چاغی: ضلع چاغی کے عوامی حلقوں نے ریکوڈک اور سائندک کو ضلع چاغی سے الگ کرکے کسی نئے انتظامی یونٹ، خصوصاً ضلع تفتان یا ماشکیل کے ساتھ منسلک کرنے کی مبینہ تجویز کو چاغی کے عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع چاغی کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے چاغی ون اور چاغی ٹو کے دو حلقوں میں تقسیم کیا جائے۔

اہلیانِ چاغی کے مطابق ریکوڈک اور سائندک صرف دو معدنی منصوبے نہیں بلکہ ضلع چاغی کی شناخت، تاریخ، معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی بنیاد ہیں۔ ان منصوبوں کو چاغی سے کاٹ کر کسی نئے ضلع یا انتظامی یونٹ کا حصہ بنانا یہاں کے عوام کی تاریخی ملکیت، معاشی حقوق اور اجتماعی مفادات کو متاثر کرنے کے مترادف ہوگا۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریکوڈک اور سائندک کی پہاڑیاں صدیوں سے چاغی کے قبائل، مقامی آبادی اور اس خطے کی تاریخی سرزمین سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہاں کے لوگوں نے دہائیوں تک مشکلات، پسماندگی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باوجود ان وسائل کی حفاظت کی۔ آج جب ان منصوبوں سے سونا، تانبا، رائلٹی، روزگار اور ترقیاتی فنڈز کی امید وابستہ ہے تو انہیں چاغی سے الگ کرنا علاقے کی وراثت چھیننے کے برابر ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ چاغی پہلے ہی بلوچستان کے پسماندہ ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے، جہاں نہ بڑی صنعت ہے، نہ زراعت کے وسیع مواقع، نہ روزگار کے مناسب ذرائع اور نہ ہی بنیادی انفراسٹرکچر مکمل ہے۔ ایسے حالات میں اگر ریکوڈک اور سائندک کی رائلٹی، ترقیاتی فنڈز اور مستقبل کے معاشی فوائد چاغی سے باہر منتقل کیے گئے تو ضلع چاغی معاشی طور پر مزید کمزور ہو جائے گا۔

عوامی حلقوں نے واضح کیا کہ چاغی کے لوگوں نے ہمیشہ اپنے وسائل کا مقدمہ پرامن، جمہوری اور آئینی انداز میں لڑا ہے۔ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر، مقامی قیادت اور قبائل سے مشاورت کیے بغیر حدود بندی تبدیل کرنا جمہوری اصولوں اور عوامی رائے کی نفی ہے۔

بیان کے مطابق ریکوڈک اور سائندک سے مستقبل میں ڈاؤن اسٹریم انڈسٹری، ٹریننگ سینٹرز، مقامی روزگار، کاروباری مواقع اور ترقیاتی منصوبے متوقع ہیں، جن پر سب سے پہلا حق چاغی کے نوجوانوں اور مقامی آبادی کا ہے۔ ضلع تبدیل کرنے کا مطلب چاغی کے بچوں، نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنانا ہے۔

اہلیانِ چاغی نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر حد بندی کا جواز اس وقت قابل قبول نہیں ہوسکتا جب اس کے نتیجے میں ضلع چاغی کو اس کے سب سے بڑے اثاثوں سے محروم کیا جائے۔ چاغی کے وسائل چاغی کے عوام کا حق ہیں، اور ریکوڈک و سائندک چاغی کا دل ہیں؛ دل نکال کر جسم کو زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔

عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور رکن صوبائی اسمبلی چاغی میر محمد صادق سنجرانی سے اپیل کی کہ ضلع چاغی کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے حلقہ چاغی ون اور حلقہ چاغی ٹو میں تقسیم کیا جائے، تاکہ ضلع کے تمام محروم علاقوں کو ریکوڈک اور سائندک کی رائلٹی، ترقیاتی فنڈز اور روزگار کے مواقع سے برابر حصہ مل سکے۔

اہلیانِ چاغی نے مطالبہ کیا کہ چاغی کے وسائل کو چاغی ہی کے عوام کی ترقی، تعلیم، صحت، روزگار، پانی، سڑکوں اور بنیادی سہولیات پر خرچ کیا جائے، اور کسی بھی انتظامی فیصلے سے پہلے مقامی عوام، قبائلی عمائدین، منتخب نمائندوں اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لیا جائے۔

اہلیانِ چاغی کا واضح مؤقف ہے کہ ریکوڈک اور سائندک ضلع چاغی کی شناخت، معیشت اور مستقبل ہیں؛ انہیں چاغی سے الگ کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *