سینئر تجزیہ کار حبیب اکرم کے مطابق پاکستان میں ایک نئی آئینی انجینئرنگ کی تیاری جاری ہے، جس کے ذریعے ملک کے وفاقی ڈھانچے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ ترامیم آئیں تو ان کے اثرات صرف سیاست نہیں بلکہ صوبائی شناخت، وسائل اور جمہوری توازن پر بھی پڑیں گے۔
مجوزہ تبدیلیاں کیا ہیں؟
1️⃣ این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی
وسائل کی تقسیم صوبوں کے بجائے وفاق کے حق میں کرنے کی بات ہو رہی ہے، جس سے صوبائی مالی خودمختاری کمزور ہو سکتی ہے۔
2️⃣ آرٹیکل 239(4) میں ترمیم
اس شق کے خاتمے سے وفاق صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیر بھی نئے صوبے بنا سکے گا یا حدود تبدیل کر سکے گا۔ ناقدین کے مطابق اس کا مقصد بڑے صوبوں کی سیاسی طاقت توڑنا ہے۔
3️⃣ بلدیاتی نظام کو آئین کا مستقل حصہ بنانا
صوبوں سے بلدیاتی نظام سازی کا اختیار واپس لے کر ایک مرکزی طرز کا نظام نافذ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
4️⃣ ووٹ ڈالنے کی عمر بڑھانے کی تجویز
18 سال سے عمر بڑھا کر 22 یا 25 سال کرنے کی بحث جاری ہے، جسے بعض حلقے پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان ووٹرز کو محدود کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
حبیب اکرم کے مطابق پاکستان عام ملک نہیں بلکہ تاریخی صوبوں کے وفاق سے بنا تھا، اس لیے صوبوں کی حیثیت صرف انتظامی نہیں بلکہ آئینی اور تاریخی بھی ہے۔ ان کے مطابق اگر صوبوں کی حدود اور اختیارات مرکز کے ہاتھ میں چلے گئے تو مستقبل میں سیاسی ضرورت کے مطابق صوبوں کو توڑنے اور جوڑنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔
اصل سوال یہی ہے:
کیا یہ واقعی گورننس کی بہتری ہے یا خوف عمران خان میں ایک نئی سیاسی انجینر نگ؟
