jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان میں گندم کی امدادی قیمت اور کسان کا اعتماد

تجزیہ بی این پی
پاکستان کی غذائی سلامتی کا سب سے اہم ستون گندم ہے، مگر بدقسمتی سے اس بنیادی فصل کے حوالے سے ہماری پالیسی سازی آج بھی مستقل مزاجی، بروقت فیصلوں اور مؤثر مارکیٹ مینجمنٹ کی محتاج دکھائی دیتی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے آئندہ ربیع سیزن کے لیے گندم کی کم از کم امدادی قیمت پانچ ہزار روپے فی من یا اس سے زائد مقرر کرنے اور ملک بھر کے کسانوں کے لیے سبسڈی کا یکساں نظام وضع کرنے کی سفارش اسی بنیادی ضرورت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے سب سے پہلے کسان کو اس کی محنت کا مناسب اور یقینی معاوضہ ملنے کا اعتماد فراہم کرنا ہوگا۔پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ ہماری معیشت، روزگار، دیہی زندگی اور خوراک کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ گندم اس زرعی نظام میں محض ایک فصل نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔ شہری آبادی کے لیے روٹی کی قیمت سے لے کر دیہی معیشت میں کسان کی آمدن تک، گندم کی پیداوار اور اس کی قیمت براہ راست عام آدمی کی زندگی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گندم کی قیمت کا تعین صرف زرعی پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور عوامی فلاح سے جڑا ہوا قومی فیصلہ ہے۔
ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ گندم کے معاملے میں حکومتیں اکثر بحران کے بعد متحرک ہوتی ہیں۔ جب کسان کو فصل تیار کرنے کے لیے بیج، کھاد، زرعی ادویات، پانی، بجلی، ڈیزل اور دیگر مداخل کی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا ہوتا ہے تو اسے سب سے اہم سوال یہی درپیش ہوتا ہے کہ فصل تیار ہونے کے بعد اسے مناسب قیمت ملے گی یا نہیں۔ اگر اس سوال کا جواب واضح نہ ہو تو کسان اپنی زمین پر ایسی فصلوں کو ترجیح دینے لگتا ہے جن سے اسے زیادہ یقینی آمدن کی توقع ہو۔ نتیجتاً گندم کی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور بعد میں حکومت کو درآمد کے ذریعے طلب پوری کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔رواں سال بھی گندم کی کٹائی کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں کے حوالے سے مسائل سامنے آنے لگے اور حکومت کو ساڑھے سات لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ یہ صورت حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ محض فصل پیدا کر لینا کافی نہیں، بلکہ پیداوار، ذخیرہ، خریداری، ترسیل اور مارکیٹ میں دستیابی کا مربوط نظام بھی ضروری ہے۔ اگر ملک میں گندم پیدا ہونے کے باوجود چند ماہ بعد قلت محسوس ہونے لگے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ مسئلہ صرف پیداوار کا نہیں بلکہ انتظامی منصوبہ بندی کا بھی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق گندم کے شعبے میں سب سے بنیادی ضرورت پالیسی کے تسلسل کی ہے۔ کسان کو بوائی کے وقت یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حکومت اس کی فصل کے لیے کیا قیمت مقرر کر رہی ہے، خریداری کا طریقہ کار کیا ہوگا اور مارکیٹ میں اسے کس حد تک تحفظ حاصل ہوگا۔ امدادی قیمت اگر بوائی کے بعد یا فصل تیار ہونے کے قریب اعلان کی جائے تو اس کا فائدہ محدود رہ جاتا ہے، کیونکہ اس وقت کسان اپنی فصل کا فیصلہ پہلے ہی کر چکا ہوتا ہے۔ اس لیے آئندہ ربیع سیزن کے لیے امدادی قیمت کا اعلان بوائی سے پہلے کیا جانا چاہیے تاکہ کسان کو پیداوار کا فیصلہ کرتے ہوئے مکمل معاشی تصویر سامنے ہو۔
