سیاسی اختلاف سے قومی استحکام تک: آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد مفاہمت، برداشت اور جمہوری ذمہ داری کی ضرورت
تجزیہ: بی این پی
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج سامنے آنے کے بعد ملک کی سیاسی فضا ایک مرتبہ پھر گرم ہو چکی ہے۔ ایک جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے نتائج کو متنازع قرار دیا ہے اور وفاقی حکومت کے خلاف سیاسی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے انتخابی نتائج کو عوامی اعتماد کا اظہار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں اسے واضح عوامی مینڈیٹ حاصل ہوا ہے۔ اس سیاسی صورتحال نے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ قومی سیاست میں بھی نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ اختلافات کو کس انداز سے آگے بڑھایا جائے تاکہ جمہوریت مضبوط ہو، قومی یکجہتی متاثر نہ ہو اور عوامی مسائل پس منظر میں نہ چلے جائیں۔
جمہوریت کا بنیادی حسن یہی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے نظریات، پروگرام اور ترجیحات کے ساتھ عوام کے سامنے جاتی ہیں۔ عوام جس جماعت پر اعتماد کرتے ہیں، وہ حکومت بنانے کا حق حاصل کرتی ہے جبکہ دیگر جماعتیں مضبوط اور ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی طرز عمل کسی بھی ترقی یافتہ جمہوری معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ تاہم جب انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد الزام تراشی، احتجاج، جوابی الزامات اور تلخ بیانات کا سلسلہ شروع ہو جائے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عوامی اعتماد اور جمہوری نظام کو پہنچتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دھاندلی کے الزامات لگائے اور ملک گیر سیاسی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بعض نشستوں پر انتخابی نتائج عوامی رائے کے مطابق نہیں آئے اور ان کے مطابق بعض حلقوں میں ان کی جماعت کا مینڈیٹ متاثر ہوا۔ اسی طرح سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی قیادت، وفاقی وزیر اطلاعات عطائ اللہ تارڑ، وزیر امور کشمیر امیر مقام اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنائ اللہ نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام نے کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی وڑن پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے قانون ساز اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے اور انتخابی نتائج کو تسلیم کرنا جمہوری روایت کا تقاضا ہے۔
تجزیہ: بی این پی کے مطابق کسی بھی انتخاب کے بعد سیاسی اختلافات کا پیدا ہونا غیر معمولی بات نہیں، لیکن اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ سیاسی قوتیں اپنے اختلافات کو آئینی اور قانونی دائرے میں رکھتے ہوئے حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا نہیں۔ اگر کسی جماعت کے پاس انتخابی بے ضابطگیوں کے ثبوت موجود ہیں تو انہیں متعلقہ انتخابی اداروں اور عدالتوں کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ یہی راستہ جمہوریت کو مضبوط اور اداروں کو مستحکم کرتا ہے۔
آزاد کشمیر کی سیاست ہمیشہ قومی سیاست سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ہونے والے انتخابات کو پورے ملک میں غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کو قومی مفاد کے تناظر میں دیکھیں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جو سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کریں۔ عوام نے ووٹ اس امید کے ساتھ دیا ہے کہ ان کے مسائل حل ہوں گے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری آئے گی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
آزاد کشمیر کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے بہتر انفراسٹرکچر، سیاحت کے فروغ، روزگار، بجلی، سڑکوں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مزید اقدامات کے منتظر ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی اولین ترجیح یہی ہونی چاہیے کہ وہ انتخابی مقابلے کو ختم ہونے کے بعد عوامی خدمت کا نیا باب شروع کریں۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، دونوں کی ذمہ داری ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔
مسلم لیگ (ن) کا یہ مؤقف ہے کہ عوام نے اس کی کارکردگی پر اعتماد کیا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی اپنے تحفظات کے ساتھ قانونی اور سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کر رہی ہے۔ دونوں مؤقف اپنی اپنی جگہ سیاسی حقیقت ہیں، مگر ریاستی اور قومی مفاد اس بات کا متقاضی ہے کہ اختلاف کو تصادم میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں سیاسی عدم استحکام کا براہ راست اثر معیشت، سرمایہ کاری، امن و امان اور عوامی زندگی پر پڑتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک نے معاشی مشکلات، مہنگائی، توانائی کے بحران، دہشت گردی کے چیلنج اور علاقائی کشیدگی جیسے مسائل کا سامنا کیا ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی جماعتوں پر یہ ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ عوام کو مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار نہ کریں۔
سیاسی برداشت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ دنیا کی مضبوط جمہوریتوں میں انتخابات کے بعد بھی سیاسی اختلافات برقرار رہتے ہیں، لیکن وہاں اداروں پر اعتماد کیا جاتا ہے اور آئینی راستے اختیار کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اسی سیاسی کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا اعتماد مضبوط ہو اور جمہوری سفر تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔
تجزیہ: بی این پی کے مطابق آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر انتخابی نظام پر تمام جماعتوں کا اعتماد ہوگا تو ہر انتخاب کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ اسی لیے پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو مل بیٹھ کر ایسے اقدامات پر غور کرنا چاہیے جو انتخابی عمل کو مزید شفاف، جدید اور قابل اعتماد بنائیں۔رانا ثنائ اللہ کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے حوالے سے آئینی طریقہ کار کی نشاندہی بھی ایک اہم پہلو ہے۔ پاکستان کا آئین قومی معاملات کے حل کے لیے واضح راستہ فراہم کرتا ہے۔ اسی آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ہر سیاسی اور انتظامی معاملے پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر آئینی راستے سے انحراف کسی کے مفاد میں نہیں۔
اسی طرح سیاسی رہنماؤں کو اپنی تقریروں اور بیانات میں ایسی زبان اختیار کرنی چاہیے جو قومی ہم آہنگی کو فروغ دے۔ سیاسی کارکن اپنے قائدین کی باتوں سے اثر لیتے ہیں، اس لیے ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو معاشرے میں برداشت اور رواداری کو فروغ دیتی ہے جبکہ سخت بیانات سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ کرتے ہیں۔آزاد کشمیر کی آئندہ حکومت کے سامنے بھی متعدد چیلنج موجود ہیں۔ اسے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، سیاحت کے فروغ، نوجوانوں کے لیے روزگار، انفراسٹرکچر کی بہتری، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور گڈ گورننس پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ اگر حکومت ان شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھاتی ہے تو اس کا فائدہ براہ راست عوام کو پہنچے گا اور جمہوری نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
اپوزیشن کی ذمہ داری بھی صرف تنقید تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ مثبت تجاویز، مؤثر قانون سازی اور عوامی مسائل کی نشاندہی کے ذریعے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ مضبوط حکومت کے ساتھ مضبوط اپوزیشن ہی کامیاب پارلیمانی نظام کی علامت ہوتی ہے۔آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کو قومی مفاد کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عوام سیاسی کشمکش سے زیادہ اپنے روزمرہ مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہیں بہتر تعلیم، معیاری صحت، روزگار، امن، انصاف اور ترقی چاہیے۔ اگر سیاسی قیادت ان ترجیحات کو مقدم رکھے گی تو جمہوریت بھی مضبوط ہوگی اور قومی وحدت بھی مستحکم ہوگی۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے لیے بہترین راستہ آئین، قانون، برداشت اور سیاسی مکالمے کا ہے۔ الزام تراشی کی بجائے ثبوت، احتجاج کی بجائے قانونی راستہ، اور تصادم کی بجائے مفاہمت کا رویہ اختیار کیا جائے تو نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پورا پاکستان سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کی نئی منزلوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ یہی بالغ نظری جمہوری روایات کو مستحکم کرے گی اور یہی طرز عمل عوام کے اعتماد اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭7