تجزیہ: بی این پی
پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور زراعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ یہ دورہ صرف سفارتی ملاقاتوں تک محدود نہیں بلکہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ موجودہ عالمی معاشی حالات میں ایسے معاہدے پاکستان کے لیے نئی منڈیوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور برآمدات میں اضافے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
کینیڈا دنیا کی مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ پاکستان قدرتی وسائل، زرعی پیداوار، نوجوان افرادی قوت اور اہم جغرافیائی محل وقوع کی بدولت بے شمار معاشی امکانات رکھتا ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی اپنی صلاحیتوں کو مشترکہ منصوبوں میں استعمال کریں تو نہ صرف دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے بلکہ روزگار، صنعتی ترقی اور زرعی شعبے میں بھی مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کی ملاقات میں جن شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی، ان میں تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ایگری فوڈ، ویکسین سازی، قابل تجدید توانائی، آٹو پارٹس، معدنیات، تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ یہ تمام شعبے پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں اور ان میں بین الاقوامی تعاون ملکی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کر سکتا ہے۔کینیڈا میں لاکھوں پاکستانی آباد ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان دوستی، اعتماد اور معاشی تعاون کا مضبوط ذریعہ ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی نہ صرف ترسیلات زر بھیجتے ہیں بلکہ وہ سرمایہ کاری، کاروباری روابط اور تجارتی تعلقات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملاقات میں اس کمیونٹی کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک مضبوط پل قرار دیا گیا۔
پاکستان اور کینیڈا کے درمیان کینولا کی درآمد کے حوالے سے فائٹو سینیٹری پروٹوکول پر دستخط بھی زرعی شعبے کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔ اس معاہدے سے نہ صرف زرعی تجارت کو مزید فروغ ملے گا بلکہ مستقبل میں دیگر زرعی مصنوعات کی برآمد اور درآمد کے لیے بھی نئی راہیں کھلیں گی۔ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور بین الاقوامی تعاون انتہائی ضروری ہے۔
کینیڈا کی جانب سے پاکستان سے چاول، ٹیکسٹائل اور کھیلوں کا سامان زیادہ مقدار میں درآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کرنا بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔ پاکستانی ٹیکسٹائل اور کھیلوں کی مصنوعات پہلے ہی عالمی سطح پر اپنی شناخت رکھتی ہیں، جبکہ باسمتی چاول دنیا بھر میں اپنی منفرد خوشبو اور معیار کی وجہ سے پسند کیے جاتے ہیں۔ اگر حکومت برآمد کنندگان کو بہتر سہولیات فراہم کرے، پیداواری لاگت کم کرے اور عالمی معیار کے مطابق مصنوعات تیار کرنے میں مدد دے تو پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
اسی طرح قابل تجدید توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں کینیڈین کمپنیوں کی دلچسپی پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ پاکستان کے پاس معدنی وسائل کی وسیع دولت موجود ہے، لیکن اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اگر شفاف پالیسیوں اور بہتر کاروباری ماحول کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔
دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ کی چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں اور علاقائی امن و استحکام کو اہمیت دیتے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، جنہیں عالمی برادری تسلیم کرتی ہے۔ ایسے روابط نہ صرف باہمی اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ سرمایہ کاری کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں، کیونکہ معاشی ترقی کا دارومدار امن و استحکام پر ہوتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی حالیہ برسوں میں معاشی سفارت کاری پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانا، سرمایہ کاری لانا اور نئی منڈیاں تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کینیڈا کے ساتھ ہونے والے حالیہ اتفاقات اسی سوچ کا عملی اظہار ہیں۔ اگر ان معاہدوں پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے تو اس کے مثبت اثرات آنے والے برسوں میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اصل کامیابی کسی معاہدے پر دستخط کرنے میں نہیں بلکہ اس پر مؤثر اور بروقت عمل درآمد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں متعدد ایسے معاہدے ہوئے جن سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں، مگر سست روی، انتظامی رکاوٹوں اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ اس بار ضروری ہے کہ متعلقہ وزارتیں، کاروباری ادارے اور نجی شعبہ مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تاکہ اس تعاون کے حقیقی فوائد عوام تک پہنچ سکیں۔
پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اپنی برآمدات بڑھانے کی ہے۔ مضبوط برآمدات ہی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی، روزگار کے نئے مواقع اور معاشی استحکام کی ضمانت بنتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے حکومت کو صنعتوں کو سستی بجلی، گیس کی مسلسل فراہمی، آسان قرضے، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کے مطابق پیداواری سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بندرگاہوں، سڑکوں، ریلوے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بھی مزید بہتر بنانا ہوگا تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں تک کم لاگت اور کم وقت میں پہنچ سکیں۔
زرعی شعبے میں جدید تحقیق، معیاری بیج، پانی کے بہتر استعمال، زرعی مشینری اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے کر پاکستان نہ صرف اپنی غذائی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ زرعی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملک کے ساتھ زرعی تعاون اس حوالے سے پاکستان کے لیے قیمتی تجربات اور جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل سروسز اور نوجوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں ممالک مل کر کام کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی نوجوان آبادی اگر جدید مہارتوں سے آراستہ ہو جائے تو وہ عالمی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس تعاون سے آئی ٹی برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور ڈیجیٹل معیشت کی ترقی ممکن ہوگی۔
قابل تجدید توانائی بھی مستقبل کی ضرورت ہے۔ شمسی، ہوا اور دیگر متبادل ذرائع سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبے نہ صرف بجلی کی لاگت کم کریں گے بلکہ ماحول دوست ترقی کو بھی فروغ دیں گے۔ کینیڈا کا اس شعبے میں تجربہ پاکستان کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تعلقات کا مستقبل صرف حکومتوں پر منحصر نہیں بلکہ کاروباری برادری، جامعات، تحقیقی اداروں اور عوامی روابط بھی اس میں اہم کردار ادا کریں گے۔ طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے، تجارتی وفود، سرمایہ کار کانفرنسیں اور صنعتی نمائشیں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی معیشت میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے داخلی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ شفاف طرز حکمرانی، قانون کی بالادستی، سرمایہ کار دوست پالیسیاں، تیز رفتار فیصلے اور سیاسی و معاشی استحکام بیرونی سرمایہ کاری کے بنیادی تقاضے ہیں۔ اگر پاکستان ان شعبوں میں مسلسل بہتری لاتا رہے تو نہ صرف کینیڈا بلکہ دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی پاکستان کو ایک پرکشش سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر دیکھیں گے۔
مجموعی طور پر کینیڈا کی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک مثبت سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ تجارت، زراعت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، تعلیم اور دفاعی تعاون کے جن شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، وہ مستقبل میں ایک مضبوط اقتصادی شراکت داری کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان معاہدوں کو عملی شکل دی جائے، نجی شعبے کو زیادہ سے زیادہ شامل کیا جائے اور برآمدات میں اضافے کو قومی ترجیح بنایا جائے۔
اگر پاکستان اپنی اقتصادی اصلاحات جاری رکھے، صنعت اور زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرے، سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط بنائے اور عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی کو وسعت دے تو کینیڈا کے ساتھ یہ نئی شراکت داری صرف دوطرفہ تعلقات ہی نہیں بلکہ قومی معیشت، روزگار، زرعی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے بھی ایک روشن باب ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وہ مثبت سمت ہے جو پاکستان کو مضبوط، خود کفیل اور ترقی یافتہ معیشت کی منزل کے قریب لے جا سکتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
