پٹرول پمپ خشک، طویل قطاریں برقرار، شہریوں کے درمیان جھگڑوں اور تلخ کلامی کے واقعات میں اضافہ
کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )صوبائی دارالحکومت کوئٹہ ایک بار پھر شدید پٹرول بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں پٹرول کی قلت جمعہ کے روز ساتویں دن میں داخل ہو گئی۔
شہر بھر کے بیشتر پٹرول پمپوں پر پٹرول کی عدم دستیابی نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی ہے شہر کے مختلف علاقوں میں صبح سویرے ہی شہری پٹرول کے حصول کے لیے پمپوں کے باہر جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں، تاہم بیشتر مقامات پر انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
متعدد پٹرول پمپوں پر “پٹرول دستیاب نہیں” اور “سٹاک ختم ہو گیا” کے بورڈ آویزاں ہیں، جبکہ جہاں محدود مقدار میں پٹرول دستیاب ہوتا ہے وہاں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق کئی مقامات پر پٹرول حاصل کرنے کے لیے شہریوں کے درمیان تلخ کلامی اور جھگڑوں کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔
شدید گرمی اور طویل انتظار نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ ملازمین، مزدور، طلبہ، مریضوں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر سفر اور معمولات زندگی جاری رکھنے کے لیے ایندھن درکار ہوتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بحران کے باعث سرکاری و نجی دفاتر میں حاضری متاثر ہو رہی ہے جبکہ تعلیمی اداروں میں آنے والے طلبہ اور اساتذہ بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید برقرار رہی تو معاشی اور سماجی سرگرمیاں مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا جوائنٹ روڈ، سریاب روڈ، نواں کلی اور ارباب کرم خان روڈ سمیت مختلف علاقوں میں مہنگے داموں فروخت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں پٹرول بحران کے دوران مبینہ طور پر بلیک مارکیٹنگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے مختلف علاقوں جن میں جوائنٹ روڈ، ارباب کرم خان روڈ، سریاب روڈ، نواں کلی اور دیگر علاقے شامل ہیں، وہاں ایرانی پٹرول سرکاری نرخوں کے بجائے 700 سے 750 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مصنوعی قلت پیدا کرکے بعض عناصر غیر قانونی منافع خوری میں مصروف ہیں اور عوام کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
پٹرول کی قلت کے باعث بہت سے افراد اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگے داموں ایندھن خریدنے پر مجبور ہیں ،
بعض علاقوں میں محدود مقدار میں دستیاب پٹرول بھی خفیہ طور پر ذخیرہ کرکے زیادہ قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صنعت و تجارت اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ادھر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی پٹرول بحران پر شدید تشویش پائی جاتی ہے اور شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر صوبے میں پٹرول کی فراہمی کا مناسب نظام موجود ہے تو پھر بار بار پیدا ہونے والے بحران کی وجوہات کیا ہیں اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی پٹرول بحران کا اثر صرف کوئٹہ تک محدود نہیں بلکہ ضلع مستونگ میں بھی ایرانی پٹرول کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے پٹرول بحران کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، ٹرانسپورٹرز کو اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ مزدور طبقہ روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہیمریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچنے میں دشواری پیش آ رہی ہے جبکہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے لگی ہیں ادھر شہر میں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور قلت کے خلاف عوامی ردعمل میں بھی شدت آ رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور بحران سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو پولیس نے حراست میں لے لیا، جس کے بعد یہ معاملہ بھی عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
