jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

سرحد پر پاکستانی شہریوں کی شہادت، بھارت سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ ناگزیر

تجزیہ بی این پی
پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سرحد پر پیش آنے والا ہر ایسا واقعہ جس میں انسانی جان ضائع ہو، محض ایک معمولی سرحدی معاملہ نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات دونوں ممالک کے باہمی تعلقات، خطے کے امن اور عوامی اعتماد تک پھیل جاتے ہیں۔ بیدیاں سیکٹر میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہریوں کی شہادت بھی اسی نوعیت کا ایک افسوسناک واقعہ ہے جس نے ایک مرتبہ پھر یہ بنیادی سوال اٹھا دیا ہے کہ سرحدی کشیدگی کے باوجود عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے۔ پاکستان نے اس واقعے پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا اور فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دو پاکستانی شہریوں کی شہادت بلاشبہ ایک بڑا انسانی سانحہ ہے۔ کسی بھی خاندان کے لیے اپنے پیارے کی اچانک موت کا صدمہ ناقابلِ تلافی ہوتا ہے، اور جب موت سرحدی فائرنگ کے نتیجے میں واقع ہو تو اس کے ساتھ بے یقینی، خوف اور اضطراب بھی جنم لیتا ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق شہید ہونے والے شہری غیر مسلح تھے اور بھارتی فورس کی جانب سے ان کے خلاف طاقت کا استعمال غیر متناسب تھا۔ پاکستان نے بھارتی جانب سے انہیں درانداز قرار دینے کی کوشش کو بھی مسترد کیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی مؤقف میں واقعے کو سرحد عبور کرنے کی کوشش سے جوڑا گیا ہے۔ یہی اختلاف اس امر کو مزید اہم بنا دیتا ہے کہ واقعے کی آزادانہ، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق ایسے واقعات میں کسی ایک فریق کے ابتدائی دعوے کو حتمی حقیقت قرار دینے کے بجائے قابلِ تصدیق شواہد اور شفاف تحقیقات کی ضرورت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں بعض اوقات چند قدم کی جغرافیائی غلطی بھی سنگین نتائج پیدا کرسکتی ہے، لیکن حساس سرحد پر تعینات فورسز سے زیادہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی توقع بھی اسی لیے کی جاتی ہے کہ معمولی واقعہ بڑے تصادم میں تبدیل نہ ہو۔ اگر کوئی شہری واقعی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے تو بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے طے شدہ طریقہ کار، انسانی جان کے احترام اور ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال سے گریز بنیادی اصول ہونے چاہئیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے واضح طور پر مطالبہ کیا ہے کہ بھارت فوری اور شفاف تحقیقات کرے، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مناسب محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے اور تحقیقات کے نتائج سے پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے۔ ساتھ ہی بھارت سے بنیادی انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون، دوطرفہ انتظامات اور سرحدی طریقہ کار کی پاسداری اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ مطالبات محض سفارتی احتجاج نہیں بلکہ اس بنیادی اصول کی یاد دہانی ہیں کہ ریاستی طاقت کا استعمال بھی قانون اور ذمہ داری کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
بھارتی طرزِ عمل پر پاکستان میں پائی جانے والی تشویش کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سرحد پر فائرنگ کے نتیجے میں شہریوں کی جانیں ضائع ہونا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے باعثِ تشویش امر ہے۔ خصوصاً اس وقت جب دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی اعتماد کا فقدان موجود ہو، ایسے واقعات کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگر ہر سرحدی واقعے کو ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی اور سخت بیانات کی نئی وجہ بنا دیا جائے تو اس کا نقصان دونوں ملکوں کے عوام کو ہوگا، جبکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہری سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان نے فوری طور پر سفارتی سطح پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے معاملے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ سفارتی احتجاج کا راستہ اختیار کرنا اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے مسئلے کو قانونی اور سفارتی دائرے میں رکھنے میں مدد ملتی ہے اور کشیدگی کو کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے تحقیقات، جواب دہی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام پر زور دینا ایک ذمہ دار ریاستی ردعمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت جذباتی ردعمل کے بجائے شواہد پر مبنی مؤقف، مسلسل سفارتی رابطے اور سرحدی طریقہ کار کو مؤثر بنانے کی ہے۔ پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے واقعے کے تمام دستیاب شواہد پیش کرنے چاہئیں اور اس امر پر زور دینا چاہیے کہ سرحدی تنازعات میں انسانی جان کا تحفظ بنیادی ترجیح ہونی چاہیے۔ اسی طرح بھارت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ واقعے کے بارے میں اپنے مؤقف کو محض دعووں تک محدود رکھنے کے بجائے ایسی تحقیقات سامنے لائے جن سے دونوں جانب کے تحفظات دور ہو سکیں۔
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک ہیں۔ اس لیے ان کے درمیان کسی بھی سرحدی واقعے کو معمولی سمجھنا دانش مندی نہیں۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ چھوٹے واقعات بعض اوقات بڑے سیاسی اور عسکری بحرانوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود سرحدی رابطہ کاری کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے، مقامی سطح پر رابطے کے ذرائع فعال رکھے جائیں اور ایسے واقعات کے فوری بعد حقائق کی جانچ کے لیے مشترکہ یا قابلِ قبول طریقہ کار اختیار کیا جائے۔
پاکستان کے لیے اس موقع پر ایک مثبت اور اصولی سفارتی حکمتِ عملی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور شہریوں کے تحفظ کے اصول کو مرکزی نکتہ بنائے۔ اس معاملے کو کسی جذباتی محاذ آرائی کے بجائے قانون، شفاف تحقیقات اور جواب دہی کے تناظر میں اٹھایا جائے۔ اس سے پاکستان کا مؤقف زیادہ مؤثر انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش ہو سکتا ہے۔ اگر کسی پاکستانی شہری کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے، اور اگر واقعے کے بارے میں کوئی مختلف حقیقت موجود ہے تو وہ بھی شفاف تحقیقات کے ذریعے سامنے آنی چاہیے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ حقائق کو چھپانے کے بجائے سامنے لایا جائے۔
بھارت کے لیے بھی اس واقعے میں ایک واضح پیغام موجود ہے۔ سرحدی سکیورٹی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن سکیورٹی کے نام پر انسانی جان کے تحفظ کے اصول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی شخص کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے روکنے کے لیے طے شدہ قانونی اور عملی طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔ محض طاقت کے استعمال کو اولین جواب تصور کرنا خطے میں عدم اعتماد کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ذمہ دارانہ سرحدی نظم و نسق کا تقاضا یہی ہے کہ سکیورٹی اور انسانی حقوق دونوں کو ساتھ لے کر چلا جائے۔پاکستانی شہریوں کی شہادت پر ملک بھر میں فطری طور پر غم و غصہ پایا جاتا ہے، مگر قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ اس غم کو قانون اور سفارت کاری کی مضبوط آواز میں تبدیل کیا جائے۔ پاکستان کے لیے سب سے مؤثر راستہ یہی ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہتے ہوئے عالمی اداروں، دوست ممالک اور انسانی حقوق سے متعلق فورمز پر معاملہ مناسب شواہد کے ساتھ اٹھائے۔ دنیا کے بڑے ممالک اور عالمی اداروں کو بھی ایسے واقعات کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ شہریوں کی زندگی کا تحفظ کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی انسانی ذمہ داری ہے۔
