jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

انتظامی یونٹس ناگزیر کیوں؟

تجزیہ بی این پی
پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں انتظامی ڈھانچے، حکمرانی کے طریقہ کار اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے نظام پر سنجیدگی سے غور کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ ملک کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، شہری اور دیہی ضروریات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، معاشی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور عوام کی توقعات بھی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، مگر اس کے مقابلے میں انتظامی نظام میں وہ رفتار اور وسعت پیدا نہیں ہو سکی جس کی موجودہ حالات میں ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے انتظامی یونٹس، محدود اختیارات، کمزور بلدیاتی اداروں اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم کا مسئلہ بار بار قومی بحث کا حصہ بنتا ہے۔
پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا مطالبہ کوئی نیا تصور نہیں۔ مختلف ادوار میں سیاسی جماعتوں، ماہرین، دانشوروں اور عوامی نمائندوں کی جانب سے اس موضوع پر تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض علاقوں کے عوام نے انتظامی بنیادوں پر الگ شناخت اور بہتر حکمرانی کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض حلقوں نے نئے صوبوں کے قیام کو قومی وحدت اور انتظامی کارکردگی کے لیے مفید قرار دیا۔ اس کے باوجود یہ مسئلہ ابھی تک کسی جامع قومی پالیسی کا حصہ نہیں بن سکا۔ سیاسی اختلافات، مفادات کے ٹکراؤ اور صوبائی حساسیت کے باعث ایک ایسا معاملہ جس پر سنجیدہ اور غیر جانب دارانہ غور ہونا چاہیے تھا، اکثر سیاسی نعروں اور باہمی الزام تراشی کی نذر ہو جاتا ہے۔
حالیہ دنوں اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک میں ”کیا ملک میں نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے چاہئیں؟” کے موضوع پر ہونے والی قومی بحث نے ایک مرتبہ پھر اس اہم سوال کو اجاگر کیا ہے۔ اس بحث کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان میں انتظامی مسائل محض حکومت کے دفاتر یا سرکاری مشینری تک محدود نہیں بلکہ براہِ راست عام شہری کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک شہری کو شناختی دستاویز، صحت، تعلیم، روزگار، زمین، پولیس، عدلیہ، بلدیاتی سہولت، سڑک، پانی، نکاسی آب یا کسی دوسرے بنیادی مسئلے کے لیے اگر کئی کئی مراحل اور طویل فاصلے طے کرنا پڑیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ریاستی نظام اور شہری کے درمیان فاصلہ بڑھ چکا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صوبوں کی تعداد میں اضافہ بذاتِ خود کامیاب حکمرانی کی ضمانت نہیں۔ اصل مقصد ایسا انتظامی نظام تشکیل دینا ہونا چاہیے جس میں فیصلے عوام کے قریب ہوں، سرکاری ادارے جواب دہ ہوں، وسائل شفاف انداز میں تقسیم ہوں اور شہریوں کو بنیادی سہولتیں ان کی دہلیز کے قریب دستیاب ہوں۔ اگر نئے صوبے قائم کر دیے جائیں لیکن تمام اختیارات پھر بھی چند بڑے شہروں یا مرکزی حکومتوں تک محدود رہیں تو عوام کو وہ فائدہ نہیں مل سکے گا جس کی توقع نئے انتظامی یونٹس سے کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے بڑے صوبوں میں آبادی اور رقبے کا حجم انتظامی نگرانی کو مشکل بناتا ہے۔ بعض علاقوں میں حکومت کے مراکز سے فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ وہاں کے شہری خود کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور محسوس کرتے ہیں۔ ایک بڑے صوبے کے دور دراز ضلعے کے مسائل اور صوبائی دارالحکومت کے مسائل اکثر ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ان علاقوں کی معاشی ضروریات، جغرافیائی حالات، زرعی ترجیحات، شہری مسائل اور ترقیاتی تقاضے الگ الگ ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ایک ہی انتظامی پالیسی کو پورے صوبے پر یکساں انداز میں نافذ کرنا ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔
چھوٹے انتظامی یونٹس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اپنے علاقے کی ضروریات پر زیادہ توجہ دے سکے۔ محدود رقبے اور نسبتاً کم آبادی والے انتظامی یونٹ میں منصوبہ بندی، نگرانی اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔ حکومتی افسران اور منتخب نمائندوں کے لیے عوام سے رابطہ برقرار رکھنا بھی سہل ہو سکتا ہے۔ اس طرح حکومت اور عوام کے درمیان وہ فاصلہ کم کیا جا سکتا ہے جو بڑے انتظامی ڈھانچے میں بعض اوقات ایک مستقل مسئلہ بن جاتا ہے۔
تاہم اس تصور کے ساتھ ایک بنیادی احتیاط بھی ضروری ہے۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل لسانی، نسلی یا علاقائی تقسیم کا ذریعہ نہیں بننی چاہیے۔ پاکستان ایک وفاقی ملک ہے اور اس کی قومی وحدت اس کے سب سے قیمتی اثاثوں میں شامل ہے۔ انتظامی حدود میں تبدیلی کا مقصد کسی علاقے کو دوسرے علاقے کے مقابل کھڑا کرنا نہیں بلکہ حکمرانی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس کا قیام عوامی سہولت، معاشی ترقی اور انتظامی کارکردگی کے اصولوں پر کیا جائے تو یہ قومی وحدت کے لیے خطرہ بننے کے بجائے وفاق کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
یہاں ایک اور بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ کیا نئے صوبے ہی تمام انتظامی مسائل کا حل ہیں؟ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔ پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ اختیارات کی مرکزیت بھی ہے۔ اگر صوبائی حکومتیں تمام اختیارات اپنے پاس رکھیں اور مقامی حکومتیں محض رسمی ادارے بن کر رہ جائیں تو صوبوں کی تعداد بڑھانے سے عام شہری کی زندگی میں بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اس لیے نئے انتظامی یونٹس کے ساتھ ساتھ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی ناگزیر ہے۔
بلدیاتی نظام اسی سلسلے کی سب سے اہم کڑی ہے۔ دنیا کے کامیاب انتظامی نظاموں میں مقامی حکومتوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی میں مرکزی کردار حاصل ہوتا ہے۔ سڑکوں، صفائی، نکاسی آب، پینے کے پانی، مقامی بازاروں، پارکوں، بنیادی صحت، شہری منصوبہ بندی اور دیگر روزمرہ مسائل کے حل کے لیے مقامی حکومتیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ انہیں اپنے علاقے کے مسائل کا براہِ راست علم ہوتا ہے۔ پاکستان میں بلدیاتی اداروں کا نظام آئینی طور پر موجود ہے، لیکن عملی طور پر ان کی مالی اور انتظامی خودمختاری ہمیشہ ایک بڑا سوال رہی ہے۔
یہ صورتحال تبدیل کرنا ہوگی۔ مقامی حکومتوں کو صرف اختیارات دینا کافی نہیں بلکہ انہیں مالی وسائل بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ اگر ایک منتخب بلدیاتی نمائندہ اپنے علاقے کی سڑک تعمیر کرنے، گلی کی مرمت کرانے، صفائی کا نظام بہتر بنانے یا پانی کی فراہمی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ہر بار صوبائی حکومت کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو تو مقامی حکومت کا تصور اپنی بنیادی روح کھو دیتا ہے۔ اختیارات اور وسائل ساتھ ساتھ منتقل کیے جائیں تو ہی نچلی سطح پر جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے۔
تجزیہ بی این پی کی نظر میں نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ صوبائی یا انتظامی سطح پر بڑے فیصلے کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مقامی حکومتیں روزمرہ کے مسائل حل کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس طرح حکمرانی کے مختلف درجوں کے درمیان اختیارات کی واضح تقسیم ممکن ہو گی اور کسی ایک حکومت پر غیر ضروری بوجھ بھی نہیں رہے گا۔
وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی اس پورے معاملے کا بنیادی پہلو ہے۔ نئے انتظامی یونٹس اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک ان کے لیے واضح مالیاتی نظام موجود نہ ہو۔ ہر نئے یونٹ کو اپنے انتظامی اخراجات کے ساتھ ساتھ ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب وسائل درکار ہوں گے۔ اس لیے نئے انتظامی نقشے پر غور کرتے وقت صرف سیاسی نمائندگی یا جغرافیائی حدود نہیں بلکہ معاشی استعداد، آمدن کے ذرائع، آبادی، رقبہ، قدرتی وسائل اور ترقیاتی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
اس سلسلے میں قومی مالیاتی تقسیم کے نظام کو بھی مزید مؤثر اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ ایسا طریقہ کار ہونا چاہیے جس میں آبادی کے ساتھ ساتھ پسماندگی، رقبہ، غربت، انفراسٹرکچر کی کمی اور دیگر حقیقی ضروریات کو بھی اہمیت حاصل ہو۔ اگر کسی نئے انتظامی یونٹ کو مناسب وسائل میسر نہ ہوں تو اس کا قیام صرف نئے دفاتر اور نئی سرکاری عمارتوں کے اضافے تک محدود ہو سکتا ہے، جبکہ عوامی مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔
نئے صوبوں کے قیام کے ممکنہ اخراجات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نئے انتظامی یونٹس کے لیے نئی اسمبلیاں، سیکرٹریٹ، محکمے، سرکاری ڈھانچے اور دیگر ادارے درکار ہوں گے۔ اس لیے یہ فیصلہ جذباتی بنیادوں پر نہیں بلکہ مکمل معاشی اور انتظامی مطالعے کے بعد ہونا چاہیے۔ جہاں نئے یونٹ کی تشکیل عوامی سہولت اور معاشی ترقی میں مدد دے سکتی ہو وہاں اسے سنجیدگی سے زیر غور لایا جائے، لیکن جہاں اس کے نتیجے میں غیر ضروری اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہو وہاں متبادل انتظامی اصلاحات تلاش کی جائیں۔
یہاں مرحلہ وار اصلاحات کا راستہ زیادہ قابلِ عمل دکھائی دیتا ہے۔ پہلے موجودہ اضلاع اور ڈویڑنوں میں انتظامی اختیارات بڑھائے جا سکتے ہیں، مقامی حکومتوں کو مالی خودمختاری دی جا سکتی ہے، سرکاری اداروں کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جا سکتا ہے اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد جہاں انتظامی ضرورت واضح ہو وہاں نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں انتظامی اصلاحات کا ایک اہم مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا بھی ہونا چاہیے۔ صرف نقشے تبدیل کرنے سے حکمرانی بہتر نہیں ہوتی۔ انتظامیہ میں میرٹ، شفافیت، جوابدہی اور جدید طریقہ کار ضروری ہیں۔ شہریوں کو بار بار سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ خدمات آن لائن فراہم کی جانی چاہئیں۔ اگر انتظامی یونٹس چھوٹے ہوں لیکن نظام فرسودہ ہو تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے، جبکہ مؤثر ڈیجیٹل نظام بڑے علاقوں میں بھی کئی مسائل کم کر سکتا ہے۔
اسی طرح پولیس، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی محکموں میں انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔ ایک نئے صوبے یا یونٹ کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ وہاں کے شہریوں کو بہتر سکول، بہتر ہسپتال، محفوظ ماحول، بہتر سڑکیں، روزگار کے مواقع اور فوری سرکاری خدمات میسر آتی ہیں یا نہیں۔ اگر عام آدمی کی زندگی میں بہتری نہیں آتی تو انتظامی تقسیم کی کامیابی محض کاغذی رہے گی۔اس بحث کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ ملک کے مختلف حصوں میں عوامی شرکت کو بڑھا سکتا ہے۔ جب کسی علاقے کے لوگ یہ محسوس کریں کہ ان کی آواز فیصلہ سازی میں سنی جا رہی ہے تو ریاست پر اعتماد بڑھتا ہے۔ یہی اعتماد مضبوط وفاق کی بنیاد بنتا ہے۔ اس لیے علاقائی خواہشات کو محض مخالفت کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں آئینی اور جمہوری دائرے میں سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔البتہ سیاسی جماعتوں کو بھی اس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کو انتخابی نعرے کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے واضح پالیسی، قابلِ عمل منصوبہ اور عوام کے سامنے مکمل معاشی و انتظامی خاکہ پیش کیا جانا چاہیے۔ قوم کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ نئے یونٹ کی تشکیل سے کتنے اخراجات ہوں گے، وسائل کہاں سے آئیں گے، اختیارات کس طرح تقسیم ہوں گے اور عوام کو عملی طور پر کیا فائدہ حاصل ہوگا۔
قومی اتفاقِ رائے اس عمل کی بنیادی ضرورت ہے۔ پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں انتظامی حدود میں بڑی تبدیلیاں وسیع مشاورت کے بغیر دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتیں۔ پارلیمان، صوبائی اسمبلیوں، سیاسی جماعتوں، ماہرینِ انتظامیہ، معاشی ماہرین، مقامی نمائندوں اور عوامی حلقوں کو اس بحث میں شامل کیا جانا چاہیے۔ فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت ہونے چاہئیں۔
تجزیہ بی این پی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کو اس وقت محض نئے صوبوں کی نہیں بلکہ بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔ نئے انتظامی یونٹس اگر مضبوط بلدیاتی نظام، واضح اختیارات، شفاف مالیاتی تقسیم، مؤثر انتظامیہ اور جوابدہ سیاسی قیادت کے ساتھ قائم کیے جائیں تو یہ ملک کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر صرف صوبوں کی تعداد بڑھا دی جائے اور حکمرانی کے بنیادی مسائل برقرار رہیں تو اس عمل سے مطلوبہ تبدیلی پیدا نہیں ہوگی۔
پاکستان کی ترقی کا راستہ ایک ایسے انتظامی نظام سے وابستہ ہے جو شہری کو ریاست کا مرکز سمجھے۔ حکومت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اس کے کتنے دفاتر ہیں یا اس کے نقشے پر کتنی انتظامی اکائیاں موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ عام شہری کو اس کے بنیادی حقوق کتنی آسانی اور کتنی رفتار سے حاصل ہوتے ہیں۔ اگر ایک کسان کو زرعی سہولت کے لیے غیر ضروری دفتری رکاوٹوں کا سامنا نہ ہو، ایک طالب علم کو معیاری تعلیم دستیاب ہو، ایک مریض کو بروقت علاج ملے، ایک کاروباری شخص کو اجازت ناموں کے لیے غیر ضروری مشکلات پیش نہ آئیں اور ایک شہری کو اپنی مقامی حکومت تک آسان رسائی حاصل ہو تو یہی بہتر حکمرانی کی اصل علامت ہے۔
اس لیے نئے انتظامی یونٹس کے معاملے کو سیاسی کشمکش سے نکال کر قومی اصلاحات کے ایک سنجیدہ موضوع کے طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، جہاں ضرورت ہو وہاں نئی انتظامی اکائیاں قائم کرنے پر غور کیا جائے، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور بلدیاتی اداروں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جائے۔ ساتھ ہی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور شفاف مالیاتی نظام کو یقینی بنایا جائے تاکہ انتظامی اصلاحات محض سرکاری ڈھانچے کی توسیع نہ بن جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ آبادی، شہری پھیلاؤ، معاشی سرگرمیوں اور عوامی توقعات میں ہونے والی تبدیلیوں نے پرانے انتظامی طریقہ? کار پر نظرثانی کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ اگر آج اس ضرورت کو سنجیدگی سے تسلیم کیا جائے تو مستقبل میں بہت سے پیچیدہ مسائل کو پیدا ہونے سے پہلے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔آخرکار نئے انتظامی یونٹس کا مقصد نئے عہدے، نئے دفاتر یا نئی سیاسی تقسیم نہیں بلکہ عوامی خدمت ہونا چاہیے۔ اگر انتظامی اصلاحات کا مرکز عام شہری ہو، فیصلہ سازی شفاف ہو، اختیارات نچلی سطح تک پہنچیں، وسائل منصفانہ تقسیم ہوں اور حکومتیں جوابدہ ہوں تو چھوٹے انتظامی یونٹس پاکستان کے لیے انتظامی اور معاشی بہتری کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہی وہ متوازن راستہ ہے جس پر چل کر ملک انتظامی پیچیدگیوں سے نکلتے ہوئے بہتر حکمرانی، مضبوط جمہوری اداروں اور پائیدار ترقی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More