تجزیہ بی این پی
دہشتگردی پاکستان کے لیے محض ایک سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، داخلی استحکام، معاشی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور ریاستی بیانیے سے جڑا ہوا ایک ہمہ گیر چیلنج ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستانی قوم نے دہشتگردی کے خلاف ایسی طویل اور کٹھن جنگ لڑی ہے جس میں افواجِ پاکستان، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے اسی قومی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا اور واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف مستقل کامیابی کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ سیاسی قوتوں اور معاشرے کے تمام طبقات کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر کا یہ کہنا خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ 2017ء میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں ملک میں امن بحال ہوا اور سرمایہ کاری کے لیے ماحول بہتر ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ امن کسی بھی ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کی بنیادی شرط ہوتا ہے۔ جب کسی ملک میں شہری عدم تحفظ کا شکار ہوں، کاروباری مراکز خطرات سے دوچار ہوں، شاہراہیں غیر محفوظ ہوں اور سرمایہ کار مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوں تو وہاں ترقی کے خواب حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتے۔ پاکستان نے بھی دہشتگردی کے شدید دور میں اس تلخ حقیقت کا سامنا کیا اور پھر مسلسل قومی کوششوں کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری دیکھی۔
نیشنل ایکشن پلان دراصل دہشتگردی کے خلاف ریاستی عزم کا ایک جامع اظہار تھا۔ اس کے ذریعے صرف عسکری کارروائیوں پر انحصار نہیں کیا گیا بلکہ دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے، سہولت کاروں، مالی معاونت، انتہاپسندانہ سوچ، قانون کے نفاذ اور قومی بیانیے سمیت مختلف پہلوؤں کو ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ بنایا گیا۔ سوات سے بلوچستان، جنوبی پنجاب سے کراچی اور خیبر تک دہشتگردی کے مختلف خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاستی اداروں نے غیر معمولی قربانیاں دیں۔ عطا تارڑ کے مطابق ڈھائی سے تین سال کے عرصے میں دہشتگردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور ملک میں امن کا ماحول پیدا ہوا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق دہشتگردی کے خلاف ماضی کی کامیابیوں کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے اہم سبق یہی سامنے آتا ہے کہ جب ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اور عوام ایک مشترکہ قومی مقصد پر متحد ہوں تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی شکست سے دوچار کیا جا سکتا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ قومی اتحاد اور واضح پالیسی کسی بھی بیرونی یا اندرونی خطرے کا مؤثر مقابلہ کرنے کی بنیادی قوت ہیں۔ تاہم ماضی کی کامیابیوں کو مستقل کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، سیاسی اتفاق رائے اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کی دوبارہ آبادکاری اور ان سے مذاکرات کی پالیسی کو انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اسے سابقہ چار سالہ کوششوں کا ریورس قرار دیا۔ اس معاملے پر سیاسی اور قومی سطح پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے ریاست کو واضح خطوط متعین کرنا ہوتے ہیں۔ اگر ایک طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے خلاف قربانیاں دے رہے ہوں اور دوسری طرف ریاستی پالیسی میں ابہام پیدا ہو تو اس کا فائدہ براہ راست دہشتگرد عناصر کو پہنچ سکتا ہے۔
دہشتگردی کے خلاف پالیسی کسی ایک حکومت، جماعت یا ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پورے ملک کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے عطا تارڑ کا سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے پر زور دینا اہم ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے مسئلے پر کم از کم بنیادی نکات پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جانا چاہیے۔ حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، سیاسی حالات بھی بدلتے ہیں، لیکن قومی سلامتی اور ریاست کے خلاف مسلح تشدد کے معاملے میں پالیسی کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ ایک حکومت کی بنائی ہوئی مؤثر حکمت عملی دوسری حکومت کے آنے پر تبدیل ہو جائے تو دہشتگردی کے خلاف طویل المدتی کامیابی مشکل ہو سکتی ہے۔
