بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں سیکورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ مئی 2026 کے وسط میں صوبے میں دہشت گردی کے متعدد واقعات اور سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں نے ایک بار پھر قانون و نظم کی صورتحال کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ حکام کے مطابق سیکورٹی فورسز نے حالیہ مہم جوئی میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، جبکہ عام شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کی جانوں کا نقصان بھی افسوسناک حد تک ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور دیگر علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے حالیہ سرگرمیاں صوبے کی معاشی ترقی، خاص طور پر CPEC منصوبوں اور آف شور ایکسپلوریشن کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
حالیہ پیش رفت
مئی 2026 کے ابتدائی دنوں میں صوبے کے مختلف علاقوں خصوصاً Jhal Magsi، Barkhan، Kharan اور Quetta کے آس پاس متعدد حملوں کی اطلاعات ملیں۔ 10 مئی کو ایک پولیس کانوائے پر ہونے والے کار بم دھماکے میں 12 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ اسی طرح مئی کے وسط میں Jhal Magsi میں پولیس سٹیشنز پر حملوں کی رپورٹس سامنے آئیں جن میں پولیس اہلکاروں کی اغوا اور ہلاکتوں کے الزامات بھی سامنے آئے۔
سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں فرنٹیئر کور (FC) اور پاکستان آرمی کی مشترکہ ٹیموں نے فعال کردار ادا کیا۔ چیف منسٹر بلوچستان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں تاکہ صوبے میں امن قائم رہے۔
تاریخی تناظر اور موجودہ چیلنجز
بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک طویل عرصے سے جاری ہے۔ جنوری اور فروری 2026 میں BLA کی جانب سے “آپریشن ہیروف 2.0” کے تحت صوبے بھر میں ہم آہنگ حملے کیے گئے جن میں Quetta، Gwadar، Mastung اور Noshki سمیت متعدد شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں درجنوں شہری اور سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ سیکورٹی فورسز نے 145 سے زائد حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
مئی 2026 میں بھی تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ BLA اور Balochistan Liberation Front (BLF) جیسی تنظیموں کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان گروہوں نے نوجوانوں اور خواتین کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی ہے، جو ایک نئی تشویش کا باعث ہے۔
کوئٹہ شہر میں سیکورٹی الرٹ برقرار ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ اپریل کے دوران تقریباً 150 دھمکی آمیز اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس کے نتیجے میں اضافی فورسز تعینات کی گئیں۔
اہم چیلنجز:
دہشت گردوں کی کارروائیاں: پولیس سٹیشنز، چیک پوسٹس اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے۔
معاشی اثرات: CPEC، آف شور گیس پروجیکٹس اور معدنیاتی شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔
مقامی آبادی کا نقصان: عام شہریوں کی ہلاکتیں اور نقل و حرکت میں رکاوٹیں۔
سیاسی اور سماجی عوامل: مقامی مسائل، غربت اور عدم اعتماد جو نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
حکومت اور سیکورٹی فورسز کی حکمت عملی
حکومت بلوچستان نے سیکورٹی فورسز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ صوبائی حکومت 3000 اضافی FC اہلکاروں کی تعیناتی کا اعلان کر چکی ہے۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کو تیز کر دیا گیا ہے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ 2025 کے مقابلے میں 2026 کے ابتدائی مہینوں میں کئی بڑی کارروائیاں کامیاب رہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف فوجی کارروائیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سیاسی حل، مقامی نوجوانوں کو روزگار اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت ضروری ہے۔
عوامی تشویش اور توقعات
کوئٹہ کے شہری امن و امان کی بہتری چاہتے ہیں۔ کاروباری طبقہ، طلباء اور خواتین نقل و حرکت کی آزادی اور محفوظ ماحول کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقامی رہنما کہتے ہیں کہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد بحال کرنا بھی اہم ہے۔
نتیجہ
بلوچستان کی سیکورٹی صورتحال اب بھی پیچیدہ ہے۔ حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف طاقت سے ممکن نہیں۔ جامع حکمت عملی، جس میں سیاسی مکالمہ، معاشی ترقی اور مقامی آبادی کی شمولیت شامل ہو، ناگزیر ہے۔
روزنامہ جہان امروز کوئٹہ کا مؤقف ہے کہ بلوچستان پاکستان کا اہم حصہ ہے۔ حکومت اور سیکورٹی فورسز کو چاہیے کہ وہ عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں اور صوبے کو پرامن اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کریں۔ امن ہی ترقی کی ضمانت ہے۔
