پشاور (اے ایف بی)خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے معاونِ خصوصی برائے سیاحت و ثقافت ملک عدیل اقبال کے ہمراہ ایک وڈیو پیغام میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر صوبے میں ریکارڈ تعداد میں سیاحوں کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عیدالفطر ہو یا عیدالاضحیٰ، گزشتہ کئی برسوں سے ملک بھر کے سیاحوں سمیت غیر ملکی سیاح بھی خیبر پختونخوا کے حسین سیاحتی مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سیاحوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ خیبرپختونخوا میں بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ صوبہ نہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہے بلکہ سیاحوں کے لیے محفوظ ترین مقامات میں بھی شمار ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نئے سیاحتی مقامات کو متعارف کرانے اور سیاحت کے شعبے کو مزید ترقی دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

اس موقع پر معاونِ خصوصی برائے سیاحت و ثقافت ملک عدیل اقبال نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے وژن کے تحت عیدالاضحیٰ کے دوران سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹورازم پولیس کے اہلکاروں کی عید کی چھٹیاں منسوخ کی گئی تھیں جبکہ مختلف سیاحتی مقامات پر قائم سیاحتی سہولت مراکز بھی عید کے دوران مکمل طور پر فعال رہے۔

انہوں نے کہا کہ 27 مئی سے 31 مئی تک بشمول ضم شدہ اضلاع، خیبرپختونخوا کے مختلف سیاحتی مقامات پر مجموعی طور پر 12 لاکھ 67 ہزار 568 سیاحوں نے سیروتفریح کی، جن میں تقریباً 200 غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق عیدالاضحیٰ کے دوران وادی سوات میں سب سے زیادہ 4 لاکھ 16 ہزار 794 سیاح ریکارڈ کیے گئے، جبکہ وادی ناران میں 1 لاکھ 87 ہزار 954 اور گلیات میں 1 لاکھ 48 ہزار 828 سیاحوں نے سیروتفریح کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ضم شدہ اضلاع میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 94 ہزار 682 سیاح مختلف سیاحتی مقامات پر آئے۔

جنوبی وزیرستان میں 1 لاکھ 44 ہزار جبکہ ضلع اورکزئی میں 92 ہزار 112 سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔

ملک عدیل اقبال نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے دوران سیاحتی سرگرمیوں کے باعث صوبے کو تقریباً 8 سے 12 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی ریکارڈ آمد خیبرپختونخوا حکومت کی سیاحت دوست پالیسیوں، مؤثر انتظامات، ٹورازم پولیس کی خدمات اور سیاحوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے، جس سے نہ صرف سیاحت کے شعبے بلکہ مقامی معیشت کو بھی مزید استحکام حاصل ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *