وزیر اطلاعات و نشریات پنجاب عظمیٰ بخاری مؤثر ترجمانی، پنجاب حکومت کی عوامی خدمت کا مضبوط بیانیہ
تجزیہ بی این پی
پنجاب میں مون سون سیزن کی آمد سے قبل حکومت کی جانب سے کیے گئے انتظامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ قدرتی آفات اور موسمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر نکاسی? آب، شہری سہولیات اور واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے جس انداز میں اقدامات کیے گئے ہیں، وہ صرف فوری مسائل کے حل تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھ کر ایک جامع حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ ان اقدامات کو عوام تک مؤثر انداز میں پہنچانے میں وزیر اطلاعات پنجاب **اسما بخاری** کا کردار بھی نمایاں نظر آتا ہے، جنہوں نے حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کو مسلسل عوام کے سامنے پیش کیا اور حکومتی کارکردگی کو واضح انداز میں اجاگر کیا۔
کسی بھی حکومت کی کامیابی صرف منصوبے بنانے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل، مؤثر نگرانی اور عوام تک درست معلومات کی فراہمی بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ پنجاب حکومت نے حالیہ برسوں میں انفراسٹرکچر، شہری سہولیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبوں میں متعدد منصوبے شروع کیے ہیں، جن میں مون سون کی تیاریوں کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ اس تناظر میں اسما بخاری کی ذمہ داری صرف اطلاعات جاری کرنا نہیں بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا مضبوط رشتہ قائم رکھنا بھی ہے۔
مون سون ہر سال پنجاب کے مختلف شہروں کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوتا ہے۔ شدید بارشوں کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیر آب آ جاتے ہیں، ٹریفک کا نظام متاثر ہوتا ہے، کاروباری سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں اور شہریوں کو روزمرہ زندگی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ماضی میں نکاسی? آب کے ناقص انتظامات کی وجہ سے متعدد شہروں میں بارش کا پانی کئی کئی روز تک کھڑا رہتا تھا، جس سے نہ صرف شہری پریشان ہوتے بلکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا تھا۔
اس پس منظر میں اگر حکومت بارشوں سے پہلے ہی اپنی تیاری مکمل کر لے تو اس کے مثبت اثرات براہ راست عوام تک پہنچتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے واسا کے نظام کو وسعت دینا، جدید مشینری کی فراہمی، انڈر گراؤنڈ اسٹوریج ٹینکس کی تعمیر اور شہری انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پہلے مرحلے میں 15 اضلاع کی واسا کو سینکڑوں جدید مشینیں فراہم کی جا چکی ہیں جبکہ اگلے مرحلے میں مزید مشینری دی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ پورے پنجاب میں یکساں شہری سہولیات کی فراہمی اس کی ترجیح ہے۔
105 انڈر گراؤنڈ اسٹوریج ٹینکس کی تعمیر بھی ایک اہم منصوبہ ہے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر فعال ہو جاتا ہے تو بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور نکاسی? آب کے نظام کو بہتر بنانے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں بارش کے پانی کو ضائع کرنے کے بجائے محفوظ کر کے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پنجاب میں بھی اگر یہ نظام مؤثر انداز میں چلایا جائے تو مستقبل میں پانی کی قلت جیسے مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے واٹر اسٹوریج سسٹم کو آئندہ کئی دہائیوں کی ضروریات کے مطابق مضبوط بنانے کی بات کی ہے۔ اگر ترقیاتی منصوبے طویل المدتی وژن کے تحت مکمل کیے جائیں تو ان کے ثمرات صرف موجودہ نسل ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں تک بھی پہنچتے ہیں۔
حکومت کی کسی بھی کارکردگی کا ایک اہم پہلو عوامی اعتماد ہوتا ہے۔ اگر شہریوں کو بروقت معلومات فراہم نہ کی جائیں تو اچھی کارکردگی بھی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں محکمہ اطلاعات کا کردار نمایاں ہو جاتا ہے۔ اسما بخاری نے مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے حکومتی اقدامات، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولتوں کے بارے میں مسلسل معلومات فراہم کیں، جس سے عوام کو حکومتی سرگرمیوں سے آگاہی حاصل ہوئی۔
