خصوصی تحقیقاتی رپورٹ
8.7 کلومیٹر طویل سرنگ، 19 میٹر بلند بیراج، 2029 تک تکمیل کا ہدف — کیا یہ منصوبہ معاہدۂ سندھ طاس کے لیے نیا چیلنج بن سکتا ہے؟

بھارت کی جانب سے دریائے چناب کے بالائی حصے سے پانی کو سرنگ کے ذریعے دریائے بیاس کے نظام میں منتقل کرنے کے مجوزہ منصوبے نے جنوبی ایشیا میں آبی وسائل، علاقائی سیاست اور معاہدۂ سندھ طاس کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ اور سرکاری دستاویزات کے مطابق “چناب-بیاس لنک ٹنل پراجیکٹ” پر کام جلد شروع ہونے کا امکان ہے جبکہ اس کی تکمیل کے لیے جولائی 2029 کا ہدف رکھا گیا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق یہ منصوبہ بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے ضلع لاہول و اسپیتی میں تعمیر کیا جائے گا، جہاں دریائے چندرا (Chandra River)، جو دریائے چناب کی ایک اہم معاون ندی ہے، پر تقریباً 19 میٹر بلند بیراج اور 8.7 کلومیٹر طویل واٹر کنوینس ٹنل تعمیر کی جائے گی۔ اس سرنگ کے ذریعے پانی کو بیاس بیسن میں منتقل کیا جائے گا۔ منصوبے کی لاگت تقریباً 2352 کروڑ بھارتی روپے بتائی جا رہی ہے جبکہ اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (NHPC) کو دی گئی ہے۔
معاہدۂ سندھ طاس اور چناب کی اہمیت
1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والے معاہدۂ سندھ طاس کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کو مغربی دریا قرار دیا گیا تھا، جن کے پانی پر بنیادی حق پاکستان کو حاصل ہے، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج مشرقی دریا بھارت کے حصے میں آئے تھے۔ معاہدے کے مطابق بھارت کو مغربی دریاؤں پر محدود نوعیت کے پن بجلی منصوبوں اور غیر مصرفی (Non-consumptive) استعمال کی اجازت حاصل ہے۔
کیا پورا دریائے چناب موڑا جا رہا ہے؟
تاحال سامنے آنے والی معلومات کے مطابق یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پورے دریائے چناب کا رخ بیاس کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ منصوبہ بنیادی طور پر دریائے چندرا، جو چناب کے بالائی نظام کا حصہ ہے، کے “اضافی” یا موسمی بہاؤ کو بیاس بیسن میں منتقل کرنے سے متعلق بتایا جا رہا ہے۔ تاہم بعض آبی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مستقبل میں ایسے مزید منصوبے شروع ہوئے تو ان کے مجموعی اثرات پاکستان کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے ممکنہ اثرات
پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زرعی معیشت دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے، جس میں چناب ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بالائی علاقوں میں پانی ذخیرہ کرنے یا اس کا رخ تبدیل کرنے کے منصوبوں میں اضافہ ہوتا ہے تو خشک موسم میں پاکستان کو آنے والے پانی کے بہاؤ پر اثر پڑ سکتا ہے، اگرچہ اس کے حقیقی اثرات کا اندازہ منصوبے کی تکمیل اور عملی آپریشن کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
ایک انجینئرنگ منصوبہ یا سفارتی چیلنج؟
بعض تجزیہ کار اس منصوبے کو صرف ایک انفراسٹرکچر اور پن بجلی کا منصوبہ قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسرے ماہرین کے نزدیک یہ جنوبی ایشیا میں پانی کی سیاست کا ایک نیا مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے پر پاکستان اور بھارت دونوں میں گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
خلاصہ
چناب-بیاس لنک ٹنل منصوبہ بظاہر ایک آبی انجینئرنگ پراجیکٹ ہے، لیکن اس کے ممکنہ سفارتی، قانونی اور ماحولیاتی اثرات اسے جنوبی ایشیا کے اہم ترین آبی منصوبوں میں شامل کر رہے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ موجودہ شیڈول کے مطابق مکمل ہوتا ہے تو آنے والے برسوں میں معاہدۂ سندھ طاس اور خطے کی آبی سلامتی پر اس کے اثرات عالمی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔
(خصوصی تحقیقاتی رپورٹ / ریسرچ ڈیسک)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *