ریاستی رٹ، عوامی تحفظ اور قانونی نظم و ضبط کی جانب ایک اہم پیش رفت
تجزیہ بی این پی
ہر خودمختار ریاست کا بنیادی فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں، داخلی سلامتی، قانونی نظام اور عوامی مفادات کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنائے۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک اپنے امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہیں اور ایسے غیر ملکی افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہیں جو قانونی دستاویزات کے بغیر ان کے ملک میں مقیم ہوں۔ پاکستان بھی ایک خودمختار ریاست ہے اور اسے بھی بین الاقوامی قوانین اور اپنے ملکی آئین کے مطابق یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کرے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب سے ایک لاکھ اڑتیس ہزار تین سو بیالیس (138,342) غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے، جبکہ ملک بھر سے مجموعی طور پر پچیس لاکھ اٹھاسی ہزار سولہ (2,588,016) افغان شہری واپس جا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان اور بالخصوص حکومت پنجاب نے غیر قانونی قیام کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اس حوالے سے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں صوبائی حکومت نے جس انداز سے فارن نیشنل سکیورٹی سیل کے ذریعے اس مہم کو منظم کیا ہے، وہ انتظامی صلاحیت اور ریاستی رٹ کو مضبوط بنانے کی ایک اہم مثال قرار دی جا سکتی ہے۔ کسی بھی ریاست کی کامیابی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے قوانین تمام افراد پر یکساں طور پر نافذ ہوں، خواہ وہ مقامی شہری ہوں یا غیر ملکی باشندے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس کارروائی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ کارروائیاں صرف ان افراد کے خلاف کی جا رہی ہیں جو قابل قبول ویزا یا قانونی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں مقیم ہیں۔ اس وضاحت سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ قانونی طور پر رہائش پذیر غیر ملکی شہریوں کو ہراساں کرنا اس پالیسی کا حصہ نہیں بلکہ صرف غیر قانونی قیام کے خاتمے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک بھی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف وقتاً فوقتاً کارروائیاں کرتے ہیں۔ وہاں غیر قانونی قیام نہ صرف قابل سزا جرم سمجھا جاتا ہے بلکہ ایسے افراد کو ملک بدر بھی کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا اقدام کوئی غیر معمولی یا منفرد فیصلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ایک معمول کی ریاستی ذمہ داری ہے۔
پنجاب حکومت نے کارروائی کے دوران انسانی پہلوؤں کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ خبر کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد کو فوری طور پر سرحد پر نہیں بھیجا جاتا بلکہ پہلے انہیں ہولڈنگ سینٹرز منتقل کیا جاتا ہے جہاں ان کی رجسٹریشن، عارضی رہائش، بنیادی ضروریات اور وطن واپسی کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ اس وقت پنجاب میں چھتیس ہولڈنگ سینٹرز فعال ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت اس عمل کو منظم اور باقاعدہ طریقے سے انجام دے رہی ہے۔
کسی بھی معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شخص ملکی قوانین کا احترام کرے۔ اگر غیر قانونی قیام کو نظر انداز کر دیا جائے تو مستقبل میں یہ رجحان مزید بڑھ سکتا ہے جس سے نہ صرف انتظامی مشکلات پیدا ہوتی ہیں بلکہ سکیورٹی اور شناختی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے حکومت کی جانب سے شناختی جعلسازی اور مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دینے کے لیے ہیلپ لائن 15 متعارف کرانا ایک اہم قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا رہا ہے۔ مختلف ادوار میں پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان عوام کو پناہ فراہم کی، جسے عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا۔ تاہم انسانی ہمدردی اور قانونی نظام کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ جب حکومت کسی مخصوص پالیسی کے تحت غیر قانونی قیام کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کا مقصد کسی قوم یا نسل کے خلاف امتیاز نہیں بلکہ ملکی قوانین پر عمل درآمد ہوتا ہے۔
معاشی نقط نظر سے بھی غیر قانونی آبادی کا مسلسل اضافہ مختلف مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ تعلیم، صحت، پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات پہلے ہی محدود وسائل کے تحت فراہم کی جا رہی ہوتی ہیں۔ ایسی صورت میں اگر غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی تعداد میں اضافہ ہو تو ریاستی وسائل پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ حکومت پنجاب کا مؤقف یہی ہے کہ قانونی نظم و ضبط کے ذریعے وسائل کی بہتر منصوبہ بندی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
سلامتی کے حوالے سے بھی رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افراد کے درمیان فرق کو واضح رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب ہر غیر ملکی کی شناخت، ویزا اور رہائش کا مکمل ریکارڈ موجود ہو تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نگرانی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی موجودگی بعض اوقات سکیورٹی اداروں کے لیے اضافی چیلنج پیدا کر سکتی ہے، اگرچہ ہر غیر قانونی مقیم شخص کو کسی جرم سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے انفرادی ذمہ داری اور قانونی حیثیت میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے فارن نیشنل سکیورٹی سیل کے ذریعے مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن کا مربوط نظام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت اس مہم کو صرف وقتی کارروائی کے طور پر نہیں بلکہ ایک مستقل انتظامی پالیسی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اگر یہ عمل شفافیت، قانون اور انسانی وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری رکھا جائے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
اس پوری کارروائی میں عوامی تعاون بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کہیں غیر قانونی قیام، شناختی جعلسازی یا کوئی مشکوک سرگرمی نظر آئے تو متعلقہ اداروں کو اطلاع دی جائے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی بھی فرد کے بارے میں صرف شواہد اور قانونی بنیاد پر کارروائی کی جائے، تاکہ بے گناہ افراد کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ کسی بھی ریاستی پالیسی کی کامیابی صرف کارروائیوں سے نہیں بلکہ مؤثر سفارتی روابط، بارڈر مینجمنٹ، جدید امیگریشن نظام، ڈیجیٹل رجسٹریشن اور مستقل نگرانی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر ان تمام پہلوؤں کو یکجا کر لیا جائے تو مستقبل میں غیر قانونی ہجرت کے رجحان میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
حکومت پنجاب کے حالیہ فیصلے کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا اقدام معلوم ہوتا ہے جس کا بنیادی مقصد قانون کی عملداری، ریاستی نظم و ضبط، عوامی مفادات اور سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر کارروائی آئین پاکستان، ملکی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق انجام دی جائے تاکہ قانونی تقاضوں اور انسانی وقار کے درمیان مناسب توازن برقرار رہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں صوبائی حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کے خلاف جو حکمت عملی اختیار کی ہے، اسے ریاستی انتظام و انصرام کو مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق کارروائیاں صرف غیر قانونی طور پر مقیم افراد تک محدود رکھی گئی ہیں، ہولڈنگ سینٹرز کے ذریعے منظم طریقہ کار اپنایا گیا ہے اور وطن واپسی کا عمل باقاعدہ نگرانی میں جاری ہے۔ اگر یہی شفاف، قانونی اور منصفانہ طریقہ کار مستقبل میں بھی برقرار رکھا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف قانون کی بالادستی مستحکم ہوگی بلکہ صوبے میں انتظامی نظم، عوامی اعتماد اور داخلی سلامتی کے نظام کو بھی مزید مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
