شفاف ٹیکس نظام، کاروبار دوست ماحول اور سرمایہ کاری کے فروغ کو یقینی بنائے تو اس کے مثبت اثرات بتدریج مہنگائی میں کمی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔

تجزیہ بی این پی کے مطابق مہنگائی پر قابو پانے کیلئے سب سے مؤثر حکمت عملی وہ ہوگی جس میں قیمتوں کے استحکام، پیداوار میں اضافے، منڈیوں کی نگرانی، ناجائز منافع خوری کی روک تھام، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور عوام کی قوتِ خرید میں اضافے کو ایک ہی قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ صرف وقتی انتظامی اقدامات دیرپا نتائج نہیں دے سکتے، اس کیلئے معاشی، انتظامی اور سماجی اصلاحات کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔
پاکستان کی موجودہ حکومت نے معیشت کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور مالی نظم و ضبط کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں جن کے مثبت نتائج مستقبل میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان معاشی کامیابیوں کا عملی فائدہ عام شہری تک بھی پہنچے۔ اگر مارکیٹ میں استحکام آئے، اشیائے ضروریہ مناسب قیمتوں پر دستیاب ہوں، بجلی اور ایندھن کے شعبے میں دیرپا اصلاحات نافذ ہوں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مؤثر کارروائی ہو اور عوام کی آمدنی میں حقیقی اضافہ کیا جائے تو یقیناً مہنگائی کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
ریاست کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں۔ جب عوام معاشی طور پر مطمئن ہوں، ان کے گھروں کے چولہے بلاخوف جلتے ہوں، بچوں کی تعلیم، علاج اور بنیادی ضروریات آسانی سے پوری ہو رہی ہوں تو یہی خوشحالی قومی استحکام، معاشی ترقی اور سیاسی اعتماد کی بنیاد بنتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی کو صرف ایک معاشی ہدف نہیں بلکہ قومی فلاح کے ایجنڈے کا سب سے اہم ستون سمجھے۔ عوام کو ریلیف دینا، ان کی قوتِ خرید کو بہتر بنانا، روزگار میں اضافہ کرنا اور منڈی میں انصاف پر مبنی نظام قائم کرنا ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال معیشت کی طرف لے جا سکتا ہے۔
آج وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ریاست، کاروباری طبقہ، صنعتکار، کسان، انتظامیہ اور عوام سب مل کر ایسی معاشی فضا تشکیل دیں جہاں ترقی کے ثمرات صرف اعدادوشمار تک محدود نہ رہیں بلکہ ہر شہری کی زندگی میں آسانی، خوشحالی اور اطمینان کی صورت میں محسوس کیے جا سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے مہنگائی کے وار کو روکا جا سکتا ہے اور ایک ایسا پاکستان تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں ترقی کے ساتھ ساتھ عوامی ریلیف بھی قومی پالیسی کا بنیادی محور ہو۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *