تجزیہ بی این پی
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے 420 سولر ٹیوب ویلوں کی تنصیب کی منظوری بلاشبہ زرعی شعبے کے لیے ایک اہم اور خوش آئند قدم ہے۔ ایسے وقت میں جب زرعی پیداوار کو بڑھانے، پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے، ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نجات دلانے اور ماحول دوست توانائی کو فروغ دینے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے، اس نوعیت کے منصوبے نہ صرف کسانوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوتے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔ دو ارب روپے کی لاگت سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ صرف ٹیوب ویل نصب کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ زراعت کے جدید، پائیدار اور کم لاگت نظام کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار براہ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے پانی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، لیکن گزشتہ کئی برسوں سے کسانوں کو آبپاشی کے حوالے سے مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ کہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ مسائل پیدا کرتی ہے، کہیں ڈیزل کی قیمتیں کاشتکاروں کی قوتِ خرید سے باہر ہو جاتی ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں زیرزمین پانی تک رسائی مہنگے ذرائع کے باعث محدود رہتی ہے۔ ایسے حالات میں شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل ایک مؤثر اور دیرپا حل کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے 320 زرعی شمسی ٹیوب ویل مختلف اضلاع میں نصب کرنے اور مجموعی طور پر 420 سولر ٹیوب ویلوں کی منظوری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پالیسی ساز صرف موجودہ مسائل کے حل پر توجہ نہیں دے رہے بلکہ مستقبل کی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھ رہے ہیں۔ شمسی توانائی دنیا بھر میں سب سے محفوظ، کم خرچ اور ماحول دوست توانائی تصور کی جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سال کے بیشتر حصے میں دھوپ وافر مقدار میں موجود رہتی ہے، سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرنا ایک قدرتی اور دانشمندانہ انتخاب ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق اس منصوبے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے کسانوں کے مستقل اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس وقت بہت سے کاشتکار اپنے ٹیوب ویل چلانے کے لیے ڈیزل یا بجلی پر انحصار کرتے ہیں، جن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ زرعی لاگت کو بڑھاتا ہے۔ جب آبپاشی کی لاگت بڑھتی ہے تو اس کے اثرات براہ راست فصل کی مجموعی لاگت اور کسان کی آمدنی پر مرتب ہوتے ہیں۔ اگر یہی آبپاشی شمسی توانائی کے ذریعے ممکن ہو جائے تو کسان نہ صرف ہزاروں روپے ماہانہ بچا سکتے ہیں بلکہ ان کی مجموعی پیداوار بھی بہتر ہو سکتی ہے۔
یہ منصوبہ پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ صوبے کے متعدد اضلاع ایسے ہیں جہاں پانی کی دستیابی محدود ہے یا روایتی ذرائع سے پانی نکالنا انتہائی مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل ان علاقوں میں آبپاشی کے نئے مواقع پیدا کریں گے، جس سے بنجر یا کم پیداوار والی زمینیں دوبارہ قابلِ کاشت بن سکیں گی۔ اس کے نتیجے میں زرعی رقبے میں اضافہ ہوگا، نئی فصلیں کاشت کی جا سکیں گی اور مجموعی زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔

زرعی ترقی کا ایک اہم پہلو غذائی تحفظ بھی ہے۔ اگر کسان کو مناسب پانی، جدید سہولیات اور کم لاگت توانائی میسر ہو تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ بہتر فصلیں اگا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف گندم، مکئی، چاول، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ منڈیوں میں زرعی اجناس کی فراہمی بھی بہتر ہوگی۔ پیداوار بڑھنے سے قیمتوں میں استحکام آنے کا امکان پیدا ہوتا ہے، جس کا فائدہ عام صارفین تک بھی پہنچتا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بھی یہ منصوبہ ایک مثبت مثال ہے۔ دنیا بھر میں کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویل فضائی آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں، جبکہ شمسی توانائی نہ صرف صاف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ ماحول پر منفی اثرات بھی کم کرتی ہے۔ اس طرح یہ منصوبہ زرعی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی ذمہ داری کا بھی مظہر ہے۔
