jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستانی حکومتی اخراجات میں اضافہ، کفایت شعاری کا امتحان

تجزیہ بی این پی
قومی معیشت کا استحکام صرف آمدن بڑھانے سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اخراجات کو قابو میں رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر ایک طرف حکومت عوام سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے، محصولات میں اضافے اور مالی وسائل پیدا کرنے کی کوشش کرے اور دوسری طرف ریاستی مشینری کے انتظامی اخراجات مسلسل بڑھتے جائیں تو معاشی نظم و ضبط کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ وفاقی وزارتِ خزانہ کی حالیہ دستاویزات میں سامنے آنے والے اعدادوشمار اسی تشویش کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کے انتظامی اخراجات تقریباً 16 فیصد اضافے کے ساتھ 1033 ارب روپے تک پہنچ گئے، جبکہ مالی سال 2024ـ25ئ میں یہی اخراجات 892 ارب روپے تھے۔ یعنی صرف ایک سال کے دوران انتظامی اخراجات میں تقریباً 141 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ یہ معمولی رقم نہیں بلکہ ایسے وقت میں ایک بڑا مالی بوجھ ہے جب ملکی معیشت پہلے ہی قرضوں، سود کی ادائیگی، محدود مالی گنجائش اور بڑھتی ہوئی ضروریات کے دباؤ میں ہے۔
اس صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت گزشتہ کئی برس سے کفایت شعاری کو اپنی معاشی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتی چلی آ رہی ہے۔ سرکاری سطح پر مختلف اوقات میں غیر ضروری اخراجات کم کرنے، سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو محدود کرنے، غیر ضروری اجلاسوں، بیرونِ ملک دوروں، پروٹوکول اور دیگر اخراجات میں کمی کے اعلانات سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم اگر ان اعلانات کے باوجود انتظامی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کفایت شعاری کی پالیسی عملاً کہاں تک مؤثر ثابت ہو رہی ہے؟ محض سرکاری بیانات، اجلاسوں اور ہدایات سے قومی خزانے پر بوجھ کم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے عملی اقدامات، مستقل نگرانی اور اخراجات میں واضح کمی ضروری ہے۔
**تجزیہ بی این پی** کے مطابق اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکومتی اخراجات بڑھ رہے ہیں، بلکہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اخراجات میں اضافے کے مقابلے میں عوامی خدمات اور معاشی پیداوار میں اسی تناسب سے بہتری نظر نہیں آتی۔ ریاستی اداروں کا وجود اور ان پر ہونے والے اخراجات اپنی جگہ ضروری ہیں۔ حکومت کو انتظامی امور چلانے، ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے، اداروں کو فعال رکھنے اور عوامی خدمات فراہم کرنے کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں، لیکن ہر خرچ کو لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حکومت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ کون سا خرچ ریاستی امور کے لیے ناگزیر ہے اور کون سا خرچ صرف ایک پرانے انتظامی طریقہ کار، غیر ضروری مراعات یا ادارہ جاتی روایت کی وجہ سے جاری ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں حکومتی اخراجات کا مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ قومی آمدن اور حکومتی ضروریات کے درمیان پہلے ہی ایک بڑا خلا موجود ہے۔ وفاقی حکومت کی مالی گنجائش محدود ہے۔ ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن کا ایک بڑا حصہ آئینی مالیاتی نظام کے تحت صوبوں کو منتقل ہو جاتا ہے، جبکہ وفاق کو دفاع، قرضوں کی ادائیگی، پنشن، وفاقی اداروں، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر ذمہ داریوں کے لیے وسیع وسائل درکار ہوتے ہیں۔ جب دستیاب آمدن ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہ ہو تو حکومت قرض لینے پر مجبور ہوتی ہے۔ یوں موجودہ اخراجات صرف آج کے بجٹ پر اثر انداز نہیں ہوتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مالی ذمہ داریاں پیدا کرتے ہیں۔
گزشتہ 28 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے لیے گئے قرض کا حجم تقریباً 19 ہزار ارب روپے کے قریب بتایا جاتا ہے۔ قرض لینا ہر صورت میں معاشی جرم نہیں۔ دنیا کی حکومتیں ترقیاتی منصوبوں، معاشی بحرانوں یا ہنگامی حالات میں قرض لیتی ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب قرض کا بڑا حصہ ایسے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال ہونے لگے جو مستقل آمدن پیدا نہیں کرتے۔ اگر قرض لے کر بجلی، پانی، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، صنعت یا ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے جو مستقبل میں روزگار اور آمدن پیدا کریں تو اس کے معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر قرض لے کر محض روزمرہ انتظامی اخراجات، مراعات اور غیر ضروری سرکاری مشینری چلائی جائے تو قرض کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے اور قومی معیشت کے لیے واپسی کا راستہ مشکل ہوتا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انتظامی اخراجات میں 16 فیصد اضافہ صرف ایک بجٹ کا عدد نہیں بلکہ معاشی نظم و نسق کے حوالے سے ایک سنجیدہ سوال ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وزارتوں، ڈویڑنز، محکموں اور سرکاری اداروں کے اخراجات کا جامع فرانزک آڈٹ کرائے۔ ہر ادارے کی ضرورت، افرادی قوت، بجٹ، گاڑیوں، دفاتر، عمارات، سفری اخراجات، اجلاسوں، مشاورتی خدمات اور دیگر مدات کا جائزہ لیا جائے۔ جہاں دو یا اس سے زیادہ ادارے ایک ہی نوعیت کا کام کر رہے ہوں وہاں انہیں ضم کرنے یا ان کے دائرہ کار کو محدود کرنے پر غور ہونا چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں متعدد ایسے کام ہیں جو کم افرادی قوت اور کم لاگت کے ساتھ انجام دیے جا سکتے ہیں۔
حکومتی اداروں میں غیر ضروری مراعات بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔ اعلیٰ افسران اور حکام کو دی جانے والی تنخواہوں اور قانونی مراعات اپنی جگہ ایک الگ معاملہ ہیں، لیکن سرکاری گاڑیوں، اضافی گاڑیوں، ایندھن، رہائش، سکیورٹی، سفری سہولتوں، پروٹوکول اور دیگر سہولتوں کے نام پر ہونے والے اخراجات کا جائزہ لینا وقت کی ضرورت ہے۔ عوام سے جب ٹیکس ادا کرنے، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے برداشت کرنے اور معاشی مشکلات میں اپنا حصہ ڈالنے کی توقع کی جاتی ہے تو ریاستی اداروں کو بھی قربانی کی مثال قائم کرنا ہوگی۔ کفایت شعاری کا مطلب صرف یہ نہیں کہ سرکاری ملازم دفتر میں بجلی کا ایک بلب کم جلائے، بلکہ اصل کفایت شعاری وہ ہے جو اربوں روپے کے غیر ضروری اخراجات کو مستقل طور پر ختم کرے۔
اسی طرح سرکاری گاڑیوں اور پروٹوکول کے نظام کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی عہدے دار کے لیے ایک گاڑی کافی ہے تو متعدد گاڑیوں کی ضرورت کیوں ہو؟ اگر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اجلاس ہو سکتا ہے تو ہر اجلاس کے لیے سفر اور رہائش پر بھاری رقم کیوں خرچ کی جائے؟ اگر سرکاری دستاویزات ڈیجیٹل طریقے سے منتقل ہو سکتی ہیں تو کاغذ، پرنٹنگ، ڈاک اور فائلوں کی نقل و حمل پر اضافی اخراجات کیوں کیے جائیں؟ دنیا کے کئی ممالک نے ڈیجیٹل گورننس کے ذریعے انتظامی اخراجات کم کیے ہیں۔ پاکستان بھی اس سمت میں تیزی سے پیش رفت کر سکتا ہے۔
