تجزیہ راجا محمد الیاس کیانی
پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ محض ایک ترقیاتی منصوبے یا کسی ایک حکومت کی ترجیح کا معاملہ نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی صحت، زندگی کے معیار اور بنیادی انسانی ضروریات سے براہِ راست جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ صرف بلند و بالا عمارتوں، وسیع شاہراہوں، جدید ٹرانسپورٹ یا بڑے صنعتی منصوبوں سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ عام آدمی کو اپنے گھر کے قریب پینے کے لیے صاف پانی میسر ہے یا نہیں۔ اس تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صاف پانی کے منصوبوں کے حوالے سے مسلسل اجلاس اور صوبے کے مختلف اضلاع میں ہزاروں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کا پروگرام ایک اہم عوامی ضرورت کی تکمیل کی جانب پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔
تازہ اجلاس میں نو اضلاع میں 2778 نئے واٹر فلٹریشن پلانٹ پراجیکٹس پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کو منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ہدایت کی گئی۔ اس منصوبے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پنجاب کے کئی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں زیرِ زمین پانی کھارا ہونے، آلودگی بڑھنے یا صاف پانی کے ذرائع محدود ہونے کے باعث شہریوں کو پینے کے پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے علاقوں میں آر او، یو ایف اور ایم ایف ٹیکنالوجی پر مبنی پلانٹس کی تنصیب محض سہولت نہیں بلکہ صحت عامہ کے تحفظ کی بنیادی ضرورت ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی طرف سے صاف پانی کے منصوبے کو مسلسل اجلاسوں کے ذریعے مانیٹر کرنا اس امر کی علامت ہے کہ حکومت اس معاملے کو صرف اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی سطح پر آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ بہاولنگر، بہاولپور، راجن پور، تلہ گنگ، اٹک، راولپنڈی، جہلم، رحیم یار خان اور چکوال سمیت مختلف اضلاع میں جاری منصوبوں کی تفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک وسیع البنیاد حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ تاہم اس حکمت عملی کی حقیقی کامیابی کا معیار صرف نئے پلانٹس کی تعداد نہیں بلکہ ان کا فعال رہنا، پانی کا معیار برقرار رکھنا، عوام کو بلا تعطل سہولت فراہم کرنا اور طویل عرصے تک ان کی دیکھ بھال یقینی بنانا ہوگا۔
حکومت کی طرف سے فراہم کردہ بریفنگ کے مطابق صاف پانی منصوبے کے مختلف کلسٹرز میں بڑی تعداد میں واٹر فلٹریشن پلانٹس مکمل کیے جا چکے ہیں۔ راجن پور اور رحیم یار خان میں 702 مقامات میں سے 570 پلانٹس کی تکمیل، جبکہ پوٹھوہار کے مختلف اضلاع میں 1180 مقامات میں سے 902 پلانٹس کی تکمیل قابل ذکر پیش رفت ہے۔ اسی طرح بہاولپور اور بہاولنگر کے 892 مقامات میں سے 749 مقامات پر کام مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ منصوبے پر قابلِ ذکر کام ہوا ہے، تاہم باقی ماندہ منصوبوں کو بھی مقررہ مدت میں مکمل کرنا ضروری ہے تاکہ ان علاقوں کے عوام کو مزید انتظار نہ کرنا پڑے۔
صاف پانی کے حوالے سے سب سے اہم پہلو پانی کے معیار کا ہے۔ اگر فلٹریشن پلانٹ نصب تو کر دیا جائے لیکن اس کی صفائی، فلٹرز کی تبدیلی، مشینری کی مرمت اور پانی کے باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹ کا نظام موجود نہ ہو تو کچھ عرصے بعد یہی منصوبہ غیر فعال اثاثے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ پنجاب میں پہلے ہی سیکڑوں واٹر فلٹریشن پلانٹس کے غیر فعال ہونے کا مسئلہ موجود رہا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی طرف سے 736 غیر فعال واٹر فلٹریشن پلانٹس کی بحالی کے لیے اقدامات کا حکم اس لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ نئی تنصیبات کے ساتھ پرانے اور غیر فعال منصوبوں کو بھی دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حکومتی منصوبہ بندی کو تعمیراتی سرگرمی سے آگے بڑھ کر مستقل انتظامی نظام کی شکل اختیار کرنا ہوگا۔ پلانٹ لگانا نسبتاً آسان مرحلہ ہے، اصل چیلنج اسے برسوں تک فعال رکھنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر پلانٹ کی ذمہ داری واضح ادارے یا انتظامی یونٹ کو سونپی جا سکتی ہے، پانی کے معیار کی باقاعدہ جانچ کا نظام بنایا جا سکتا ہے، فلٹرز اور دیگر ضروری آلات کی بروقت تبدیلی کے لیے مستقل بجٹ مختص کیا جا سکتا ہے اور شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر مانیٹرنگ میکانزم تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ اقدامات ساتھ ساتھ جاری رہیں تو صاف پانی کے منصوبے کے ثمرات زیادہ دیرپا ہوں گے۔
رحیم یار خان، بہاولپور، خوشاب اور ڈیرہ غازی خان میں واٹر بوٹلنگ پراجیکٹ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ بریفنگ کے مطابق ہر واٹر بوٹلنگ پوائنٹ سے روزانہ 2500 بوتل پانی عوام کو فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ پلانٹس فی گھنٹہ پانچ ہزار لیٹر صاف پانی مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اقدام ان علاقوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے جہاں فوری طور پر گھروں تک پائپ لائن کے ذریعے صاف پانی پہنچانا ممکن نہیں۔ تاہم یہاں بھی شفافیت اور معیار بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ پانی کی بوتلنگ، ترسیل اور تقسیم کے پورے عمل کی نگرانی ضروری ہے تاکہ عوام کو واقعی معیاری اور محفوظ پانی فراہم ہو۔
پنجاب کے جنوبی اضلاع اور پوٹھوہار کے علاقوں میں پانی کا مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہے۔ کہیں زیرِ زمین پانی کھارا ہے، کہیں پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے اور کہیں موسمی حالات اور جغرافیائی ساخت پانی کے ذخائر کو متاثر کرتی ہے۔ اسی لیے ایک ہی نوعیت کا حل پورے صوبے کے لیے مؤثر نہیں ہو سکتا۔ راجن پور اور رحیم یار خان کے کھارے پانی والے علاقوں میں 95 آر او اور 52 یو ایف پلانٹس لگانے کی تجویز اس بات کی عکاس ہے کہ حکومت نے مقامی حالات کے مطابق مختلف ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح راولپنڈی، مری، چکوال، تلہ گنگ، اٹک اور جہلم کے علاقوں میں آر او پلانٹس کی شمولیت بھی زمینی حقائق کو مدنظر رکھنے کی کوشش ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پنجاب میں صاف پانی کے مسئلے کا مستقل حل صرف فلٹریشن پلانٹس کی تعداد بڑھانے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے پانی کے مجموعی انتظام کو ایک مربوط پالیسی کے تحت دیکھنا ہوگا۔ زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال کو روکنے، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، واٹر ریچارج منصوبوں کو فروغ دینے اور شہری و دیہی آبادی کے لیے پائیدار آبی نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ پوٹھوہار میں سمال ڈیمز کی تعمیر اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ ان منصوبوں کی تکمیل اور افادیت کو بھی مستقل بنیادوں پر مانیٹر کیا جائے۔
صاف پانی کا مسئلہ دراصل صحت عامہ سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ آلودہ پانی متعدد بیماریوں کی بنیادی وجہ بن سکتا ہے اور غریب خاندانوں کے لیے علاج معالجے کے اضافی اخراجات پہلے سے موجود معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ اگر حکومت شہریوں کو صاف پانی فراہم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف پانی کی سہولت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ صحت کے شعبے پر دباؤ میں کمی، بچوں کی بہتر صحت، خاندانوں کے اخراجات میں کمی اور مجموعی طور پر انسانی ترقی کی رفتار میں بہتری کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ صاف پانی کی سہولت صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ پنجاب کے دور دراز دیہی علاقوں، چولستانی خطوں، جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع اور ان بستیوں کو ترجیح دی جانی چاہیے جہاں شہریوں کو کئی کلومیٹر دور سے پانی لانا پڑتا ہے۔ کسی بھی ترقیاتی پالیسی کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کا فائدہ معاشرے کے کمزور اور دور افتادہ طبقات تک بھی پہنچے۔ اس حوالے سے ضلعی بنیادوں پر منصوبہ بندی ایک مثبت قدم ہے کیونکہ اس سے مقامی ضروریات کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے اور وسائل تقسیم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے یہ کہنا کہ صاف پانی کی دستیابی ہر فرد کا بنیادی حق ہے، پالیسی کے اعتبار سے بھی اہم بات ہے۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شہریوں کو صاف پانی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔ تاہم کسی بھی حکومتی دعوے کو پائیدار کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل نگرانی، شفافیت اور جواب دہی ناگزیر ہے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ کس ضلع میں کتنے پلانٹس لگے، کتنے فعال ہیں، ان پر کتنا خرچ آیا اور ان کی دیکھ بھال کا ذمہ دار کون ہے۔ اگر یہ معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہوں تو نہ صرف اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر ضروری اخراجات اور غفلت کے امکانات بھی کم کیے جا سکیں گے۔
پنجاب حکومت کے حالیہ اقدامات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت ایک طرف بنیادی سہولتوں، صاف پانی، سیف سٹی اور شہری خدمات کے منصوبوں پر توجہ دے رہی ہے تو دوسری طرف ثقافتی سرگرمیوں اور سیاحت کے فروغ کی کوششیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے لاہور میں بسنت 2027 کے لیے 12، 13 اور 14 مارچ کی تاریخوں کا اعلان اسی سلسلے کی ایک مثال ہے۔ بسنت پنجاب خصوصاً لاہور کی ثقافتی شناخت سے وابستہ ایک قدیم روایت رہی ہے، تاہم اس کی بحالی کے ساتھ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور محفوظ انتظامات کو اولین ترجیح دینا ضروری ہوگا۔بسنت جیسے ثقافتی ایونٹس شہری معیشت، سیاحت، ہوٹلنگ، ریستوران، ٹرانسپورٹ اور چھوٹے کاروباروں کے لیے معاشی سرگرمی پیدا کر سکتے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور بین الاقوامی مہمانوں کو دعوت دینے سے لاہور کی ثقافتی شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ تاہم ثقافتی جشن اسی وقت حقیقی خوشی میں تبدیل ہوگا جب اس میں عوام کی حفاظت، ماحولیاتی تحفظ اور قانون کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت کو اس حوالے سے واضح ضابطہ کار اور مؤثر نگرانی کا نظام پہلے سے تیار کرنا چاہیے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پنجاب میں 2778 نئے واٹر فلٹریشن پلانٹ پراجیکٹس کا منصوبہ ایک بڑا عوامی فلاحی اقدام ہے۔ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت مسلسل اجلاس، مختلف اضلاع میں منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ، غیر فعال پلانٹس کی بحالی کی ہدایت اور کھارے پانی والے علاقوں میں مخصوص ٹیکنالوجی کے استعمال کے فیصلے اس منصوبے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے بنیادی سہولتوں پر توجہ دینا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے انتظامی مشینری کو متحرک رکھنا قابلِ ستائش ہے۔
تاہم کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا اصل پیمانہ اعلانات یا منصوبوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کے نتیجہ خیز اور پائیدار اثرات ہوتے ہیں۔ صاف پانی کے ہر نئے پلانٹ کو اس وقت کامیاب سمجھا جائے گا جب وہاں سے واقعی صاف اور محفوظ پانی دستیاب ہو، پلانٹ طویل عرصے تک فعال رہے، شہریوں کو آسان رسائی حاصل ہو اور اس کی دیکھ بھال کا نظام مضبوط ہو۔ اسی طرح غیر فعال 736 پلانٹس کی بحالی بھی ایک خوش آئند فیصلہ ہے، لیکن ان کی دوبارہ بندش روکنے کے لیے مستقل نگرانی ضروری ہوگی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب حکومت صاف پانی کے منصوبے کو محض ایک ترقیاتی اسکیم کے بجائے صوبائی آبی پالیسی کا مرکزی حصہ بنائے۔ پانی کے ذخائر کے تحفظ، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے۔ صنعتی اور زرعی شعبے میں پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دیا جائے اور شہری علاقوں میں پانی کی آلودگی کے اسباب پر بھی قابو پایا جائے۔
اگر حکومت ان تمام پہلوؤں کو ایک مربوط حکمت عملی میں شامل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو پنجاب میں صاف پانی کا موجودہ منصوبہ محض ہزاروں فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ صحت مند اور بہتر معیارِ زندگی رکھنے والے معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مریم نواز شریف کی طرف سے اس شعبے کو ترجیح دینا یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس مثبت سمت کو دیرپا کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے انتظامی تسلسل، مالی شفافیت، تکنیکی معیار اور عوامی نگرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔
عوام کو صاف پانی فراہم کرنا کسی حکومت پر احسان نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن جو حکومت اس بنیادی ضرورت کی تکمیل کے لیے سنجیدگی سے وسائل مختص کرے، منصوبے شروع کرے اور ان کی نگرانی کرے، اس کے اقدامات بہرحال قابلِ تحسین ہوتے ہیں۔ پنجاب حکومت کے موجودہ صاف پانی پروگرام کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر منصوبے مقررہ وقت پر مکمل ہوئے، غیر فعال پلانٹس دوبارہ چل پڑے، پانی کا معیار مسلسل برقرار رکھا گیا اور دور دراز بستیوں تک بھی یہ سہولت پہنچائی گئی تو یہ منصوبہ پنجاب کے عوام کے لیے حقیقی معنوں میں ایک بڑی خدمت ثابت ہو سکتا ہے۔
آخرکار ترقی کا سب سے خوبصورت تصور یہی ہے کہ اس کے ثمرات عام آدمی کی زندگی میں محسوس ہوں۔ جب کسی غریب گھرانے کے بچے کو محفوظ پانی میسر ہو، جب کسی ماں کو پانی کے معیار کی فکر نہ رہے، جب کسی دیہی بستی کے لوگوں کو دور دراز علاقوں سے پانی لانے کی مشقت نہ اٹھانا پڑے اور جب شہری کو یقین ہو کہ ریاست اس کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے موجود ہے تو یہی وہ مقام ہے جہاں حکومتی منصوبہ حقیقی عوامی خدمت میں تبدیل ہوتا ہے۔ پنجاب میں صاف پانی کے منصوبوں کو اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیے، اور اگر حکومت اس معیار کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی تو مریم نواز شریف کی یہ کاوش صوبے میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے ایک قابلِ ذکر مثال بن سکتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ، سیاسی و انسانی حقوق کے تحفظ کا موقع
- پاکستان کا سیاحتی حسن، قدرت کا انمول تحفہ اور قومی خوشحالی کا راستہ
- پاک فوج کی قربانیوں اور شواہد نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا
- پاکستان میں توانائی، روزگار اور ڈیجیٹل معیشت: قومی ترقی کی مربوط سمت
- پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد اور مؤثر حکمتِ عملی ناگزیر
- پاکستان میں صاف پانی کی فراہمی، عوامی خدمت کا قابلِ ستائش منصوبہ
- آئی ایم سی اوور 60 ورلڈ کپ‘ پاکستان نے کینیڈا کو 5وکٹوں سے شکست دیدی
- پاکستان کرکٹ اگر ٹھیک نہیں کریں گے تو ہاکی سے بھی برا حال ہوگا، کامران اکمل
- پاکستانی فاسٹ بولرز کو کمزور نہیں سمجھتے، جو روٹ
- جرمن فٹبالر جمال موسیالا ایک بار پھر میچ کے دوران گر پڑے، اعصابی عارضے کی تشخیص
Prev Post