پانچ ہزار روپے فی من یا اس سے زائد امدادی قیمت کی سفارش کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ قیمت مقرر کرتے وقت صرف ایک عدد سامنے رکھ دینا کافی نہیں۔ حکومت کو گندم کی فی ایکڑ پیداواری لاگت، کھاد اور بیج کی قیمت، آبپاشی کے اخراجات، ڈیزل اور بجلی کے نرخ، زرعی مشینری کے استعمال، مزدوری اور کسان کے دیگر اخراجات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اگر امدادی قیمت حقیقی پیداواری لاگت سے ہم آہنگ نہ ہو تو سرکاری اعلان کسان کے لیے عملی تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس ایسی قیمت جو کسان کو معقول منافع کی ضمانت دے، گندم کی کاشت میں دلچسپی بڑھا سکتی ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو سبسڈی کا ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں میں کسان ایک جیسے معاشی حالات میں کام نہیں کرتے۔ کہیں پانی کی دستیابی بہتر ہے تو کہیں آبپاشی کا مسئلہ ہے، کہیں زمین کی پیداواری صلاحیت زیادہ ہے اور کہیں لاگت زیادہ۔ ایسے حالات میں سبسڈی کا ایک ایسا قومی نظام ضروری ہے جو شفاف، قابل رسائی اور کسان دوست ہو۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے ملک بھر کے کسانوں کے لیے سبسڈی کا یکساں نظام وضع کرنے کی سفارش اس لحاظ سے اہم ہے کہ زرعی شعبے میں صوبائی فرق کے باوجود کسانوں کو بنیادی سطح پر یکساں پالیسی تحفظ مل سکے۔
تاہم سبسڈی کو محض اعلان تک محدود رکھنے کے بجائے اس کی ترسیل کا مؤثر نظام بھی بنایا جانا چاہیے۔ ماضی میں مختلف شعبوں میں سبسڈی کے فوائد حقیقی مستحقین تک نہ پہنچنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں کا ڈیٹا مرتب کرکے، زمین اور فصل کے رقبے کی تصدیق کرکے اور براہ راست مالی معاونت فراہم کرکے اس نظام کو زیادہ شفاف بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے ایک طرف کسان کو بروقت مدد ملے گی اور دوسری طرف حکومتی وسائل کے غلط استعمال کے امکانات کم ہوں گے۔گندم کی پالیسی میں ذخیرہ اندوزی اور سرکاری ذخائر کا معاملہ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گندم کی پیداوار اچھی ہونے کے باوجود اگر مناسب ذخائر موجود نہ ہوں تو چند ماہ بعد مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف اگر حکومت ضرورت سے زیادہ گندم خرید لے اور اسے مناسب طریقے سے ذخیرہ نہ کیا جائے تو خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور گندم ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے مستقبل کی پالیسی میں قومی، صوبائی اور نجی ذخیرہ گاہوں کی استعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ ذخائر کی حقیقی ضرورت کا سائنسی انداز میں تعین بھی ضروری ہے۔
تجزیہ بی این پی یہ سمجھتا ہے کہ گندم کے بحران کا مستقل حل صرف امدادی قیمت بڑھانے میں نہیں بلکہ پوری زرعی منڈی کو بہتر بنانے میں پوشیدہ ہے۔ کسان کو صرف گندم کی قیمت نہیں چاہیے؛ اسے بیج سے منڈی تک ایک ایسا ماحول درکار ہے جہاں اس کی لاگت قابو میں ہو، فصل کی پیداوار بہتر ہو، منڈی میں شفاف مقابلہ ہو اور اسے اپنی پیداوار فروخت کرنے کے لیے غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اگر زرعی منڈی منظم، شفاف اور مسابقتی ہوگی تو کسان زیادہ پیداوار کی طرف راغب ہوگا اور اس کا فائدہ بالآخر صارف کو بھی ملے گا۔
اس حوالے سے حکومت کو درمیانی مدت کے بجائے کم از کم پانچ سالہ گندم پالیسی مرتب کرنی چاہیے۔ ہر سال نئی پالیسی، نئے اعلانات اور بحران پیدا ہونے کے بعد ہنگامی فیصلے نہ تو کسان کے لیے مفید ہیں اور نہ صارف کے لیے۔ پانچ سالہ پالیسی میں امدادی قیمت کے تعین کا واضح طریقہ، پیداواری لاگت کے جائزے کا نظام، سبسڈی کی نوعیت، سرکاری ذخائر کی مطلوبہ سطح، درآمد و برآمد کے اصول اور صوبائی و وفاقی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کا جامع فریم ورک شامل ہونا چاہیے۔اگر کسی سال ملک میں گندم کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہو تو حکومت کو برآمد کے لیے بروقت فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ کسان کو اپنی پیداوار رکھنے کے باعث نقصان نہ ہو۔ اسی طرح اگر موسمی حالات، پانی کی کمی یا کسی دوسری وجہ سے پیداوار میں کمی کا امکان ہو تو درآمد کا فیصلہ بحران پیدا ہونے سے پہلے ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں زرعی اجناس کی مارکیٹ میں طلب، رسد اور مستقبل کی صورتحال کا اندازہ لگا کر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کو بھی گندم کے شعبے میں اسی نوعیت کی پیشگی منصوبہ بندی اختیار کرنا ہوگی۔
