jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

معاشی استحکام کی سمت پیش رفت، عالمی اعتماد کی بحالی شہباز شریف حکومت کی اہم کامیابی

تجزیہ بی این پی
پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی برس سے جن مشکلات، دباؤ اور غیر یقینی حالات سے دوچار رہی ہے، ان کے تناظر میں معاشی استحکام کی طرف بڑھتی ہوئی پیش رفت کو ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ پاکستان نے معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل محنت کی ہے اور معاشی استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں اور حکومت محفوظ اور مضبوط معاشی مقام تک پہنچنے کے لیے درست سمت میں اپنا کردار جاری رکھے گی۔ یہ بیان محض حکومتی دعویٰ نہیں بلکہ اس وقت عالمی مالیاتی حلقوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اور پاکستان کے بارے میں پیدا ہونے والی نئی دلچسپی کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف وقتی مالی دباؤ سے نکلنا نہیں بلکہ ایسی معاشی بنیاد قائم کرنا ہے جو مستقبل میں بار بار آنے والے بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ گزشتہ برسوں میں پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں، مہنگائی، توانائی کے شعبے، مالیاتی خسارے اور قرضوں کے دباؤ سمیت متعدد مسائل کا سامنا رہا۔ ایسے ماحول میں معاشی پالیسیوں میں تسلسل، مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحات پر عملدرآمد کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے اسی سمت میں کیے جانے والے اقدامات کو اب عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ روابط، سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور مالیاتی مارکیٹ میں پاکستان کی دوبارہ موجودگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا لندن اسٹاک ایکسچینج کا دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ لندن دنیا کے بڑے مالیاتی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور لندن اسٹاک ایکسچینج میں پاکستان کے وزیراعظم کی مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت نے ملک کے معاشی امکانات کو عالمی مالیاتی برادری کے سامنے اجاگر کرنے کا ایک موقع فراہم کیا۔ اس موقع پر پاکستان کے معاشی اصلاحاتی سفر، سرمایہ کاری کے امکانات اور مستقبل کی معاشی ترجیحات کو سامنے لانا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت بیرونی دنیا کے ساتھ اقتصادی روابط کو محض امداد یا قرض تک محدود رکھنے کے بجائے سرمایہ کاری، سرمایہ مارکیٹ، تجارت اور مالیاتی خدمات کے وسیع تر دائرے میں لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بھی معیشت کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سرمایہ کار صرف اعدادوشمار نہیں دیکھتے بلکہ پالیسیوں کے تسلسل، حکومتی فیصلوں کی سمت، مالیاتی نظم و ضبط، کاروباری ماحول اور اصلاحات کے عملی نفاذ کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ اگر کسی ملک کے بارے میں یہ تاثر مضبوط ہو کہ وہاں معاشی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہے گا تو طویل المدتی سرمایہ کاری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے وزیراعظم کی جانب سے لندن میں عالمی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کو پاکستان کی سرمایہ کاری سفارت کاری کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے بارکلیز کے اعلیٰ حکام سے ملاقات میں پاکستان کے مالیاتی شعبے اور کاروباری مواقع میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ جے پی مورگن کے وفد سے سرمایہ مارکیٹ، تجارتی مالی معاونت اور سرمایہ کاری بینکاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات ہوئی۔ سٹی کے حکام سے ملاقات میں کارپوریٹ اور ادارہ جاتی بینکاری کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے امکانات زیر بحث آئے، جبکہ بلیک راک کے نمائندوں کے ساتھ پاکستانی حصص اور مستقل آمدن والی مالیاتی مصنوعات میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی گئی۔ روتھ شیلڈ اینڈ کو کے نمائندوں کے ساتھ پاکستان کی جغرافیائی معاشی ترجیحات، سرمایہ مارکیٹ اور سرمایہ کاری حکمت عملی کے حوالے سے ممکنہ مشاورتی تعاون پر تبادلہ خیال ہوا۔ ان ملاقاتوں کا مجموعی رخ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان عالمی مالیاتی نظام میں اپنی معاشی جگہ کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق ان ملاقاتوں کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ براہ راست رابطے کو معاشی پالیسی کا حصہ بنایا ہے۔ پاکستان کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہمیشہ موجود رہی ہے، لیکن سرمایہ کاری کے لیے صرف دعوت کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مستحکم معاشی ماحول، کاروباری آسانیاں، شفاف ضابطہ کار، توانائی کی قابل اعتماد فراہمی، ٹیکس نظام میں بہتری اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ شعبے ہیں جہاں اصلاحات کا تسلسل پاکستان کے لیے مستقبل کی کامیابی کا بنیادی پیمانہ بن سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے اصلاحاتی پروگرام کے حوالے سے مالیاتی استحکام، ذخائر کی بحالی، ٹیکس نظام کو وسیع کرنے، سرکاری اداروں میں اصلاحات، توانائی کے شعبے کی پائیداری اور معاشی مسابقت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ادارے کے مطابق 2026 میں پاکستان کی معاشی صورتحال میں استحکام کے آثار سامنے آئے، مجموعی ذخائر میں بہتری آئی اور مالیاتی کارکردگی نے پروگرام کے اہداف کی سمت پیش رفت دکھائی۔ تاہم آئی ایم ایف نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پائیدار اور بلند شرح نمو کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو منزل کے بجائے ایک مضبوط بنیاد سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔معاشی استحکام کا ایک اہم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت کو طویل المدتی منصوبہ بندی کے لیے نسبتاً بہتر ماحول میسر آتا ہے۔ اگر مالیاتی دباؤ کم ہو، بیرونی ادائیگیوں کا نظام بہتر ہو اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو تو حکومت صنعتی، زرعی، برآمدی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں پائیدار پالیسی سازی پر زیادہ توجہ دے سکتی ہے۔ اسی طرح نجی شعبہ بھی مستقبل کے بارے میں نسبتاً واضح انداز میں فیصلے کر سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ تبدیلی انتہائی اہم ہے کیونکہ معاشی ترقی کا اصل انحصار سرکاری اخراجات کے ساتھ ساتھ نجی سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ پر بھی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر متعلقہ حکام کی معاشی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔ معاشی پالیسی کسی ایک شخصیت یا ادارے کی کاوش نہیں ہوتی بلکہ یہ وزارت خزانہ، مرکزی بینک، ایف بی آر، وزارت تجارت، وزارت توانائی اور دیگر اداروں کے باہمی تعاون سے آگے بڑھتی ہے۔ اس لیے معاشی استحکام کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی اور پالیسی تسلسل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ حکومت کے لیے آئندہ مرحلے میں یہی ضروری ہوگا کہ موجودہ پیش رفت کو مستحکم بنیادوں میں تبدیل کیا جائے اور معاشی فیصلوں کے فوائد کو کاروباری طبقے سے آگے بڑھاتے ہوئے عام شہری تک منتقل کیا جائے۔
پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اور اہم ترجیح برآمدات میں اضافہ ہے۔ محض قرض لے کر یا بیرونی سرمایہ کاری پر انحصار کرکے طویل المدتی معاشی خودمختاری حاصل نہیں کی جا سکتی۔ برآمدی صنعت، آئی ٹی، زراعت، ویلیو ایڈیشن، معدنی وسائل، انجینئرنگ، ٹیکسٹائل اور خدمات کے شعبوں میں مسابقت بڑھانا ضروری ہے۔ اسی طرح درآمدی بل کو معقول سطح پر رکھنے اور مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے صنعتی پالیسی میں تسلسل درکار ہے۔ لندن میں عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو اگر ان وسیع تر ترجیحات کے ساتھ جوڑا جائے تو اس کے ذریعے پاکستان کے لیے سرمایہ، ٹیکنالوجی، مالیاتی مہارت اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
معاشی استحکام کا تعلق براہ راست عوامی زندگی سے بھی ہے۔ عام شہری کے لیے معاشی بہتری کا اصل مفہوم صرف اسٹاک مارکیٹ کے اشاریوں یا بیرونی سرمایہ کاری کے اعلانات تک محدود نہیں۔ روزگار کے مواقع، قیمتوں میں استحکام، بجلی اور گیس کے قابل برداشت نرخ، کاروبار میں آسانی، بہتر آمدنی اور سماجی تحفظ وہ پیمانے ہیں جن پر عوام معاشی پالیسی کے نتائج کو پرکھتے ہیں۔ اس لیے موجودہ معاشی استحکام کے مرحلے کو عوامی خوشحالی کے مرحلے میں تبدیل کرنا حکومت کی آئندہ ذمہ داری ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی اور علاقائی حالات پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تیل کی عالمی قیمتیں، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی شرح سود، بیرونی طلب، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات جیسے عوامل پاکستان کے معاشی امکانات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ چنانچہ آج حاصل ہونے والی بہتری کو مستقل رکھنے کے لیے محتاط مالیاتی نظم و ضبط اور دور اندیش معاشی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کے لیے اصلاحات کے تسلسل، ٹیکس بنیاد وسیع کرنے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیتے رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے موجودہ دورہ لندن کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے عالمی مالیاتی مراکز میں اپنے معاشی بیانیے کو براہ راست پیش کیا۔ عالمی اداروں کے نمائندوں کی جانب سے پاکستان میں جاری اصلاحات اور مالیاتی شعبے کے ساتھ روابط بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار حکومت کے لیے ایک حوصلہ افزا اشارہ ضرور ہے، اگرچہ اس دلچسپی کو حقیقی سرمایہ کاری اور طویل المدتی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات درکار ہوں گے۔ عالمی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے وعدوں سے زیادہ اہم مستقل پالیسی، شفافیت اور اصلاحات پر عملدرآمد ہوگا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے لندن دورے سے سامنے آنے والی تصویر یہ ہے کہ پاکستان معاشی بحران کے فوری دباؤ سے نکل کر استحکام، سرمایہ کاری اور ترقی کے مرحلے کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سفر میں حکومت کی معاشی پالیسیوں، وزارت خزانہ کی کوششوں، متعلقہ اداروں کی کارکردگی اور عالمی مالیاتی شراکت داری سب کا اپنا کردار ہے۔ موجودہ پیش رفت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشی فیصلوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے، سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کا ماحول مزید بہتر بنایا جائے اور اصلاحات کے فوائد کو وسیع تر عوامی سطح تک منتقل کیا جائے۔
وزیراعظم کی جانب سے معاشی استحکام کو قومی ترجیح بنانے اور عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروباری مواقع سے آگاہ کرنے کا عمل اسی صورت میں دیرپا نتیجہ دے سکتا ہے جب اس کے ساتھ برآمدات میں اضافہ، ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں بہتری، سرکاری اداروں کی کارکردگی، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی جامع حکمت عملی آگے بڑھے۔ پاکستان کے لیے معاشی استحکام کا اگلا مرحلہ یہی ہونا چاہیے کہ استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کیا جائے۔لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں اس اعتبار سے اہم ہیں کہ پاکستان نے عالمی معاشی برادری کے سامنے اپنے اصلاحاتی سفر اور سرمایہ کاری کے امکانات کو نمایاں کیا ہے۔ شہباز شریف حکومت کے لیے یہ مرحلہ ایک موقع بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ موقع اس لیے کہ عالمی مالیاتی حلقوں میں پاکستان کے بارے میں پیدا ہونے والی دلچسپی کو سرمایہ کاری، روزگار اور ترقی میں تبدیل کیا جا سکے، اور ذمہ داری اس لیے کہ حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر محفوظ رکھا جائے۔ اگر اصلاحات کا عمل اسی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو معاشی نظم و ضبط، سرمایہ کاری اور پیداواری سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کے لیے ایک زیادہ مستحکم معاشی راستہ تشکیل پانے کی گنجائش موجود ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More