دہشتگردوں کی حکمت عملی میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب وہ صرف حساس یا سخت سکیورٹی اہداف تک محدود نہیں رہے بلکہ نرم اہداف کو نشانہ بنا کر معاشرے میں خوف اور بے یقینی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امام بارگاہوں، بچوں کی بسوں، ٹرینوں اور عوامی مقامات پر حملوں کا مقصد صرف انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کے اجتماعی اعتماد کو توڑنا بھی ہوتا ہے۔ دہشتگرد یہ تاثر پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ اس لیے انسدادِ دہشتگردی کی حکمت عملی میں شہری تحفظ، انٹیلی جنس نظام، پولیس کی استعداد، جدید ٹیکنالوجی اور مقامی سطح پر نگرانی کے مؤثر نظام کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔
دہشتگردی کے موجودہ خطرے کا ایک اہم پہلو بیرونی معاونت اور مداخلت بھی ہے۔ وفاقی وزیر نے اس حوالے سے شواہد کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان پر عائد کیے جانے والے الزامات کا حوالہ دیا۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر واضح کیا ہے کہ خطے میں دہشتگردی اور پراکسی سرگرمیوں کا مسئلہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ اگر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے حقیقی اور پائیدار پیش رفت مطلوب ہے تو ریاستوں کو ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کے بجائے قابلِ اعتماد شواہد اور مؤثر سفارتی ذرائع کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں۔
کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری کا حوالہ بھی اسی تناظر میں دیا گیا۔ پاکستان اسے بھارتی مداخلت کا عملی ثبوت قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب بھارت خود بیرون ملک کارروائیوں کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرے اور دنیا کو یہ باور کرائے کہ پاکستانی قوم خود دہشتگردی کا سب سے بڑا نشانہ رہی ہے۔ اس جنگ میں 90 ہزار جانوں کی قربانی کا ذکر اس قومی المیے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔
تاہم دہشتگردی کی جنگ اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ ڈیجیٹل دنیا نے اس چیلنج کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹی خبریں، منفی پروپیگنڈا، نفرت انگیز مواد اور ریاست مخالف بیانیے انتہائی تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ عطا تارڑ نے بجا طور پر ڈیجیٹل ڈومین میں ذہن سازی اور منفی بیانیے کے خطرے کی نشاندہی کی ہے۔ ایک جھوٹی پوسٹ یا گمراہ کن مہم بعض اوقات ایسی صورتحال پیدا کر سکتی ہے جس کے نتائج حقیقی دنیا میں انسانی جانوں اور قومی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہوں۔
لیکن ڈیجیٹل محاذ پر ریاستی حکمت عملی بناتے ہوئے آزادی اظہار، صحافتی آزادی اور شہری حقوق کا تحفظ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ریاست مخالف دہشتگردانہ پروپیگنڈے اور جائز سیاسی اختلاف یا تنقید میں واضح فرق قائم کرنا ہوگا۔ قانون کا اطلاق شفاف، غیر جانب دار اور قابلِ احتساب ہونا چاہیے تاکہ سائبر سکیورٹی کے نام پر اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو غیر ضروری طور پر متاثر نہ کیا جائے۔ مؤثر قانون سازی وہی ہوگی جو دہشتگردی، ہراسانی، بچوں کے استحصال اور منظم جرائم کا راستہ روکے اور ساتھ ہی شہری آزادیوں کا تحفظ بھی یقینی بنائے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے قیام کا مقصد بھی ڈیجیٹل جرائم سے نمٹنے کی استعداد بڑھانا ہے۔ سائبر سپیس میں دہشتگردی، خواتین کو ہراساں کرنے، بچوں کے استحصال اور دیگر جرائم کے خلاف جدید تحقیقات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے مواد کا تجزیہ، گفتگو کو خودکار طور پر تحریری متن میں تبدیل کرنا اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے لیے جدید نظام ریاستی اداروں کو بروقت فیصلوں میں مدد دے سکتے ہیں۔
یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس جنگ کا ایک حصہ ذہنوں میں بھی لڑا جاتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو انتہاپسندانہ سوچ سے بچانا ہے تو انہیں معیاری تعلیم، روزگار، مثبت سرگرمیوں اور قومی ترقی میں باعزت شمولیت کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ انتہاپسندی کے خلاف مؤثر بیانیہ صرف سرکاری اشتہارات سے نہیں بنتا بلکہ معاشرے کے اندر انصاف، مساوات، قانون کی حکمرانی اور مواقع کی منصفانہ تقسیم سے پیدا ہوتا ہے۔وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون بھی اس حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دہشتگردی کا خطرہ کسی ایک صوبے کی حدود تک محدود نہیں رہتا۔ اس لیے انٹیلی جنس شیئرنگ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت، سرحدی نگرانی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور انسدادِ انتہاپسندی کے پروگراموں میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔ صوبائی اسمبلیاں بھی قانون سازی اور عوامی آگاہی کے ذریعے اس قومی کوشش میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔**تجزیہ بی این پی کے مطابق** پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک ایسے جامع قومی ماڈل کی ضرورت ہے جس میں عسکری کارروائی، پولیسنگ، عدالتی نظام، معاشی مواقع، تعلیم، میڈیا، ڈیجیٹل سکیورٹی اور سفارت کاری سب ایک دوسرے سے مربوط ہوں۔ صرف دہشتگردوں کو ختم کرنا کافی نہیں؛ دہشتگردی کو جنم دینے والی انتہاپسندانہ سوچ، سہولت کاری، مالی معاونت اور منفی بیانیے کے راستے بھی مستقل طور پر بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریاستی بیانیے کی مضبوطی کا مطلب صرف حکومتی مؤقف کی تشہیر نہیں بلکہ درست معلومات، شفافیت اور عوام کے اعتماد کو یقینی بنانا بھی ہے۔
پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے اجاگر کرنا بھی انسدادِ دہشتگردی کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔ پاکستان محض دہشتگردی سے متاثرہ ملک نہیں بلکہ ایک ایسا ملک بھی ہے جس کے پاس عظیم ثقافتی ورثہ، نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، تاریخی مقامات، باصلاحیت افرادی قوت اور بے شمار معاشی امکانات موجود ہیں۔ اگر امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے اور عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت شناخت کو مؤثر انداز میں پیش کیا جائے تو سرمایہ کاری، سیاحت اور تجارت کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
عطا تارڑ کی جانب سے پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں اور عالمی سطح پر ملک کے وقار میں اضافے کا ذکر بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ مضبوط سفارت کاری، داخلی استحکام اور معاشی ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک عالمی سطح پر اپنا مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا جب تک اس کے اندرونی حالات مستحکم نہ ہوں۔ اسی لیے دہشتگردی کے خلاف کامیابی کو پاکستان کی معاشی اور سفارتی ترقی کی بنیاد بھی سمجھنا چاہیے۔
پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ فوجی جوانوں سے لے کر پولیس اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور عام شہریوں تک، ہر طبقے نے اس جنگ میں قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے وقتی اقدامات کے بجائے مستقل اور جامع حکمت عملی اپنائی جائے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا اصل معیار صرف دہشتگردوں کی ہلاکت نہیں بلکہ ایسا پائیدار امن قائم کرنا ہے جس میں شہری خود کو محفوظ سمجھیں، کاروبار اعتماد کے ساتھ چلیں، سرمایہ کاری بڑھے اور نوجوان اپنے مستقبل کو روشن دیکھ سکیں۔
وفاقی وزیر کا یہ کہنا درست ہے کہ دہشتگردی کا کوئی رنگ، نسل یا مذہب نہیں ہوتا۔ دہشتگردی دراصل تشدد کے ذریعے اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنے کا نام ہے۔ اس لیے اس کا مقابلہ بھی کسی مخصوص طبقے، علاقے یا مذہب کے خلاف نہیں بلکہ ہر قسم کے پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف ہونا چاہیے۔ پاکستان کی ریاست اور معاشرے کو اس اصول کو اپنی قومی پالیسی کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔
آخرکار پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کا راستہ قومی اتحاد سے ہو کر گزرتا ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے لیکن قومی سلامتی کے بنیادی معاملات پر کم از کم مشترکہ اصول طے ہونا ضروری ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کی کامیابیوں سے سبق لیتے ہوئے اب ایک نئے دور کے تقاضوں کے مطابق قومی حکمت عملی تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عسکری محاذ پر کامیابی کو سیاسی، معاشی، تعلیمی اور ڈیجیٹل محاذ پر کامیابی سے جوڑنا ہوگا۔ اگر ریاستی ادارے، سیاسی جماعتیں، میڈیا، تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی ایک مشترکہ قومی مقصد کے تحت کام کریں تو دہشتگردی کے خطرے کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر بھی مضبوطی سے گامزن کیا جا سکتا ہے۔پاکستان واقعی ایک عظیم نعمت ہے، مگر اس نعمت کی حفاظت صرف جذبات سے نہیں بلکہ دانشمندانہ پالیسی، قانون کی حکمرانی، قومی یکجہتی، مؤثر اداروں اور مستقل سیاسی عزم سے ممکن ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ماضی کی قربانیوں کو مستقبل کی مضبوط بنیاد بنانا ہی ان شہداء کے خون کا حقیقی احترام ہوگا جنہوں نے پاکستان کے امن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ، سیاسی و انسانی حقوق کے تحفظ کا موقع
- پاکستان کا سیاحتی حسن، قدرت کا انمول تحفہ اور قومی خوشحالی کا راستہ
- پاک فوج کی قربانیوں اور شواہد نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا
- پاکستان میں توانائی، روزگار اور ڈیجیٹل معیشت: قومی ترقی کی مربوط سمت
- پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد اور مؤثر حکمتِ عملی ناگزیر
- پاکستان میں صاف پانی کی فراہمی، عوامی خدمت کا قابلِ ستائش منصوبہ
- آئی ایم سی اوور 60 ورلڈ کپ‘ پاکستان نے کینیڈا کو 5وکٹوں سے شکست دیدی
- پاکستان کرکٹ اگر ٹھیک نہیں کریں گے تو ہاکی سے بھی برا حال ہوگا، کامران اکمل
- پاکستانی فاسٹ بولرز کو کمزور نہیں سمجھتے، جو روٹ
- جرمن فٹبالر جمال موسیالا ایک بار پھر میچ کے دوران گر پڑے، اعصابی عارضے کی تشخیص