تجزیہ بی این پی
دنیا اس وقت ایک ایسے حساس مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں جنگ کے سائے صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی رسد، بین الاقوامی تجارت اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک غیر یقینی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے۔ اس صورتحال میں اگر دس روزہ جنگ بندی کی تجویز سامنے آئی ہے تو اسے محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ امن کی جانب ایک اہم اور حوصلہ افزا قدم سمجھا جانا چاہیے۔ جنگ بندی کا ہر لمحہ دراصل مذاکرات کے لیے ایک نئی کھڑکی کھولتا ہے، اعتماد سازی کو فروغ دیتا ہے اور ایسے ماحول کی بنیاد رکھتا ہے جہاں اختلافات کو ہتھیاروں کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے خطے کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایک جانب امریکی فوجی کارروائیاں اور دوسری جانب ایران کی جوابی حکمت عملی نے یہ خدشات پیدا کر دیے تھے کہ تنازع کسی بھی وقت ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں سفارتی ذرائع سے سامنے آنے والی دس روزہ جنگ بندی کی تجویز عالمی برادری کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھری ہے۔ اگر اس موقع سے دانش مندی کے ساتھ فائدہ اٹھایا جائے تو نہ صرف فوری کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ مستقبل میں ایک جامع اور پائیدار امن معاہدے کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جنگ کا سب سے بڑا نقصان ہمیشہ عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ کسی بھی فوجی تصادم میں معیشت کمزور ہوتی ہے، سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، تجارتی سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی کا بوجھ براہِ راست عوام کے کندھوں پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس تنازع کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے خواہاں ہیں۔ عالمی معیشت پہلے ہی مختلف بحرانوں سے نبرد آزما ہے، ایسے میں ایک طویل جنگ کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔
پاکستان نے اس پورے بحران میں جس متوازن، ذمہ دار اور مثبت سفارتی کردار کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ اسلام آباد نے ابتدا ہی سے اس مؤقف کو اختیار کیا کہ مسائل کا مستقل حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی قیادت کے اعلیٰ سطحی وفد کا پاکستان کا دورہ، دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطے اور مختلف سفارتی تجاویز اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کو خطے میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار اور سہولت کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان اور ایران کے تعلقات صرف جغرافیائی ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ مذہبی، ثقافتی، تاریخی اور معاشی بنیادوں پر بھی استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے، سرحدی تعاون کو فروغ دینے اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کا سلسلہ پہلے سے جاری ہے۔ یہی تعلقات پاکستان کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مثبت کردار ادا کر سکے۔ اگر دونوں ممالک تجارت کو دس ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف پر سنجیدگی سے کام کرتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف پاکستان اور ایران بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ تمام متعلقہ فریق وقتی فوجی کامیابیوں کے بجائے طویل المدتی استحکام کو ترجیح دیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی برتری ہمیشہ عارضی ثابت ہوتی ہے، جبکہ مذاکرات کے ذریعے ہونے والے معاہدے دیرپا امن اور علاقائی ترقی کی بنیاد بنتے ہیں۔ اسی لیے دس روزہ جنگ بندی کی تجویز کو ایک سنجیدہ سفارتی موقع سمجھتے ہوئے اسے کامیاب بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جانے چاہییں۔
اس بحران کا ایک انتہائی اہم پہلو آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس اہم بحری راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس کے اثرات صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایشیا، یورپ اور افریقہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایسی صورتحال مزید معاشی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھنا عالمی مفاد کا تقاضا ہے۔
اسی طرح باب المندب کے حوالے سے پیدا ہونے والی نئی صورتحال بھی عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اگر خطے کے مختلف بحری راستے بیک وقت متاثر ہوتے ہیں تو عالمی تجارت کو غیر معمولی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی ادارے مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے اور تمام تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے سفارتی حل کے امکان کا اظہار بھی اس بات کی علامت ہے کہ عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ دوسری جانب ایرانی حکام بھی ثالثوں کے ذریعے آنے والی تجاویز کا جائزہ لینے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ تمام اشارے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر مناسب ماحول فراہم کیا جائے تو مذاکرات کی بحالی ممکن ہے۔ یہی وہ موقع ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقل جنگ بندی اور اعتماد سازی کے اقدامات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی تنازع کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہی پالیسی آج بھی پاکستان کی خارجہ حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف ایران بلکہ خلیجی ممالک، چین، ترکی، قطر اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ بھی متوازن تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ یہی متوازن خارجہ پالیسی پاکستان کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ مختلف مسلم ممالک اس بحران کے پرامن حل کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔ اگر علاقائی ممالک باہمی تعاون اور سفارتی رابطوں کو مزید مضبوط بنائیں تو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے تنازعات کی روک تھام کے لیے بھی ایک مضبوط فریم ورک تشکیل دیا جا سکتا ہے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق جنگ بندی کی دس روزہ تجویز کو صرف ایک عارضی وقفہ نہیں بلکہ اعتماد سازی کے ایک مؤثر مرحلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر ان دس دنوں میں سفارتی رابطے تیز کیے جائیں، ثالثی کے عمل کو مضبوط بنایا جائے اور فریقین ایک دوسرے کے خدشات کو سنجیدگی سے سنیں تو ایک جامع امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ یہی وقت ہے کہ عالمی طاقتیں بھی طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل کی حمایت کریں۔
پاکستان کے لیے بھی یہ موقع اہم ہے کہ وہ اپنی فعال سفارت کاری کو مزید مؤثر بنائے۔ امن کی ہر کوشش نہ صرف خطے کے استحکام بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی، علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ سی پیک، علاقائی تجارتی راہداریوں اور توانائی کے منصوبوں کی کامیابی بھی اسی وقت ممکن ہے جب پورا خطہ امن اور استحکام کی جانب بڑھے۔عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے۔ اگر جنگ بندی کی اس تجویز کو عملی شکل ملتی ہے تو یہ صرف ایران اور امریکا کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس عمل کی بھرپور حمایت کریں اور ایسے اقدامات کریں جن سے مذاکرات کا ماحول مزید سازگار ہو۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی، جبکہ امن، برداشت اور سفارت کاری قوموں کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ دس روزہ جنگ بندی کی تجویز امید کا ایک روشن چراغ ہے جسے بجھنے نہیں دینا چاہیے۔ اگر تمام فریق دانش مندی، تحمل اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں تو یہی مختصر جنگ بندی ایک ایسے مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے جس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا فائدہ اٹھائے گی۔ پاکستان کی متوازن سفارت کاری، علاقائی تعاون اور امن کے لیے مسلسل کوششیں اس سفر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، اور یہی وہ راستہ ہے جو جنگ کے اندھیروں سے نکل کر ترقی، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
