jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

افغانستان میں امن، پاکستان کی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف قومی عزم

تجزیہ بی این پی
افغانستان کی سرزمین ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، تاہم اس بار مسئلہ صرف افغانستان کے داخلی حالات یا وہاں کی سیاسی صورتِ حال تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی سلامتی، خطے کے امن اور عالمی دہشت گردی کے خلاف کوششوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی تازہ رپورٹ نے پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کو تقویت دی ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں اور سہولت کاری سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد کو محض ایک ملکی مسئلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے اثرات پورے خطے کے امن و استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں۔
سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں 16 دسمبر 2025ء سے 9 جون 2026ء تک کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا۔ سکیورٹی امور کے ایک تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 79 فیصد اضافہ ہوا، جس کے پس منظر میں کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں اور افغانستان میں اس کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کو اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار یقیناً تشویش ناک ہیں اور اس امر کے متقاضی ہیں کہ دہشت گردی کے مسئلے کو محض بیانات اور دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے حل کیا جائے۔
پاکستان گزشتہ کئی برس سے اس حقیقت کی نشاندہی کرتا چلا آ رہا ہے کہ افغانستان میں موجود بعض دہشت گرد عناصر پاکستانی شہریوں، سکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان نے بارہا افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔ یہ مطالبہ نہ تو غیر معمولی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف؛ بلکہ یہ ایک بنیادی اور جائز سلامتی کا تقاضا ہے جسے بین الاقوامی اصولوں اور دوطرفہ معاہدوں کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔
دوحہ معاہدے کے تناظر میں بھی افغان عبوری حکومت کی ذمہ داریاں اہمیت رکھتی ہیں۔ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال نہ ہونے دینا خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔ اگر کسی گروہ کو کسی ملک کے خلاف کارروائیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں، نقل و حرکت کی سہولت یا دیگر معاونت میسر آتی ہے تو اس کے نتائج بالآخر پورے خطے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ افغانستان خود بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگ، بدامنی اور دہشت گردی کے تلخ تجربات سے گزرا ہے، اس لیے افغان حکام سے بجا طور پر یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے عنصر کی حوصلہ شکنی کریں گے جو افغانستان کو دوبارہ علاقائی کشیدگی اور دہشت گردی کا مرکز بنانے کا سبب بن سکتا ہو۔
دہشت گردی کی ہر شکل قابلِ مذمت ہے۔ اس کا کوئی مذہب، قوم، نسل یا جواز نہیں ہوتا۔ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا، سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرنا، عبادت گاہوں، بازاروں، تعلیمی اداروں یا سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانا کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں۔ جو عناصر اپنے سیاسی یا نظریاتی مقاصد کے حصول کے لیے معصوم انسانوں کا خون بہاتے ہیں، وہ دراصل انسانیت، امن اور معاشرتی اقدار کے دشمن ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑی ہے اور اس جنگ میں ہزاروں پاکستانی شہریوں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
پاکستان فوج کی قربانیاں اس قومی جدوجہد کا ایک روشن اور لازوال باب ہیں۔ ہمارے فوجی جوانوں نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں، سرحدی چوکیوں، شہری مراکز اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے آج کو قوم کے محفوظ کل کے لیے قربان کیا۔ شہدائ کی قربانیاں محض اعداد و شمار نہیں بلکہ پاکستان کے محفوظ مستقبل کی بنیاد ہیں۔ ان خاندانوں کا حوصلہ بھی قابلِ تحسین ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کو وطن کی سلامتی پر قربان کیا۔ قوم اپنے شہداء اور غازیوں کی خدمات کو ہمیشہ احترام اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی کامیابیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ریاستی ادارے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں، انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز، سرحدی نگرانی اور داخلی سلامتی کے اقدامات نے ملک میں امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم دہشت گردی کا مسئلہ صرف فوجی کارروائی سے مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے سیاسی، سفارتی، معاشی اور سماجی سطح پر بھی مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کو ایک طرف اپنی سرحدوں کے تحفظ اور داخلی سلامتی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھنے چاہئیں اور دوسری طرف سفارتی محاذ پر بھی اپنے مؤقف کو دلیل، شواہد اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر مزید مضبوط انداز میں پیش کرنا چاہیے۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی پاکستان کے مفاد میں نہیں، اسی طرح ایک غیر مستحکم اور دہشت گردی سے متاثرہ افغانستان بھی خود افغان عوام کے مفاد میں نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان امن، تجارت اور باہمی تعاون کے امکانات اسی وقت مضبوط ہو سکتے ہیں جب ایک دوسرے کی خودمختاری اور سلامتی کے تقاضوں کا احترام کیا جائے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں پائیدار امن کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کے لیے ایک مستحکم، پرامن اور خود کفیل افغانستان کسی خطرے کے بجائے خطے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، جغرافیائی اور عوامی روابط موجود ہیں۔ لاکھوں خاندانوں کے روابط سرحد کے دونوں جانب ہیں اور دونوں ممالک کی معیشتیں بھی ایک دوسرے سے کسی نہ کسی حد تک وابستہ ہیں۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ دہشت گردی کے چند عناصر کی سرگرمیوں کو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان نفرت اور فاصلے کا سبب نہ بننے دیا جائے۔
افغان عبوری حکومت کے لیے بھی موجودہ صورتِ حال ایک اہم امتحان ہے۔ اگر وہ واقعی افغانستان کو ایک پرامن ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف واضح، قابلِ تصدیق اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ محض اس تاثر کو مسترد کر دینا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، مسئلے کا حل نہیں۔ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس، زمینی حقائق اور پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اس معاملے کو سنجیدہ اور عملی توجہ کا متقاضی بناتے ہیں۔پاکستان کو بھی اس معاملے میں اشتعال انگیزی کے بجائے تدبر اور حکمتِ عملی کو ترجیح دینی چاہیے۔ قومی سلامتی کے معاملات میں ریاستی مؤقف واضح ہونا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ سفارتی دروازے بھی کھلے رہنے چاہئیں۔ افغانستان کے ساتھ براہِ راست رابطے، سرحدی انتظامات میں بہتری، انٹیلی جنس تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کے امکانات تلاش کیے جانے چاہئیں۔ اگر کسی مسئلے کا حل مذاکرات اور سفارتی دباؤ سے ممکن ہو تو اسے ترجیح دینا ہی دانش مندی ہے۔ البتہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ نقصان اٹھایا ہے۔ بازاروں، مساجد، اسکولوں، سرکاری اداروں اور سکیورٹی تنصیبات پر حملوں نے معاشرے کو گہرے زخم دیے، مگر قوم نے دہشت گردوں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ یہی قومی عزم پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہماری سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنے خون سے یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے امن اور خودمختاری کا دفاع ہر قیمت پر کیا جائے گا۔ ان کی قربانیاں لازوال ہیں اور آنے والی نسلیں بھی ان قربانیوں کو قدر و احترام سے یاد کریں گی۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کامیابی کا اصل راستہ قومی اتحاد، مضبوط اداروں، مؤثر سرحدی انتظام، بہتر انٹیلی جنس، معاشی مواقع اور انتہا پسندی کے خلاف فکری جدوجہد سے ہو کر گزرتا ہے۔ پاکستان کو اپنے نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع بڑھانا ہوں گے تاکہ انتہا پسند عناصر کے پروپیگنڈے اور گمراہ کن نظریات کو معاشرے میں جگہ نہ مل سکے۔ اسی طرح مذہبی و سماجی رہنماؤں، اساتذہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی امن کے بیانیے کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
افغانستان کے معاملے میں پاکستان کا بنیادی مقصد جنگ نہیں بلکہ پائیدار امن اور اپنی سرزمین کا تحفظ ہے۔ پاکستان ایک ایسے افغانستان کا خواہاں ہے جو اپنے ہمسایوں کے لیے خطرہ نہ ہو اور جہاں سے دہشت گرد گروہوں کو کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کی اجازت نہ ملے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کو عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس کو سفارتی سطح پر مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عالمی موقف کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔یہ وقت الزام تراشی کے بجائے ذمہ داری قبول کرنے کا ہے۔ اگر افغانستان میں امن قائم ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات پاکستان سمیت پورے وسطی اور جنوبی ایشیا پر مرتب ہوں گے۔ علاقائی تجارت بڑھے گی، معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، عوامی روابط بہتر ہوں گے اور جنگ و دہشت گردی کے بجائے ترقی اور خوشحالی کا ماحول پیدا ہوگا۔ اس کے برعکس اگر دہشت گرد عناصر کو جگہ ملتی رہی تو افغانستان خود بھی عدم استحکام سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں، دنیا کو ان کا اعتراف کرنا چاہیے۔ ہماری فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے امن کی خاطر جو قیمت ادا کی ہے، وہ معمولی نہیں۔ شہداء کا خون قوم کے لیے ایک امانت ہے اور اس امانت کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں امن کو مضبوط کیا جائے، دہشت گردی کی ہر شکل کو مسترد کیا جائے اور آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ ملک دیا جائے۔
آخرکار یہ بات واضح ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر امن اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات، علاقائی تعاون اور معاشی روابط پاکستان کی ترجیحات میں شامل رہنے چاہئیں، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستانی شہریوں کی جان و مال اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کو اولین ترجیح حاصل ہو۔ افغان سرزمین کسی بھی دہشت گرد گروہ کے لیے پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ یہی خطے کے امن، افغان عوام کے مستقبل اور پاکستان کی سلامتی کے لیے بہتر راستہ ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے شہداء کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش سرمایہ ہیں۔ ان کی جرات، فرض شناسی اور وطن سے وفاداری قوم کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔ پاکستان امن کی قوت بن کر آگے بڑھ سکتا ہے، بشرطیکہ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم برقرار رکھا جائے، سفارتی حکمتِ عملی کو مؤثر بنایا جائے اور خطے کے تمام ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ امن کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر پاکستان کی قربانیوں اور قومی حوصلے نے ثابت کیا ہے کہ ایک محفوظ، مستحکم اور پْرامن مستقبل کا خواب ضرور حقیقت بن سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More