گندم کی قیمت کے ساتھ آٹے کی قیمت کا مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے۔ حکومت کے لیے یہ توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے کہ کسان کو مناسب قیمت بھی ملے اور عام صارف کو روٹی اور آٹا ناقابل برداشت مہنگائی کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔ اس کا حل صرف کسان کی قیمت کم رکھنے میں نہیں بلکہ پیداواری لاگت کم کرنے، ذخیرہ اور ترسیل کے اخراجات گھٹانے، مارکیٹ میں غیر ضروری منافع خوری روکنے اور ضرورت مند طبقات کو ہدفی ریلیف دینے میں ہے۔ اگر حکومت کسان کو دبانے کی کوشش کرے گی تو اگلے سال پیداوار متاثر ہوسکتی ہے، اور اگر صارف کو مکمل طور پر مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گی تو مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ دانشمندانہ پالیسی دونوں کے مفادات میں توازن قائم کرنے کا نام ہے۔
اس مقصد کے لیے زرعی تحقیق کو بھی گندم پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور زمین کی بدلتی ہوئی کیفیت کے پیش نظر زیادہ پیداوار دینے والی اور کم پانی استعمال کرنے والی اقسام کی تیاری ناگزیر ہے۔ کسان کو جدید بیج، بہتر زرعی طریقوں اور سائنسی رہنمائی تک آسان رسائی دی جائے تو فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔ صرف زیر کاشت رقبہ بڑھانے کے بجائے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی حکمت عملی زیادہ پائیدار ثابت ہوسکتی ہے۔حکومت کو اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ کسان صرف قومی غذائی تحفظ کا ذریعہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کا فعال فریق ہے۔ اگر کسان مسلسل نقصان میں رہے گا تو زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کم ہوگی، نوجوان نسل زراعت سے دور ہوگی اور دیہی معیشت کمزور پڑے گی۔ اس کے برعکس اگر کسان کو منافع بخش اور قابل پیش گوئی مارکیٹ ملے تو وہ بہتر بیج خریدے گا، زیادہ کھاد استعمال کرے گا، جدید مشینری اختیار کرے گا اور پیداوار بڑھانے پر سرمایہ لگائے گا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ گندم کو محض ہر سال آنے والے ایک انتظامی مسئلے کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے قومی غذائی سلامتی کے مستقل منصوبے کا حصہ بنایا جائے۔ امدادی قیمت کا بروقت اعلان، پانچ سالہ پالیسی، یکساں اور شفاف سبسڈی، مناسب سرکاری و نجی ذخائر، مؤثر مارکیٹ نگرانی، جدید زرعی تحقیق اور وفاق و صوبوں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری وہ اقدامات ہیں جو گندم کے بحران کو مستقل طور پر ختم کرنے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
پاکستان کے کسان کو سب سے زیادہ ضرورت یقین کی ہے؛ اسے معلوم ہو کہ وہ آج جو بیج زمین میں ڈال رہا ہے، فصل تیار ہونے پر اس کی محنت ضائع نہیں ہوگی۔ اگر حکومت بوائی سے پہلے واضح امدادی قیمت مقرر کرتی ہے، زرعی مداخل کی لاگت کم کرنے میں مدد دیتی ہے اور منڈی کو شفاف بناتی ہے تو گندم کی پیداوار میں اضافہ صرف کسان کے مفاد میں نہیں ہوگا بلکہ پورے ملک کی غذائی سلامتی مضبوط ہوگی۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بحران آنے کا انتظار کرنے کے بجائے بحران سے پہلے منصوبہ بندی کی جائے۔ ایک مضبوط، منظم اور کسان دوست زرعی منڈی ہی پاکستان کو گندم کی قلت، غیر ضروری درآمد اور آٹے کے بحران کے بار بار آنے والے چکر سے نکال سکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More