تجزیہ بی این پی
پاکستان میں نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ایک ایسا موضوع ہے جو محض سیاسی نعرے یا علاقائی مطالبے تک محدود نہیں بلکہ ملک کے انتظامی مستقبل، وسائل کی منصفانہ تقسیم، عوامی سہولت، معاشی ترقی اور ریاستی اداروں کی کارکردگی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ پاکستان آبادی، رقبے اور معاشی ضروریات کے اعتبار سے ایک وسیع ملک ہے، مگر اس کے انتظامی ڈھانچے میں اب بھی صرف چار صوبے موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ انتظامی تقسیم آج کی بڑھتی ہوئی آبادی، پیچیدہ معاشی ضروریات اور عوامی توقعات کو مؤثر انداز میں پورا کرنے کے لیے کافی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ قومی بحث سے گریز کیوں کیا جائے؟
اسلام آباد میں قومی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی شرکت سے ہونے والے ایک قومی مباحثے میں نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی یونٹس کو چھوٹا کرنے کے تصور کو پذیرائی ملنا اس اعتبار سے اہم پیش رفت ہے کہ ملک کی مختلف سیاسی قوتیں اب اس مسئلے کو محض سیاسی تقسیم کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے انتظامی ضرورت کے طور پر زیرِ بحث لانے پر آمادہ دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں بعض علاقوں کو اپنے دارالحکومت سے سیکڑوں کلومیٹر دور رہ کر بنیادی سہولتوں، ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری خدمات کے حصول کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے، وہاں انتظامی اختیارات کو عوام کے قریب لانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کے مخالفین عموماً یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس عمل سے سرکاری اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوگا، نئے گورنر ہاؤس، اسمبلیاں، سیکرٹریٹ اور دیگر ادارے قائم کرنا پڑیں گے اور پہلے سے مشکلات کا شکار قومی معیشت پر مزید بوجھ پڑے گا۔ یہ اعتراض بظاہر وزن رکھتا ہے، مگر اس کے دوسرے پہلو کا جائزہ لیا جائے تو تصویر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ قومی مباحثے میں میاں عامر محمود کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ انتظامی تقسیم کے نتیجے میں ہزاروں غیر ضروری اسامیاں ختم اور سالانہ اربوں روپے کی بچت ممکن ہو سکتی ہے۔ اگر انتظامی اصلاحات محض نئی عمارتیں بنانے کے بجائے موجودہ ڈھانچے کی تنظیمِ نو، اختیارات کی منتقلی اور اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے اصول پر کی جائیں تو نئے انتظامی یونٹس اخراجات بڑھانے کے بجائے طویل مدت میں اخراجات کم بھی کر سکتے ہیں۔
اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ گورننس کا معیار ہے۔ اگر ایک بڑا صوبہ اپنے دور دراز علاقوں تک مؤثر انداز میں انتظامی سہولتیں پہنچانے میں ناکام ہو تو محض یہ دلیل کافی نہیں کہ موجودہ نظام تاریخی طور پر قائم چلا آ رہا ہے۔ انتظامی ڈھانچے جامد نہیں ہوتے بلکہ آبادی، معاشی سرگرمیوں، شہری پھیلاؤ اور عوامی ضروریات کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی انتظامی تقسیم کو وقت کے ساتھ بہتر بنایا اور مقامی سطح پر اختیارات منتقل کر کے عوامی مسائل کے حل کو آسان بنایا۔ پاکستان بھی اگر اپنے انتظامی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے تو اسے اس بحث کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا ہوگا۔
