تجزیہ بی این پی
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر سامنے آئی ہے، اور یہ امر خوش آئند ہے کہ اس حساس موضوع کو محض سیاسی نعروں یا وقتی مفادات کے بجائے انتظامی اصلاحات، عوامی سہولت، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مؤثر طرزِ حکمرانی کے تناظر میں زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ہونے والے حالیہ مباحثے میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور ماہرین نے اس معاملے کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔ گفتگو سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی اصلاح کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں، تاہم نئے صوبوں کا قیام ایسا معاملہ ہے جس پر جذبات کے بجائے دلیل، آئینی تقاضوں، قومی یکجہتی اور عوامی مفاد کو بنیاد بنانا ہوگا۔
پاکستان میں آبادی میں مسلسل اضافہ، بڑے صوبوں کا وسیع رقبہ، شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان بڑھتا ہوا فرق اور بعض علاقوں تک ریاستی سہولتوں کی محدود رسائی ایسے مسائل ہیں جنہوں نے انتظامی ڈھانچے پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جب ایک صوبے کی آبادی کروڑوں میں ہو اور اس کے مختلف علاقوں کے درمیان جغرافیائی فاصلے بھی بہت زیادہ ہوں تو مرکزِ صوبہ سے دور علاقوں کے شہریوں کو سرکاری اداروں، صحت، تعلیم، پولیس، عدالتی معاونت اور دیگر بنیادی سہولتوں تک رسائی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں انتظامی یونٹس کی تشکیل کا مقصد محض نقشے پر نئی لکیریں کھینچنا نہیں بلکہ ریاستی نظام کو عوام کے قریب لانا ہونا چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے بجا طور پر اس امر کی نشاندہی کی کہ نئے صوبوں کی بحث کے ساتھ وسائل، پانی، معدنیات اور اختیارات کی تقسیم جیسے بنیادی مسائل بھی زیرِ غور آنا چاہییں۔ یہ حقیقت ہے کہ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم ہمیشہ حساس معاملہ رہی ہے۔ اگر نئے صوبے بنائے جاتے ہیں لیکن مالی وسائل، اختیارات اور انتظامی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کا قابلِ عمل نظام موجود نہ ہو تو محض انتظامی حدود تبدیل کرنے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس لیے نئے صوبوں کی بحث کو وسیع تر انتظامی اور معاشی اصلاحات کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔
اسی تناظر میں مضبوط بلدیاتی نظام کی اہمیت سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہ ایک تلخ حقیقت رہی ہے کہ بلدیاتی اداروں کو اکثر سیاسی ضرورت کے تحت فعال یا غیر فعال کیا جاتا رہا ہے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات بھی ہوئے، ادارے قائم بھی ہوئے، مگر انہیں مستقل بنیادوں پر مطلوبہ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات نہ مل سکے۔ نتیجتاً گلی، محلے، یونین کونسل اور مقامی سطح کے مسائل کے حل کے لیے شہریوں کو صوبائی دارالحکومتوں یا ضلعی انتظامیہ کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا یہ مؤقف قابلِ غور ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مضبوط بلدیاتی نظام ضروری ہے اور آبادی کے تناسب سے نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہییں۔ درحقیقت صوبوں کی تعداد بڑھانے سے زیادہ اہم یہ سوال ہے کہ اقتدار اور اختیار عام شہری تک کس حد تک پہنچتا ہے۔ اگر ایک نئے صوبے کا دارالحکومت بن بھی جائے لیکن اختیارات بدستور چند ہاتھوں میں مرتکز رہیں تو عوام کو مطلوبہ تبدیلی محسوس نہیں ہوگی۔ اس لیے صوبوں کی تشکیل کے ساتھ ساتھ ضلعی اور مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیار دینا ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے اس بحث کا ایک نہایت اہم پہلو اجاگر کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل زبان، نسل یا تعصب کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ یہی اصول اس پورے معاملے کی بنیاد ہونا چاہیے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقائی شناختوں کا خوبصورت مجموعہ ہے۔ ان شناختوں کا احترام قومی یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے، لیکن انتظامی تقسیم اگر لسانی یا نسلی بنیادوں پر سیاسی کشمکش کا ذریعہ بن جائے تو اس کے نتائج معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