اس منصوبے کا ایک معاشی پہلو بھی قابلِ ذکر ہے۔ جب کسان کے اخراجات کم ہوں گے تو اس کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ زیادہ آمدنی کا مطلب دیہی معیشت میں بہتری، مقامی کاروبار کی ترقی، زرعی مشینری کی خریداری، بہتر بیجوں اور کھاد کے استعمال میں اضافہ اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں میں وسعت ہے۔ یوں ایک منصوبہ صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے مثبت اثرات پورے معاشی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ موسمیاتی تبدیلی نے زراعت کو نئی آزمائشوں سے دوچار کیا ہے۔ بارشوں کے غیر متوقع نظام، خشک سالی اور درجہ حرارت میں اضافے نے روایتی زرعی طریقوں کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں جدید اور پائیدار آبپاشی کے نظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل اس سمت میں ایک مضبوط قدم ہیں کیونکہ یہ کسانوں کو موسم اور توانائی کے بحران کے اثرات سے جزوی طور پر محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبے پر عملدرآمد مکمل شفافیت، معیار اور رفتار کے ساتھ کیا جائے۔ مستحق کسانوں کا انتخاب میرٹ پر ہو، جدید معیار کے سولر سسٹم نصب کیے جائیں، تنصیب کے بعد ان کی دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت کا بھی مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ کسان طویل عرصے تک اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ اگر منصوبہ صرف تنصیب تک محدود رہا اور بعد ازاں دیکھ بھال کا مناسب انتظام نہ کیا گیا تو اس کے مطلوبہ نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ کسانوں کی تربیت بھی ضروری ہے۔ جدید شمسی نظام کی افادیت اسی وقت زیادہ ہوگی جب کسان اس کے درست استعمال، بنیادی دیکھ بھال اور توانائی کے مؤثر انتظام سے واقف ہوں۔ محکمہ زراعت اگر آگاہی مہم، تربیتی ورکشاپس اور فیلڈ ڈیمونسٹریشن کا اہتمام کرے تو منصوبے کی کامیابی کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں۔قابلِ تجدید توانائی کی طرف یہ پیش رفت مستقبل میں مزید وسیع منصوبوں کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو اسے دیگر اضلاع اور بعد ازاں ملک کے مختلف صوبوں تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈرپ ایریگیشن، اسمارٹ آبپاشی، شمسی توانائی سے چلنے والی زرعی مشینری اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بھی راہ ہموار ہوگی۔
دیہی نوجوانوں کے لیے بھی ایسے منصوبے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ سولر سسٹمز کی تنصیب، دیکھ بھال اور تکنیکی خدمات کے شعبے میں مقامی سطح پر روزگار کے امکانات پیدا ہوں گے۔ اس طرح یہ منصوبہ زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ ہنر مند افرادی قوت کی تیاری میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کو مستقبل میں پانی اور توانائی دونوں شعبوں میں چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ ایسی صورت حال میں وہی پالیسیاں کامیاب سمجھی جائیں گی جو کم لاگت، ماحول دوست اور دیرپا نتائج فراہم کریں۔ خیبرپختونخوا حکومت کا سولر ٹیوب ویل منصوبہ انہی خصوصیات کا حامل دکھائی دیتا ہے۔ اگر اس پر مقررہ وقت میں مؤثر انداز سے عملدرآمد کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف ہزاروں کسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا بلکہ زرعی شعبے میں جدید اصلاحات کی ایک کامیاب مثال بھی بن سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سولر ٹیوب ویلوں کی تنصیب کا منصوبہ صرف ایک ترقیاتی اسکیم نہیں بلکہ دیہی خوشحالی، زرعی خود کفالت، توانائی کے بہتر استعمال اور ماحول دوست معیشت کی جانب ایک مثبت اور دور اندیش قدم ہے۔ کسان ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور جب ان کی مشکلات کم ہوں گی تو زرعی پیداوار میں اضافہ، غذائی تحفظ، دیہی ترقی اور قومی معیشت کی مضبوطی جیسے اہداف بھی آسانی سے حاصل کیے جا سکیں گے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ منصوبہ بروقت مکمل ہوگا، شفاف انداز میں نافذ کیا جائے گا اور مستقبل میں اس کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔ یہی وہ مثبت حکمتِ عملی ہے جو پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ایک مضبوط، خود کفیل اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *