jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

ہر ڈویژن میں سٹروک سینٹرز، بروقت علاج سے قیمتی زندگیاں محفوظ بنانے کی جانب اہم قدم

تجزیہ بی این پی
فالج ایک ایسا طبی عارضہ ہے جس میں وقت محض وقت نہیں رہتا بلکہ زندگی اور موت، صحت اور مستقل معذوری کے درمیان فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ کسی شخص کو اچانک فالج کا حملہ ہو اور اسے بروقت طبی امداد نہ مل سکے تو چند گھنٹوں کی تاخیر بھی اس کی زندگی، جسمانی صلاحیت اور مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں ہر ڈویڑن میں سٹروک سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ محض ہسپتالوں کی تعداد بڑھانے کا معاملہ نہیں بلکہ بروقت اور مخصوص طبی علاج کو عام آدمی کی دسترس تک پہنچانے کی کوشش ہے۔ پنجاب حکومت کے مطابق چیف منسٹر سٹروک پروگرام کے تحت 40 پرائمری سٹروک سینٹرز مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں جبکہ مزید 17 مراکز دسمبر تک فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پنجاب ہیلتھ انیشی ایٹو مینجمنٹ کمپنی بھی چیف منسٹر سٹروک پروگرام کو اپنے جاری صحت کے اقدامات میں شامل کرتی ہے۔
اس منصوبے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ فالج کے علاج کو محض بڑے شہروں کے بڑے ہسپتالوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے صوبے کے مختلف علاقوں تک پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پنجاب جیسے وسیع اور گنجان آباد صوبے میں یہ ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے کہ پیچیدہ اور ہنگامی نوعیت کے امراض کے لیے بنیادی سطح پر ایسی سہولتیں دستیاب ہوں جہاں مریض کو ابتدائی اور فوری طبی امداد مل سکے۔ سرکاری صحت کے ڈھانچے میں بنیادی، ثانوی اور اعلیٰ سطح کی طبی سہولتوں کا ایک مربوط نظام موجود ہے، تاہم مؤثر صحت عامہ کے لیے ان مختلف سطحوں کے درمیان بروقت رابطہ اور مریض کی درست مرکز تک منتقلی بھی ضروری ہے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق پنجاب میں سٹروک سینٹرز کا دائرہ وسیع کرنے کا اصل فائدہ اس وقت سامنے آئے گا جب عوام کو اس نظام کے بارے میں مکمل آگاہی بھی دی جائے گی۔ فالج کے مریض کے لیے ابتدائی علامات کو پہچاننا، فوری طور پر ہسپتال پہنچانا اور تربیت یافتہ طبی عملے تک رسائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ صرف عمارت قائم کر دینا کافی نہیں، بلکہ وہاں 24 گھنٹے تربیت یافتہ ڈاکٹرز، ضروری ادویات، تشخیصی سہولتیں، ایمرجنسی سروسز، مناسب عملہ اور مریض کی فوری منتقلی کا مربوط نظام موجود ہونا چاہیے۔ اسی تسلسل میں 40 پرائمری سٹروک سینٹرز میں تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور عملے کی موجودگی اور فالج کے علاج کے لیے 710 ٹی این کے انجکشن کی دستیابی ایک اہم انتظامی پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔
حکومت کی بریفنگ کے مطابق چیف منسٹر سٹروک پروگرام کے تحت 336 ایسے مریضوں کی جان بچائی گئی جو فالج کے حملے کے بعد بروقت سٹروک سینٹر پہنچے۔ ان مریضوں کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ فوری علاج کے باعث انہیں مستقل معذوری سے بچانے میں مدد ملی۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ فالج کے علاج میں فوری طبی مداخلت کتنی اہم ہے۔ اگر ایک منظم نظام چند سو افراد کو بروقت علاج فراہم کرکے ان کی زندگی اور جسمانی صلاحیت محفوظ بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے تو اس نظام کو مزید علاقوں تک پھیلانے کی افادیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
فالج کا علاج عام بیماریوں کے علاج سے مختلف نوعیت کا تقاضا کرتا ہے۔ مریض کو ہسپتال پہنچنے کے بعد فوری تشخیص، مناسب طبی فیصلہ اور ضرورت کے مطابق مخصوص علاج درکار ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسے مراکز ضروری ہیں جہاں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل عملہ اس مخصوص ہنگامی کیفیت سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ ہو۔ پنجاب حکومت کی جانب سے 40 پرائمری سٹروک سینٹرز میں تربیت یافتہ عملے کی موجودگی اسی ضرورت کو پورا کرنے کی سمت ایک قدم ہے۔
اسی طرح راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور سرگودھا میں نیوروانجیو گرافی سوئٹس کے قیام کا منصوبہ سٹروک کی پیچیدہ صورتوں کے علاج کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز لاہور اور راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جامع سٹروک سینٹرز کا فعال ہونا بھی اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ اس کے ساتھ لاہور کے سروسز ہسپتال، میو ہسپتال، گنگا رام ہسپتال، جناح ہسپتال، جنرل ہسپتال، چلڈرن ہسپتال اور شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال سمیت متعدد اداروں میں پرائمری سٹروک سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔یہ توسیع صرف لاہور تک محدود نہیں رکھی گئی۔ ملتان، فیصل آباد، بہاولپور، رحیم یار خان، راولپنڈی، سیالکوٹ، ڈیرہ غازی خان اور دیگر علاقوں کے ہسپتالوں میں بھی فالج کے علاج کے لیے ضروری سہولتوں کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ شیخوپورہ، منڈی بہاؤالدین، قصور، خانیوال، وہاڑی اور ملتان کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں پرائمری سٹروک سینٹرز کا فعال ہونا اس بات کی علامت ہے کہ صحت کے اس پروگرام کو ضلعی سطح تک لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق اس منصوبے کا سب سے مثبت پہلو یہی ہے کہ اس میں صحت کے ایک ایسے شعبے کو ترجیح دی گئی ہے جس میں بروقت علاج کا براہ راست تعلق مریض کی بقا اور معذوری سے بچاؤ کے ساتھ ہے۔ عام طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بڑے شہروں کے خصوصی ہسپتال تک مریض کو لے جانا، سفری اخراجات برداشت کرنا اور مہنگے علاج کا انتظام کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اگر ضلع یا ڈویڑن کی سطح پر ابتدائی اور فوری علاج کی سہولت میسر ہو تو نہ صرف مریض کے لیے وقت بچتا ہے بلکہ خاندان پر مالی بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے۔یہاں حکومت کے لیے ایک اور اہم ذمہ داری بھی پیدا ہوتی ہے کہ ان مراکز کو محض اعداد و شمار کا حصہ نہ بننے دیا جائے۔ ہر فعال سٹروک سینٹر کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی، ادویات اور انجکشن کی دستیابی، طبی عملے کی موجودگی، آلات کی فعالیت اور مریضوں کے علاج کے نتائج کا ریکارڈ مرتب کیا جانا چاہیے۔ صحت کے منصوبوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ عمارتوں یا مراکز کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ضرورت کے وقت کتنے مریضوں کو بروقت، معیاری اور مؤثر علاج ملا۔
پنجاب میں سرکاری شعبے کے ہسپتالوں کا نیٹ ورک پہلے ہی وسیع ہے، مگر صحت کی سہولتوں کے حوالے سے اصل چیلنج رسائی، معیار اور تسلسل کا ہے۔ پنجاب جینڈر پیریٹی رپورٹ کے مطابق 2025 میں صوبے میں مجموعی سرکاری صحت کی سہولتوں کی تعداد 8,190 تھی، جبکہ بنیادی صحت کے ڈھانچے میں بعض مراکز کی تعداد گزشتہ برسوں میں کم بھی ہوئی ہے۔ اس پس منظر میں خصوصی طبی پروگراموں کو موجودہ ہسپتالوں کے ساتھ مربوط کرنا اور بنیادی و ثانوی سطح سے مریضوں کو بروقت خصوصی مراکز تک پہنچانا اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔فالج کے حوالے سے عوامی شعور میں اضافے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ بہت سے خاندان فالج کی ابتدائی علامات کو معمولی کمزوری، چکر یا وقتی بے ہوشی سمجھ کر گھر میں انتظار کرتے رہتے ہیں، حالانکہ ایسے مریض کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس لیے سٹروک سینٹرز کے قیام کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے، مساجد، تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر، میڈیا اور مقامی کمیونٹی کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جائے کہ فالج کی علامات ظاہر ہونے پر انتظار نہیں بلکہ فوری ہسپتال پہنچنا ضروری ہے۔