نئے صوبوں کی تشکیل کا بنیادی معیار عوامی سہولت، انتظامی کارکردگی، جغرافیائی حقیقت، آبادی، معاشی استعداد اور متوازن ترقی ہونا چاہیے۔ اگر پورے ملک کے لیے ایک واضح اور یکساں معیار مقرر کر دیا جائے تو نئے صوبوں کے قیام کی بحث سیاسی تنازع کے بجائے انتظامی اصلاحات کا موضوع بن سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں قومی سطح پر واضح پالیسی کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
پاکستان میں انتظامی یونٹس کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اس معاملے پر کوئی مستقل، جامع اور غیر جانب دار قومی فریم ورک موجود نہیں۔ ایک علاقے کے لیے جو اصول اختیار کیا جائے، وہی دوسرے علاقے پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ اگر آبادی ایک معیار ہے تو اسے ہر جگہ یکساں اہمیت دی جائے، اگر رقبہ معیار ہے تو اس کی بھی واضح حد مقرر ہو، اگر معاشی استعداد ضروری ہے تو اس کے لیے بھی قابلِ پیمائش پیمانے طے کیے جائیں۔ اسی طرح انتظامی ضرورت، جغرافیائی رسائی اور عوامی رائے کو بھی باقاعدہ اہمیت دی جانی چاہیے۔
یہاں ایک اور اہم سوال مالی خودمختاری کا ہے۔ نئے صوبے قائم کرنا صرف اسمبلی، سیکرٹریٹ اور محکموں کے قیام کا نام نہیں۔ اس کے لیے مستقل مالی وسائل، قابلِ اعتماد محصولات، ترقیاتی بجٹ، سرکاری اداروں کا ڈھانچہ اور تربیت یافتہ افرادی قوت درکار ہوگی۔ اگر نئے صوبے مالی طور پر کمزور ہوں اور اپنے بنیادی اخراجات کے لیے مسلسل دوسرے اداروں کے محتاج رہیں تو انتظامی تقسیم کا مقصد محدود ہو جائے گا۔ اس لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے پہلے ان کی مالی اور معاشی پائیداری کا جامع جائزہ لینا ضروری ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس بحث کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے کم از کم اصولی طور پر اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ عوام اور حکومت کے درمیان انتظامی فاصلہ کم ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی اس ضرورت پر زور دیا کہ بڑے صوبوں اور عوام کے درمیان فاصلے کو کم کیا جائے اور بلدیاتی حکومتوں کو آئینی تحفظ کے ساتھ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دیے جائیں۔ یہ نقطہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔
آئین میں بلدیاتی اداروں کے حوالے سے موجود دفعات کو محض رسمی تقاضا سمجھنے کے بجائے ان پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہونا چاہیے۔ مقامی حکومتیں جمہوریت کی نرسری ہی نہیں بلکہ عوامی خدمت کا بنیادی ادارہ بھی ہیں۔ سڑک، صفائی، نکاسی آب، پینے کا پانی، مقامی صحت، بنیادی تعلیم، پارکس اور دیگر شہری سہولتوں کے معاملات میں مقامی نمائندوں کو فیصلہ سازی کا اختیار ملے تو حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہو سکتے ہیں۔ اس سے صوبائی حکومتوں پر بھی غیر ضروری بوجھ کم ہوگا اور وہ بڑے پالیسی معاملات پر زیادہ توجہ دے سکیں گی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کو محض سیاسی مطالبات کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ کسی بھی نئے صوبے کا قیام طویل المدتی انتظامی منصوبہ بندی کا حصہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے مردم شماری، جغرافیہ، معاشی سرگرمی، قدرتی وسائل، آبادی کی ضروریات، مواصلاتی رابطوں اور سرکاری اداروں کی دستیابی جیسے عوامل کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اسی طرح متعلقہ علاقوں کے عوام کی رائے بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسا کوئی فیصلہ جو عوامی خواہشات اور زمینی حقائق کو نظرانداز کرے، دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔
نئے صوبوں کی بحث میں سب سے بڑا خدشہ قومی وحدت کے حوالے سے بھی سامنے آتا ہے۔ اس خدشے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کا حل بحث کو دبانا بھی نہیں۔ پاکستان کی مضبوطی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر انتظامی اصلاح کو قومی یکجہتی کے اصول سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس عوامی سہولت، بہتر حکمرانی اور مساوی ترقی کے لیے بنائے جائیں اور ان کی بنیاد تعصب کے بجائے آئینی و انتظامی اصول ہوں تو یہ قومی وحدت کو کمزور کرنے کے بجائے ریاستی نظم و نسق کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
سینئر صحافی ہارون الرشید کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دینا بھی نہایت اہم ہے۔ پاکستان میں بڑے آئینی اور انتظامی فیصلے اس وقت زیادہ پائیدار ثابت ہو سکتے ہیں جب ان پر وسیع سیاسی اتفاقِ رائے موجود ہو۔ نئے صوبوں کا معاملہ کسی ایک حکومت یا ایک جماعت کے ایجنڈے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں، سیاسی جماعتوں، آئینی ماہرین، انتظامی ماہرین، ماہرینِ معیشت اور سول سوسائٹی کو مشترکہ طور پر سوچنا ہوگا۔
اس بحث میں جلد بازی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے اور مکمل خاموشی بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سطح پر ایک مستقل کمیشن یا بااختیار فورم قائم کیا جائے جو انتظامی یونٹس کی تشکیل کے لیے واضح معیار وضع کرے۔ یہ فورم مختلف علاقوں کی ضروریات، آبادی، وسائل، مالی استعداد اور انتظامی مشکلات کا جائزہ لے اور اپنی سفارشات پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے۔ اس طرح صوبوں کے قیام کا عمل سیاسی کشمکش سے نکل کر ادارہ جاتی اور آئینی راستے پر آ سکتا ہے۔
یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ نئے صوبے کوئی جادوئی حل نہیں۔ اگر نظامِ حکمرانی میں شفافیت نہ ہو، ادارے کمزور ہوں، اختیارات مرکز میں مرتکز رہیں اور مقامی حکومتیں بے اختیار ہوں تو نئی انتظامی حدود بھی عوام کی زندگی میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں لا سکتیں۔ اصل مسئلہ ریاستی اداروں کی کارکردگی اور اختیار کی منصفانہ تقسیم ہے۔ صوبہ چھوٹا ہو یا بڑا، اگر شہری کو اپنے بنیادی مسائل کے لیے کئی سطحوں کے دفاتر کے چکر لگانے پڑیں تو انتظامی اصلاح کا مقصد ادھورا رہے گا۔
چنانچہ پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بحث کو ایک سنجیدہ قومی مکالمے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مکالمے میں جذبات، سیاسی مفادات اور علاقائی کشیدگی کے بجائے عوامی سہولت، انتظامی کارکردگی، مالی استحکام اور قومی یکجہتی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اگر تمام سیاسی قوتیں اس معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور ایک ایسا یکساں، شفاف اور آئینی طریقہ کار وضع کر لیا جائے جو پورے ملک پر یکساں طور پر نافذ ہو، تو انتظامی اصلاحات پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔آخرکار اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہییں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ریاستی اختیار عام شہری تک کتنی آسانی، رفتار اور شفافیت کے ساتھ پہنچتا ہے۔ نئے صوبے بنیں یا موجودہ صوبوں کے اندر مزید انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں، ہر صورت میں مقامی حکومت کو بااختیار بنانا ہوگا، مالی وسائل نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوں گے اور عوام کو فیصلہ سازی میں حقیقی شراکت دینا ہوگی۔تجزیہ بی این پی کے نزدیک یہی وہ متوازن راستہ ہے جو انتظامی اصلاح، عوامی سہولت اور قومی یکجہتی کے تقاضوں کو ایک ساتھ آگے بڑھا سکتا ہے۔
پاکستان کو نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر اس سے بھی زیادہ ضرورت ایک ایسے نظام کی ہے جو شہری کو اس کی دہلیز پر انصاف، صحت، تعلیم، صاف پانی، روزگار اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کرے۔ نئے صوبوں کی بحث اسی وقت نتیجہ خیز ہوگی جب یہ بحث اقتدار کی نئی تقسیم کے ساتھ ساتھ اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی کا راستہ بھی ہموار کرے۔ یہی قومی مفاد ہے، یہی جمہوری تقاضا ہے اور یہی بہتر حکمرانی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