یہاں ایک اور بنیادی سوال بھی سامنے آتا ہے کہ حکومتی کفایت شعاری کی نگرانی کون کرے گا؟ ماضی میں کفایت شعاری کی متعدد مہمات شروع ہوئیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی رفتار کم پڑ گئی۔ اس لیے ضرورت کسی عارضی مہم کی نہیں بلکہ مستقل مالیاتی نظم و ضبط کے نظام کی ہے۔ ہر وزارت اور محکمے کے لیے اخراجات کی سالانہ حد مقرر کی جائے اور اس حد سے تجاوز کی صورت میں واضح جواز طلب کیا جائے۔ غیر ضروری اخراجات کی نشاندہی کرنے والے افسران اور اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے، جبکہ دانستہ طور پر قومی وسائل ضائع کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا نظام موجود ہو۔

پارلیمان کا کردار بھی اس معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قومی بجٹ صرف اعدادوشمار کا مجموعہ نہیں بلکہ عوام کے پیسے کے استعمال کا آئینی منصوبہ ہے۔ پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کو وزارتوں کے اخراجات کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مختص رقم کہاں خرچ ہوئی، کیا نتائج حاصل ہوئے اور آئندہ سال اسی مد میں مزید رقم مختص کرنے کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ صرف بجٹ منظور کر دینا کافی نہیں؛ بجٹ کے استعمال کی مؤثر نگرانی بھی ضروری ہے۔
وفاقی حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں، اضافی پوسٹوں اور غیر ضروری بھرتیوں کا کیا حجم ہے۔ اگر کسی ادارے میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے پانچ سو افراد کا کام تین سو افراد انجام دے سکتے ہیں تو باقی دو سو اسامیوں کے بارے میں پالیسی بنانا ہوگی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو اچانک بے روزگار کر دیا جائے بلکہ نئی بھرتیوں کو ضرورت کے مطابق محدود کیا جائے، ریٹائر ہونے والے ملازمین کی جگہ ہر صورت نئی بھرتی نہ کی جائے اور جہاں ممکن ہو وہاں تربیت اور منتقلی کے ذریعے افرادی قوت کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کے اثاثوں کو بھی آمدن کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ کئی وفاقی اداروں کے پاس قیمتی زمینیں، عمارات اور دیگر اثاثے موجود ہیں جو یا تو غیر مؤثر انداز میں استعمال ہو رہے ہیں یا ان سے مطلوبہ مالی فائدہ حاصل نہیں کیا جا رہا۔ شفاف طریقے سے ان اثاثوں کا ریکارڈ تیار کر کے ان کے بہترین استعمال کی منصوبہ بندی کی جائے تو حکومت پر مالی دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس عمل میں شفافیت، میرٹ اور عوامی مفاد کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے تاکہ سرکاری اثاثے نجی مفادات کی نذر نہ ہوں۔
حکومتی اخراجات میں کمی کا مطلب ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس غیر ضروری انتظامی اخراجات کم کر کے وسائل کو تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر، پانی، توانائی اور انسانی ترقی کے شعبوں کی طرف منتقل کیا جانا چاہیے۔ ایک غریب یا متوسط طبقے کا خاندان جب اپنی آمدن میں کمی دیکھتا ہے تو سب سے پہلے غیر ضروری اخراجات ختم کرتا ہے اور بنیادی ضروریات کو ترجیح دیتا ہے۔ ریاست کو بھی یہی اصول اپنانا ہوگا۔ قومی خزانہ عوام کی ملکیت ہے، اس لیے اس سے خرچ ہونے والا ہر روپیہ عوامی مفاد کے معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔
پاکستان میں ٹیکس دینے والا شہری بجا طور پر یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ اس کے ادا کردہ ٹیکس کا کتنا حصہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے، سرکاری ہسپتالوں میں سہولتیں فراہم کرنے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر خرچ ہو رہا ہے اور کتنا حصہ محض حکومتی مشینری چلانے پر صرف ہو رہا ہے۔ اگر انتظامی اخراجات مسلسل بڑھتے رہیں اور عوامی سہولتوں کا معیار مطلوبہ رفتار سے بہتر نہ ہو تو ٹیکس نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے کفایت شعاری صرف مالی ضرورت نہیں بلکہ حکمرانی کے معیار اور عوامی اعتماد کا مسئلہ بھی ہے۔