وسائل کی منصفانہ تقسیم نئے صوبوں کے قیام کی سب سے اہم وجوہ میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ موجودہ نظام میں قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبوں کو ملنے والے وسائل پہلے صوبائی دارالحکومتوں تک پہنچتے ہیں اور پھر وہاں سے مختلف اضلاع اور علاقوں کے لیے تقسیم ہوتے ہیں۔ اس طرزِ تقسیم میں یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ دور دراز اور کم سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے علاقے ترقیاتی ترجیحات میں پیچھے رہ جائیں۔ اگر انتظامی اکائیاں نسبتاً چھوٹی ہوں تو فیصلہ سازی کے مراکز ان علاقوں کے زیادہ قریب ہوں گے اور مقامی ضروریات کو براہِ راست ترقیاتی ترجیحات میں شامل کیا جا سکے گا۔
یہاں ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کیا وسائل کی منصفانہ تقسیم صرف رقم منتقل کرنے سے ممکن ہے؟ یقیناً نہیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ساتھ ساتھ شفاف نگرانی، مؤثر احتساب، مقامی نمائندگی اور عوامی شرکت بھی ضروری ہے۔ اگر نیا صوبہ قائم کر دیا جائے مگر اس میں بھی اختیارات چند افراد یا ایک محدود انتظامی مرکز تک مرتکز رہیں تو صرف نقشے پر نئی لکیر کھینچنے سے عوام کی زندگی تبدیل نہیں ہوگی۔ اس لیے نئے صوبوں کے تصور کو وسیع تر انتظامی اصلاحات کے ساتھ جوڑنا ناگزیر ہے۔
پاکستان میں مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت بھی اسی بحث کا بنیادی حصہ ہے۔ صوبے چھوٹے کر دینے کے باوجود اگر اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ کیے جائیں تو گورننس کا بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بلدیاتی ادارے وہ سطح ہیں جہاں شہریوں کا روزمرہ ریاست سے براہِ راست واسطہ پڑتا ہے۔ سڑک، گلی، نکاسی آب، صاف پانی، صفائی، مقامی صحت، بنیادی تعلیم، پارک، بازار اور دیگر شہری سہولتیں مقامی حکومتوں کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ لہٰذا نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ بااختیار اور مالی طور پر خودمختار بلدیاتی اداروں کا قیام بھی قومی ایجنڈے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
چھوٹے انتظامی یونٹس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومتی کارکردگی کا جائزہ لینا آسان ہو جائے۔ جب انتظامی حدود وسیع ہوں اور آبادی کروڑوں میں ہو تو ایک صوبائی حکومت کے لیے ہر علاقے کی ضروریات پر یکساں توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً بعض اضلاع مسلسل ترقیاتی دوڑ میں آگے نکل جاتے ہیں جبکہ بعض علاقے بنیادی سہولتوں کے لیے بھی منتظر رہتے ہیں۔ چھوٹے یونٹس میں انتظامی افسران، منتخب نمائندوں اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں گے۔ عوام اپنے مسائل زیادہ آسانی سے متعلقہ حکام تک پہنچا سکیں گے اور حکومتی کارکردگی کو براہِ راست جانچنے کی صلاحیت بھی بڑھے گی۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ نئے صوبوں کا قیام لسانی، نسلی یا علاقائی تقسیم کی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی، معاشی اور عوامی سہولت کے اصول پر ہونا چاہیے۔ پاکستان ایک وفاق ہے اور اس وفاق کی مضبوطی اسی میں ہے کہ تمام اکائیوں کے عوام خود کو ریاستی نظام میں برابر کا شریک محسوس کریں۔ اگر کسی انتظامی تقسیم سے علاقائی محرومی کا احساس کم ہوتا ہے، معاشی سرگرمیوں کے نئے مراکز پیدا ہوتے ہیں اور ریاستی خدمات عوام کے قریب آتی ہیں تو اسے قومی یکجہتی کے لیے خطرہ سمجھنے کے بجائے قومی استحکام کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔
تاہم اس معاملے میں جلد بازی بھی مناسب نہیں۔ نئے صوبوں کے قیام کے لیے واضح آئینی، قانونی، مالی اور انتظامی طریق? کار طے کرنا ہوگا۔ محض سیاسی مطالبات یا انتخابی وعدوں کی بنیاد پر صوبے بنانا مسائل کا حل نہیں ہوگا۔ ہر مجوزہ انتظامی یونٹ کے مالی وسائل، آبادی، جغرافیہ، محصولات، پانی، زراعت، صنعت، روزگار، انفراسٹرکچر اور انتظامی صلاحیت کا جامع جائزہ ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ نئے صوبے اپنے اخراجات کس طرح پورے کریں گے اور وفاقی و صوبائی وسائل کی تقسیم کا نیا فارمولہ کیا ہوگا۔
قومی اتفاقِ رائے اس عمل کی بنیادی شرط ہے۔ کسی ایک سیاسی جماعت، صوبے یا علاقے کی خواہش کو پورے ملک پر مسلط کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میں جامع بحث ہونی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں، ماہرینِ معیشت، انتظامی ماہرین، آئینی ماہرین، سول سوسائٹی اور عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لے کر ایک قومی کمیشن قائم کیا جا سکتا ہے جو ملک کے انتظامی ڈھانچے کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے اور قابلِ عمل سفارشات پیش کرے۔ اس کمیشن کو یہ اختیار بھی دیا جا سکتا ہے کہ وہ موجودہ صوبوں کے اندر انتظامی یونٹس کی تعداد، حدود اور معاشی استعداد کے بارے میں سفارشات مرتب کرے۔
یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی مسائل صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے ختم نہیں ہوں گے۔ بدعنوانی، سیاسی مداخلت، ادارہ جاتی کمزوری، ناقص منصوبہ بندی، وسائل کے ضیاع اور احتساب کے غیر مؤثر نظام جیسے مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ اس لیے نئے صوبوں کا تصور ایک جامع گورننس اصلاحات پیکیج کا حصہ ہونا چاہیے۔ اختیارات کی واضح تقسیم، میرٹ پر تقرریاں، ڈیجیٹل نگرانی، شفاف مالیاتی نظام، مؤثر احتساب اور بااختیار بلدیاتی ادارے اس پیکیج کے بنیادی اجزا ہونے چاہئیں۔
پاکستان کی معاشی ترقی بھی بہتر انتظامی نظام سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کا ارتکاز ملک کے پسماندہ علاقوں کی معاشی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہے۔ اگر انتظامی اختیارات چھوٹے یونٹس میں منتقل ہوں تو نئے صنعتی مراکز، تجارتی منڈیاں، تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز اور روزگار کے مواقع مختلف علاقوں میں پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ کم ہوگا اور چھوٹے شہروں کو معاشی ترقی کے نئے مواقع ملیں گے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں کی بحث کو محض سیاسی نقشہ تبدیل کرنے کے بجائے قومی ترقی کے منصوبے سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہر انتظامی یونٹ اپنی مقامی معیشت کی بنیاد پر ترقیاتی حکمت عملی بنائے، اپنے وسائل کو بہتر طور پر استعمال کرے اور وفاقی و صوبائی اداروں کے ساتھ مربوط انداز میں کام کرے تو پاکستان کے اندر کئی نئے معاشی مراکز پیدا ہو سکتے ہیں۔ زراعت، معدنیات، صنعت، سیاحت، آئی ٹی اور تجارت کے شعبوں میں مقامی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ایک اور اہم پہلو عوامی احساسِ محرومی ہے۔ جب کسی علاقے کے عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے مسائل فیصلہ سازی کے مرکز تک نہیں پہنچ رہے تو ریاستی نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب شہری دیکھتے ہیں کہ ان کے علاقے میں انتظامی مرکز موجود ہے، حکام ان کی پہنچ میں ہیں اور ترقیاتی فیصلے ان کی ضروریات کے مطابق ہو رہے ہیں تو ریاست اور عوام کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جس کے ادارے عوام کے لیے قابلِ رسائی، جواب دہ اور مؤثر ہوں۔
