jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان میں کھلے گٹروں میں گرتے بچے، ذمہ دار کون؟

تجزیہ بی این پی
شہری زندگی میں بعض خطرات ایسے ہوتے ہیں جنہیں محض حادثہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ گزشتہ تین روز کے دوران کوٹ رادھا کشن، قصور اور لاہور کے علاقے کاہنہ میں دو معصوم بچوں کا کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونا اسی تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے شہری انتظامی نظام میں بنیادی نوعیت کی خامیاں اب انسانی جانوں کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکی ہیں۔ دو اور تین سال کی عمر کے بچے نہ تو خطرات کی نوعیت سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں یہ شعور ہوتا ہے کہ سڑک، گلی یا محلے میں موجود ایک کھلا مین ہول ان کی زندگی کے لیے موت کا کنواں ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسے میں ان بچوں کی حفاظت صرف والدین کی ذمہ داری قرار دینا انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
بلاشبہ والدین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کم سن بچوں کو گھر سے باہر جاتے وقت خصوصی نگرانی میں رکھیں۔ بچوں کی حفاظت میں والدین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ریاست اور شہری اداروں کی ذمہ داری اس سے کہیں وسیع ہے۔ سڑکیں، گلیاں، سیوریج کے نظام، مین ہولز، نالیاں اور دیگر شہری سہولتیں عوام کے لیے بنائی جاتی ہیں اور ان کی حفاظت یقینی بنانا متعلقہ اداروں کا فرض ہے۔ اگر کسی گلی میں ایک گٹر کا ڈھکن کئی دن، کئی ہفتے یا کئی ماہ سے غائب ہو اور اس کے گرد کوئی حفاظتی رکاوٹ بھی موجود نہ ہو تو اسے محض ایک حادثاتی صورت حال قرار دینا دراصل انتظامی غفلت پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق** اصل مسئلہ کسی ایک ادارے یا ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے شہری انتظامی ڈھانچے کی کارکردگی سے جڑا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر ترقیاتی منصوبے شروع ہونے کے بعد ان کی نگرانی، معیار، تکمیل اور عوامی تحفظ کے پہلو پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ سڑک کھود دی جاتی ہے، سیوریج لائن بچھائی جاتی ہے، مین ہول کھولے جاتے ہیں اور تعمیراتی کام جاری رہتا ہے، مگر شہریوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے، گڑھوں کے گرد حفاظتی رکاوٹیں لگانے اور کام مکمل ہونے تک متبادل انتظام رکھنے کا اہتمام اکثر نظر نہیں آتا۔ یہی معمولی سمجھی جانے والی کوتاہیاں بعض اوقات ایک خاندان کو زندگی بھر کے غم میں مبتلا کردیتی ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر ایک مین ہول کا ڈھکن چوری ہوجائے، ٹوٹ جائے یا کسی تعمیراتی سرگرمی کے دوران ہٹادیا جائے تو اسے دوبارہ لگانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ کیا متعلقہ اداروں کے پاس ایسے تمام مقامات کا ریکارڈ موجود ہے؟ کیا روزانہ یا ہفتہ وار بنیادوں پر مین ہولز کا معائنہ کیا جاتا ہے؟ کیا شہریوں کی شکایات پر فوری کارروائی کا کوئی مؤثر نظام موجود ہے؟ اور اگر کسی جگہ بار بار ڈھکن غائب ہونے کی شکایت سامنے آئے تو کیا وہاں مستقل حفاظتی انتظام کیا جاتا ہے؟ ان سوالات کے جوابات محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں حادثہ ہوجانے کے بعد چند دن تک شور ضرور اٹھتا ہے۔ متعلقہ حکام افسوس کا اظہار کرتے ہیں، تحقیقات کا اعلان کیا جاتا ہے، ذمہ داروں کے تعین کی بات ہوتی ہے اور متاثرہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے، مگر کچھ عرصے بعد معاملہ معمول کی فائلوں میں گم ہوجاتا ہے۔ اصل ضرورت اس سوچ کو تبدیل کرنے کی ہے۔ ریاستی اداروں کو حادثے کے بعد حرکت میں آنے کے بجائے حادثے سے پہلے خطرے کی نشاندہی اور اس کے خاتمے کے لیے سرگرم ہونا ہوگا۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** شہری سہولتوں کا معیار صرف اس بات سے نہیں ناپا جاسکتا کہ کتنی سڑکیں بنیں، کتنے منصوبے شروع ہوئے یا کتنے ترقیاتی بجٹ خرچ کیے گئے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ایک عام شہری اپنے گھر سے نکل کر گلی، بازار اور سڑک تک محفوظ انداز میں پہنچ سکے۔ اگر ایک خوبصورت سڑک کے کنارے کھلا مین ہول موجود ہے، اگر نئی تعمیر شدہ سڑک کے ساتھ گہری کھائی بغیر حفاظتی رکاوٹ کے موجود ہے یا اگر سیوریج منصوبے کے دوران شہریوں کے لیے محفوظ گزرگاہ نہیں بنائی گئی تو ایسی ترقی اپنے بنیادی مقصد سے محروم ہوجاتی ہے۔
حکومت کو اس مسئلے کو محض چند افسوس ناک واقعات کا معاملہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے ایک مستقل شہری خطرے کے طور پر لینا چاہیے۔ ملک کے تمام شہروں، قصبوں اور دیہی آبادیوں میں کھلے گٹروں، مین ہولز اور خطرناک نالوں کی جامع نشاندہی کی جائے۔ متعلقہ بلدیاتی اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود تمام مین ہولز کا ریکارڈ مرتب کریں اور ہر مقام کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے۔ جہاں ڈھکن موجود نہیں وہاں فوری طور پر مضبوط اور معیاری ڈھکن نصب کیے جائیں، جبکہ ایسے مقامات جہاں بار بار ڈھکن چوری یا خراب ہونے کا مسئلہ پیش آتا ہے وہاں اضافی حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
نامکمل سیوریج منصوبے بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ ترقیاتی کام شروع کرنا نسبتاً آسان ہے، لیکن انہیں مقررہ وقت میں مکمل کرنا، معیار برقرار رکھنا اور کام کے دوران شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا اصل انتظامی امتحان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سیوریج اور نکاسی آب کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے واضح مدت مقرر کرے اور متعلقہ اداروں سے اس پر عمل درآمد کرائے۔ اگر کسی منصوبے کے باعث کھلے گڑھے یا مین ہولز شہریوں کے لیے خطرہ بن رہے ہوں تو کام کرنے والے ٹھیکیدار اور نگرانی کرنے والے افسران کو حفاظتی انتظامات کا پابند کیا جائے۔
اسی طرح غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے تعین کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے۔ ہر حادثے کے بعد صرف معطلی یا وقتی کارروائی کافی نہیں۔ ذمہ داری کا واضح تعین ہونا چاہیے کہ متعلقہ علاقے میں مین ہول کی نگرانی کس ادارے اور کس افسر کی ذمہ داری تھی، شکایت کب موصول ہوئی، کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور حفاظتی انتظامات میں کہاں کوتاہی ہوئی۔ اگر غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ دوسرے اہلکار بھی اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے ادا کریں۔
اس کے ساتھ شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر کسی محلے میں مین ہول کا ڈھکن غائب ہو، سڑک پر گہرا گڑھا موجود ہو یا سیوریج کا کوئی خطرناک مقام سامنے آئے تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے متعلقہ ادارے کو اطلاع دی جائے۔ مقامی سطح پر شہری نگرانی کا مؤثر نظام بھی تشکیل دیا جاسکتا ہے جس میں محلہ کمیٹیاں، منتخب نمائندے اور متعلقہ بلدیاتی ادارے مل کر خطرناک مقامات کی نشاندہی کریں۔ تاہم شہریوں کی یہ ذمہ داری سرکاری اداروں کی بنیادی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی۔
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ کھلے مین ہولز کا خطرہ صرف بچوں تک محدود نہیں۔ بزرگ افراد، خواتین، معذور شہری، نابینا افراد اور رات کے وقت سفر کرنے والے لوگ بھی ایسے مقامات کا آسان شکار بن سکتے ہیں۔ بارش کے موسم میں خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے کیونکہ پانی جمع ہونے سے کھلے گٹر اور گڑھے نظر نہیں آتے۔ اس لیے مون سون سے قبل تمام مین ہولز، نالوں اور سیوریج لائنوں کا خصوصی معائنہ اور حفاظتی اقدامات ہر شہری ادارے کی ترجیح ہونی چاہیے۔حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ شہری منصوبہ بندی میں انسانی جان کی حفاظت کو بنیادی معیار بنایا جائے۔ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیتے وقت صرف لاگت اور تعمیراتی ڈیزائن نہیں بلکہ عوامی تحفظ کا منصوبہ بھی لازمی قرار دیا جائے۔ تعمیراتی اداروں کو کام شروع کرنے سے پہلے حفاظتی انتظامات کا نقشہ پیش کرنا چاہیے اور متعلقہ محکموں کو اس کی نگرانی کرنی چاہیے۔ اس طرح حادثات کی روک تھام کو ترقیاتی عمل کا لازمی حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
دو معصوم بچوں کی جانیں واپس نہیں آسکتیں۔ ان کے خاندانوں کا دکھ کسی معاوضے، تعزیتی بیان یا تحقیقات کے اعلان سے ختم نہیں ہوگا۔ تاہم ان المناک واقعات سے سبق لے کر اگر حکومت پورے ملک میں کھلے گٹروں اور خطرناک مین ہولز کے خلاف مستقل اور مؤثر مہم شروع کردے تو شاید مستقبل میں کئی خاندان ایسے ناقابل تلافی صدمے سے محفوظ رہ سکیں۔
حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اس کٹھن اور دیرینہ مسئلے کو فوری بنیادوں پر حل کرے۔ تمام کھلے گٹروں اور مین ہولز کو محفوظ بنایا جائے، نامکمل سیوریج منصوبے مکمل کیے جائیں، تعمیراتی کاموں میں حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کرایا جائے اور غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی ایک ایسا مرکزی شکایتی اور نگرانی کا نظام تشکیل دیا جائے جس کے ذریعے شہری خطرناک مقامات کی فوری اطلاع دے سکیں اور ان کی اصلاح کی پیش رفت بھی دیکھ سکیں۔ریاست کی اصل ذمہ داری صرف بڑے منصوبے بنانا یا نئی سڑکیں تعمیر کرنا نہیں، بلکہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ایک معصوم بچہ گھر سے چند قدم دور کھلے گٹر میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، وہاں ترقی کے دعووں کے ساتھ انسانی تحفظ کے سوال کا جواب بھی دینا ہوگا۔ ہمیں حادثات کے بعد آنسو بہانے کے بجائے حادثات سے پہلے خطرات ختم کرنے کی روایت اپنانا ہوگی۔ قیمتی انسانی جان کسی بھی ترقیاتی منصوبے، بجٹ یا انتظامی غفلت سے زیادہ اہم ہے۔ حکومت اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور مستقل بنیادوں پر عملی اقدامات کرے تو نہ صرف شہری نظام میں بہتری آسکتی ہے بلکہ کئی معصوم جانوں کو موت کے منہ میں جانے سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More