تجزیہ بی این پی
پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کا براہِ راست تعلق توانائی کے مستحکم نظام، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار اور جدید ٹیکنالوجی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کسی ملک میں بجلی مہنگی ہو، اس کی فراہمی غیر یقینی ہو، صنعت کو مطلوبہ توانائی دستیاب نہ ہو، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوں اور معیشت عالمی ڈیجیٹل تبدیلی سے ہم آہنگ نہ ہو تو ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنا ایک مشکل امر بن جاتا ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں نیشنل الیکٹریسٹی پلان 2023ـ2027 میں ترامیم اور مربوط توانائی پلان کے ہائی لیول ڈیزائن کی منظوری ایک اہم حکومتی پیش رفت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی پر مؤثر عملدرآمد اور پاکستان میں گوگل کے دفتر کا افتتاح ایسے اقدامات ہیں جو قومی معیشت کے تین بنیادی ستونوں یعنی توانائی، انسانی وسائل اور ڈیجیٹل معیشت کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔
توانائی کا شعبہ کسی بھی جدید معیشت کی بنیاد ہوتا ہے۔ صنعت کا پہیہ ہو، زرعی پیداوار ہو، کاروباری سرگرمیاں ہوں، تعلیمی ادارے ہوں یا گھریلو زندگی، بجلی کے بغیر ان میں سے کسی شعبے کو مؤثر انداز میں آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے بجلی کی پیداوار، ترسیل، تقسیم، گردشی قرضے، مہنگے ٹیرف اور لائن لاسز جیسے مسائل نے توانائی کے شعبے کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ اس لیے محض بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانا کافی نہیں، بلکہ پورے توانائی نظام کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت چلانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے پیش کردہ مربوط توانائی پلان اسی ضرورت کا ایک جواب معلوم ہوتا ہے۔
کابینہ کمیٹی کی جانب سے نیشنل الیکٹریسٹی پلان میں ترامیم کی منظوری کے ساتھ حکومت خیبرپختونخوا اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی سے مزید مشاورت کی ہدایت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ توانائی جیسے اہم شعبے میں فیصلے صرف مرکز کی سطح پر نہیں بلکہ صوبوں، ریگولیٹرز اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشاورت سے کیے جانے چاہئیں۔ توانائی کا نظام ایک وسیع قومی معاملہ ہے، جس میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، ریگولیٹری ادارے، صنعت، سرمایہ کار اور صارفین سب کا مفاد شامل ہے۔ کسی ایک فریق کو نظر انداز کرکے بنائی گئی پالیسی دیرپا نتائج نہیں دے سکتی۔
مربوط توانائی پلان میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ دور دراز علاقوں میں قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی فراہمی، بجلی کی سرحد پار تجارت، ترسیلی نظام میں توسیع، ٹیرف ڈیزائن، بجلی کی بچت، نظام اور مارکیٹ آپریشنز، خطرات کی نشاندہی، ایندھن اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے مقامی استعداد میں اضافہ، تحقیق و ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن جیسے اہم پہلو شامل کیے گئے ہیں۔ یہ نکات ظاہر کرتے ہیں کہ توانائی کے مسئلے کو صرف بجلی کے بحران کے طور پر نہیں بلکہ ایک جامع معاشی اور تکنیکی چیلنج کے طور پر دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خاص طور پر قابل تجدید توانائی کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں شمسی، ہوا اور دیگر قابل تجدید ذرائع سے توانائی پیدا کرنے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ دور دراز علاقوں میں جہاں قومی گرڈ کی توسیع مہنگی اور مشکل ہے، وہاں مقامی قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی فراہمی نہ صرف عوام کو بنیادی سہولت فراہم کرسکتی ہے بلکہ قومی گرڈ پر دباؤ بھی کم کرسکتی ہے۔ تاہم اس شعبے میں بھی منصوبہ بندی، معیار، ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی، ترسیلی نظام اور سرمایہ کاری کے واضح اصول ضروری ہیں۔
اسی طرح بجلی کی سرحد پار تجارت کا تصور مستقبل کی علاقائی معاشی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہے۔ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے خطے میں توانائی کے وسائل اور ضروریات مختلف ہیں۔ پاکستان اگر اپنی جغرافیائی حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے علاقائی توانائی تعاون کا حصہ بنتا ہے تو اس سے نہ صرف توانائی کی دستیابی بہتر ہوسکتی ہے بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے سیاسی استحکام، مؤثر سفارت کاری اور مضبوط توانائی انفراسٹرکچر ناگزیر ہوگا۔
توانائی کے بحران کا ایک اہم پہلو بجلی کا ٹیرف بھی ہے۔ صارف کے لیے بجلی صرف اس وقت قابل قبول نہیں ہوگی جب وہ دستیاب ہو، بلکہ اس کی قیمت بھی اس کی استطاعت کے مطابق ہونی چاہیے۔ صنعت کے لیے مہنگی بجلی پیداواری لاگت بڑھاتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارف پر منتقل ہوتا ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے بلند بجلی کے بل مہنگائی اور معاشی دباؤ میں اضافہ کرتے ہیں۔ چنانچہ ٹیرف ڈیزائن میں اس امر کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی کہ بجلی کی قیمت مقرر کرتے ہوئے پیداواری لاگت، نظام کے نقصانات، کم آمدنی والے طبقات کی استطاعت اور صنعتی مسابقت، سب کو سامنے رکھا جائے۔
**تجزیہ بی این پی** کے مطابق توانائی کے شعبے میں اصل کامیابی کسی ایک اجلاس میں منصوبے کی منظوری سے نہیں بلکہ اس منصوبے پر مستقل، شفاف اور نتیجہ خیز عملدرآمد سے حاصل ہوگی۔ پاکستان میں ماضی میں بھی متعدد توانائی پالیسیوں اور منصوبوں کا اعلان ہوتا رہا ہے، لیکن ان کے نتائج اس وقت محدود رہے جب ادارہ جاتی کمزوری، سیاسی مداخلت، مالیاتی مشکلات یا عملدرآمد کی سست رفتاری رکاوٹ بن گئی۔ اس بار ضروری ہے کہ مربوط توانائی پلان کو محض دستاویزی مشق بنانے کے بجائے واضح اہداف، مقررہ مدت، ذمہ دار اداروں اور قابل پیمائش نتائج سے منسلک کیا جائے۔
توانائی کے ساتھ وزیراعظم کی جانب سے نوجوانوں کے روزگار پر توجہ بھی نہایت اہم ہے۔ پاکستان ایک نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے اور یہ نوجوان اگر تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع حاصل کریں تو یہی آبادی ملک کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع نہ ملیں تو بڑھتی ہوئی آبادی معاشی دباؤ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اس لیے نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی پر مؤثر عملدرآمد محض ایک روزگار پروگرام نہیں بلکہ قومی معاشی حکمت عملی کا بنیادی حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
وزیراعظم نے نوجوانوں، بالخصوص خواتین اور بلوچستان و خیبرپختونخوا کے ہنرمند نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ روزگار کے مسئلے کو صرف سرکاری ملازمتوں کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ جدید معیشت میں روزگار کے وسیع مواقع نجی شعبے، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں، فنی تعلیم، آن لائن کام، برآمدی خدمات، آئی ٹی، ای کامرس، فری لانسنگ اور کاروباری سرگرمیوں میں پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ حکومت کو ایسی پالیسی بنانی ہوگی جس میں نوجوان صرف ملازمت تلاش کرنے والے نہ ہوں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بھی بن سکیں۔
خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی ہدایت بھی معاشی اعتبار سے اہم ہے۔ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ خواتین پر مشتمل ہے، لیکن خواتین کی معاشی شرکت اب بھی اپنی حقیقی صلاحیت سے کم ہے۔ اگر خواتین کو ہنر، مالی وسائل، محفوظ کام کی جگہ، ڈیجیٹل سہولت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے تو ملکی معیشت میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ خصوصاً گھر سے کام، آن لائن کاروبار، ڈیجیٹل خدمات اور چھوٹے کاروبار خواتین کے لیے ایسے مواقع پیدا کرسکتے ہیں جن سے وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ معاشی سرگرمی میں بھی حصہ لے سکیں۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے نوجوانوں پر خصوصی توجہ بھی قومی یکجہتی کے لیے اہم ہے۔ پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں روزگار، تعلیم اور ہنر کے مواقع محدود ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کو معاشی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اگر ان علاقوں میں فنی تربیتی مراکز، ڈیجیٹل سہولتیں، صنعتی زون، چھوٹے کاروبار کے لیے آسان قرضے اور نجی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے جائیں تو نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں ہی معاشی مستقبل فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح روزگار کے ساتھ علاقائی ترقی اور قومی یکجہتی کے مقاصد بھی حاصل ہوں گے۔اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی پاکستان میں گوگل کے دفتر کا افتتاح ہے۔ عالمی سطح کی ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کا پاکستان میں مستقل موجودگی اختیار کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں قابل ذکر امکانات موجود ہیں۔ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل تجارت، آن لائن خدمات اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے نوجوان اگر ان شعبوں میں مناسب تربیت حاصل کرلیں تو وہ نہ صرف ملکی بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی اپنی خدمات فراہم کرسکتے ہیں۔
گوگل کے نائب صدر کی جانب سے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کی خواہش اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ پر زور ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس موقع سے حقیقی فائدہ اسی صورت حاصل ہوگا جب حکومت اور نجی شعبہ مل کر ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کا وسیع پروگرام تشکیل دیں۔ صرف چند ہزار یا چند لاکھ نوجوانوں کو تربیت دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ملک کے تعلیمی نظام، فنی اداروں، جامعات اور نجی تربیتی مراکز کو ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ توانائی، روزگار اور ٹیکنالوجی کو الگ الگ شعبوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک مربوط معاشی منصوبے کا حصہ بنایا جائے۔ اگر بجلی سستی اور قابل اعتماد ہوگی تو صنعت ترقی کرے گی؛ صنعت ترقی کرے گی تو روزگار پیدا ہوگا؛ نوجوان ہنرمند ہوں گے تو صنعت اور ڈیجیٹل شعبہ عالمی منڈی میں مقابلہ کرسکے گا؛ اور ڈیجیٹل معیشت بڑھے گی تو برآمدات اور زرمبادلہ کے نئے ذرائع پیدا ہوں گے۔ یوں ایک شعبے کی بہتری دوسرے شعبے کی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے حکومت کو پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنا ہوگا۔ سرمایہ کار اس وقت طویل المدتی سرمایہ کاری کرتا ہے جب اسے یقین ہو کہ پالیسی بار بار تبدیل نہیں ہوگی۔ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے واضح قواعد، بجلی کی خرید و فروخت کے شفاف طریقہ کار، قابل اعتماد ریگولیٹری نظام اور ادائیگیوں کی ضمانت ضروری ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ، ڈیٹا کے محفوظ استعمال، جدید تعلیمی نظام اور کاروباری آسانیاں بنیادی ضرورت ہیں۔
عام شہری کے نقط نظر سے دیکھا جائے تو ان تمام اقدامات کی اصل کامیابی اسی وقت ثابت ہوگی جب اس کے اثرات روزمرہ زندگی میں محسوس ہوں۔ عوام کو بجلی کی مسلسل اور مناسب قیمت پر فراہمی، نوجوانوں کو باعزت روزگار، خواتین کو معاشی مواقع، دور دراز علاقوں کو ترقیاتی سہولتیں اور کاروباری طبقے کو مستحکم ماحول ملنا چاہیے۔ پالیسیوں اور منصوبوں کا اصل امتحان ان کے اعلانات نہیں بلکہ ان کے عملی نتائج ہوتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے عام شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، بجلی کے نظام کو بہتر بنانے، نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ پر بیک وقت توجہ اس اعتبار سے قابل تحسین ہے کہ حکومت نے معیشت کے مختلف شعبوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا ہے۔ تاہم ان اقدامات کو کامیاب بنانے کے لیے سیاسی عزم کے ساتھ انتظامی صلاحیت، ادارہ جاتی ہم آہنگی، شفافیت اور مسلسل نگرانی بھی ضروری ہے۔
**تجزیہ بی این پی** یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے لیے اب روایتی انداز کی عارضی پالیسیوں کے بجائے طویل المدتی اور مربوط معاشی منصوبہ بندی ناگزیر ہوچکی ہے۔ توانائی کا مستحکم نظام، ہنرمند نوجوان اور مضبوط ڈیجیٹل معیشت ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ اگر حکومت ان تینوں شعبوں کو مربوط انداز میں آگے بڑھانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ملک میں صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
موجودہ دور میں قومی ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کا نام نہیں بلکہ مضبوط انسانی وسائل، جدید ٹیکنالوجی، سستی اور قابل اعتماد توانائی اور معاشی مواقع کی منصفانہ تقسیم کا مجموعہ ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت، وسیع مارکیٹ، جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کی صورت میں بہت سے امکانات موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان امکانات کو منظم پالیسی، مستقل مزاجی اور مؤثر عملدرآمد کے ذریعے حقیقی معاشی طاقت میں تبدیل کیا جائے۔
حکومت کی جانب سے مربوط توانائی پلان، نوجوانوں کے روزگار اور گوگل کے ساتھ ڈیجیٹل تعاون کے اقدامات اسی وسیع تر سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اب قوم کی نظریں اس امر پر ہوں گی کہ ان پالیسی فیصلوں کے ثمرات کب اور کس حد تک عام شہری تک پہنچتے ہیں۔ اگر بجلی کی قیمت اور فراہمی میں بہتری، نوجوانوں کے لیے روزگار کے حقیقی مواقع اور ڈیجیٹل شعبے میں نئی سرمایہ کاری ایک ساتھ آگے بڑھتی ہے تو یہ پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوسکتی ہے۔ یہی وہ سمت ہے جو پاکستان کو وقتی بحرانوں سے نکال کر پائیدار، خود کفیل اور مسابقتی معیشت کی طرف لے جا سکتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ، سیاسی و انسانی حقوق کے تحفظ کا موقع
- پاکستان کا سیاحتی حسن، قدرت کا انمول تحفہ اور قومی خوشحالی کا راستہ
- پاک فوج کی قربانیوں اور شواہد نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا
- پاکستان میں توانائی، روزگار اور ڈیجیٹل معیشت: قومی ترقی کی مربوط سمت
- پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد اور مؤثر حکمتِ عملی ناگزیر
- پاکستان میں صاف پانی کی فراہمی، عوامی خدمت کا قابلِ ستائش منصوبہ
- آئی ایم سی اوور 60 ورلڈ کپ‘ پاکستان نے کینیڈا کو 5وکٹوں سے شکست دیدی
- پاکستان کرکٹ اگر ٹھیک نہیں کریں گے تو ہاکی سے بھی برا حال ہوگا، کامران اکمل
- پاکستانی فاسٹ بولرز کو کمزور نہیں سمجھتے، جو روٹ
- جرمن فٹبالر جمال موسیالا ایک بار پھر میچ کے دوران گر پڑے، اعصابی عارضے کی تشخیص