تجزیہ بی این پی
بھارتی دستاویزی فلم ”سندور 2” کے ذریعے نام نہاد آپریشن سندور کے بارے میں ایک مخصوص بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کے جواب میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے جس انداز میں حقائق سامنے رکھے ہیں، وہ محض ایک فلمی پروپیگنڈے کا جواب نہیں بلکہ جدید دور کی اطلاعاتی جنگ میں سچ، شواہد اور ذمہ دارانہ قومی بیانیے کی اہمیت کو بھی واضح کرتا ہے۔ کسی بھی جنگ کا فیصلہ صرف فلمی پردے، جذباتی مکالموں، سنسنی خیز مناظر یا فتح کے بلند بانگ دعوؤں سے نہیں ہوتا۔ جنگ کے نتائج میدانِ عمل، عسکری ریکارڈ، نقصانات، اہداف، سفارتی روابط اور زمینی حقائق سے طے ہوتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے بھارتی دستاویزی فلم کے بارے میں آئی ایس پی آر کے مؤقف نے نمایاں کیا ہے۔
بھارت کی جانب سے آپریشن سندور کو ایک ایسی کامیاب فوجی کارروائی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں اسے فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی، لیکن اگر کسی عسکری کارروائی کو تاریخ کے آئینے میں پرکھنا ہو تو ضروری ہے کہ جذباتی دعوؤں کے بجائے واقعات کی ترتیب، دستیاب شواہد اور دونوں جانب کے اعترافات کو سامنے رکھا جائے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی دستاویزی فلم میں متعدد ایسے تضادات موجود ہیں جو خود اس کے پیش کردہ بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ ایک طرف فلم بھارتی کامیابی، درست نشانے، گہرائی میں کارروائی اور فوجی غلبے کا تاثر دیتی ہے اور دوسری جانب پاکستانی میزائلوں، ڈرونز، فضائی سرگرمیوں، لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں اور بھارتی فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے کا ذکر بھی کرتی ہے۔ یہ دونوں تصویریں ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں۔
جنگی حالات میں ریاستیں اپنی کامیابیوں کو اجاگر کرتی ہیں اور ناکامیوں کو کم سے کم نمایاں کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ دنیا بھر کی جنگی تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن جب پروپیگنڈا اور حقیقت کے درمیان فاصلہ بہت بڑھ جائے تو بیانیہ خود سوالات پیدا کرنے لگتا ہے۔ یہی صورت حال اس وقت بھی دکھائی دیتی ہے جب ایک فلم ”سو فیصد مشن کامیابی” کا دعویٰ کرے، مگر اسی فلم کے اندر ایسے واقعات اور اعترافات بھی موجود ہوں جو مکمل یکطرفہ کامیابی کے دعوے کو چیلنج کرتے ہوں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو بھارتی فلم کے جواب میں جذباتی ردعمل کے بجائے شواہد پر مبنی قومی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ قومی سلامتی کے معاملات میں سچ کی قوت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب اسے تحمل، دلیل اور مستند معلومات کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا جائے۔ پاک فوج کے افسران اور جوانوں نے جس پیشہ ورانہ انداز، جرا?ت اور ذمہ داری کے ساتھ مشکل حالات کا سامنا کیا، اسے صرف ایک عسکری کامیابی کے طور پر نہیں بلکہ قومی دفاع کے ایک اہم باب کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔
میدانِ جنگ میں کسی بھی فوج کے لیے سب سے بڑا امتحان اس وقت آتا ہے جب اسے اچانک پیدا ہونے والی صورتحال میں فیصلہ کرنا ہو، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہو اور دشمن کے عزائم کو محدود کرنا ہو۔ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی تاریخ میں متعدد مواقع پر ایسے امتحانات کا سامنا کیا ہے۔ معرکہ حق کے دوران بھی، آئی ایس پی آر کے بیان کردہ مؤقف کے مطابق، پاکستانی افواج نے بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنے دفاع کو مؤثر رکھا بلکہ بھارتی فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنایا۔ پاکستان کی جانب سے آپریشن بنیانِ مرصوص کے تحت پریسیڑن گائیڈڈ راکٹس اور میزائلوں، پاک فضائیہ کے درست نشانے والے ہتھیاروں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے لوئٹرنگ میونیشنز اور پریسیڑن آرٹلری کے ذریعے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ جدید جنگ صرف توپ، ٹینک اور طیارے کی جنگ نہیں رہی۔ اب جنگ کا ایک بڑا میدان اطلاعات، سائبر اسپیس، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ تصاویر، سفارتی بیانات اور عالمی رائے عامہ بھی ہے۔ جو ملک میدانِ جنگ میں اپنی کارروائی کے ساتھ ساتھ دنیا کو اپنے مؤقف پر قائل کرنے میں کامیاب ہو، وہ اطلاعاتی جنگ میں بھی اہم برتری حاصل کر لیتا ہے۔ اسی لیے آج کے دور میں ایک دستاویزی فلم بھی محض تفریحی یا ثقافتی مواد نہیں رہتی بلکہ اسے ریاستی بیانیے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
بھارتی فلم ”سندور 2” کے بارے میں آئی ایس پی آر کا اعتراض بھی اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر کسی فلم میں واقعات کو اس انداز سے پیش کیا جائے کہ اصل عسکری نتائج پس منظر میں چلے جائیں اور ڈرامائی مناظر، جذباتی گفتگو اور منتخب انٹرویوز مرکزی حیثیت اختیار کر لیں تو اسے غیر جانب دار عسکری تجزیہ قرار دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ جنگی تاریخ کے لیے ضروری ہے کہ واقعات کو ان کے حقیقی تناظر میں دیکھا جائے، نہ کہ فلمی زبان کے ذریعے ایک مخصوص تاثر قائم کیا جائے۔
خاص طور پر 16 اپریل 2025ء کے پاکستانی آرمی چیف کے خطاب اور 22 اپریل 2025ء کے پہلگام واقعے کے درمیان تعلق قائم کرنے کی کوشش ایک اہم سوال پیدا کرتی ہے۔ اگر اس تعلق کی بنیاد کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہیں ہے تو محض زمانی قربت کو سبب اور نتیجے کے طور پر پیش کرنا تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں۔ کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے جواز کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر بھارت نے بعد میں پہلگام واقعے کے تین مبینہ ملزمان کی شناخت کرکے انہیں 28 جولائی 2025ء کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تو یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ 7 مئی کو شروع کیے گئے فوجی اقدام کے فوری اہداف کیا تھے اور ان کا ان افراد کے ساتھ کیا تعلق تھا جنہیں بعد میں ذمہ دار قرار دیا گیا۔
یہ سوالات کسی ایک ملک کے نہیں بلکہ جنگی بیانیے کی صحت اور ساکھ سے متعلق ہیں۔ اگر کسی ریاست کا مؤقف مضبوط ہو تو اسے سوالات سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ شفافیت، تسلسل اور ثبوت اس کے مؤقف کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ اس کے برعکس جب کسی بیانیے میں بنیادی تضادات پیدا ہوں تو مخالف فریق کے لیے سوال اٹھانے کی گنجائش خود پیدا ہو جاتی ہے۔
بھارتی دستاویزی فلم میں اگر پاکستانی میزائلوں، ڈرونز اور فضائی سرگرمیوں کا ذکر موجود ہے تو یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جنگ یکطرفہ کارروائی نہیں تھی۔ اگر لائن آف کنٹرول پر مسلسل جھڑپوں اور بھارتی فضائی دفاع کے فعال ہونے کا اعتراف بھی موجود ہے تو پھر ”سو فیصد مشن کامیابی” جیسے دعوے کو عسکری تناظر میں پرکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کسی بھی فوجی آپریشن میں کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں ہوتا کہ حملہ کیا گیا یا کوئی ہدف نشانہ بنایا گیا۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ حملے کے بعد دشمن کی صلاحیت، ردعمل اور مجموعی جنگی صورتحال کیا رہی۔
اسی طرح جنگ بندی کا معاملہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان رابطے کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں روکی گئیں تو یہ حقیقت اس بات کی نفی کرتی ہے کہ معاملہ صرف ایک فریق کی مرضی سے ختم ہوا۔ جنگ بندی ہمیشہ عسکری اور سفارتی حالات کے مجموعی جائزے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر کسی ایک فریق کو مکمل اور فیصلہ کن برتری حاصل ہو تو جنگ بندی کے محرکات بھی اسی تناظر میں دیکھے جاتے ہیں۔ اس لیے جنگ بندی کو یکطرفہ فتح کا ثبوت قرار دینا بذاتِ خود ایک مکمل اور غیر جانب دار تجزیہ نہیں ہو سکتا۔
امریکہ کے کردار کا ذکر بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی میں بیرونی سفارتی کوششوں نے کردار ادا کیا تو اسے بھی تاریخ کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ بین الاقوامی سفارت کاری میں ثالثی، رابطہ کاری اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کسی ایک فریق کی فتح یا شکست کا سیدھا پیمانہ نہیں ہوتیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ فریقین نے جنگ کے دوران کیا حاصل کیا، کیا کھویا اور کس مقام پر جنگی کارروائی روکنے پر آمادہ ہوئے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق بھارت کی جانب سے جنگی واقعات کو سنیما کی زبان میں پیش کرنے کا جواب بھی پاکستان کو سنیما ہی کی زبان میں دینے کی ضرورت ہے، لیکن فرق یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کا بیانیہ جذباتی مبالغے کے بجائے حقائق، دستاویزات اور پیشہ ورانہ تجزیے پر قائم ہو۔ اگر بھارت نے فلم بنائی ہے تو پاکستان بھی ایک ایسی معیاری دستاویزی فلم تیار کر سکتا ہے جس میں واقعات کی زمانی ترتیب، دستیاب تصاویر، سیٹلائٹ شواہد، عسکری ماہرین کی گفتگو، سفارتی رابطوں اور عالمی میڈیا کی رپورٹنگ کو یکجا کرکے دنیا کے سامنے حقیقت رکھی جائے۔
یہ بات بھی قابلِ تحسین ہے کہ پاکستانی فوجی قیادت نے صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اطلاعاتی میدان میں بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ کسی بھی جدید ریاست کی فوج کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام کو درست معلومات فراہم کرے۔ افواہوں، جعلی تصاویر، مصنوعی ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے بے قابو مواد کے دور میں عوام کو مستند اطلاعات فراہم کرنا قومی سلامتی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اس پہلو سے آئی ایس پی آر کی وضاحتیں اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ جنگی حالات میں معلومات کا خلا اکثر دشمن کے لیے پروپیگنڈے کا موقع بن جاتا ہے۔
پاک فوج کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کا ذکر بھی اسی پس منظر میں ضروری ہے۔ کسی بھی جنگی کامیابی کے پیچھے صرف ہتھیار نہیں ہوتے بلکہ انسان ہوتے ہیں۔ وہ افسران جو آپریشنل فیصلے کرتے ہیں، وہ پائلٹ جو خطرناک فضاؤں میں پرواز کرتے ہیں، وہ جوان جو سرحدوں پر کھڑے رہتے ہیں، وہ اہلکار جو نگرانی اور انٹیلی جنس کے فرائض انجام دیتے ہیں اور وہ خاندان جو اپنے پیاروں کو وطن کے دفاع کے لیے پیش کرتے ہیں، سب قومی دفاع کی ایک مشترکہ داستان کا حصہ ہوتے ہیں۔
پاکستانی مسلح افواج کے افسران کے لیے ایسے حالات میں فیصلہ سازی آسان نہیں ہوتی۔ ایک غلط اندازہ بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ دشمن کے عزائم کو سمجھنا، اس کے حملوں کا بروقت جواب دینا، شہری آبادی کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنا اور ساتھ ہی جنگ کو غیر ضروری وسعت سے بچانا ایک پیچیدہ ذمہ داری ہے۔ اس تناظر میں عسکری قیادت کے فیصلوں اور افسران کی پیشہ ورانہ تربیت کو خراج تحسین پیش کرنا قومی سطح پر بجا طور پر ضروری ہے۔
تاہم قومی فخر اور قومی بیانیے کے ساتھ ایک اور ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کو اپنی کامیابیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے مبالغے سے گریز کرنا چاہیے۔ جس طرح بھارتی دعوؤں کو شواہد کی کسوٹی پر پرکھا جا رہا ہے، اسی طرح پاکستان کے اپنے دعوے بھی مستند معلومات، قابلِ تصدیق شواہد اور ذمہ دارانہ زبان میں پیش ہونے چاہئیں۔ یہی طرزِ عمل پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر زیادہ معتبر بنائے گا۔
آج کی دنیا میں عالمی رائے عامہ انتہائی تیزی سے تبدیل ہوتی ہے۔ چند لمحوں میں ایک ویڈیو کروڑوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی تصاویر اور ویڈیوز بنائی جا سکتی ہیں۔ پرانے واقعات کو نئے عنوانات کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔ ایک جذباتی فلم کسی مخصوص ملک کے عوام میں فوری ردعمل پیدا کر سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں خاموش رہنا بھی بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بات مؤثر، مہذب اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا تک پہنچائے۔بھارت کے بارے میں پاکستان کے اعتراضات صرف کسی ایک فلم تک محدود نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر پاکستان کے پاس کسی ریاستی سرگرمی، دہشت گردی کی معاونت یا بیرون ملک ٹارگٹ کارروائیوں سے متعلق قابلِ اعتماد شواہد ہیں تو انہیں مناسب سفارتی فورمز پر منظم انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔ عالمی برادری کو دستاویزات، شواہد اور قانونی نکات کے ذریعے قائل کرنا کسی بھی پروپیگنڈے کا زیادہ مؤثر جواب ہے۔
کینیڈا سمیت مختلف مغربی ممالک میں ٹارگٹ کلنگ کے الزامات اور پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی کردار کے بارے میں پاکستان کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات بھی اسی بڑے تناظر کا حصہ ہیں۔ ان معاملات میں پاکستان کو جذباتی الزامات کے بجائے قابلِ تصدیق شواہد کے ساتھ اپنا مؤقف دنیا کے سامنے رکھنا چاہیے۔ کیونکہ عالمی سطح پر کسی بھی ریاست کی ساکھ اس کے دعوؤں سے نہیں بلکہ اس کے ثبوتوں سے بنتی ہے۔
بھارت کی فلم کے بارے میں آئی ایس پی آر کے مؤقف کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دشمن کے بیانیے کا جواب دشمن کے انداز میں دینا ضروری نہیں۔ پاکستان کو اپنی تہذیبی، سیاسی اور اخلاقی قوت کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے، جس کے شہریوں، فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھاری قربانیاں دی ہیں۔ اس قربانی کی داستان کسی مصنوعی سنیماٹک منظرکشی کی محتاج نہیں۔ اسے صرف منظم انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان قربانیوں کو جذباتی نعروں تک محدود نہ کیا جائے بلکہ ان کے تاریخی، قومی اور انسانی پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے۔ ایک فوجی افسر جب اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے تو وہ صرف ایک ادارے کے لیے نہیں بلکہ ریاست کے آئین، سرحدوں، شہریوں اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک سپاہی کی قربانی اس خاندان کی قربانی بھی ہے جو اپنے بیٹے، بھائی یا والد کو وطن کے دفاع کے لیے روانہ کرتا ہے۔
معرکہ حق کے دوران پاکستانی فوجی قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ دشمن کی کارروائی کا مؤثر جواب دیا جائے لیکن جنگ کو ایسی سمت نہ جانے دیا جائے جہاں پورا خطہ غیر معمولی تباہی کی طرف بڑھ جائے۔ جوہری صلاحیت رکھنے والی دو ریاستوں کے درمیان تنازع میں ذمہ دارانہ عسکری رویہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ حساب، نظم اور واضح مقاصد کے ساتھ ہونا چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے علاقائی امن اور استحکام کے عزم کا اظہار اہم ہے۔ اپنی دفاعی صلاحیت کے بارے میں واضح پیغام دینا اور ساتھ ہی امن کی خواہش ظاہر کرنا کمزوری نہیں بلکہ ذمہ دار ریاستی رویہ ہے۔ پاکستان کو یہ واضح حق حاصل ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرے، لیکن اسی کے ساتھ اسے خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی راستے بھی کھلے رکھنے چاہئیں۔
بھارتی بیانیے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے سب سے مضبوط راستہ یہی ہے کہ پاکستان مسلسل سچ کو سامنے لاتا رہے۔ ایک فلم کا جواب دوسری فلم سے دینے کے بجائے ایک مکمل اطلاعاتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس حکمت عملی میں عالمی میڈیا، بین الاقوامی تھنک ٹینکس، جامعات، دفاعی ماہرین، سفارت کاروں، دستاویزی فلم سازوں اور ڈیجیٹل میڈیا کے ماہرین کو شامل کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کو چاہیے کہ معرکہ حق سے متعلق ایک جامع تاریخی آرکائیو تشکیل دے۔ اس میں واقعات کی تاریخ وار تفصیل، سرکاری بیانات، عسکری بریفنگز، سفارتی رابطوں، عالمی میڈیا کی رپورٹس اور دستیاب بصری شواہد کو محفوظ کیا جائے۔ مستقبل میں جب بھی کوئی دعویٰ سامنے آئے تو پاکستان کے پاس فوری طور پر مستند مواد موجود ہو جسے دنیا کے سامنے رکھا جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ قومی سلامتی کے معاملات میں جذباتی اور غیر مصدقہ معلومات بعض اوقات قومی مؤقف کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ دنیا اس کے بیانیے کو سنجیدگی سے لے تو اسے اپنے ذرائع ابلاغ میں بھی تصدیق، تحقیق اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا ہوگا۔ غلط خبر، جعلی تصویر یا غیر مصدقہ دعویٰ دشمن کے لیے اس سے زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے جتنا کسی پروپیگنڈا فلم سے حاصل ہو۔
