jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

حلال روزی کی خواہش اور دھوکے کا اذیت ناک دکھ

تحریر: رحمت علی چیف پیٹی آفیسر(ر)پاکستان نیوی
انسان پوری زندگی محنت اس امید کے ساتھ کرتا ہے کہ اس کی محنت کا پھل اسے عزت اور سکون کے ساتھ ملے گا۔ خصوصاً وہ شخص جس نے اپنی جوانی ملک و قوم کی خدمت میں گزار دی ہو۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جب اپنے بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات اور بڑھاپے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کاروبار کا آغاز کرتا ہے تو اس کی سب سے بڑی خواہش دولت نہیں بلکہ حلال رزق اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنا ہوتی ہے۔میرا تعلق پاکستان کے ایک انتہائی حساس، باوقار اور قابل احترام ادارے پاکستان نیوی سے رہا ہے۔ میں پاکستان نیوی سے فلیٹ چیف پیٹی آفیسر کی حیثیت سے اپنی ملازمت مکمل کرکے ریٹائر ہوا۔ سول زندگی میں قدم رکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہی تھا کہ اپنی محنت اور محدود وسائل کو بروئے کار لا کر ایسا ذریعہ معاش اختیار کروں جس سے بچوں کی تعلیم و کفالت بھی ہوتی رہے اور بڑھاپے کے لیے بھی کچھ سہارا پیدا ہو جائے۔
اسی مقصد کے تحت میں نے سبزیوں کے کاروبار کا آغاز کیا اور لاہور سے معیاری پیاز، ادرک، لہسن، ٹماٹر اور دیگر سبزیاں تھوک کے حساب سے خرید کر کوٹلہ، تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات کی سبزی منڈی میں فروخت کے لیے بھیجیں۔ میں نے یہ مال چوہدری ذوالفقار، سلطانیہ سبزی و فروٹ کمیشن ایجنٹ، اور مدثر، القاضی سبزی و فروٹ کمیشن ایجنٹ کے ذریعے فروخت کے لیے بھجوایا۔
لیکن میری حلال روزی کمانے کی یہ کوشش میرے لیے ایک ایسے تلخ تجربے میں تبدیل ہوگئی جس نے مجھے اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ میرا مؤقف ہے کہ مذکورہ دونوں کمیشن ایجنٹس اور ان کے منشی شاہزیب نے باہمی ملی بھگت سے میرے معیاری مال کے بجائے مبینہ طور پر ناقص مال کم قیمت پر فروخت کیا اور حساب کتاب میں بھی ایسی ہی بے ضابطگی کی گئی جس کے نتیجے میں مجھے میری اصل خریداری کی لاگت سے بھی کم رقم ملی۔ یعنی جس کاروبار سے جائز منافع کی امید تھی وہاں مجھے منافع کے بجائے نقصان اٹھانا پڑا۔
یہ میرے لیے محض مالی نقصان نہیں بلکہ میرے اعتماد، میری محنت اور میری اس سوچ پر ضرب ہے کہ سول زندگی میں بھی انسان دیانت داری سے اپنے بچوں کے مستقبل اور بڑھاپے کے لیے حلال روزی کما سکتا ہے۔پاکستان نیوی نے مجھے صرف ایک پیشہ نہیں دیا بلکہ نظم و ضبط، امانت، دیانت اور ذمہ داری کا شعور بھی دیا۔ میں نے برسوں اسی اصول کے ساتھ زندگی گزاری کہ جو ذمہ داری سونپی جائے اسے امانت سمجھ کر ادا کیا جائے۔ اسی لیے سول زندگی میں کاروبار کرتے ہوئے بھی میری کوشش یہی تھی کہ کسی کا حق نہ ماروں اور اپنی محنت کی جائز کمائی حاصل کروں مگر افسوس کہ میرا پہلا بڑا تجربہ ہی ایسا نکلا جس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ کیا ہمارے کاروباری معاشرے میں دیانت دار انسان کے لیے بھی کوئی جگہ باقی ہے؟
کمیشن ایجنٹ اور آڑھتی دراصل اعتماد کے امین ہوتے ہیں۔ مال بھیجنے والا اپنا سامان ان کے حوالے اس یقین کے ساتھ کرتا ہے کہ اسے درست طریقے سے فروخت کیا جائے گا اور مکمل و شفاف حساب دیا جائے گا۔ اگر یہی اعتماد مجروح ہو جائے تو نقصان صرف ایک تاجر کا نہیں ہوتا پورے کاروباری نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔میں نے اس معاملے پر خاموش رہنے کے بجائے قانونی اور متعلقہ اداروں سے رجوع کیا ہے۔ ذوالفقار، مدثر اور شاہزیب کے خلاف اپنی شکایت اور مؤقف پر مشتمل درخواستیں متعلقہ ڈی ایس پی، ایس پی اور دیگر متعلقہ اداروں کو پہلے ہی ارسال کر چکا ہوں اور میری درخواست ہے کہ اس معاملے کی مکمل، غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ میرے پاس موجود خریداری، مال کی ترسیل، فروخت، حساب کتاب اور ادائیگی سے متعلق ریکارڈ کو سامنے رکھ کر حقیقت کا تعین کیا جائے اور اگر میرے مؤقف کے مطابق کسی قسم کی دھوکہ دہی یا مالی بے ضابطگی ثابت ہو تو قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور مجھے میرا جائز حق واپس دلایا جائے۔
میں کسی کا ناجائز حق نہیں مانگتا اور نہ ہی کسی بے گناہ کو سزا دلوانا چاہتا ہوں۔ میری صرف ایک فریاد ہے کہ میرے حلال رزق کی حفاظت کی جائے اور میرے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کا ازالہ کیا جائے۔
میں نے اپنی جوانی پاکستان کے دفاع میں گزاری اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے بچوں کے مستقبل اور اپنے بڑھاپے کے لیے حلال روزی کمانے کی کوشش کی۔ اگر ایسے شخص کو بھی اپنے ہی ملک میں اپنی محنت کی کمائی کے تحفظ اور انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹانے پڑیں تو یہ صرف میری نہیں ہمارے پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔رزق اللہ دیتا ہے مگر انسان کو اپنی محنت کا حق بھی ملنا چاہیے۔ میری امید آج بھی قانون، انصاف اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے وابستہ ہے۔ میری متعلقہ حکام سے درخواست ہے کہ میری آواز کو ایک ریٹائرڈ شخص کی ذاتی شکایت سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے بلکہ اسے اس شہری کی فریاد سمجھا جائے جس نے پوری زندگی دیانت داری سے گزاری اور اب صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کی محنت کی کمائی اسے دیانت اور انصاف کے ساتھ واپس مل جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More