اسلام آباد ( پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تحریک انصاف کے یہ اراکین اُٹھ جائیں تو یہ کورم پورا نہیں ہوسکتا، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو اور آزاد صحافت یہ ہماری لائف لائن ہے ۔

اس کی مضبوطی کے لیے آپ کیا چاہتے ہیں ہم آپ کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں ۔ خدا کو مانیں پاکستان پر رحم کریں ۔ اقبال آفرید ی صاحب بولنا چاہتا تھا آپ نے موقع نہیں دیا وہ کاغذ پھاڑ کر چلے گئے ۔ یہ اراکین بیٹھے ہوئے ہیں انہیں بولنے کا موقع دیں۔ اگر بجٹ اجلاس میں اپوزیشن نہ ہو اور آپ پاس کردینگے تو دنیا کیا کہے گی ۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ عمران خان جیل میں ہے اُنہیں اپنے معالجین کے مطابق فلاں ہسپتال لیجائیں، ان کی ملاقاتوں پر پابندی ہٹا دیں۔ یہ درجہ حرارت کم ہو جائیگا۔ لیکن اگر آپ نہیں کرینگے تو بہت بڑی تحریک چلیں گی ملک میں اور آپ کو پھر پچھتاوا ہوگا۔

محمودخان اچکزئی نے کہا کہ ہم سب سے حلف لیا گیا ہے کہ ہم آئین کا دفاع کرینگے ، لیکن آئین کا جس طرح حلیہ بگاڑا جارہا ہے ، صحافت کے پر کاٹ دیئے گئے یہ ہم کہیں نہیں ہونے دینگے۔ غلطیاں انسانوں سے ہوتی ہیں آئیں ہم سے امداد مانگیں ، جمہوریت ، پارلیمنٹ کی طرف آئیں ۔ ملک میں جو کچھ ہورہا میں تو کہہ نہیں سکتا یہ کچے کے واقعات ، یہ کیسی حکمرانی ہوں گی؟ ہمارے دو چار ساتھی بولنا چاہتے ہیں ہم بائیکاٹ پر ہیں اور ہمارا بائیکاٹ عید کے بعد بھی جاری رہے گاجب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیئے جائیں گے۔

دریں اثناء پارلیمنٹ ہائوس کے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا پر یہ بات آئی تھی کچے کے ڈاکوئوں کا یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ اگر اس قسم کی بدمعاشیاں چھوڑ دی جائے پھر یہ ملک کیسے نہیں چل سکے گا اگر وہاں کے حکمران کچھ نہیں کرسکتے تو پھر پشتونخوا وطن کے لوگ اپنا فیصلہ خود کرلیں گے۔

مزید برآں پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں اپوزیشن الائنس کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد تحریک تحفظ آئین پاکستان سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی چئیرمین قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت کے بارے میں جو مشکلات ہیں، ان کی ملاقاتوں کے بارے میں جو قدغنیں لگی ہیں اور ہزاروں گرفتار شدگان کے ساتھ جو غیر انسانی رویہ ہے، ملک میں گرانی اور مہنگائی اور بھوک و افلاس کی جو حالت ہے، ان سب پہ ہم نے ریکویسٹ کی تھی۔ میں مشکور ہوں، علامہ راجہ ناصر عباس صاحب سمیت ہم مشکور ہیں کہ چیئرمین گوہر صاحب اور تحریک انصاف کے اکابرین نے، بہت بڑی تعداد میں سینیٹرز اور قومی اسمبلی کے ممبران نے آ کے بات کی۔ تقریبا اس پہ ہم پانچ سات گھنٹے بحث کرتے رہے۔

اس میں ہم نے کچھ فیصلے کیے ہیں۔ فیصلے وہی ہیں کہ ہم تحریک چلائیں گے، اپنی مرضی سے چلائیں گے۔ ہماری تحریک میں نہ کسی کو گالی دی جائے گی، نہ کسی کو برا بھلا کہا جائے گا، نہ کسی بابل کی بات ہو گی لیکن آئین کا دفاع، آئین جس نے اس ملک کو جوڑے رکھا ہوا ہے، جو متفقہ آئین تھا اس کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا ہے، پرخچے اڑائے گئے، جس انداز میں عدالتوں کے پر کاٹے گئے، جس انداز میں پارلیمنٹ کو کمزور کیا گیا، اردو کا شعر ہے، ‘اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے’۔

ہمیں دکھ ہوتا ہے، اس سارے عمل میں ہماری وہ بہادر پارٹیاں جن کا، جن کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ یہ جمہوریت کو مضبوط کرنے والی پارٹیاں ہیں، ‘ووٹ کو عزت دو’ یا ہمارے باقی دوست، ان کے ووٹوں سے، ان کے ووٹوں سے، ان کی متفقہ آئین کی پر نکالے گئے، کمزور کیا گیا، پارلیمنٹ کو بالکل ربر اسٹیمپ کے، اس سے بھی نیچے لے آیا گیا۔ ان حالات میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے ‘تحریک تحفظ آئین پاکستان’ جس کا، جس کا تحریک انصاف بھی ایک حصہ ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے اپنے اس ملک سے محبت کی ہے، ہم انڈر اوتھ ہیں کہ ہم نے آئین کا دفاع کرنا ہے، ہم نے عدالتوں کا دفاع کرنا ہے، ہم نے انصاف کا ساتھ دینا ہے، بے انصافی کی مخالفت کرنی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *