تجزیہ بی این پی
پاکستان کی معیشت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف گزشتہ چند برسوں کے معاشی دباؤ، مہنگائی، توانائی کی بلند قیمتیں، مالیاتی مشکلات اور عالمی حالات کے اثرات موجود ہیں، تو دوسری طرف ایسے حوصلہ افزا اشارے بھی سامنے آ رہے ہیں جو مستقبل کے لیے امید پیدا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ششماہی زری پالیسی رپورٹ اگست 2026ء خاص اہمیت رکھتی ہے۔ رپورٹ میں مالی سال 2027ئ کے دوران معاشی نمو 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یہ پیش گوئی اس بات کا اشارہ ہے کہ مشکلات کے باوجود ملکی معیشت میں استحکام کی بنیاد مضبوط ہو رہی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر غیر معمولی معاشی چیلنجز کا سامنا رہا۔ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، درآمدی اخراجات میں اضافہ، باربرداری اور بیمہ کی لاگت بڑھنے سمیت متعدد عوامل نے ملکی معیشت پر دباؤ ڈالا۔ اس کے باوجود مالی سال 2026ء کے اقتصادی نتائج مجموعی طور پر توقعات کے مطابق رہنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی پالیسیوں میں بعض بنیادی کمزوریوں کے باوجود ملک نے بڑے عالمی جھٹکوں کو مکمل معاشی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق سٹیٹ بینک کی رپورٹ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں امید کو محض خواہش یا سیاسی دعوے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ معاشی اشاریوں کی بنیاد پر مستقبل کا ایک نسبتاً مثبت نقشہ سامنے رکھا گیا ہے۔ مہنگائی کو قابو میں رکھنے، بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور ترسیلاتِ زر میں اضافے کے امکانات معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق محتاط زری پالیسی نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے دوسرے مرحلے کے اثرات کو محدود رکھنے میں مدد دی۔ یہ ایک اہم کامیابی ہے کیونکہ پاکستان میں توانائی کی قیمتیں براہ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرتی ہیں۔ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوں تو اس کے اثرات صرف گھریلو بجٹ تک محدود نہیں رہتے بلکہ صنعت، زراعت، تجارت، ٹرانسپورٹ اور خدمات کے شعبے بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ اس لیے مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنا دراصل پوری معیشت کو غیر ضروری جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے مترادف ہے۔
حکومت کی جانب سے عالمی قیمتوں میں اضافے کو بروقت ملکی قیمتوں میں منتقل کرنے، کفایت شعاری اختیار کرنے اور ہدفی زرِاعانت کے اقدامات نے بھی مجموعی طلب کو اعتدال میں رکھنے میں کردار ادا کیا۔ تاہم یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ معاشی استحکام کا اصل مقصد صرف اعداد و شمار بہتر بنانا نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانا ہونا چاہیے۔ اگر مہنگائی کم ہوتی ہے، معاشی نمو بڑھتی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات روزگار، آمدنی اور عوام کی قوتِ خرید میں بھی نظر آنے چاہئیں۔
سٹیٹ بینک نے مالی سال 2027ء کے اختتام تک مہنگائی کو ہدف کی بالائی حد کے قریب مستحکم ہونے کی توقع ظاہر کی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان جیسے ملک کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جہاں مہنگائی نے گزشتہ برسوں میں عوام کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ مہنگائی میں کمی کا مطلب صرف اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں کمی نہیں بلکہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو قابو میں لانا بھی ہے۔ اگر قیمتوں میں استحکام آتا ہے تو کاروباری طبقہ بہتر منصوبہ بندی کر سکتا ہے، سرمایہ کار مستقبل کے فیصلے زیادہ اعتماد کے ساتھ کر سکتے ہیں اور عام شہری بھی اپنے محدود وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کر سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے ایک اور حوصلہ افزا پہلو کرنٹ اکاؤنٹ کا متوازن رہنا ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2027ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ یہ ایک مثبت اشارہ ہے کیونکہ بیرونی شعبے میں مسلسل اور بڑا خسارہ ماضی میں پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے مشکلات پیدا کرتا رہا ہے۔ اگر برآمدات میں اضافہ، درآمدات میں دانش مندانہ نظم اور ترسیلاتِ زر میں تسلسل برقرار رہا تو بیرونی کھاتے کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بھی معاشی استحکام کی بنیادی علامت ہے۔ مرکزی بینک نے دسمبر 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر 20.20 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ذخائر میں اضافہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کو بھی مثبت پیغام دے گا۔ کسی بھی معیشت کے لیے یہ اعتماد بہت اہم ہوتا ہے کہ اس کے پاس درآمدات، قرضوں کی ادائیگی اور ہنگامی بیرونی ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب زرمبادلہ موجود ہے۔
اس سلسلے میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر پاکستان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ صرف جولائی میں 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر اس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی اپنی محنت کی کمائی کا ایک بڑا حصہ وطن بھیج رہے ہیں۔ یہ رقم نہ صرف لاکھوں خاندانوں کی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کے نظام کو بھی سہارا دیتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو صرف ترسیلاتِ زر بھیجنے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ، شفاف اور آسان مواقع فراہم کیے جائیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا معاشی اثاثہ ہیں۔ اگر ان کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولتیں، قابلِ اعتماد کاروباری ماحول، تیز رفتار انتظامی نظام اور قانونی تحفظ یقینی بنایا جائے تو ترسیلاتِ زر کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ کاری میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے پاس سرمایہ بھی ہے، تجربہ بھی اور عالمی منڈیوں سے واقفیت بھی۔ پاکستان کو اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی وسیع تر معاشی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب سے 7 ارب ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات پانچ سال کے ادھار پر حاصل کرنے کے معاملے میں پیش رفت پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے دباؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح امریکہ سے 10 ارب ڈالر کے فنڈ کے حصول کی کوششیں اور دیگر ممکنہ مالی معاونت بھی ملکی بیرونی کھاتے کو سہارا دے سکتی ہے۔ تاہم ایسی معاونت کو مستقل معاشی حل سمجھنے کے بجائے اسے معیشت کی بنیادی اصلاحات کے لیے وقت اور گنجائش پیدا کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون میں وسعت بھی مستقبل میں معاشی تعاون کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ دنیا بھر میں دفاعی اور سفارتی تعلقات اکثر تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے تعاون میں تبدیل ہوتے ہیں۔ پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی اور معاشی سفارت کاری کو باہم مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر سفارتی تعلقات کو تجارتی مواقع میں تبدیل کیا جائے تو پاکستان کے لیے نئی منڈیاں اور سرمایہ کاری کے نئے ذرائع پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور بہتری کے امکانات پر گفتگو بھی اسی معاشی سفارت کاری کا حصہ ہے۔ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، دوست ممالک اور بڑی معیشتوں کے ساتھ اپنے معاشی روابط مزید مضبوط کرنا ہوں گے۔ دنیا میں سرمایہ کاری کے لیے مقابلہ سخت ہے اور سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں اسے پالیسی کا تسلسل، منافع کی مناسب توقع، قانونی تحفظ اور کاروباری آسانیاں میسر ہوں۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کی کمی نہیں۔ معدنی وسائل، زرعی زمین، نوجوان افرادی قوت، آئی ٹی کا شعبہ، برآمدی صنعت، توانائی، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ اصل ضرورت ان مواقع کو قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے کی ہے۔ اس کے لیے حکومت کو محض اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی سہولت کاری کا نظام قائم کرنا ہوگا۔امن و امان بھی معاشی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ سرمایہ کار کسی ملک میں سرمایہ لگانے سے پہلے یہ ضرور دیکھتا ہے کہ اس کا کاروبار محفوظ رہے گا یا نہیں، اس کی سرمایہ کاری کو سیاسی عدم استحکام سے خطرہ تو نہیں ہوگا اور ریاست اس کے کاروباری حقوق کا تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف سکیورٹی اداروں کی قربانیاں قابلِ قدر ہیں، لیکن طویل المدت معاشی ترقی کے لیے امن کا تسلسل بھی ضروری ہے۔ جہاں امن ہوگا وہاں صنعت لگے گی، روزگار پیدا ہوگا، تجارت بڑھے گی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
توانائی کا شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی کی سب سے بڑی ضرورتوں میں شامل ہے۔ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صنعتی اور زرعی پیداوار کی لاگت بڑھا دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کھو سکتی ہیں۔ حکومت کو اس شعبے میں صرف قیمتیں بڑھانے کے بجائے بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے پورے نظام میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔ سستی اور قابلِ اعتماد توانائی کے بغیر صنعت کاری اور برآمدی ترقی کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ٹیکس نظام میں اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس دینے والے محدود طبقے پر مسلسل اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہوگا۔ معیشت کے غیر دستاویزی حصے کو دستاویزی بنانا، ٹیکس چوری روکنا اور ٹیکس نظام کو آسان بنانا ضروری ہے۔ جب کاروباری افراد کو یہ یقین ہوگا کہ نظام منصفانہ ہے تو ٹیکس وصولی بھی بہتر ہوگی اور سرمایہ کاری کا ماحول بھی مضبوط ہوگا۔
