دالبندین(نمائندہ خصوصی) ضلع چاغی کے مرکزی شہر دالبندین سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کی بڑی تعداد نے شہر کے مختلف حساس مقامات پر حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں علاقے میں شدید کشیدگی اور خوف و ہراس کی فضا قائم ہوگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے دالبندین تھانے پر حملہ کرکے اسے اپنے کنٹرول میں لینے کے بعد عمارت کو نذر آتش کردیا ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور بھاری اور جدید اسلحے سے لیس تھے، جنہوں نے اچانک حملہ کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور تھانے سمیت دیگر سرکاری تنصیبات کا گھیرا کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں، جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے تھانے میں موجود اسلحہ اور گولہ بارود بھی قبضے میں لے لیا، جبکہ متعدد قیدیوں کو رہا کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

تاہم ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق یا تردید نہیں کی گئی مقامی ذرائع کے مطابق دالبندین کے نواحی علاقوں کلی خدا رحیم اور بائی پاس کے اطراف بھی جھڑپوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں نامعلوم مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی برقرار بتائی جارہی ہے۔

ان علاقوں میں شہریوں نے گھروں تک محدود رہنے کو ترجیح دی جبکہ بازار اور کاروباری مراکز جزوی طور پر بند ہوگئے واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری فوری طور پر دالبندین اور گردونواح کی جانب روانہ کردی گئی ہے۔

حکام کے مطابق صورتحال کو قابو میں لانے اور حملہ آوروں کے خلاف آپریشن کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں ذرائع کے مطابق اہم سرکاری عمارتوں، داخلی و خارجی راستوں اور حساس تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔

علاقے میں مواصلاتی نظام اور نقل و حرکت بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں مقامی شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دالبندین اور دیگر حساس علاقوں میں امن و امان کی صورتحال فوری طور پر بحال کی جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات جلد قابو میں لانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور مزید تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *