jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان میں ذہنی صحت۔قومی ترجیح اور مثبت معاشرے کی بنیاد

تجزیہ بی این پی
صحت مند معاشرہ صرف اس وقت تشکیل پاتا ہے جب جسم کے ساتھ ذہن بھی صحت مند ہو۔ ایک فرد جسمانی بیماری سے نجات حاصل کرلے لیکن مسلسل ذہنی دباؤ، بے چینی، خوف، مایوسی یا ڈپریشن کا شکار رہے تو اس کی زندگی کا معیار بہتر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح کوئی بھی قوم اس وقت حقیقی ترقی کی منزل کی طرف نہیں بڑھ سکتی جب اس کے لاکھوں شہری ذہنی اور نفسیاتی مسائل سے دوچار ہوں اور ان کے علاج، رہنمائی اور بحالی کے لیے مناسب سہولتیں دستیاب نہ ہوں۔ پاکستان میں ذہنی صحت کا مسئلہ اب محض چند افراد یا خاندانوں کا ذاتی معاملہ نہیں رہا بلکہ اسے ایک اہم عوامی اور قومی مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
عالمی ادارہ? صحت کے مطابق دنیا میں ہر آٹھواں شخص کسی نہ کسی ذہنی صحت کے مسئلے سے دوچار ہے جبکہ پاکستان میں تقریباً ہر تیسرا فرد ڈپریشن، انزائٹی اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ اگرچہ ذہنی صحت کے حوالے سے اعداد و شمار کے مختلف ذرائع اور طریقہ? کار میں فرق ہوسکتا ہے، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکے ہیں۔ اس صورتحال کو محض اعداد و شمار کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے ان انسانی زندگیوں کے حوالے سے سمجھنا ہوگا جن کے روزمرہ معمولات، خاندانی تعلقات، معاشی سرگرمیاں اور مستقبل کی امیدیں اس سے متاثر ہوتی ہیں۔
ذہنی صحت کے مسائل کے اسباب بھی ہماری اجتماعی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، معاشی عدم تحفظ، گھریلو تنازعات، تعلیم اور روزگار کے محدود مواقع، مستقبل کے بارے میں غیر یقینی، سماجی دباؤ اور تیز رفتار زندگی نے انسان کے ذہنی سکون کو متاثر کیا ہے۔ نوجوان طبقہ خصوصاً اپنے مستقبل، تعلیم، روزگار اور معاشی خودمختاری کے حوالے سے شدید دباؤ محسوس کرتا ہے۔ دوسری طرف متوسط اور کم آمدنی والے خاندان معاشی مشکلات کے باعث مسلسل ذہنی پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں معمولی نوعیت کے مسائل بھی بعض اوقات شدید اضطراب اور مایوسی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ذہنی بیماری کسی فرد کی کمزوری یا کردار کی خامی نہیں۔ جس طرح بخار، ذیابیطس، بلڈ پریشر یا دیگر جسمانی امراض کا علاج ضروری ہے، اسی طرح ڈپریشن، انزائٹی اور دیگر نفسیاتی مسائل بھی توجہ، علاج اور مناسب نگہداشت کے مستحق ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے ذہنی بیماری کے بارے میں اب بھی بہت سے غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔ بعض افراد نفسیاتی مسئلے کا شکار شخص کو کمزور ارادے کا مالک قرار دیتے ہیں، کچھ لوگ اسے محض وقتی پریشانی سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں جبکہ کئی خاندان سماجی ردعمل کے خوف سے علاج تک نہیں کرواتے۔ یہی رویہ مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** ذہنی صحت کے حوالے سے سب سے پہلی ضرورت معاشرے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ مسلسل اداسی، بے چینی، نیند میں نمایاں تبدیلی، ہر وقت خوف یا بے بسی کا احساس، سماجی سرگرمیوں سے دوری اور روزمرہ کاموں میں دلچسپی ختم ہونا قابلِ توجہ علامات ہوسکتی ہیں تو بہت سے افراد بروقت مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمیں یہ سوچ تبدیل کرنا ہوگی کہ نفسیاتی مدد لینا کسی شرمندگی کی علامت ہے۔ اس کے برعکس کسی مشکل کو تسلیم کرنا اور اس کے حل کے لیے ماہرین سے رجوع کرنا شعور، ذمہ داری اور حوصلے کی علامت ہے۔
ذہنی صحت کے مسئلے کا ایک اہم پہلو سہولتوں کی عدم دستیابی بھی ہے۔ بڑے شہروں میں سرکاری اور نجی سطح پر بعض ہسپتال، کلینکس اور ماہرین موجود ہیں، مگر پاکستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صورتحال مختلف ہے۔ دیہی علاقوں میں اکثر لوگوں کو نفسیاتی ماہرین، کونسلرز اور متعلقہ طبی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ کئی خاندانوں کے لیے بڑے شہر کا سفر، علاج کے اخراجات اور مسلسل طبی مشاورت ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔ نتیجتاً ایسے افراد خاموشی سے اپنی مشکلات برداشت کرتے رہتے ہیں۔
اس خلا کو پْر کرنے کے لیے ذہنی صحت کی بنیادی خدمات کو ضلعی اور تحصیل سطح کے ہسپتالوں کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ہر بڑے سرکاری ہسپتال میں نفسیاتی امراض کے ماہرین کی دستیابی ایک اہم قدم ہوگا، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ بنیادی مراکز صحت کے عملے کو ابتدائی ذہنی صحت کے مسائل کی شناخت اور مناسب رہنمائی کی تربیت دی جائے۔ اگر ایک بنیادی طبی مرکز پر موجود ڈاکٹر یا تربیت یافتہ طبی کارکن ابتدائی علامات کو پہچان کر مریض کو مناسب ماہر تک پہنچا سکے تو بہت سے پیچیدہ معاملات کو ابتدائی مرحلے میں ہی سنبھالا جاسکتا ہے۔
اس سلسلے میں جدید ٹیکنالوجی بھی ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔ پاکستان جیسے وسیع اور آبادی کے لحاظ سے بڑے ملک میں ہر علاقے میں ماہر نفسیات کی فوری دستیابی مشکل ہوسکتی ہے، لیکن ٹیلی میڈیسن اور آن لائن مشاورت کے ذریعے اس فاصلے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ سرکاری سطح پر ایک منظم ڈیجیٹل نظام قائم کیا جائے جہاں شہری ابتدائی مشاورت، رہنمائی اور ماہرین سے رابطے کی سہولت حاصل کرسکیں۔ اس طرح دور دراز علاقوں کے افراد بھی بنیادی ذہنی صحت کی خدمات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اس مسئلے کا حل صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ خاندان، تعلیمی ادارے، میڈیا، مذہبی و سماجی حلقے اور معاشرے کا ہر فرد اس حوالے سے کردار ادا کرسکتا ہے۔ خاندان کسی فرد کی ذہنی کیفیت میں تبدیلی محسوس کرے تو اسے تنقید، طعنوں اور الزام کے بجائے توجہ اور ہمدردی فراہم کرے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں پر غیر ضروری تعلیمی اور سماجی دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کے مسائل سنیں۔ نوجوانوں کو یہ اعتماد دیا جائے کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ سیکھنے اور دوبارہ کوشش کرنے کا ایک مرحلہ ہے۔
تعلیمی ادارے بھی ذہنی صحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں طلبہ کے لیے کونسلنگ کی سہولت موجود ہونی چاہیے۔ امتحانات، کیریئر، رشتوں، سماجی دباؤ اور مستقبل کے حوالے سے نوجوانوں کو درپیش مشکلات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔ ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے جہاں طالب علم اپنی پریشانی بیان کرنے میں خوف محسوس نہ کرے۔
کام کی جگہوں پر بھی ذہنی صحت کو اہمیت دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ملازمین پر مسلسل کام کا دباؤ، غیر یقینی ملازمت، غیر مناسب اوقات کار اور کام اور گھریلو زندگی میں عدم توازن ذہنی تھکن پیدا کرسکتے ہیں۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ ملازمین کے لیے صحت مند اور باوقار ماحول پیدا کریں۔ مناسب آرام، کام کے اوقات میں توازن، شکایات کے ازالے کا نظام اور ضرورت پڑنے پر مشاورت کی سہولت نہ صرف ملازمین کی ذہنی صحت بہتر بناتی ہے بلکہ ادارے کی کارکردگی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ذہنی صحت سے متعلق خبریں یا واقعات رپورٹ کرتے وقت غیر ضروری سنسنی خیزی سے گریز کیا جانا چاہیے۔ خودکشی یا کسی سنگین ذہنی بحران کے واقعے کو اس انداز میں پیش نہیں کرنا چاہیے جس سے متاثرہ افراد یا ان کے خاندانوں کی تضحیک ہو۔ اس کے بجائے میڈیا کو آگاہی، علاج اور مدد کے راستوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔ ڈراموں، دستاویزی پروگراموں اور عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جاسکتا ہے کہ ذہنی بیماری قابلِ علاج ہے اور مدد حاصل کرنا ایک مثبت قدم ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ذہنی صحت کو صرف بیماری کے زاویے سے نہ دیکھا جائے بلکہ ذہنی فلاح و بہبود کو بھی قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ کھیلوں کے میدان، پارکس، لائبریریاں، کمیونٹی سینٹرز، ثقافتی سرگرمیاں اور صحت مند تفریح کے مواقع انسان کو ذہنی سکون فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ شہروں کی منصوبہ بندی میں ایسے عوامی مقامات کی فراہمی بھی ذہنی صحت کی ایک مثبت حکمت عملی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ محفوظ ماحول میں مل بیٹھ سکیں، ورزش کرسکیں اور صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں، وہاں ذہنی دباؤ کم کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
معاشی استحکام بھی ذہنی صحت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ جب ایک خاندان کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے، بچوں کی تعلیم، علاج اور رہائش کے اخراجات کے بارے میں مسلسل خوف لاحق ہو تو ذہنی سکون متاثر ہونا فطری امر ہے۔ اس لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، مہنگائی پر قابو پانا، سماجی تحفظ کے مؤثر پروگرام اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے سہولتیں فراہم کرنا بھی بالواسطہ طور پر ذہنی صحت کی پالیسی کا حصہ ہیں۔
تاہم اس پورے منظرنامے میں مایوسی کے بجائے امید کو مرکز بنانا ہوگا۔ پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل یقیناً سنجیدہ ہیں، لیکن یہ ناقابلِ حل نہیں۔ دنیا کے مختلف معاشروں نے آگاہی، بروقت تشخیص، علاج، کونسلنگ اور سماجی تعاون کے ذریعے ذہنی صحت کے میدان میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے۔ پاکستان بھی اپنی آبادی، وسائل اور ضروریات کے مطابق ایسا نظام تشکیل دے سکتا ہے جس میں ذہنی صحت کو بنیادی صحت کی خدمات سے جوڑا جائے۔
ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ ایک شخص کی ذہنی صحت صرف اس کی اپنی زندگی نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کو متاثر کرتی ہے۔ ایک ذہنی طور پر مطمئن فرد بہتر والدین، بہتر شریکِ حیات، بہتر طالب علم، بہتر کارکن اور زیادہ ذمہ دار شہری بن سکتا ہے۔ اسی طرح ذہنی صحت کے مسائل کو بروقت سمجھ کر علاج فراہم کیا جائے تو خاندانوں پر پڑنے والا معاشی اور سماجی بوجھ بھی کم ہوسکتا ہے۔
**تجزیہ بی این پی** کا نقطہ? نظر یہ ہے کہ ذہنی صحت کو قومی صحت پالیسی میں ثانوی مسئلہ سمجھنے کے بجائے بنیادی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔ حکومت کو ضلعی اور تحصیل سطح پر ذہنی صحت کی بنیادی خدمات فراہم کرنے، ماہرین کی تعداد بڑھانے، طبی عملے کی تربیت، ٹیلی میڈیسن کے فروغ اور عوامی آگاہی کے لیے جامع منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی معاشرے میں یہ پیغام عام کیا جائے کہ پریشانی کا اظہار کمزوری نہیں، مدد طلب کرنا شرمندگی نہیں اور علاج حاصل کرنا شکست نہیں۔پاکستان کو ایک ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں کسی پریشان حال شخص کو خاموش رہنے پر مجبور نہ کیا جائے بلکہ اس کی بات سنی جائے؛ جہاں ذہنی بیماری کو طعنہ نہیں بلکہ ایک طبی مسئلہ سمجھا جائے؛ جہاں نوجوانوں کو مستقبل سے خوفزدہ ہونے کے بجائے مستقبل بنانے کا حوصلہ دیا جائے اور جہاں خاندان اپنے افراد کے لیے تحفظ، محبت اور اعتماد کا مرکز بنیں۔
ذہنی صحت کی بہتری دراصل انسانی صلاحیتوں کی بحالی کا عمل ہے۔ اگر ہم اپنے شہریوں کو ذہنی سکون، مناسب علاج، سماجی تعاون اور امید فراہم کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو اس کے اثرات صرف صحت کے شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تعلیم، معیشت، روزگار، خاندانی نظام اور قومی ترقی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک صحت مند ذہن ہی بہتر فیصلے کرتا ہے، بہتر تعلقات قائم کرتا ہے اور بہتر مستقبل تعمیر کرتا ہے۔
اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ذہنی صحت کو خاموش مسئلہ بنانے کے بجائے قومی گفتگو کا حصہ بنایا جائے۔ حکومت پالیسی بنائے، طبی ادارے سہولتیں فراہم کریں، تعلیمی ادارے رہنمائی کریں، میڈیا آگاہی پھیلائے اور خاندان اپنے پیاروں کا سہارا بنیں۔ یہی اجتماعی کوشش پاکستان کو ایک زیادہ متوازن، پْرامید اور صحت مند معاشرے کی طرف لے جاسکتی ہے۔ ذہنی صحت پر سرمایہ کاری دراصل انسان پر سرمایہ کاری ہے، اور انسان ہی کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More