نیب کی جانب سے ایک ماہ کے دوران 3 ٹریلین روپے، یعنی 3 ہزار ارب روپے کی ریکوری کا دعویٰ بھی اس بحث کو جنم دیتا ہے کہ ملک میں مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کا حجم کتنا وسیع ہے۔ اگر واقعی اتنی بڑی رقم قومی خزانے کو واپس ملتی ہے تو یہ مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ایسے نظام کو مضبوط کیا جائے جس میں قومی وسائل کی خوردبرد ابتدا ہی میں روکی جا سکے۔ احتساب صرف ریکوری تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ شفاف حکمرانی، مؤثر نگرانی اور مضبوط اداروں کی صورت میں نظر آنا چاہیے۔پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ ہمارے پاس زرخیز زمین، معدنی ذخائر، سمندری وسائل، نوجوان آبادی اور جغرافیائی اعتبار سے ایک اہم محل وقوع موجود ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کے مؤثر، شفاف اور دانش مندانہ استعمال کا ہے۔ اگر اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے، سرخ فیتے کا خاتمہ کیا جائے، سرمایہ کار کو ایک ہی جگہ تمام سہولتیں فراہم کی جائیں اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے تو معاشی ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھائی جا سکتی ہے۔
موجودہ معاشی منظرنامہ اسی لیے مکمل مایوسی کا نہیں بلکہ محتاط امید کا تقاضا کرتا ہے۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ نے جن مثبت اشاریوں کی نشاندہی کی ہے، انہیں مضبوط معاشی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ معاشی نمو میں اضافہ، مہنگائی میں استحکام، کرنٹ اکاؤنٹ کا محدود خسارہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور ترسیلاتِ زر میں اضافہ وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مضبوط معیشت کی عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے۔
تاہم اس عمارت کی اصل مضبوطی اس وقت ثابت ہوگی جب معاشی بہتری کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں گے۔ ایک مضبوط معیشت وہ نہیں جس کے صرف اعداد و شمار اچھے ہوں بلکہ وہ ہے جہاں نوجوان کو روزگار ملے، صنعت کو سستی توانائی دستیاب ہو، کسان کو مناسب سہولتیں حاصل ہوں، کاروباری شخص کو غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہ ہو اور متوسط و کم آمدنی والے خاندان کے لیے زندگی آسان ہو۔
حکومت کے لیے موجودہ وقت ایک اہم موقع ہے۔ معاشی استحکام کی جو بنیاد گزشتہ عرصے میں قائم ہوئی ہے اسے سیاسی اختلافات، غیر ضروری اخراجات، کمزور گورننس اور پالیسی کے عدم تسلسل کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ معاشی اصلاحات کو حکومتوں اور سیاسی ادوار سے بالاتر قومی پالیسی کی حیثیت دینا ہوگی۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کی معیشت کے بارے میں امید کی یہ کرن اس وقت روشن چراغ بن سکتی ہے جب حکومت مثبت معاشی اشاریوں کو حقیقی معاشی تبدیلی میں ڈھالنے میں کامیاب ہو۔ عالمی حالات ہمیشہ ہمارے حق میں نہیں ہوں گے، توانائی کی قیمتیں ہمیشہ کم نہیں رہیں گی اور بیرونی معاونت بھی ہمیشہ دستیاب نہیں ہوگی۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ پاکستان اپنی پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری، ٹیکس وصولی اور انسانی وسائل کو اس قدر مضبوط کر دے کہ معیشت بیرونی جھٹکوں کا مقابلہ خود کر سکے۔
آج ضرورت مایوسی پھیلانے کی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ امید کے ساتھ اصلاحات کو آگے بڑھانے کی ہے۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ نے ایک مثبت امکان کی طرف اشارہ کیا ہے؛ اب اس امکان کو حقیقت میں بدلنا حکومت، اداروں، کاروباری طبقے اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر اچھی حکمرانی، معاشی نظم و ضبط، مؤثر سفارت کاری، امن و امان، توانائی کی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کو یقینی بنایا جائے تو پاکستان نہ صرف موجودہ معاشی دباؤ سے نکل سکتا ہے بلکہ آنے والے برسوں میں ایک مضبوط، خود انحصار اور پائیدار معیشت کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، افرادی قوت بھی اور آگے بڑھنے کی صلاحیت بھی۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ قومی وسائل کو ذاتی مفادات کے بجائے قومی ترجیحات کے مطابق استعمال کیا جائے۔ موجودہ اعداد و شمار امید دلاتے ہیں کہ راستہ مشکل ضرور ہے، مگر بند نہیں۔ درست سمت، مسلسل محنت اور بہتر حکمرانی کے ساتھ معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ منزل ہے جہاں معاشی اعداد و شمار عوامی خوشحالی میں ڈھلتے ہیں اور ایک مشکل دور کے بعد قوم کو حقیقی معنوں میں بہتر مستقبل کی امید ملتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- پاکستان میں قومی ترقی میں شراکت اور احتساب کا مضبوط نظام
- بہتر مستقبل کی تلاش، پاکستانی نوجوانوں کی عالمی منڈی میں پیش قدمی اور وطن کی ترقی کی نئی امید
- پاکستان میں معیشت سنبھلنے لگی، اب استحکام کو پائیدار بنانا ہوگا
- پاکستان میں ذہنی صحت۔قومی ترجیح اور مثبت معاشرے کی بنیاد
- پاکستان میں کھلے گٹروں میں گرتے بچے، ذمہ دار کون؟
- پاکستان میں خصوصی بچوں کے لیے سہولتیں، ریاست کی ذمہ داری
- پاکستان، آئینی اداروں کی تکمیل، جمہوری استحکام کی ضمانت
- اقلیتیں معاشرے کا حسن، عزت اور تحفظ پر سمجھوتا نہیں ہوگا، مریم نواز
- صدر مملکت نے مختلف ہائیکورٹس میں ججز کی تقرری و توثیق کی منظوری دیدی
- وزیر اعظم شہبازشریف کا کولمبیا میں تباہ کن زلزلے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ افسوس