jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

سندھ طاس معاہدہ: بھارت کی آبی ہٹ دھرمی عالمی امن کیلئے خطرے کی گھنٹی

تجزیہ بی این پی
جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل کے اجلاس کے موقع پر ہونے والے خصوصی ایونٹ میں عالمی ماہرین کی جانب سے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دینا پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی اہم عالمی تائید ہے۔ یہ معاملہ محض پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازع نہیں بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری، ریاستوں کے قانونی حقوق اور خطے میں پائیدار امن کے مستقبل سے براہِ راست جڑا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔ عالمی ماہرین نے جس واضح انداز میں بھارت کے آبی اقدامات پر تشویش ظاہر کی اور مستقل عدالت برائے ثالثی کے اگست 2026ء کے فیصلے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے، اس سے یہ امر مزید نمایاں ہوتا ہے کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی بھارتی روش کو محض دوطرفہ معاملہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سندھ طاس معاہدہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی معاملات کو ایک باقاعدہ قانونی فریم ورک کے تحت چلانے کا ذریعہ رہا ہے۔ اس معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگوں، شدید سیاسی کشیدگی، سفارتی اختلافات اور باہمی اعتماد کے بحران کے باوجود یہ معاہدہ ایک طویل عرصے تک برقرار رہا۔ ایسے میں کسی ایک فریق کی جانب سے یکطرفہ طور پر اس کی معطلی کا اعلان عالمی معاہداتی نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے۔ اگر ایک ریاست اپنے مفادات یا سیاسی حالات کے تحت کسی بین الاقوامی معاہدے کو اپنی مرضی سے معطل کرنے کی راہ اختیار کرے تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ بین الاقوامی قانون کے پورے نظام پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق بھارت کی موجودہ آبی حکمت عملی کو اسی وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ایک زیریں ریاست ہونے کے ناطے دریائے سندھ کے نظام پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔ اس پانی سے نہ صرف کروڑوں افراد کی ضروریات وابستہ ہیں بلکہ ملک کی زرعی معیشت، خوراک کی پیداوار، روزگار، صنعت اور مجموعی معاشی استحکام بھی براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ چنانچہ پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی پیدا کرنا یا اس معاملے کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا پاکستان کی سلامتی اور معاشی استحکام پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان پہلے ہی پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں دریاؤں کے قدرتی بہاؤ سے متعلق کسی بھی غیر معمولی اقدام کے اثرات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔ ایک طرف زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، دوسری طرف خوراک کی قیمتوں، دیہی معیشت اور لاکھوں کسان خاندانوں کے روزگار پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے بھارت کے آبی اقدامات کو صرف سفارتی بیان بازی یا معمول کے دوطرفہ اختلاف کے طور پر دیکھنا پاکستان کے بنیادی مفادات سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔
جنیوا میں عالمی ماہرین کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جانا کہ سندھ طاس معاہدہ محض دوطرفہ دستاویز نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ قانونی فریم ورک ہے، خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے پاکستان کو عالمی سطح پر مزید مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا مقدمہ جذباتی نعروں کے بجائے بین الاقوامی قانون، معاہداتی ذمہ داریوں، آبی انصاف اور انسانی ضروریات کی بنیاد پر پیش کیا جائے تو عالمی برادری کے لیے اسے نظرانداز کرنا مشکل ہوگا۔
بھارت کی جانب سے پانی کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا تاثر خطے میں پہلے سے موجود عدم اعتماد کو مزید گہرا کرتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے جہاں دہشت گردی، تجارت، سرحدی معاملات اور کشمیر جیسے مسائل اہم ہیں، وہیں پانی کا مسئلہ بھی مستقبل میں کسی بڑے تنازع کا سبب بن سکتا ہے۔ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اگر اسے سیاسی یا تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس کے نتائج محض سفارتی سطح تک محدود نہیں رہتے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق عالمی برادری کو اس معاملے میں صرف تشویش کے اظہار تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی یقینی بنانے کے لیے مؤثر سفارتی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر عالمی نظام میں بین الاقوامی معاہدوں کی حیثیت برقرار رکھنا مقصود ہے تو کسی بھی ملک کو یکطرفہ اقدام کے ذریعے ایک قائم شدہ قانونی فریم ورک کو غیر مؤثر بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ خصوصاً ایسے معاہدے جو کروڑوں انسانوں کی زندگی، خوراک اور معاشی سلامتی سے وابستہ ہوں، ان کی خلاف ورزی کے ممکنہ اثرات کہیں زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔
اس معاملے میں پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ سفارتی محاذ پر اپنی حکمت عملی کو مزید فعال اور مربوط بنائے۔ اقوام متحدہ، عالمی قانونی اداروں، آبی ماہرین اور دوست ممالک کے سامنے مسئلے کو مسلسل اور ٹھوس شواہد کے ساتھ پیش کیا جائے۔ پاکستان کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ پانی کے منصفانہ استعمال اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا حامی ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرتا ہے جو دریاؤں کے قدرتی بہاؤ یا طے شدہ حقوق کو سیاسی دباؤ کے تابع بنائے۔ساتھ ہی پاکستان کو اپنے داخلی آبی انتظام پر بھی غیر معمولی توجہ دینا ہوگی۔ صرف بھارتی اقدامات پر احتجاج کافی نہیں۔ پانی کے ذخائر میں اضافہ، ڈیموں کی مؤثر تعمیر و دیکھ بھال، نہری نظام کی بہتری، پانی کے ضیاع میں کمی، جدید زرعی طریقوں کا فروغ اور زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال کی روک تھام بھی قومی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ بیرونی خطرے کا مؤثر مقابلہ اسی وقت ممکن ہے جب ملک اپنے داخلی آبی نظام کو مضبوط بنائے۔
بھارت کے لیے بھی یہ حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ پانی کسی ایک ریاست کی ملکیت نہیں بلکہ مشترکہ قدرتی وسائل کے انتظام سے متعلق ایک حساس معاملہ ہے۔ خطے میں پائیدار امن، اقتصادی ترقی اور باہمی تعاون کے لیے ضروری ہے کہ پانی کے معاملات کو تصادم کے بجائے مذاکرات، قانون اور باہمی اعتماد کے ذریعے حل کیا جائے۔ آبی دباؤ سے وقتی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش مستقبل میں پورے خطے کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
عالمی ماہرین کی جانب سے بھارت کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی یاد دہانی ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اصل امتحان اب عالمی برادری کے عملی کردار کا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے واقعی خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں تو انہیں ایسے اقدامات کا نوٹس لینا ہوگا جو پانی جیسے بنیادی انسانی وسیلے کو تنازع اور دباؤ کا ذریعہ بناتے ہیں۔ عالمی معیشت بھی اس حقیقت سے الگ نہیں کہ جنوبی ایشیا میں پانی کا بحران زرعی پیداوار، خوراک کی قیمتوں، تجارت اور معاشی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔پاکستان کو اس موقع پر جذباتی ردعمل کے بجائے قانونی، سفارتی اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ عالمی فورمز پر مضبوط دلائل، مستند شواہد اور بین الاقوامی قانون کے تقاضوں کو بنیاد بنا کر مقدمہ پیش کیا جائے اور ساتھ ہی بھارت کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکراتی راستے کو مکمل طور پر بند نہ کیا جائے۔ کیونکہ بالآخر پانی کا مسئلہ جنگ نہیں بلکہ قانون، تعاون اور ذمہ دارانہ رویے کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔
سندھ طاس معاہدے کا تحفظ صرف پاکستان کے آبی حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ اور خطے کے امن کا سوال بھی ہے۔ اگر آج پانی کے طے شدہ حقوق کو یکطرفہ فیصلوں کے ذریعے متنازع بنایا گیا تو کل دیگر خطوں میں بھی ایسے تنازعات کو تقویت مل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنیوا میں عالمی ماہرین کی تشویش کو سنجیدگی سے لینا اور اس معاملے پر عالمی برادری کی مؤثر توجہ حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ پانی کو جنگ اور دباؤ کا ہتھیار نہیں بلکہ زندگی، زراعت اور خطے کے مشترکہ مستقبل کی بنیاد سمجھا جانا چاہیے۔ یہی رویہ جنوبی ایشیا کو مزید کشیدگی سے بچانے اور دیرپا امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More