تجزیہ راجا محمد الیاس کیانی
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ سیاسی اختلاف جمہوریت کا لازمی حصہ ہے، مگر جب یہی اختلاف ذاتی دشمنی، انتقام، الزام تراشی اور محاذ آرائی میں تبدیل ہو جائے تو اس کے اثرات صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس کی زد میں آتا ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ سیاسی انتشار نہیں بلکہ سیاسی استحکام، باہمی احترام، جمہوری برداشت اور قومی مفاد پر اتفاقِ رائے ہے۔ یہی وہ بنیادی تقاضا ہے جس کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے ایک مشترکہ فورم پر جمع ہونا چاہیے اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف کا یہ کہنا کہ سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے، موجودہ سیاسی ماحول میں ایک نہایت اہم اور قابلِ غور پیغام ہے۔ سیاست میں اختلافِ رائے فطری امر ہے۔ ہر سیاسی جماعت اپنے منشور، نظریے اور سیاسی ترجیحات کے مطابق عوام سے ووٹ حاصل کرتی ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد اپنے پروگرام پر عملدرآمد کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن سیاسی اختلاف کو اس حد تک نہیں پہنچنا چاہیے جہاں مخالف کو قومی دشمن، غدار یا ذاتی دشمن تصور کیا جانے لگے۔ جمہوری نظام اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں ایک دوسرے کے وجود، مینڈیٹ اور سیاسی حق کو تسلیم کریں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں تک ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بھی رہے اور سیاسی تعاون کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ ماضی کے تلخ تجربات یہ سبق دیتے ہیں کہ ایک دوسرے کی حکومتیں کمزور کرنے کی سیاست بالآخر کسی ایک جماعت کو مستقل فائدہ نہیں پہنچاتی بلکہ پورے سیاسی نظام کو عدم استحکام کا شکار کر دیتی ہے۔ 1990ئ کی دہائی کی سیاسی کشمکش اس کی واضح مثال ہے، جب حکومتوں کی قبل از وقت رخصتی، سیاسی محاذ آرائی اور اداروں پر دباؤ نے جمہوری تسلسل کو شدید نقصان پہنچایا۔
بعد ازاں حالات نے دونوں جماعتوں کو یہ احساس دلایا کہ سیاسی بقا اور جمہوری استحکام کے لیے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں مختلف سیاسی جماعتوں کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا، ان کے نتیجے میں سیاسی قیادت کے درمیان مفاہمت کی ضرورت مزید نمایاں ہوئی۔ اسی ماحول میں چارٹر آف ڈیموکریسی ایک اہم سیاسی دستاویز کے طور پر سامنے آیا، جس نے سیاسی جماعتوں کو جمہوری نظام کے تحفظ، آئینی بالادستی اور باہمی احترام کی طرف متوجہ کیا۔ یہ تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی جماعتیں اگر اپنی وقتی سیاسی مصلحتوں سے بلند ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں تو بڑے سے بڑا اختلاف بھی مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
2008ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی تعاون بھی اس حقیقت کی روشن مثال تھا کہ اختلاف کے باوجود قومی معاملات میں مشترکہ راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران مسلم لیگ (ن) کے وزرائ حکومت کا حصہ بنے، جبکہ پنجاب میں بھی دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کی صورتیں پیدا ہوئیں۔ یہ طرزِ سیاست ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جمہوریت کا مطلب ہر معاملے پر اتفاق نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے، مذاکرات کرنے اور قومی ضرورت کے مطابق مشترکہ فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے۔
آج پاکستان کو بھی اسی سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ معاشی مشکلات، روزگار کے مسائل، مہنگائی، توانائی کے تقاضے، سرمایہ کاری کی ضرورت، امن و امان، تعلیم، صحت اور ادارہ جاتی اصلاحات جیسے مسائل کسی ایک سیاسی جماعت کے ایجنڈے تک محدود نہیں۔ ان مسائل کا تعلق پاکستان کے مستقبل سے ہے اور ان کے حل کے لیے قومی سطح پر تسلسل اور اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ اگر ہر حکومت پچھلی حکومت کے منصوبوں کو ختم کرنے اور ہر سیاسی جماعت مخالف جماعت کی ناکامی ثابت کرنے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کرے گی تو ملک ترقی کی رفتار برقرار نہیں رکھ سکے گا۔
جمہوریت میں حکومت کی کارکردگی پر تنقید حزبِ اختلاف کا بنیادی حق ہے۔ حکومت سے سوال کرنا، اس کی پالیسیوں پر اعتراض کرنا، متبادل تجاویز دینا اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنا سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تنقید کو برداشت کرے، اپوزیشن کی بات سنے اور پارلیمان کو محض عددی اکثریت کی بنیاد پر نہیں بلکہ قومی مکالمے کا مرکز سمجھے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ اختلاف کو دلیل اور پالیسی کے دائرے میں رکھا جائے اور اسے شخصیات کی تضحیک یا کردار کشی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔
سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے موجودہ دور میں سیاسی زبان کے اثرات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ ایک سیاسی رہنما کا بیان چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر اس بیان میں شائستگی اور دلیل ہو تو معاشرے میں مثبت سیاسی شعور پیدا ہوتا ہے، لیکن اگر اس میں نفرت، اشتعال اور تضحیک شامل ہو تو یہی زبان سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ ان کے رہنما صرف اپنی جماعت کے کارکنوں کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے مثال ہوتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق سیاسی جماعتوں کو اب ایک نئے قومی سیاسی معاہدے کی ضرورت ہے جس کا بنیادی مقصد اقتدار کا حصول نہیں بلکہ جمہوری نظام کا استحکام ہو۔ اس مشترکہ فورم میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر تمام پارلیمانی و جمہوری جماعتوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس فورم کا مقصد کسی حکومت یا جماعت کے خلاف اتحاد بنانا نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے چند بنیادی اصولوں پر اتفاق کرنا ہونا چاہیے۔
سب سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کو اس اصول پر متفق ہونا چاہیے کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ دوسرا اصول یہ ہو کہ انتخابات کے نتائج کو آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق چیلنج کیا جائے گا اور کسی بھی اختلاف کو تشدد، نفرت یا غیر جمہوری دباؤ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ تیسرا اصول پارلیمان کے احترام اور اس کے مؤثر کردار سے متعلق ہونا چاہیے۔ چوتھا اصول یہ ہو کہ ریاستی اداروں کو سیاسی تنازعات میں فریق بنانے سے گریز کیا جائے اور ہر ادارے کو آئین کے دائرے میں کام کرنے کا موقع دیا جائے۔
اسی طرح سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کے لیے بھی باقاعدہ ضابطہ اخلاق تشکیل دینا چاہیے۔ جلسوں، پریس کانفرنسوں، ٹی وی پروگراموں اور سوشل میڈیا پر مخالف سیاسی جماعت کے بارے میں غیر شائستہ زبان استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ سیاسی کارکنوں کو یہ تربیت دی جانی چاہیے کہ مخالف سیاسی نظریے سے اختلاف ضرور کریں مگر مخالف انسان کی عزت برقرار رکھیں۔ اگر یہ روایت مضبوط ہو جائے تو سیاسی اختلاف معاشرے میں تقسیم کے بجائے فکری تنوع کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جیسے حساس خطوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان علاقوں کے سیاسی معاملات میں اختلاف اپنی جگہ، لیکن ایسے بیانات سے گریز ضروری ہے جنہیں پاکستان کے مخالف عناصر اپنے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر سکیں۔ قومی سلامتی اور جمہوری سیاست ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ایک مضبوط جمہوری نظام ہی ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا بہتر مقابلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر حکومت عوام کو کارکردگی فراہم نہیں کرے گی تو عوام ناراض ہوں گے۔ دراصل یہی جمہوریت کا اصل حسن ہے۔ عوام کسی سیاسی جماعت کو مستقل اقتدار کا حق نہیں دیتے بلکہ کارکردگی کی بنیاد پر اس کا احتساب کرتے ہیں۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہیے۔ اگر حکومت تعلیم، صحت، روزگار، معیشت اور بنیادی سہولتوں میں بہتری لاتی ہے تو یہی اس کی بہترین سیاسی کامیابی ہوگی، جبکہ اپوزیشن کا بہترین کردار بہتر متبادل پیش کرنا ہے۔
پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے بھی سیاسی استحکام بنیادی ضرورت ہے۔ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار ایسے ماحول کو ترجیح دیتے ہیں جہاں پالیسیوں میں تسلسل ہو، ادارے مستحکم ہوں اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود بنیادی معاشی سمت برقرار رہے۔ اگر سیاسی کشیدگی مسلسل بڑھتی رہے تو سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، کاروباری اعتماد کمزور ہوتا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کو معاشی پالیسیوں کے کم از کم بنیادی نکات پر اتفاق کرنا چاہیے تاکہ حکومت بدلنے کے باوجود ملکی معیشت کا پہیہ چلتا رہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی صفوں میں جمہوری رویوں کو مضبوط کریں۔ اگر جماعتوں کے اندر اختلاف رائے برداشت نہیں کیا جائے گا تو قومی سطح پر جمہوری برداشت کا تصور بھی کمزور رہے گا۔ سیاسی قیادت کو اپنی جماعتوں کے اندر مشاورت، اختلاف اور دلیل کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ نوجوان سیاسی کارکنوں کو نفرت کے بجائے خدمت، دلیل اور آئینی سیاست کا راستہ دکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح نے جمہوری اصولوں، آئین کی پاسداری اور قومی اتحاد کو پاکستان کی کامیابی کی بنیاد قرار دیا تھا۔ آج بھی انہی اصولوں کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کسی ایک جماعت، ایک طبقے یا ایک سیاسی خاندان کا ملک نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کا مشترکہ وطن ہے۔ اس وطن کی ترقی اور استحکام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اقتدار آج کسی ایک جماعت کے پاس ہے تو کل دوسری جماعت کے پاس ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کو وقتی سیاسی فائدے کے مقابلے میں ریاست کے طویل المدت مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں ایک قومی سیاسی فورم قائم کریں، جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں برابر کی حیثیت سے شریک ہوں۔ اس فورم پر معیشت، انتخابی اصلاحات، پارلیمانی نظام، عدالتی و انتظامی اصلاحات، تعلیم، صحت، روزگار، وفاقی و صوبائی تعلقات اور قومی سلامتی جیسے اہم معاملات پر مسلسل مشاورت کی جائے۔ اختلافات ختم ہونا ضروری نہیں، لیکن اختلافات کے باوجود قومی معاملات پر مشترکہ راستہ تلاش کرنا ضروری ہے۔پاکستان کو آج سیاسی انتقام نہیں، سیاسی بصیرت درکار ہے؛ الزام نہیں، دلیل درکار ہے؛ محاذ آرائی نہیں، مکالمہ درکار ہے؛ اور تقسیم نہیں، قومی اتحاد درکار ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے پاس ماضی کے تجربات موجود ہیں۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ محاذ آرائی سے جمہوری نظام کو نقصان پہنچتا ہے اور مفاہمت سے قومی معاملات آگے بڑھتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کیا جائے اور مستقبل کی سیاست کو ایک نئی سمت دی جائے۔
ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی، جماعتی اور وقتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے لیے ایک مشترکہ قومی ایجنڈے پر جمع ہوں۔ ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، پارلیمان کو مضبوط بنایا جائے، جمہوری اداروں کی بالادستی قائم کی جائے اور عوامی مسائل کو سیاست کا مرکزی محور بنایا جائے۔ اگر سیاسی قیادت یہ فیصلہ کر لے کہ اقتدار کی جنگ آئینی حدود میں ہوگی اور قومی مفاد پر سب ایک صف میں کھڑے ہوں گے تو پاکستان میں سیاسی استحکام کی نئی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ کون سی جماعت زیادہ طاقتور ہے، بلکہ اس بات کی ہے کہ پاکستان کتنا مضبوط ہے۔ سیاسی جماعتوں کی اصل کامیابی مخالف کو شکست دینے میں نہیں بلکہ ملک کو کامیاب بنانے میں ہے۔ ایک ایسا پاکستان جہاں اختلاف رائے کو احترام حاصل ہو، جہاں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو دشمن نہیں بلکہ جمہوری نظام کے دو ضروری ستون سمجھیں، جہاں عوام کو سیاسی نعروں کے بجائے عملی خدمت ملے اور جہاں قومی معاملات پر سیاسی قیادت ایک جھنڈے تلے متحد ہو کر آگے بڑھے۔یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور مضبوط جمہوری مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا واضح ہے: سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات برقرار رکھتے ہوئے بھی قومی مفاد پر متحد ہوں، ذاتی دشمنیوں کو ختم کریں، جمہوری اداروں کو مضبوط کریں اور پاکستان کو اپنی سیاست کا مرکز بنائیں۔ اگر سیاسی قیادت نے یہ شعوری فیصلہ کر لیا تو اختلافات بھی جمہوریت کی طاقت بن سکتے ہیں اور اتحاد بھی پاکستان کی ترقی کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- وسیم اکرم کی طرف سے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میں تاریخی کامیابی پر بنگلادیشی ٹیم کی تعریف
- شاید یہ میرا آخری سال ہو ،رونالڈو نے ریٹائرمنٹ کا اشارہ دے دیا
- لاہور ریس کلب میں گھڑ دوڑ کا انعقاد، کلاسیک مسٹری اور اعوان چوائس کامیاب
- پاکستان ہاکی ٹیم کو ورلڈکپ میں عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا،کپتان میدان بدر
- ویمنز جونیئر ایشیا کپ 2026میں قومی جونیئر گرلز ہاکی ٹیم کی شرکت کے سلسلے میں تربیتی کیمپ (آج)سے شروع ہوگا
- افغانستان میں امن کا راستہ انسانی حقوق، تعلیم اور معاشی بحالی سے ہو کر گزرتا ہے
- پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹیشن کا بحران اور مستقل حل کی ضرورت
- دہشت گردی کے خلاف قومی عزم اور پائیدار امن کی جدوجہد
- انتظامی یونٹس ناگزیر کیوں؟
- پاکستان، قومی مفاد کے لیے سیاسی رواداری اور جمہوری اتحاد ناگزیر
Next Post