اس پروگرام کا ایک اور اہم پہلو تربیت ہے۔ ڈاکٹرز کے ساتھ نرسنگ سٹاف، ٹیکنیشنز، ریسکیو اہلکاروں اور ایمرجنسی سروسز سے وابستہ افراد کو بھی فالج کے مریض کی ابتدائی شناخت اور فوری منتقلی کے حوالے سے تربیت دی جانی چاہیے۔ اگر ایمبولینس سروس، ضلعی ہسپتال، پرائمری سٹروک سینٹر اور جامع سٹروک سینٹر ایک مربوط چین کے طور پر کام کریں تو مریض کے لیے علاج کا پورا سفر زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
غریب خاندانوں کے لیے اس نظام کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ بیماری جب اچانک حملہ کرے تو متوسط اور کم آمدنی والے گھرانے اکثر علاج کے اخراجات کے ساتھ ساتھ روزگار سے محرومی اور سفر کے اضافی بوجھ کا بھی سامنا کرتے ہیں۔ اگر سرکاری ہسپتال میں بروقت تشخیص اور علاج میسر ہو تو نہ صرف زندگی بچانے کے امکانات بہتر ہوتے ہیں بلکہ خاندان کو ایک بڑے مالی بحران سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحت عامہ کی پالیسی براہ راست سماجی بہبود سے جڑ جاتی ہے۔پنجاب حکومت کے موجودہ صحت کے اقدامات میں سٹروک پروگرام کے ساتھ ٹرانسپلانٹ، ڈائیلاسس، بچوں کے دل کے آپریشن، کارڈیک سرجری اور کینسر کے مریضوں کے لیے خصوصی پروگرام بھی شامل ہیں۔ اس تناظر میں سٹروک سینٹرز کا پھیلاؤ ایک ایسے صحت نظام کی تشکیل کی طرف قدم ہے جس میں مخصوص بیماریوں کے لیے مخصوص اور منظم سہولتیں فراہم کی جائیں۔
تاہم اس پورے عمل میں تسلسل سب سے زیادہ اہم ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، بجٹ کی ترجیحات تبدیل ہوتی ہیں اور انتظامی ڈھانچے میں ردوبدل آتا رہتا ہے، لیکن صحت کے بنیادی منصوبے مستقل بنیادوں پر چلتے رہنے چاہئیں۔ سٹروک سینٹرز کو مستقل بجٹ، ادویات، جدید آلات، تربیت اور ماہرین کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہوگا۔ اسی طرح مریضوں کے اعداد و شمار کو باقاعدگی سے مرتب کرکے یہ دیکھا جانا چاہیے کہ کن علاقوں میں فالج کے کیسز زیادہ ہیں، کن مراکز میں مریض زیادہ پہنچ رہے ہیں اور کہاں مزید سہولتوں کی ضرورت ہے۔ہر ڈویڑن میں سٹروک سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ اسی لیے ایک قابلِ توجہ صحت اقدام ہے کہ اس کا تعلق براہ راست انسانی جان سے ہے۔ ترقی کا حقیقی مقصد صرف سڑکیں، پل، عمارتیں اور دیگر منصوبے نہیں بلکہ ایسا معاشرہ تشکیل دینا بھی ہے جہاں کسی شہری کو محض اس وجہ سے زندگی یا صحت سے محروم نہ ہونا پڑے کہ اسے بروقت علاج کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔ پنجاب میں سٹروک سینٹرز کا دائرہ وسیع کرنے کی موجودہ کوشش اسی سوچ کو عملی شکل دینے کی ایک کوشش ہے۔
اگر 40 فعال مراکز کے تجربے سے حاصل ہونے والے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے مزید 17 مراکز مقررہ وقت میں فعال کیے جاتے ہیں، ڈویڑنل سطح پر جامع سہولتیں مضبوط ہوتی ہیں، نیوروانجیو گرافی کی صلاحیت بڑھتی ہے اور ضلعی ہسپتالوں کو مرکزی سٹروک نیٹ ورک کے ساتھ مؤثر طور پر جوڑا جاتا ہے تو اس پروگرام کے ثمرات مزید وسیع ہو سکتے ہیں۔ حکومت کے لیے اصل کامیابی یہی ہوگی کہ سٹروک کے مریض کو بروقت شناخت، فوری منتقلی، معیاری تشخیص اور ضروری علاج ایک مربوط نظام کے تحت میسر آئے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق صحت کے منصوبوں کی اصل قدر ان کی تشہیر سے نہیں بلکہ ان کے نتیجے میں محفوظ ہونے والی انسانی زندگیوں سے متعین ہوتی ہے۔ فالج کے 336 مریضوں کا بروقت علاج اور ان کی زندگیوں کو بچانے کا دعویٰ اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ مؤثر طبی نظام میں چند گھنٹوں کی بروقت مداخلت بھی ایک خاندان کا مستقبل بدل سکتی ہے۔ اس لیے سٹروک سینٹرز کا دائرہ کار بڑھانے کے ساتھ عوامی آگاہی، عملے کی تربیت، ادویات کی مسلسل دستیابی، جدید تشخیصی آلات اور ہسپتالوں کے باہمی رابطے کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔پنجاب میں ہر ڈویژن تک سٹروک کی مخصوص طبی سہولت پہنچانے کا ہدف بلاشبہ صحت کے شعبے میں ایک اہم سمت متعین کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سمت میں رفتار کے ساتھ معیار بھی برقرار رکھا جائے اور منصوبے کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔ کیونکہ فالج کے مریض کے لیے بروقت علاج محض ایک طبی سہولت نہیں، زندگی کو دوبارہ موقع دینے کا نام ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More