اس واقعے کی شفاف تحقیقات نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ بھارت کے لیے بھی اہم ہیں۔ اگر تحقیقات غیر جانب دار اور قابلِ اعتبار ہوں گی تو دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے سوالات کا جواب مل سکے گا۔ ذمہ دار اہلکاروں کا تعین ہوگا، غلطی کی نوعیت واضح ہوگی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں گے۔ اس کے برعکس اگر معاملے کو الزام تراشی یا سیاسی بیان بازی تک محدود رکھا گیا تو عدم اعتماد مزید گہرا ہوگا اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے عام شہری غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں گے۔
پاکستان کی جانب سے بھارت سے دوطرفہ معاہدوں اور سرحدی امور سے متعلق طے شدہ طریقہ کار پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ سرحدی نظم و نسق صرف فوجی نگرانی کا نام نہیں بلکہ اس میں رابطہ کاری، اطلاعات کا تبادلہ، مقامی آبادی کے تحفظ اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے واضح قواعد شامل ہوتے ہیں۔ ان قواعد پر مؤثر عمل دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
یہ امر خوش آئند ہونا چاہیے کہ پاکستان نے اس سانحے کے باوجود سفارتی راستہ اختیار کیا اور تحقیقات و جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو ایک ذمہ دار ریاست کو اختیار کرنا چاہیے۔ قومی وقار کا تحفظ صرف سخت الفاظ سے نہیں بلکہ مضبوط سفارت کاری، ٹھوس شواہد اور اصولی مؤقف سے بھی ہوتا ہے۔ پاکستان کو اسی راستے پر آگے بڑھتے ہوئے عالمی برادری کو یہ باور کرانا چاہیے کہ سرحدی تنازعات کا اصل نقصان ہمیشہ عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور مستقل کشیدگی کی بنیاد بنانے کے بجائے انسانی جان کے احترام اور سرحدی امن کے لیے ایک سبق کے طور پر لیا جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر سرحد پر بسنے والے عوام کو محفوظ زندگی کا حق حاصل ہے۔ کسی بھی اختلاف کا حل فائرنگ نہیں بلکہ مؤثر رابطہ، قانون کی پاسداری اور ذمہ دارانہ سفارت کاری ہے۔
دو پاکستانی شہریوں کی شہادت کا دکھ اپنی جگہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے اور ان کے خاندانوں کا غم پورا ملک محسوس کرتا ہے۔ اب اصل ضرورت یہ ہے کہ اس سانحے کے حقائق سامنے آئیں، ذمہ داری کا تعین ہو اور مستقبل میں ایسے واقعات کا راستہ روکا جائے۔ بھارت اگر شفاف تحقیقات کے ذریعے اپنے طرزِ عمل کی وضاحت کرتا ہے اور ذمہ دارانہ اقدامات اٹھاتا ہے تو اس سے نہ صرف موجودہ تنازع کم ہو سکتا ہے بلکہ سرحدی سطح پر اعتماد سازی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔عالمی برادری کو بھی اس معاملے میں خاموش تماشائی بننے کے بجائے اصولی طور پر شہریوں کے تحفظ کی حمایت کرنی چاہیے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی متعدد تنازعات، عدم اعتماد اور سلامتی کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سرحدی شہریوں کی جانوں کا ضیاع کسی نئے بحران کا نقط? آغاز نہیں بننا چاہیے۔ پاکستان کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ اسی لیے اہم ہے کہ اس کے ذریعے معاملے کو جذبات کے بجائے حقائق، قانون اور انصاف کے دائرے میں رکھا جا سکتا ہے۔آخرکار پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں یہی ہے کہ سرحدوں پر امن قائم رہے، شہری محفوظ رہیں اور اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی روایت مضبوط ہو۔ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے معاملے پر اصولی اور واضح مؤقف برقرار رکھتے ہوئے عالمی برادری سے انصاف اور شفافیت کا تقاضا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف بھارت کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے اور ایسے اقدامات کرے جن سے مستقبل میں کسی بے گناہ شہری کی جان خطرے میں نہ پڑے۔ خطے کا پائیدار امن طاقت کے مظاہرے سے نہیں بلکہ قانون، تحمل، باہمی احترام اور انسانی جان کی حرمت سے قائم ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More