jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

جنگ نہیں، مذاکرات ہی امریکہ اور ایران کے تنازع کا واحد راستہ

تجزیہ بی این پی
دنیا ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عسکری کارروائیوں اور سفارتی تعطل کے ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں معمولی سی غلطی بھی ایک بڑے علاقائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن، عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور معاشی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ایک طرف پاکستان، قطر اور عمان جیسے ممالک سفارتی کوششوں کے ذریعے فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ دوسری جانب واشنگٹن اور تہران سے آنے والے سخت بیانات اور عسکری اقدامات اس سفارتی عمل کو مشکل بنا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مستقبل میں مذاکرات کے امکان کو مسترد کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ تہران اس وقت واشنگٹن پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانی حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آنا کہ ٹرمپ کی صدارتی مدت کے خاتمے تک امریکہ سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی، اس تنازعے میں پائی جانے والی گہری بداعتمادی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایرانی حکام کا یہ کہنا بھی قابلِ غور ہے کہ مذاکرات کی عوامی سطح پر تصدیق کرنا ایران کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اور تہران کو انکار، ابہام اور تزویراتی صبر کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ اس طرح کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں جانب سیاسی اور عسکری سوچ اس وقت سفارتی مفاہمت پر غالب ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کیے جانے والے دعوے اور ایران کے خلاف مزید کارروائی کے امکانات کا اظہار بھی خطے میں بے یقینی کو بڑھا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی کی فراہمی میں اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اگر اس راستے میں مستقل عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے ہر اس ملک کو متاثر کریں گے جو تیل اور گیس کی عالمی منڈی پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے براہِ راست معاشی اثرات برداشت کر سکتے ہیں۔
اسی دوران باب المندب میں بحری جہاز پر حملے اور خطے کے دیگر واقعات نے صورت حال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی موجود ہے اور دوسری طرف بحیرہ? احمر، باب المندب اور خلیج کے اہم بحری راستے بھی خطرات کی زد میں ہیں۔ حالیہ حملے میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت نے اس بحران کی انسانی قیمت کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ جنگ اور تصادم کی خبریں محض اعداد و شمار نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے انسانوں کی زندگیاں، خاندانوں کے مستقبل اور ملکوں کی معیشتیں وابستہ ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کو اس بحران کو محض طاقت کے توازن کے تناظر میں نہیں بلکہ انسانی اور معاشی سلامتی کے زاویے سے بھی دیکھنا ہوگا۔
اس تمام صورت حال میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں خصوصی توجہ کی مستحق ہیں۔ پاکستان نے ابتدا ہی سے امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کی ہے۔ اسلام آباد کا یہ مؤقف نہ صرف پاکستان کے اپنے قومی مفادات سے ہم آہنگ ہے بلکہ خطے کے وسیع تر امن کے لیے بھی اہم ہے۔ پاکستان کسی ایک فریق کی طرف داری کرنے کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور مفاہمت کا راستہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی متوازن طرزِ عمل پاکستان کو ایک ممکنہ سہولت کار کے طور پر اہم بناتا ہے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایک بار پھر تہران کا دورہ اسی سفارتی تسلسل کی کڑی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتوں میں خطے کی صورت حال، دوطرفہ تعلقات اور امن کی کوششوں پر تبادلہ? خیال اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی سفارت کاری کے ذریعے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی تعلقات اسلام آباد کو تہران تک رسائی کا ایک ایسا راستہ فراہم کرتے ہیں جسے علاقائی امن کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کی موجودہ سفارتی پالیسی کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اسلام آباد نے خود کو کسی ایک طاقت کے کیمپ تک محدود نہیں کیا۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کی اہمیت سے بھی آگاہ ہے اور ایران کے ساتھ اپنے ہمسایہ اور برادرانہ تعلقات کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ اسی توازن کے باعث پاکستان دونوں فریقوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کی پوزیشن میں ہے۔ اگر اس سفارتی گنجائش کو دانش مندی، تسلسل اور غیر جانب داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان علاقائی امن کے لیے ایک مؤثر سہولت کار ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک کی جانب سے بھی پاکستان، قطر اور عمان کو اس تنازع کے حل کے لیے اہم ممالک قرار دینا اسلام آباد کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ قطر اور عمان ماضی میں بھی حساس علاقائی تنازعات میں رابطہ کاری اور سفارتی سہولت کاری کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ان دونوں ممالک کی مشترکہ کوششیں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ایسا سفارتی راستہ پیدا کر سکتی ہیں جس کے ذریعے دونوں فریق براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی طرف واپس آ سکیں۔ اگرچہ یہ کام آسان نہیں، تاہم موجودہ حالات میں کسی بھی ممکنہ سفارتی راستے کو بند کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کئی بنیادی اختلافات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان، علاقائی اثر و رسوخ، سلامتی کے معاملات اور جوہری مسئلہ ایسے عوامل ہیں جنہوں نے کئی برسوں سے تعلقات کو کشیدہ رکھا ہوا ہے۔ ایسے پیچیدہ تنازعات کا حل چند ملاقاتوں یا ایک اعلان سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے طویل المدت سفارت کاری، مرحلہ وار اعتماد سازی اور ایسے قابلِ عمل سمجھوتے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں دونوں فریق اپنی بنیادی سلامتی اور سیاسی مفادات کو محفوظ تصور کریں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ جب بھی مذاکرات کے امکانات پیدا ہوتے ہیں، سخت بیانات یا عسکری کارروائیاں ماحول کو دوبارہ کشیدگی کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ جنگی ماحول میں کسی بھی فریق کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ وقتی طور پر سیاسی مقبولیت یا عسکری برتری کا احساس پیدا کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کا نتیجہ انسانی جانوں کے ضیاع، معاشی تباہی اور سیاسی عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے سے بڑا تنازع بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی آتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ اگر مذاکرات پہلے شروع ہو جائیں تو انسانی اور معاشی نقصان کم ہوتا ہے، جبکہ جنگ کے بعد مذاکرات کا آغاز کہیں زیادہ بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد ہوتا ہے۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے بحری راستوں کا تحفظ اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ صرف متعلقہ ممالک کے نہیں بلکہ عالمی معیشت کے راستے ہیں۔ ان راستوں پر کشیدگی سے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، شپنگ کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہوگا کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی مہنگائی، صنعتی لاگت اور عام آدمی کے گھریلو بجٹ پر اثر انداز ہوتا ہے۔
دنیا پہلے ہی معاشی مشکلات، مہنگائی، توانائی کے بحران اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی جنگ کا پھیلاؤ عالمی معیشت کے لیے ایک نیا بحران پیدا کر سکتا ہے۔ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ یورپ، ایشیا اور افریقہ کی معیشتیں بھی اس کے اثرات محسوس کریں گی۔ عالمی تجارت میں رکاوٹ، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور سرمایہ کاری میں کمی ترقی پذیر ممالک کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے اس بحران کا ایک اور پہلو پاک ایران تعلقات سے متعلق ہے۔ دونوں ممالک طویل مشترکہ سرحد رکھتے ہیں اور ان کے درمیان تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی اور عوامی روابط جیسے معاملات براہِ راست باہمی تعاون سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایران میں عدم استحکام یا خطے میں وسیع جنگ پاکستان کے سرحدی علاقوں، تجارت اور سلامتی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے اسلام آباد کا تہران کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا محض سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ پاکستان کے اپنے قومی مفادات کا تقاضا بھی ہے۔
پاکستان کو اس موقع پر اپنی سفارتی پالیسی میں مزید تسلسل اور وضاحت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد کو امریکہ اور ایران دونوں پر زور دینا چاہیے کہ اختلافات کو حل کرنے کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ اسی طرح قطر اور عمان کے ساتھ رابطہ بڑھا کر مشترکہ سفارتی حکمتِ عملی تشکیل دی جا سکتی ہے۔ اگر تینوں ممالک کسی مشترکہ فریم ورک کے ذریعے اعتماد سازی، جنگ بندی اور مذاکرات کی مرحلہ وار پیش رفت پر کام کریں تو موجودہ بحران میں ایک نئی سفارتی امید پیدا ہو سکتی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کی سفارتی کامیابی صرف اس صورت میں ممکن ہوگی جب اسلام آباد جذباتی بیانات کے بجائے خاموش، مسلسل اور نتیجہ خیز سفارت کاری کو ترجیح دے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو کسی فریق کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے امن کے حق میں مضبوط مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ اگر اسلام آباد امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی طرف واپس لانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک اہم کامیابی ہوگی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے ایک ذمہ دار اور متوازن ملک کے تصور کو بھی تقویت ملے گی۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے سخت مؤقف اور امریکی قیادت کے بیانات کے باوجود یہ امید ختم نہیں ہونی چاہیے کہ سفارت کاری کے لیے کوئی راستہ موجود نہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب شدید ترین دشمنی رکھنے والے ممالک بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بھی بنیادی حقیقت یہی ہے کہ جنگ کسی فریق کو مکمل اور مستقل کامیابی نہیں دے سکتی۔ دونوں ممالک کو کسی نہ کسی مرحلے پر سیاسی حل کی طرف واپس آنا ہوگا۔
اس وقت اصل ضرورت یہ ہے کہ دونوں فریق اپنے بیانات میں تحمل پیدا کریں۔ جنگی دھمکیوں اور عسکری کارروائیوں کے بجائے سفارتی رابطوں کو ترجیح دی جائے۔ پاکستان، قطر اور عمان کی سہولت کاری کو کمزوری نہیں بلکہ ایک مثبت سفارتی راستے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر فریقین کسی تیسرے ملک کے ذریعے ابتدائی رابطہ قائم کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ آگے چل کر براہِ راست مذاکرات کی بنیاد بن سکتا ہے۔دنیا کو اس وقت کسی نئی جنگ کی نہیں بلکہ امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کا کوئی مستقل حل میزائلوں، دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں میں نہیں بلکہ مکالمے، مذاکرات اور باہمی مفاہمت میں پوشیدہ ہے۔ طاقت کا استعمال کسی مسئلے کو وقتی طور پر دبا سکتا ہے، لیکن اسے مستقل طور پر حل نہیں کر سکتا۔ مستقل حل کے لیے سیاسی ارادے اور سفارتی حکمتِ عملی ضروری ہے۔
پاکستان نے امن کے لیے اپنی نیت اور سفارتی آمادگی واضح کر دی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام آباد اپنی کوششوں کو مزید منظم کرے اور قطر و عمان کے ساتھ مل کر ایک مؤثر سفارتی رابطہ کاری کا کردار ادا کرے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا تہران کا دورہ اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے اور اگر اس قسم کی کوششیں امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز تک واپس لانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں تو یہ خطے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔
آخرکار امریکہ اور ایران دونوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ جنگ کے میدان میں حاصل ہونے والی برتری سے زیادہ اہم وہ امن ہے جو آنے والی نسلوں کو محفوظ مستقبل فراہم کر سکے۔ آبنائے ہرمز سے باب المندب تک پھیلی ہوئی کشیدگی پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ فریقین تصادم کے بجائے مفاہمت، دھمکی کے بجائے مکالمے اور طاقت کے بجائے سفارت کاری کو موقع دیں۔ پاکستان کی امن کوششیں اسی بڑے مقصد کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ اگر اسلام آباد کی سفارتی کاوشیں کامیاب ہوئیں تو یہ صرف پاکستان کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے امن کی ایک نئی امید ثابت ہوگی۔ دنیا کو آج خوف نہیں، امن چاہیے؛ جنگ نہیں، استحکام چاہیے؛ اور طاقت کے مظاہرے نہیں بلکہ ایسی سفارت کاری چاہیے جو انسانوں کو مزید خونریزی سے محفوظ رکھ سکے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More