jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

دہشت گردی کے خلاف قومی عزم اور پائیدار امن کی جدوجہد

تجزیہ بی این پی
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طویل عرصے تک بے شمار قربانیاں دی ہیں، لیکن ہر مشکل مرحلے کے باوجود ریاستی اداروں، سکیورٹی فورسز اور قوم نے امن و استحکام کے عزم کو کمزور نہیں ہونے دیا۔ بلوچستان کے ضلع خاران میں فتنہ الہندوستان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائی میں مزید سات دہشت گردوں کا خاتمہ اسی مسلسل قومی جدوجہد کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس سے قبل خضدار اور پنجگور میں کارروائیوں کے دوران 15 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ ان کارروائیوں سے واضح ہوتا ہے کہ ریاست نے دہشت گردی کے مسئلے کو محض ایک وقتی سکیورٹی چیلنج سمجھنے کے بجائے اسے قومی سلامتی، داخلی استحکام اور پاکستان کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ قرار دے کر جامع انداز میں نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دشوار گزار علاقوں میں کی جانے والی کارروائیاں اس امر کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اب صرف ان کے سامنے آنے کا انتظار کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کے نیٹ ورکس، محفوظ ٹھکانوں، نقل و حرکت، مالی معاونت اور لاجسٹک نظام کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہی حکمت عملی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت سکیورٹی اداروں کا یہ عزم کہ کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی، ریاستی پالیسی میں تسلسل اور قومی سلامتی کے حوالے سے غیر متزلزل ارادے کی عکاسی کرتا ہے۔
بلوچستان کا جغرافیہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی پیچیدہ ہے۔ وسیع و عریض رقبہ، دشوار گزار پہاڑی سلسلے، طویل سرحدی علاقے اور بعض مقامات پر آبادی کا کم پھیلاؤ دہشت گرد عناصر کو چھپنے اور اپنی سرگرمیاں منظم کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ایسے حالات میں سکیورٹی فورسز کے لیے کارروائیاں محض عسکری قوت کے استعمال کا نام نہیں بلکہ مسلسل نگرانی، درست معلومات، جدید ٹیکنالوجی، مقامی حالات سے آگاہی اور مربوط ادارہ جاتی تعاون کا تقاضا کرتی ہیں۔ خاران، خضدار اور پنجگور میں ہونے والی کارروائیاں اس امر کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ریاستی اداروں نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا شروع کر دیا ہے۔
دہشت گردوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت اور ان کے ٹھکانوں سے جدید اسلحہ و بارودی مواد کی برآمدگی بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس نوعیت کی کارروائیوں سے نہ صرف دہشت گردوں کی عملی صلاحیت متاثر ہوتی ہے بلکہ ان کے مستقبل کے منصوبوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ دہشت گردی کا بنیادی مقصد خوف پیدا کرنا، ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانا، عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا اور قومی وحدت کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ جب سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے منصوبوں کو بروقت ناکام بناتی ہیں تو دراصل وہ صرف چند عناصر کو گرفتار یا ہلاک نہیں کرتیں بلکہ پورے معاشرے کو خوف کے ماحول سے نکالنے کی کوشش کرتی ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق بلوچستان میں امن و امان کا استحکام پاکستان کی مجموعی قومی سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بلوچستان قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، ساحلی پٹی اور علاقائی تجارت کے اعتبار سے پاکستان کا انتہائی اہم صوبہ ہے۔ گوادر بندرگاہ، معدنی وسائل، پاک ایران اور پاک افغانستان سرحدوں سے قربت اور مستقبل کے تجارتی امکانات بلوچستان کو قومی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ اگر دہشت گرد عناصر اس خطے میں بدامنی پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے ملک کی معیشت، سرمایہ کاری، تجارت اور قومی ترقی متاثر ہوتی ہے۔
اسی لیے دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو صرف امن و امان کی کارروائی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ دراصل پاکستان کی ترقی، سرمایہ کاری کے ماحول، علاقائی رابطوں اور قومی یکجہتی کے تحفظ کی کوشش بھی ہے۔ جب کسی علاقے میں امن قائم ہوتا ہے تو وہاں سڑکیں بنتی ہیں، تعلیمی ادارے فعال ہوتے ہیں، کاروبار فروغ پاتا ہے، سرمایہ کاری آتی ہے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس بدامنی ترقی کے ہر دروازے کو بند کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی نے اب ان حدود کو بھی پامال کرنا شروع کر دیا ہے جنہیں بلوچ معاشرہ اپنی روایتی اقدار میں انتہائی مقدس سمجھتا ہے۔ نوشکی میں گھروں میں گھس کر خواتین کو نشانہ بنانا ایک انتہائی افسوس ناک اور بزدلانہ طرز عمل ہے۔ بلوچستان کی قبائلی اور سماجی روایات میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور گھریلو زندگی کے احترام کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ جو عناصر گھروں کی حرمت پامال کرتے اور بے گناہ خواتین کو نشانہ بناتے ہیں، وہ نہ صرف قانون اور ریاست کے دشمن ہیں بلکہ ان مقامی روایات اور اقدار کے بھی دشمن ہیں جنہیں وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس حقیقت کو واضح کرنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کا کسی قوم، نسل، صوبے، قبیلے یا علاقے کی حقیقی نمائندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردوں کی شناخت ان کے جرائم سے ہوتی ہے، نہ کہ اس خطے سے جہاں وہ موجود ہوں۔ بلوچستان کے عوام نے بھی دہشت گردی کے خلاف بڑی قربانیاں دی ہیں اور بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے صوبے کو امن، ترقی اور خوشحالی کا مرکز دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کو بلوچستان کے عوام کے جائز حقوق یا محرومیوں کے ساتھ جوڑنے کے بجائے ان عناصر کو الگ شناخت کرنا ضروری ہے جو تشدد کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ریاستی اداروں کے لیے اس مرحلے پر سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ سکیورٹی آپریشن اور ترقیاتی حکمت عملی ایک دوسرے کے متوازی چلیں۔ دہشت گردی کا فوری اور مؤثر جواب سکیورٹی ادارے ہی دے سکتے ہیں، لیکن دیرپا امن کے لیے معاشی اور سماجی بنیادوں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ دہشت گردوں کے پروپیگنڈے اور منفی اثرات سے زیادہ محفوظ رہیں گے۔ اسی طرح دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولتیں، صاف پانی، سڑکیں، بجلی، مواصلات اور دیگر بنیادی خدمات بہتر بنانا بھی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف میدانِ جنگ میں دہشت گردوں کو شکست دینے سے مکمل نہیں ہوگی بلکہ اس وقت مکمل کامیابی تصور کی جائے گی جب دہشت گرد تنظیمیں نئی افرادی قوت پیدا کرنے، مالی وسائل حاصل کرنے، عوامی حمایت حاصل کرنے اور اپنے بیانیے کو پھیلانے سے بھی محروم ہو جائیں۔ اس مقصد کے لیے قومی سطح پر ایک مؤثر فکری اور سماجی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں، میڈیا، سول سوسائٹی اور مقامی عمائدین کو امن کے پیغام کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
دہشت گردی کے مالیاتی نظام کو ختم کرنا بھی اسی جنگ کا اہم حصہ ہے۔ کوئی بھی مسلح تنظیم مسلسل کارروائیاں اس وقت تک نہیں کر سکتی جب تک اسے مالی وسائل، اسلحہ، نقل و حرکت، مواصلاتی سہولتیں اور دیگر لاجسٹک معاونت میسر نہ ہو۔ اس لیے دہشت گردوں کے مالی نیٹ ورکس، غیر قانونی فنڈنگ، اسمگلنگ اور سہولت کاری کے خلاف کارروائیوں کو مزید مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مالیاتی نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے درمیان مؤثر تعاون دہشت گردی کی جڑوں کو کمزور کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف پہلے بھی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ایک وقت تھا جب ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے واقعات نے شہری زندگی، معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا تھا۔ سکیورٹی فورسز، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں ملک نے ایک طویل سفر طے کیا۔ آج اگر دہشت گرد عناصر دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں تو انہیں ماضی کے تجربات کی روشنی میں مزید منظم، مربوط اور فیصلہ کن حکمت عملی سے شکست دینا ہوگا۔
اس جنگ میں قومی اتحاد سب سے بڑی قوت ہے۔ دہشت گردوں کی کوشش ہمیشہ یہی ہوتی ہے کہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان بداعتمادی پیدا کی جائے، سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کیا جائے، صوبائی اور لسانی جذبات کو بھڑکایا جائے اور معاشرے کو تقسیم کر دیا جائے۔ ایسے حالات میں سیاسی قیادت، پارلیمان، میڈیا، مذہبی و سماجی قیادت اور عوام کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کے مسئلے پر قومی اتفاقِ رائے جتنا مضبوط ہوگا، دہشت گردوں کے لیے اپنے مقاصد حاصل کرنا اتنا ہی مشکل ہو جائے گا۔
