صدر زرداری کا مقامی اقوام کے حقوق، ثقافت اور روایات کے احترام کے عزم کا اعادہ
مقامی اقوام کا روایتی علم ان کی برادریوں، ماحول اور طرزِ زندگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے ، قدیم اور مقامی باشندوں کے عالمی دن کے موقع پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا پیغام
اسلام آباد (بیورو رپورٹ)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم مقامی اقوام کے حقوق، ثقافت، روایات اور بہبود کے احترام کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور ایسی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جن کے ذریعے ان کے علم کا احترام کیا جائے، ان کی آواز سنی جائے اور ان کی برادریوں کو باوقار اور محفوظ زندگی گزارنے کے لیے درکار مواقع اور سہولیات تک رسائی حاصل ہو۔
ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق قدیم اور مقامی باشندوں کے عالمی دن (9اگست)کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر کی برادری کے ساتھ قدیم اور مقامی باشندوں کا عالمی دن منا رہا ہے۔ یہ دن ہمیں مقامی اقوام کی خدمات اور کردار کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اس علم، روایات اور طریقہ ہائے زندگی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو انہوں نے نسل در نسل محفوظ اور منتقل کیے ہیں،مقامی اقوام کا روایتی علم ان کی برادریوں، ماحول اور طرزِ زندگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
اس علم نے ثقافتی روایات کو برقرار رکھنے اور قدرت، صحت اور ماحول سے متعلق معلومات کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس علم کا احترام ثقافتی تنوع کے تحفظ اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی ضروری ہے کہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے فائدہ مند رہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کا بھرپور ثقافتی تنوع کیلاش سمیت شمالی پہاڑی علاقوں میں آباد مختلف اقوام اور برادریوں پر مشتمل ہے۔ یہ تنوع گلگت سے گوادر اور میدانی علاقوں سے لے کر چولستان اور تھر کے صحراں تک پھیلا ہوا ہے۔
ان کی زبانوں، روایات اور علمی نظام نے صدیوں سے ہمارے قومی ورثے کو مالا مال کیا ہے۔ قدرت، اجتماعی صحت اور پائیدار طرزِ زندگی کے بارے میں ان کی گہری سمجھ بوجھ صبر، استقامت اور دانائی کے ایسے ورثے کی عکاس ہے جسے تسلیم اور محفوظ کیے جانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا ہمارا آئین قانون کے سامنے مساوات اور مساوی تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ آئین ایسے شہریوں کے اس حق کو بھی تسلیم کرتا ہے جن کی اپنی الگ زبان، رسم الخط یا ثقافت ہو تاکہ وہ اسے محفوظ اور فروغ دے سکیں۔ ہم ان حقوق کے تحفظ اور تمام شہریوں کے لیے مساوی مواقع یقینی بنانے کے عزم پر قائم ہیں۔
صدر زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس سال قدیم اور مقامی باشندوں کے عالمی دن کا موضوع مقامی دائیوں کو خراجِ تحسین: زندگی اور بہبود کا تحفظ ہے، جو مقامی دائیوں کے بطور نگہداشت فراہم کرنے والی اور روایتی علم کی امین اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ ان کی خدمات ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے والے علم کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ماں، نوزائیدہ بچوں اور خاندانوں کی صحت اور بہبود میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔
یہ موضوع ان برادریوں کے لیے عملی اہمیت بھی رکھتا ہے جہاں صحت کی سہولیات تک رسائی مشکل ہے۔ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں رہنے والی خواتین کے لیے قابلِ اعتماد اور ثقافتی طور پر موزوں قبل از پیدائش اور بعد از پیدائش نگہداشت کی سہولت ان کے خاندانوں کے لیے نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہے۔ لہذا دائیوں کے علم اور کردار کو تسلیم کرنا محفوظ، باوقار اور احترام پر مبنی طبی نگہداشت کی فراہمی کا ایک اہم حصہ ہے۔
پاکستان نے 2005 میں یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے کنونشن کی توثیق کی۔ یہ کنونشن ان علوم، مہارتوں، روایات اور طریقہ ہائے کار کے تحفظ کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتا ہے جو برادریاں نسل در نسل منتقل کرتی ہیں۔ پاکستان نے 2022 میں ثقافتی اظہار کے تنوع کے تحفظ اور فروغ سے متعلق یونیسکو کنونشن کی بھی توثیق کی۔ یہ عزم ثقافتی تنوع کے تحفظ اور زندہ ثقافتی روایات کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی حمایت کا عکاس ہے۔
اس عالمی دن کے موقع پر ہم مقامی اقوام کے حقوق، ثقافت، روایات اور بہبود کے احترام کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہم ایسی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جن کے ذریعے ان کے علم کا احترام کیا جائے، ان کی آواز سنی جائے اور ان کی برادریوں کو باوقار اور محفوظ زندگی گزارنے کے لیے درکار مواقع اور سہولیات تک رسائی حاصل ہو۔