**تجزیہ بی این پی** یہ واضح کرتا ہے کہ وفاقی حکومت کے لیے موجودہ حالات میں سب سے اہم ضرورت ایک جامع اور قابلِ عمل اخراجاتی اصلاحات پروگرام ہے۔ اس پروگرام میں صرف چند علامتی اقدامات شامل نہیں ہونے چاہئیں بلکہ وزارتوں، ڈویڑنز اور سرکاری اداروں کی ساخت، افرادی قوت، مراعات اور مالی ضروریات کا بنیادی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ حکومت اگر واقعی کفایت شعاری کو اپنی پالیسی کا حصہ بنانا چاہتی ہے تو اسے سالانہ بنیادوں پر یہ بتانا چاہیے کہ گزشتہ سال کتنی رقم بچائی گئی، کون سے اخراجات ختم کیے گئے، کون سے ادارے ضم ہوئے اور بچنے والے وسائل عوامی فلاح کے کن منصوبوں پر خرچ کیے گئے۔
معاشی بحران کے دور میں حکمران طبقے کی مثال سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ عوام اس وقت مہنگائی، ٹیکسوں، توانائی کے بڑھتے نرخوں اور روزگار کے محدود مواقع جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر حکومتی سطح پر غیر ضروری اخراجات جاری رہیں تو عوام میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ قربانی صرف عام آدمی سے مانگی جا رہی ہے۔ ریاستی اداروں اور حکمرانوں کو یہ تاثر ختم کرنا ہوگا۔ قومی مشکل کے وقت سادگی اور کفایت شعاری محض تقریروں کا موضوع نہیں بلکہ عملی طرزِ حکمرانی بننی چاہیے۔
آخرکار یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کے مالی مسائل کا مستقل حل صرف مزید قرض یا مزید ٹیکس نہیں۔ آمدن میں اضافہ ضروری ہے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا بھی ناگزیر ہے، ٹیکس چوری روکنا بھی ضروری ہے، لیکن ان سب کے ساتھ حکومتی اخراجات کو قابو میں رکھنا بھی لازم ہے۔ اگر ہر سال آمدن بڑھانے کی کوشش کے ساتھ اخراجات بھی اسی رفتار سے بڑھتے رہیں تو مالیاتی خسارہ ختم نہیں ہوگا۔ حکومت کو آمدن اور اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔وفاقی حکومت کے انتظامی اخراجات کا 1033 ارب روپے تک پہنچ جانا ایک ایسا موقع ہے جہاں محض تشویش کا اظہار کافی نہیں۔ اب عملی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ قومی خزانے کی حفاظت، غیر ضروری مراعات کا خاتمہ، سرکاری مشینری کو مؤثر بنانا، ڈیجیٹل نظام کا فروغ، ادارہ جاتی اصلاحات اور اخراجات کی شفاف نگرانی ہی وہ اقدامات ہیں جو پاکستان کو قرض پر بڑھتے ہوئے انحصار سے نکال سکتے ہیں۔ حکومتی وسائل محدود ہیں، اس لیے ان کا استعمال بھی ترجیحات کے مطابق ہونا چاہیے۔
ریاست کا اصل حسن وسیع دفاتر، بڑی سرکاری گاڑیوں، غیر ضروری پروٹوکول یا بڑھتے ہوئے انتظامی بجٹ میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ عام شہری کو تعلیم، صحت، روزگار، انصاف، تحفظ اور بنیادی سہولتیں کس معیار پر میسر ہیں۔ قومی خزانے کا پیسہ جتنا زیادہ غیر ضروری انتظامی اخراجات میں جائے گا، اتنے ہی کم وسائل عوامی بہبود کے لیے باقی رہیں گے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ کفایت شعاری کو ایک وقتی نعرے کے بجائے مستقل مالیاتی پالیسی بنایا جائے۔ حکومت اگر اپنے اخراجات پر حقیقی معنوں میں نظرثانی کرتی ہے تو نہ صرف موجودہ مالی دباؤ کم ہو سکتا ہے بلکہ قرضوں پر انحصار میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ یہی قومی وسائل کے بہتر استعمال، مضبوط معیشت اور عوامی اعتماد کی بحالی کا راستہ ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More