ریاستی اداروں کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ عوام کا تعاون بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ دہشت گرد عناصر اکثر عام شہریوں کے درمیان چھپنے، مقامی سہولت کار حاصل کرنے اور خوف کے ذریعے خاموشی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر شہری مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دیں، ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کو مسترد کریں تو دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید مؤثر بنائی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط کرنا بھی ضروری ہے۔
بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے مقامی قیادت اور معتبر قبائلی عمائدین کا کردار بھی اہم ہے۔ جو لوگ اپنے علاقوں کے سماجی حالات، قبائلی تعلقات اور مقامی مسائل سے واقف ہیں، وہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مقامی آبادی کو یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ ریاست ان کے جان و مال، عزت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے موجود ہے۔ اسی اعتماد سے دہشت گردوں کی جانب سے پھیلائے جانے والے خوف اور بے یقینی کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
معاشی ترقی بھی دہشت گردی کے خلاف ایک مؤثر دفاع ہے۔ جہاں نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع موجود ہوں، وہاں شدت پسند عناصر کے لیے افرادی قوت حاصل کرنا نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے۔ بلوچستان میں معدنیات، زراعت، ماہی گیری، سیاحت، تجارت اور چھوٹی و درمیانی صنعتوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور مقامی نوجوانوں کی شمولیت سے نہ صرف صوبے کی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ عوام کے اندر ترقی اور خوشحالی کا اعتماد بھی پیدا ہوگا۔
یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ سکیورٹی فورسز دشوار گزار علاقوں میں مسلسل کارروائیاں کر کے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں بنانے کا موقع نہیں دے رہیں۔ کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے سب سے اہم سہولت محفوظ ٹھکانہ ہوتا ہے۔ اگر اسے اپنے عناصر کو چھپانے، تربیت دینے، اسلحہ ذخیرہ کرنے اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے محفوظ مقامات میسر نہ ہوں تو اس کی عملی صلاحیت مسلسل کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں کا تسلسل انتہائی اہم ہے۔
پاکستان کے اداروں کا مصمم عزم اس بات کا متقاضی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی مصلحت یا کمزوری کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ریاستی پالیسی میں قانون کی حکمرانی، شہریوں کے تحفظ اور ترقیاتی اقدامات کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جو دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی بھی کرے اور اپنے شہریوں کو تعلیم، صحت، انصاف، روزگار اور بنیادی سہولتیں بھی فراہم کرے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرے اور ان عناصر کے عزائم کو ناکام بنائے جو پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ ملک کے محافظ اپنی جانوں کی قربانی دے کر سرزمین کا دفاع کر رہے ہیں، اس لیے قومی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ معاشرہ بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔ نفرت، افواہ، اشتعال اور تقسیم کے بجائے اتحاد، شعور، قانون پسندی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔
بالآخر یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں بلکہ قومی عزم، مضبوط اداروں، مؤثر حکمرانی، معاشی ترقی، تعلیم اور عوامی تعاون سے جیتی جاتی ہے۔ خاران، خضدار اور پنجگور میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں اس عزم کی عملی تصویر ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ جو عناصر معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر خوف پھیلانا چاہتے ہیں، انہیں قانون اور ریاستی قوت کا سامنا کرنا ہوگا۔پاکستان کے اداروں کا واضح اور دوٹوک عزم یہی ہونا چاہیے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی، انتہاپسندی اور تخریب کاری کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہے۔ اسی عزم کے ساتھ بلوچستان کے عوام کو ترقی، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو سکیورٹی کامیابیوں کو پائیدار امن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ قوم کو یقین رکھنا چاہیے کہ مسلسل جدوجہد، قومی اتحاد اور ریاستی اداروں کے مضبوط عزم کے نتیجے میں دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ پاکستان کا مستقبل امن، استحکام، ترقی اور قومی یکجہتی سے وابستہ ہے، اور اس مستقبل کے تحفظ کے لیے ریاستی اداروں کا مصمم عزم پوری قوم کی امید اور اعتماد کا مرکز ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More