اس تناظر میں نئے صوبوں کے قیام کو قومی یکجہتی کے خلاف سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اصل خطرہ انتظامی اصلاحات نہیں بلکہ محرومی، ناانصافی اور عدم مساوات کا احساس ہے۔ اگر انتظامی تقسیم اتفاقِ رائے، آئین اور قانون کے مطابق ہو اور اس کا مقصد عوامی سہولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو تو یہ وفاق کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت اس حساس مسئلے کو وقتی سیاسی مفادات سے بلند ہو کر دیکھے۔ نئے صوبوں کا مطالبہ اگر صرف انتخابات کے دوران سیاسی نعرہ بن کر سامنے آئے اور بعد ازاں پسِ پشت ڈال دیا جائے تو عوام کا اعتماد مزید مجروح ہوگا۔ اسی طرح اگر اس بحث کو علاقائی تعصب یا سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل کر دیا گیا تو ایک اہم انتظامی اصلاح کا مقصد بھی فوت ہو جائے گا۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے اس معاملے پر ایک جامع قومی پالیسی تشکیل دے۔
پاکستان کو ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو عوام کے قریب ہو، وسائل کو منصفانہ انداز میں تقسیم کرے، فیصلوں میں تاخیر کم کرے اور ہر سطح پر جواب دہی کو یقینی بنائے۔ چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹس اس منزل کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام، شفاف مالیاتی ڈھانچہ، مؤثر احتساب اور میرٹ پر مبنی انتظامیہ بھی قائم کی جائے۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں صوبے چار رہیں گے یا ان کی تعداد زیادہ ہوگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاستی نظام عوام کو کتنی سہولت، انصاف اور ترقی فراہم کرتا ہے۔ اگر موجودہ انتظامی ساخت عوام کی ضروریات پوری کرنے میں رکاوٹ بن رہی ہے تو اصلاحات سے گریز کسی صورت دانش مندی نہیں۔ قومی اتفاقِ رائے سے نئے انتظامی یونٹس کے قیام، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی سمت پیش رفت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک ایسا پاکستان جہاں فیصلے عوام کے قریب ہوں، وسائل ضرورت کے مطابق تقسیم ہوں اور حکومت ہر سطح پر جواب دہ ہو، نہ صرف بہتر گورننس کی علامت ہوگا بلکہ مضبوط وفاق، معاشی استحکام اور قومی یکجہتی کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- پاکستان میں پٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے، عوامی احتجاج اور معاشی ذمہ داری کا سوال
- پاکستان میں نئے صوبے: ضرورت، اتفاقِ رائے اور مضبوط بلدیاتی نظام
- صاف پانی کی فراہمی، پنجاب حکومت کی عوامی خدمت کا قابلِ ستائش قدم
- دالبندین، این-40 پر مسلح افراد نے سامان سے لدے ٹرک کو نذرِ آتش کردیا
- محکمہ آبپاشی کے سرکاری اثاثوں کی سستے داموں نیلامی کا انکشاف، اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کر لیا
- پی ٹی سی ایل نے ملک کے 22 اضلاع میں خواتین کی ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ کیلئے آئی آر ایم سے اشتراک کر لیا
- فتنة الہندوستان کے دہشتگردوں کو بیرونی سرپرستی اور مالی معاونت کے مزید شواہد سامنے آ گئے
- بانی پی ٹی آئی کی 1 آنکھ نارمل ہو چکی، اہلیہ سے 84 ملاقاتیں کروائیں،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع
- سانحہ زیارت منگی ڈیم، بلوچستان حکومت نے عدالتی انکوائری شروع کردی، جسٹس محمد عامر نواز رانا کمیشن کے سربراہ مقرر
- کوئٹہ، جناح روڈ پر منشیات کے عادی افراد کی بھر مار، خواتین اور بچوں سمیت شہری و تاجر شدید تشویش میں مبتلا