پاکستانی نوجوانوں کے لیے بھی اس جنگ کا ایک اہم سبق ہے۔ آج کی نسل جنگ کو میدانِ جنگ سے زیادہ موبائل فون کی اسکرین پر دیکھتی ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ہر وائرل ویڈیو حقیقت نہیں ہوتی، ہر جذباتی بیان سچ نہیں ہوتا اور ہر دستاویزی فلم غیر جانب دار نہیں ہوتی۔ میڈیا لٹریسی اور تنقیدی سوچ اب قومی سلامتی کی ضرورت بن چکی ہے۔اسی طرح پاکستان کو اپنی دفاعی کامیابیوں کی تشہیر کرتے ہوئے پیشہ ورانہ انداز اپنانا چاہیے۔ اگر کوئی طیارہ مار گرایا گیا، کوئی فوجی ہدف نشانہ بنایا گیا یا کسی حملے کو ناکام بنایا گیا تو اس کے بارے میں دستیاب شواہد کو مناسب وقت پر سامنے لایا جائے۔ عسکری رازوں کا تحفظ اپنی جگہ ضروری ہے، مگر جو معلومات عوامی کی جا سکتی ہوں انہیں منظم انداز میں پیش کرنا بھی ضروری ہے۔
بھارت کی ”سندور 2” اگر واقعی ایک مخصوص داخلی بیانیے کے لیے تیار کی گئی ہے تو اس کا جواب بھی پاکستان کے لیے ایک موقع بن سکتا ہے۔ پاکستان دنیا کو یہ دکھا سکتا ہے کہ جنگی کامیابی کا مطلب صرف دشمن کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کا دفاع، شہریوں کا تحفظ، جنگی دباؤ میں قومی نظم و ضبط برقرار رکھنا اور
سفارتی سطح پر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا بھی ہے۔
یہاں پاک فوج کے افسران کو خصوصی خراج تحسین پیش کرنا ضروری ہے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ ان کی خدمات کا اصل اعتراف یہ ہے کہ قوم ان کے کردار کو صرف جنگ کے چند دنوں تک محدود نہ کرے بلکہ قومی دفاع کے پورے نظام میں ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو سمجھے۔ ایک فوجی افسر کی تربیت برسوں میں مکمل ہوتی ہے، مگر اس تربیت کا امتحان چند لمحوں میں ہو سکتا ہے۔ ایسے لمحوں میں حوصلہ، فیصلہ سازی، نظم و ضبط اور وطن سے وفاداری ہی اصل طاقت بنتی ہے۔ان افسران اور جوانوں کے خاندان بھی قومی احترام کے مستحق ہیں۔ جنگی محاذ پر موجود سپاہی کے پیچھے ایک خاندان ہوتا ہے جو ہر لمحہ فکر میں مبتلا رہتا ہے۔ کسی بھی قومی جنگی کامیابی کی انسانی قیمت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے شہداء اور غازیوں کے خاندانوں کی عزت، فلاح اور دیکھ بھال ریاستی ذمہ داری بھی ہے اور قومی فریضہ بھی۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط کرے۔ فضائی دفاع، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، الیکٹرانک وارفیئر، سیٹلائٹ نگرانی، مصنوعی ذہانت اور اطلاعاتی جنگ کے میدان میں مسلسل ترقی ناگزیر ہے۔ مستقبل کی جنگیں صرف روایتی محاذوں پر نہیں لڑی جائیں گی۔ جو ریاست معلومات کے میدان میں کمزور ہوگی، وہ عسکری کامیابی کے باوجود عالمی رائے عامہ میں مشکلات کا سامنا کر سکتی ہے۔
اسی طرح سفارت کاری کو بھی دفاعی حکمت عملی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ پاکستان کو اپنے دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھتے ہوئے عالمی سطح پر اپنے مؤقف کی وضاحت کرنی چاہیے۔ کسی بھی بڑے تنازع کے بعد سفارتی سرگرمیاں کم نہیں بلکہ زیادہ ہونی چاہئیں۔ دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان جنگ کا خواہش مند نہیں، لیکن اپنی سرحدوں اور قومی مفادات کے دفاع سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی پاکستان کو اصولی مگر متوازن پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ دشمنی کو مستقل کیفیت بنانا کسی ملک کے مفاد میں نہیں۔ دونوں ممالک کے عوام امن، تجارت، ترقی اور بہتر مستقبل کے خواہش مند ہیں۔ لیکن امن کی خواہش اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اسے خودمختاری، باہمی احترام اور عدم مداخلت کے اصولوں کے ساتھ جوڑا جائے۔ پاکستان کو امن کی خواہش کے ساتھ اپنی دفاعی تیاری بھی برقرار رکھنی چاہیے۔