اطلاعات کی بروقت فراہمی صرف تشہیر نہیں بلکہ عوامی خدمت بھی ہے۔ جب شہریوں کو معلوم ہو کہ بارشوں کے دوران کن علاقوں میں انتظامات کیے گئے ہیں، کس ادارے سے رابطہ کرنا ہے اور حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں تو ان کا اعتماد بھی بڑھتا ہے اور غیر ضروری افواہوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
اسما بخاری نے میڈیا کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا، پریس بریفنگز کے ذریعے حکومتی اقدامات کی وضاحت کی اور عوام تک مثبت معلومات پہنچانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی منصوبوں کی تفصیلات وسیع پیمانے پر سامنے آئیں۔
تاہم کسی بھی منصوبے کی اصل کامیابی اس کے عملی نتائج سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر بارشوں کے دوران شہری علاقوں میں پانی جلد نکال لیا جاتا ہے، ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوتیں تو یہ حکومتی منصوبہ بندی کی کامیابی تصور کی جائے گی۔اسی طرح جدید مشینری کی مستقل دیکھ بھال، عملے کی تربیت، بروقت مرمت اور مؤثر نگرانی بھی ناگزیر ہے۔ صرف مشینری کی خریداری کافی نہیں بلکہ اس کا درست استعمال اور شفاف نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔شہری انتظامیہ، واسا، ریسکیو 1122، ضلعی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ بھی مون سون مینجمنٹ کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر تمام ادارے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں تو ہنگامی صورتحال سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔پنجاب جیسے بڑے صوبے میں ہر ضلع کی ضروریات مختلف ہیں۔ کہیں شہری آبادی زیادہ ہے، کہیں دیہی علاقوں میں بارش کا پانی فصلوں کو متاثر کرتا ہے اور کہیں برساتی نالوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے مقامی سطح پر منصوبہ بندی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی انتہائی اہم ہے۔
پانی کے بہتر انتظام سے زرعی شعبہ بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگر بارش کے پانی کو مناسب انداز میں محفوظ کیا جائے تو یہ آبپاشی، زیرزمین پانی کی بحالی اور ماحولیاتی بہتری کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو جدید شہری منصوبہ بندی میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
اس پورے عمل میں عوام کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔ نالوں میں کچرا پھینکنے، سیوریج لائنوں کو بند کرنے اور صفائی کے اصولوں پر عمل نہ کرنے سے بہترین نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے شہریوں میں آگاہی پیدا کرنا بھی حکومت اور میڈیا دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔میڈیا کا مثبت کردار بھی اس موقع پر قابل ذکر ہے۔ تعمیری تنقید کے ساتھ ساتھ ایسے منصوبوں کی درست معلومات عوام تک پہنچانا معاشرے میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اسما بخاری نے بطور وزیر اطلاعات یہی کوشش کی کہ حکومتی اقدامات کو اعداد و شمار اور حقائق کے ساتھ عوام کے سامنے رکھا جائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان میں غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے صرف ایک سیزن کی تیاری کافی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ، شہری منصوبہ بندی اور واٹر مینجمنٹ کے شعبوں میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگر پنجاب حکومت اپنے جاری منصوبوں کو اسی رفتار سے مکمل کرتی ہے، جدید مشینری کو فعال رکھتی ہے، انڈر گراؤنڈ اسٹوریج ٹینکس بروقت مکمل ہوتے ہیں اور متعلقہ ادارے مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں تو یقیناً صوبے کے شہریوں کو اس کے عملی فوائد حاصل ہوں گے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کی جانب سے مون سون سے قبل کیے گئے انتظامات مثبت سمت میں ایک اہم پیش رفت ہیں۔ ان اقدامات کی بروقت تکمیل، شفاف عملدرآمد اور مستقل نگرانی ہی ان کی کامیابی کا اصل معیار ہوگی۔ اسی طرح وزیر اطلاعات **اسما بخاری** کی جانب سے حکومتی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولتوں کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا بھی قابل توجہ ہے۔ انہوں نے حکومتی اقدامات کو منظم انداز میں عوام تک پہنچانے کی ذمہ داری ادا کی، جس سے نہ صرف معلومات کی فراہمی بہتر ہوئی بلکہ حکومتی کارکردگی کا مثبت پہلو بھی نمایاں ہوا۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا اور منصوبوں کے نتائج بھی عوام کی توقعات کے مطابق سامنے آئے تو پنجاب میں شہری سہولیات، واٹر مینجمنٹ اور مون سون مینجمنٹ کے شعبوں میں مزید بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *