تجزیہ: بی این پی
پاکستان میں تعلیم محض ایک بنیادی سہولت نہیں بلکہ قومی ترقی، معاشی استحکام، سماجی شعور اور روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک حقیقی ترقی کی منزل حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کے تمام بچے تعلیم کے حق سے مستفید نہ ہوں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آج بھی لاکھوں بچے ایسے ہیں جو سکول جانے کی عمر میں ہونے کے باوجود تعلیمی اداروں سے باہر ہیں۔ یہ صورتِ حال صرف ایک تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سطح کا ایک سنگین سماجی، معاشی اور انتظامی چیلنج ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سکول سے باہر بچوں کی گھر گھر گنتی اور جامع سروے کرانے کے ساتھ ساتھ 60 فیصد بچوں کو دوبارہ سکولوں میں لانے کا ہدف مقرر کرنا اسی چیلنج سے نمٹنے کی ایک اہم اور قابلِ تحسین کوشش ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت اور محکمہ سماجی بہبود کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اس اعتبار سے اہم پیش رفت ہے کہ سکول سے باہر بچوں کے مسئلے کو صرف محکمہ تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مشترکہ حکومتی ذمہ داری کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بچے کے سکول سے باہر ہونے کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں۔ غربت، والدین کی کم آمدنی، سکول کا گھر سے دور ہونا، تعلیمی سہولتوں کی کمی، بچوں سے مشقت، نقل مکانی، سماجی رویے، والدین کی کم تعلیمی شرح اور بالخصوص بعض علاقوں میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے روایتی رکاوٹیں اس مسئلے کو پیچیدہ بناتی ہیں۔ اس لیے اس کا حل بھی ایک جامع اور مربوط حکمت عملی ہی سے ممکن ہے۔
گھر گھر سروے کا فیصلہ اس پورے عمل میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ سکول سے باہر بچوں کی اصل تعداد کتنی ہے، وہ کن علاقوں میں رہتے ہیں، ان کی عمر کیا ہے، کتنے لڑکے اور کتنی بچیاں ہیں، ان کے سکول چھوڑنے کی وجوہات کیا ہیں اور ان کے خاندانوں کی معاشی حالت کس نوعیت کی ہے، اس وقت تک کسی بھی منصوبے کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ درست اعداد و شمار کسی بھی عوامی پالیسی کی پہلی ضرورت ہوتے ہیں۔ اس لیے جامع سروے محض اعداد و شمار جمع کرنے کی کارروائی نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے بچوں کے تعلیمی مستقبل کا نقشہ تیار کرنے کے ایک سنجیدہ عمل کے طور پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
تجزیہ: بی این پی کے مطابق حکومت کی جانب سے 60 فیصد بچوں کو سکول واپس لانے کا ہدف ایک مثبت آغاز ہے، تاہم اس ہدف کو محض سرکاری اعداد و شمار میں کامیابی دکھانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب سکول سے باہر بچے مستقل طور پر تعلیمی نظام کا حصہ بنیں، باقاعدگی سے سکول جائیں، تعلیم مکمل کریں اور انہیں معیاری تعلیم حاصل کرنے کے مساوی مواقع میسر آئیں۔ صرف داخلہ دلوانا کافی نہیں بلکہ بچوں کو سکول میں برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر کوئی بچہ چند ماہ بعد دوبارہ سکول چھوڑ دیتا ہے تو داخلوں کے اعداد و شمار میں اضافہ بظاہر خوش آئند نظر آئے گا، لیکن عملی طور پر مسئلہ اپنی جگہ موجود رہے گا۔
اس مقصد کے لیے حکومت کو ہر ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر واضح اہداف مقرر کرنے چاہئیں۔ سروے کے بعد سکول سے باہر ہر بچے کا ڈیٹا مرتب کیا جائے اور اس کی بنیاد پر ایک قابلِ عمل منصوبہ تیار کیا جائے۔ جن بچوں کے سکول سے باہر ہونے کی وجہ غربت ہے، ان کے خاندانوں کے لیے مالی معاونت، تعلیمی وظائف، کتابوں، یونیفارم، جوتوں اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ایسے خاندان جہاں بچے گھر کے معاشی معاملات میں ہاتھ بٹانے پر مجبور ہیں، وہاں سماجی تحفظ کے پروگراموں کو تعلیم سے مربوط کیا جائے تاکہ والدین کو یہ یقین دلایا جاسکے کہ بچے کو سکول بھیجنے سے گھر کی معاشی مشکلات مزید نہیں بڑھیں گی۔
بچوں سے مشقت بھی سکول سے باہر ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ غربت کے باعث بعض والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے بجائے مزدوری پر بھیج دیتے ہیں۔ ایسے بچوں کو سکول واپس لانے کے لیے حکومت کو صرف والدین کو قائل کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ غربت کے بنیادی مسئلے کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ متعلقہ محکموں کو ایسے خاندانوں کی نشاندہی کرکے انہیں سماجی تحفظ، ہنر مندی، روزگار اور مالی معاونت کے پروگراموں سے جوڑنا چاہیے۔ جب خاندان کی بنیادی ضروریات پوری ہوں گی تو والدین کے لیے بچوں کو سکول بھیجنا نسبتاً آسان ہوجائے گا۔
بچیوں کی تعلیم کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس توجہ کا متقاضی ہے۔ بعض علاقوں میں روایتی سوچ، حفاظتی خدشات، دور دراز سکول، خواتین اساتذہ کی کمی اور کم عمری میں شادی جیسے عوامل بچیوں کو تعلیم سے محروم کردیتے ہیں۔ ان رکاوٹوں کا مقابلہ صرف انتظامی احکامات سے نہیں بلکہ معاشرے کے اندر مثبت شعور پیدا کرکے کیا جاسکتا ہے۔ مقامی عمائدین، علمائ ، اساتذہ، والدین، منتخب نمائندوں اور سماجی کارکنوں کو اس مہم کا حصہ بنانا چاہیے۔ والدین کو یہ باور کرایا جانا ضروری ہے کہ بیٹی کی تعلیم خاندان کے لیے بوجھ نہیں بلکہ مستقبل کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔
حکومت کو بچیوں کے لیے محفوظ اور قابلِ رسائی تعلیمی ماحول فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ جہاں ضرورت ہو وہاں گرلز سکول قائم کیے جائیں، موجودہ سکولوں میں بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں، خواتین اساتذہ کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور دور دراز علاقوں سے آنے والی طالبات کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے۔ اگر ایک بچی کو روزانہ کئی کلومیٹر سفر کرکے سکول جانا پڑے تو بہت سے والدین اسے تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس لیے سکول کی عمارت تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ اس تک رسائی کو بھی تعلیمی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔اسی طرح سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی بھی نہایت ضروری ہے۔ صاف پانی، واش روم، بجلی، فرنیچر، چار دیواری، مناسب کلاس روم، کھیل کا میدان اور صحت مند تعلیمی ماحول بچوں کے سکول میں داخلے اور مستقل حاضری پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ حکومت اگر سکول سے باہر بچوں کو واپس لانے میں سنجیدہ ہے تو اسے یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ واپس آنے والے بچوں کو ایسے تعلیمی ادارے ملیں جہاں انہیں عزت، تحفظ اور معیاری تعلیم حاصل ہو۔
سکول سے باہر بچوں کو واپس لانے کے لیے عمر کے فرق کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ جو بچے کئی سال سے تعلیم سے محروم ہیں وہ اپنی عمر کے ہم جماعت بچوں کے ساتھ براہِ راست اسی جماعت میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات محسوس کرسکتے ہیں۔ ان کے لیے خصوصی تیز رفتار تعلیمی پروگرام، برج کورسز اور عمر کے مطابق تعلیمی مراکز قائم کیے جاسکتے ہیں تاکہ وہ اپنی تعلیمی کمی پوری کرکے باقاعدہ نظام کا حصہ بن سکیں۔ اس سلسلے میں اساتذہ کو بھی خصوصی تربیت دینا ہوگی تاکہ وہ مختلف عمر اور مختلف تعلیمی پس منظر رکھنے والے بچوں کو مؤثر انداز میں پڑھا سکیں۔
تعلیمی نظام میں بچوں کی واپسی کے بعد ان کی حاضری کی نگرانی بھی انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو ایک ایسا مربوط ڈیجیٹل نظام وضع کرنا چاہیے جس کے ذریعے ہر بچے کے داخلے، حاضری، سکول چھوڑنے اور دوبارہ داخلے کا ریکارڈ محفوظ ہو۔ اس نظام سے یہ معلوم کیا جاسکے گا کہ کون سا بچہ دوبارہ سکول سے غیر حاضر ہورہا ہے اور اس کے گھر تک بروقت رسائی ممکن ہوگی۔ اساتذہ، والدین اور مقامی انتظامیہ کے درمیان رابطے کا مؤثر نظام قائم کرکے بہت سے بچوں کو دوبارہ سکول چھوڑنے سے بچایا جاسکتا ہے۔
یہاں اساتذہ کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر سکول میں استاد موجود نہ ہو، پڑھائی کا معیار کمزور ہو یا بچوں کے ساتھ مناسب رویہ اختیار نہ کیا جائے تو والدین اور بچے دونوں تعلیمی نظام سے بددل ہوسکتے ہیں۔ اس لیے سکول سے باہر بچوں کی واپسی کی مہم کے ساتھ ساتھ معیارِ تعلیم بہتر بنانے کی جامع پالیسی بھی ضروری ہے۔ اساتذہ کی حاضری، تربیت، تدریسی معیار اور بچوں کے ساتھ مثبت رویے کی نگرانی کی جائے۔ بچوں کو مار، خوف اور سختی کے بجائے محبت، حوصلہ افزائی اور اعتماد کے ماحول میں تعلیم دی جائے۔
والدین کو بھی اس مہم کا مرکزی فریق بنانا ہوگا۔ کئی خاندانوں میں تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں ہوتا لیکن معاشی اور سماجی مسائل ان کے راستے میں حائل ہوتے ہیں۔ ایسے والدین کے ساتھ رابطہ قائم کرکے ان کے مسائل سنے جائیں اور انہیں عملی معاونت فراہم کی جائے۔ محض یہ کہنا کہ بچے کو سکول بھیجیں، کافی نہیں۔ ریاست کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ والدین کو کن مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت ان مشکلات کو کس طرح کم کرسکتی ہے۔
اس مہم میں مقامی حکومتوں کا کردار خصوصی طور پر اہم ہے۔ یونین کونسل اور مقامی سطح کے نمائندے اپنے علاقوں کے بچوں اور خاندانوں سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ اگر مقامی حکومت، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت اور سماجی بہبود کے ادارے مشترکہ طور پر کام کریں تو سکول سے باہر بچوں کی شناخت اور ان کی بحالی زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہوگی۔ صحت کا محکمہ بھی ان بچوں کے لیے بنیادی طبی معائنہ اور صحت کی سہولت فراہم کرسکتا ہے کیونکہ بعض اوقات بیماری، معذوری یا غذائی کمی بھی بچے کے سکول چھوڑنے کا سبب بنتی ہے۔
خیبرپختونخوا میں اس حوالے سے ایک اور اہم پہلو امن و امان اور جغرافیائی مشکلات کا ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں سفر دشوار ہو یا سکیورٹی کے مسائل موجود ہوں، وہاں تعلیم کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی اضافی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو مرکزی شہروں کے برابر تعلیمی مواقع فراہم کیے بغیر تعلیمی مساوات کا خواب مکمل نہیں ہوسکتا۔ جہاں باقاعدہ سکول قائم کرنا مشکل ہو، وہاں متبادل تعلیمی مراکز، موبائل سکول، کمیونٹی سکول اور دیگر مناسب ماڈلز پر غور کیا جاسکتا ہے۔تعلیم کو صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنا بھی محدود سوچ ہے۔ تعلیم انسان کو شعور، برداشت، قانون پسندی، ذمہ داری اور معاشرتی کردار کا احساس دیتی ہے۔ جو بچہ آج سکول سے باہر ہے، وہ کل معاشرے کا ایک بالغ شہری بنے گا۔ اگر اسے تعلیم اور تربیت سے محروم رکھا گیا تو اس کا نقصان صرف اس کے خاندان کو نہیں بلکہ پوری قوم کو ہوگا۔ اس کے برعکس اگر ایک محروم بچے کو تعلیم کی روشنی مل جائے تو وہ اپنے خاندان کی معاشی اور سماجی حالت بدلنے کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔
**تجزیہ: بی این پی** کی رائے میں سکول سے باہر بچوں کی واپسی کا منصوبہ کسی ایک حکومت، ایک محکمے یا ایک سیاسی جماعت کا منصوبہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ تعلیم کے لیے مختص وسائل میں اضافہ، سکولوں کی تعداد بڑھانا، موجودہ اداروں کی بہتری، اساتذہ کی دستیابی اور بچوں کے لیے مالی و سماجی معاونت ایسے اقدامات ہیں جن کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ مقرر کیے گئے اہداف کی آزادانہ اور شفاف نگرانی کی جائے۔ اگر حکومت نے 60 فیصد بچوں کو سکول واپس لانے کا ہدف مقرر کیا ہے تو ہر مرحلے پر یہ دیکھا جائے کہ کتنے بچوں کی شناخت ہوئی، کتنے داخل ہوئے، کتنے بچے مستقل سکول آ رہے ہیں اور کتنے دوبارہ تعلیمی نظام سے باہر ہوگئے۔ کامیابی کی پیمائش صرف داخلوں کی تعداد سے نہیں بلکہ مستقل حاضری، تعلیمی معیار اور سکول مکمل کرنے کی شرح سے کی جانی چاہیے۔
پاکستان کے مستقبل کا اصل سرمایہ اس کے بچے ہیں۔ سڑکیں، پل، عمارتیں اور دیگر ترقیاتی منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ایک ایسا معاشرہ جو اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتا، پائیدار ترقی کی بنیاد نہیں رکھ سکتا۔ آج ایک بچے کو سکول بھیجنا دراصل آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکول سے باہر بچوں کی واپسی کو معمول کی انتظامی کارروائی سمجھنے کے بجائے قومی ایمرجنسی کے طور پر لینا چاہیے۔
خیبرپختونخوا حکومت کا گھر گھر سروے، مختلف محکموں کے درمیان تعاون اور 60 فیصد بچوں کو سکول واپس لانے کا ہدف ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب اصل امتحان اس منصوبے پر عمل درآمد کا ہے۔ اگر سروے درست، اعداد و شمار شفاف، وسائل مناسب، نگرانی مؤثر اور حکمت عملی مسلسل رہی تو یہ اقدام ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بچوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔ حکومت کو اس مہم کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھتے ہوئے قومی فریضے کے طور پر آگے بڑھانا چاہیے۔
بالآخر ایک مہذب اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر کا راستہ سکول کے دروازے سے ہو کر گزرتا ہے۔ جو بچے آج سکول سے باہر ہیں، وہ کسی بھی صورت قوم کے مستقبل سے باہر نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان تک تعلیم کی روشنی پہنچائے، ان کے والدین کی مشکلات کم کرے، انہیں محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بچہ غربت، رسم و رواج، فاصلے یا وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔ اگر آج ہم نے اپنے بچوں کو قلم دے دیا تو کل یہی بچے ملک کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی منزلوں تک لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ یہی ایک ایسا قومی سرمایہ ہے جس پر جتنا خرچ کیا جائے، اس کا فائدہ کئی گنا بڑھ کر پوری قوم کو واپس ملتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- پاکستان میں پٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے، عوامی احتجاج اور معاشی ذمہ داری کا سوال
- پاکستان میں نئے صوبے: ضرورت، اتفاقِ رائے اور مضبوط بلدیاتی نظام
- صاف پانی کی فراہمی، پنجاب حکومت کی عوامی خدمت کا قابلِ ستائش قدم
- دالبندین، این-40 پر مسلح افراد نے سامان سے لدے ٹرک کو نذرِ آتش کردیا
- محکمہ آبپاشی کے سرکاری اثاثوں کی سستے داموں نیلامی کا انکشاف، اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کر لیا
- پی ٹی سی ایل نے ملک کے 22 اضلاع میں خواتین کی ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ کیلئے آئی آر ایم سے اشتراک کر لیا
- فتنة الہندوستان کے دہشتگردوں کو بیرونی سرپرستی اور مالی معاونت کے مزید شواہد سامنے آ گئے
- بانی پی ٹی آئی کی 1 آنکھ نارمل ہو چکی، اہلیہ سے 84 ملاقاتیں کروائیں،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع
- سانحہ زیارت منگی ڈیم، بلوچستان حکومت نے عدالتی انکوائری شروع کردی، جسٹس محمد عامر نواز رانا کمیشن کے سربراہ مقرر
- کوئٹہ، جناح روڈ پر منشیات کے عادی افراد کی بھر مار، خواتین اور بچوں سمیت شہری و تاجر شدید تشویش میں مبتلا