بھارتی فلم کے جواب میں پاکستان کا سب سے بڑا ہتھیار سچ ہونا چاہیے۔ سچ کو شور کی ضرورت نہیں ہوتی، اسے ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر پاکستان کے پاس اپنے مؤقف کے حق میں آپریشنل ریکارڈ، میدانِ جنگ کے شواہد، سفارتی روابط اور دیگر مستند مواد موجود ہے تو انہیں عالمی سطح پر مناسب انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ پروپیگنڈا کمزور پڑتا ہے، لیکن مستند تاریخی ریکارڈ باقی رہتا ہے۔
اس معاملے میں آئی ایس پی آر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر کسی فلم کے بیانیے میں بنیادی تضادات ہیں تو ان تضادات کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ پاکستان اپنے پاس موجود شواہد کو محفوظ کرے اور مستقبل کے لیے ایک جامع تاریخی ریکارڈ تیار کرے۔ کیونکہ جنگیں ختم ہو جاتی ہیں، مگر ان کے بارے میں بیانیوں کی جنگ کئی دہائیوں تک جاری رہتی ہے۔
**تجزیہ بی این پی** یہ سمجھتا ہے کہ بھارتی پروپیگنڈے کا سب سے مؤثر جواب گالی، اشتعال یا محض جوابی دعوے نہیں بلکہ تحقیق، دلیل، شواہد اور اعلیٰ معیار کی ابلاغی حکمت عملی ہے۔ پاکستان کو دنیا کے سامنے اپنی کامیابیوں کا ذکر ضرور کرنا چاہیے، لیکن اس انداز میں کہ عالمی سطح پر غیر جانب دار مبصر بھی اسے قابلِ اعتماد سمجھیں۔ پاکستانی افسران اور جوانوں کی قربانیوں کو بھی اسی سچائی اور وقار کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔
بھارت اگر اپنے عوام کے لیے جنگی فلمیں بناتا ہے تو پاکستان کو اپنے عوام اور دنیا کے لیے تاریخ کی مستند دستاویز بنانی چاہیے۔ ایسی فلم جس میں جذبات ہوں مگر مبالغہ نہ ہو، قومی فخر ہو مگر نفرت نہ ہو، عسکری کامیابیوں کا ذکر ہو مگر جھوٹے دعوے نہ ہوں، شہداء کی قربانیوں کو خراج ہو مگر جنگ کو رومانوی بنانے کی کوشش نہ ہو۔ یہی وہ انداز ہوگا جو پاکستان کے مؤقف کو دیرپا قوت دے سکتا ہے۔پاکستان کو اپنی فوجی قیادت اور افسران کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بھی دکھانا چاہیے کہ جنگ صرف ہتھیاروں کی آزمائش نہیں تھی بلکہ قومی عزم، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور فیصلہ سازی کا امتحان بھی تھی۔ ایسے مواقع پر فوج اور عوام کے درمیان اعتماد بھی ایک اہم دفاعی قوت بن جاتا ہے۔ عوام کو درست معلومات فراہم کی جائیں تو افواہوں اور دشمن کے پروپیگنڈے کا اثر کم ہوتا ہے۔پاک فوج کے افسران اور جوانوں کے لیے قوم کا خراج تحسین صرف الفاظ تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ شہداء کے خاندانوں کی دیکھ بھال، زخمی اہلکاروں کی بحالی، سابق فوجیوں کی فلاح اور دفاعی اداروں میں جدید تربیت کے مواقع میں اضافہ بھی اسی خراج کا حصہ ہے۔ جو قوم اپنے محافظوں کی قربانیوں کو یاد رکھتی ہے، وہ اپنی آئندہ نسلوں میں ذمہ داری اور حب الوطنی کا شعور بھی پیدا کرتی ہے۔تاہم قومی دفاع کے اس جذبے کو قومی وحدت سے جوڑنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان کی طاقت صرف اس کے دفاعی اداروں میں نہیں بلکہ اس کے عوام، معیشت، اداروں، تعلیم، سائنس، سفارت کاری اور داخلی استحکام میں بھی ہے۔ مضبوط معیشت کے بغیر مضبوط دفاع دیرپا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح داخلی سیاسی استحکام کے بغیر بیرونی خطرات کا مؤثر مقابلہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے قومی سلامتی ایک جامع تصور ہے جس میں معیشت سے لے کر تعلیم اور خارجہ پالیسی تک سب کچھ شامل ہے۔بھارتی پروپیگنڈے کے مقابلے میں پاکستان کو اپنی ثقافتی اور تخلیقی قوت کو بھی استعمال کرنا چاہیے۔ پاکستانی فلم ساز، ڈرامہ نگار، صحافی، محقق، یونیورسٹیاں اور ڈیجیٹل مواد تیار کرنے والے ادارے مل کر ایسے منصوبے شروع کر سکتے ہیں جو جنگی تاریخ کو مستند انداز میں محفوظ کریں۔ دنیا آج بصری مواد سے بہت جلد متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے اگر پاکستان کے پاس حقیقت ہے تو اسے جدید، خوبصورت اور مؤثر انداز میں پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ قومی بیانیہ نفرت انگیز نہ ہو۔ بھارت کے عوام اور بھارتی ریاستی پالیسی میں فرق رکھا جائے۔ پاکستان کو کسی قوم کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے بجائے ریاستی اقدامات پر تنقید کرنی چاہیے۔ یہی اخلاقی برتری پاکستان کے مؤقف کو زیادہ مضبوط بنائے گی۔ ایک ذمہ دار ملک کی شناخت یہ ہے کہ وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے بھی امن اور انسانیت کی زبان نہیں چھوڑتا۔معرکہ حق سے متعلق پاکستانی مؤقف کو بھی اسی اصول کے تحت دنیا کے سامنے لایا جانا چاہیے۔ اگر پاکستانی افواج نے بھارتی جارحیت کا جواب دیا تو اس کا مقصد جنگ کو غیر ضروری طور پر وسیع کرنا نہیں بلکہ قومی خودمختاری کا دفاع تھا۔ اگر بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تو اس کی وضاحت عسکری تناظر میں کی جا سکتی ہے۔ اگر جنگ بندی ہوئی تو اس کے اسباب بھی شفاف انداز میں بیان کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح ایک مکمل تصویر سامنے آتی ہے، نہ کہ صرف فتح یا شکست کے دو لفظ۔بھارتی دستاویزی فلم کے بارے میں سب سے اہم سوال شاید یہی ہے کہ تاریخ آخر کس کے ہاتھ میں رہے گی؟ جو ریاست اپنی تاریخ خود نہیں لکھتی، اس کی تاریخ کوئی دوسرا لکھ دیتا ہے۔ پاکستان کو اس تجربے سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے قومی واقعات کا مستند ریکارڈ تیار کرنا ہوگا، تاکہ آنے والی نسلیں سوشل میڈیا کی وائرل ویڈیوز یا کسی ملک کی تیار کردہ فلموں کے ذریعے اپنی تاریخ نہ جانیں بلکہ اصل دستاویزات سے واقف ہوں۔یہ کام صرف حکومت یا فوج کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ جامعات میں تحقیق ہونی چاہیے، دفاعی مطالعات کے مراکز کو فعال کیا جانا چاہیے، صحافیوں کو مستند معلومات تک رسائی دی جانی چاہیے اور تاریخ دانوں کو اصل دستاویزات فراہم کی جانی چاہئیں۔ قومی واقعات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ریکارڈ کرنا چاہیے تاکہ آنے والے وقت میں کوئی بھی فریق اپنی مرضی سے تاریخ نہ لکھ سکے۔
بھارتی بیانیے کے مقابلے میں پاکستان کو اپنی سفارتی زبان بھی مضبوط بنانی ہوگی۔ عالمی فورمز پر جذباتی تقاریر کے ساتھ ساتھ دستاویزی ثبوت، قانونی نکات اور عسکری شواہد پیش کیے جائیں۔ بین الاقوامی صحافیوں اور ماہرین کو بریفنگز دی جائیں، غیر جانب دار ماہرین کو شواہد کا جائزہ لینے کا موقع دیا جائے اور عالمی میڈیا کے سوالات کا تحمل سے جواب دیا جائے۔ اس عمل سے پاکستان کا مؤقف زیادہ قابلِ اعتبار بن سکتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو ہر بھارتی دعوے کا فوری اور جذباتی جواب دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ بعض اوقات دشمن کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ مخالف کو جذباتی ردعمل پر مجبور کیا جائے۔ پاکستان کو اپنی ترجیحات طے کرتے ہوئے صرف ان دعوؤں کا جواب دینا چاہیے جو قومی مفاد، عالمی رائے عامہ یا تاریخی حقیقت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ باقی پروپیگنڈے کو نظرانداز کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔پاک فوج کی قربانیوں کا اعتراف بھی اسی متوازن رویے کے ساتھ ہونا چاہیے۔ قوم کو اپنے محافظوں پر فخر ہے، لیکن حقیقی خراج یہی ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، نظم و ضبط اور قربانیوں کو قومی ترقی کے ساتھ جوڑا جائے۔ ایک مضبوط، تعلیم یافتہ، خوشحال اور متحد پاکستان ہی اپنے شہداء کے خواب کی بہترین تعبیر ہو سکتا ہے۔آج جب دنیا اطلاعات کے سیلاب میں گھری ہوئی ہے، سچ کو سامنے لانا پہلے سے زیادہ مشکل اور پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ ایک جھوٹ ہزار مرتبہ دہرایا جائے تو وہ کچھ لوگوں کو سچ محسوس ہونے لگتا ہے، لیکن اگر اس کے مقابلے میں منظم، مستند اور مسلسل معلومات موجود ہوں تو وقت کے ساتھ حقیقت اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔ پاکستان کو اسی اصول پر آگے بڑھنا ہوگا۔
بھارتی ”سندور 2” کے معاملے میں بھی جذباتی ردعمل سے زیادہ اہم یہ ہے کہ پاکستان اپنی قومی داستان خود بیان کرے۔ دنیا کو بتایا جائے کہ پاکستان جنگ کا خواہش مند نہیں، لیکن جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان علاقائی استحکام چاہتا ہے، مگر اپنی سرحدوں کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اور پاکستان اپنے فوجی جوانوں اور افسران کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔پاک فوج کے افسران، پائلٹس، جوانوں اور دیگر اہلکاروں نے جن حالات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، ان کے لیے پوری قوم کا احترام بجا ہے۔ ان کی قربانیوں نے یہ ثابت کیا کہ دفاع صرف ہتھیاروں کا نام نہیں بلکہ عزم، تربیت، نظم و ضبط اور وطن سے وفاداری کا مجموعہ ہے۔ یہی عناصر کسی بھی فوج کو حقیقی قوت دیتے ہیں۔آخرکار جنگ کا فیصلہ صرف اس دن نہیں ہوتا جب گولیاں چلنا بند ہوتی ہیں۔ اس کا ایک فیصلہ تاریخ بھی کرتی ہے۔ تاریخ یہ دیکھتی ہے کہ کس نے کیا کہا، کیا کیا، کس کے پاس کیا ثبوت تھا اور کس نے اپنے دعووں کو کس حد تک ثابت کیا۔ فلمی پردے پر بنائے گئے مناظر وقت کے ساتھ پرانے ہو جاتے ہیں، لیکن مستند شواہد اور حقیقی قربانیاں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔پاکستان کو اسی تاریخ پر اعتماد کرنا چاہیے۔ بھارتی پروپیگنڈے کا جواب شور سے نہیں بلکہ شعور سے دیا جائے، الزام کا جواب دلیل سے، فلم کا جواب حقیقت سے اور جھوٹ کا جواب سچ سے۔ یہی قومی وقار کا راستہ ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر دیرپا اعتبار دے سکتا ہے۔بھارتی فلم اگر اپنے ناظرین کو ایک مخصوص تصویر دکھانے کی کوشش کرتی ہے تو پاکستان کو دنیا کو مکمل تصویر دکھانی چاہیے۔ ایسی تصویر جس میں جنگ کی تباہی بھی ہو، امن کی ضرورت بھی، فوجی قربانیاں بھی، سفارتی کوششیں بھی، عسکری کامیابیاں بھی اور انسانی زندگی کی حرمت بھی۔ یہی متوازن قومی بیانیہ پاکستان کو جذباتی پروپیگنڈے سے بلند کر کے ایک ذمہ دار اور پْراعتماد ریاست کے طور پر پیش کرے گا۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** اصل فتح یہی ہے کہ قوم اپنے دفاع کے حوالے سے پْراعتماد ہو، اپنے شہدائ کو عزت دے، اپنے محافظوں کی قربانیوں کو یاد رکھے، اپنی تاریخ کو محفوظ کرے اور دشمن کے پروپیگنڈے کا جواب سچائی، دلیل اور شواہد کے ذریعے دے۔ پاکستان کو نہ اپنی کامیابیوں کو چھپانے کی ضرورت ہے اور نہ انہیں بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی۔ جو کچھ حقیقت ہے، وہی کافی ہے۔ سچ اگر مضبوط ہو تو اسے مصنوعی سنیماٹک منظرکشی کی ضرورت نہیں پڑتی۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ معرکہ حق کے واقعات کو ایک منظم قومی تاریخی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ پاک فوج کے ان افسران اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے جنہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ شہداء کے خاندانوں کو قومی احترام اور عملی معاونت دی جائے۔ دفاعی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید جدید بنایا جائے اور اطلاعاتی جنگ کے میدان میں بھی پاکستان کو مضبوط، منظم اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔بھارت اگر اپنی فلموں کے ذریعے اپنے عوام کو ایک مخصوص کہانی سنانا چاہتا ہے تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے پیش کرے، مگر پاکستان کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مؤقف کے شواہد دنیا کے سامنے رکھے۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ کون زیادہ بلند آواز میں کامیابی کا اعلان کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون اپنے دعوے کے ساتھ قابلِ اعتماد ثبوت پیش کر سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ، سیاسی و انسانی حقوق کے تحفظ کا موقع
- پاکستان کا سیاحتی حسن، قدرت کا انمول تحفہ اور قومی خوشحالی کا راستہ
- پاک فوج کی قربانیوں اور شواہد نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا
- پاکستان میں توانائی، روزگار اور ڈیجیٹل معیشت: قومی ترقی کی مربوط سمت
- پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد اور مؤثر حکمتِ عملی ناگزیر
- پاکستان میں صاف پانی کی فراہمی، عوامی خدمت کا قابلِ ستائش منصوبہ
- آئی ایم سی اوور 60 ورلڈ کپ‘ پاکستان نے کینیڈا کو 5وکٹوں سے شکست دیدی
- پاکستان کرکٹ اگر ٹھیک نہیں کریں گے تو ہاکی سے بھی برا حال ہوگا، کامران اکمل
- پاکستانی فاسٹ بولرز کو کمزور نہیں سمجھتے، جو روٹ
- جرمن فٹبالر جمال موسیالا ایک بار پھر میچ کے دوران گر پڑے، اعصابی عارضے کی تشخیص