تجزیہ بی این پی
گزشتہ روز حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کے بعد نو روز سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان ایک مثبت پیش رفت ہے۔ طویل ہڑتال کے باعث نہ صرف ملک کے مختلف حصوں میں اشیائے ضروریہ، خوراک اور صنعتی خام مال کی ترسیل متاثر ہوئی بلکہ ملکی معیشت کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اندازوں کے مطابق اس دوران ملکی معیشت کو 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا جبکہ بندرگاہوں سے روزانہ نکلنے والے تقریباً 10 ہزار کنٹینرز کی آمدورفت رک جانے سے درآمدی اور برآمدی سرگرمیوں کا پہیہ بھی شدید متاثر ہوا۔ اس صورتحال نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ پاکستان میں مال برداری کا نظام ابھی تک ایسے مضبوط اور متنوع ڈھانچے سے محروم ہے جو کسی ایک شعبے میں پیدا ہونے والے بحران کے باوجود معیشت کی روانی برقرار رکھ سکے۔
حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان معاملات کا مذاکرات کے ذریعے حل ہونا خوش آئند ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافات کا حل مذاکرات، باہمی مشاورت اور قابلِ عمل سمجھوتے کے ذریعے ہی نکالا جانا چاہیے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے، جبکہ ٹرانسپورٹرز سمیت تمام شعبوں سے وابستہ طبقات کو بھی اس امر کا احساس ہونا چاہیے کہ ان کی سرگرمیوں کا براہ راست تعلق ملکی معیشت، عام شہری کی ضروریات اور قومی مفاد سے ہے۔ اس لیے احتجاج اور ہڑتال کو آخری راستے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے اور کوشش ہونی چاہیے کہ مسائل مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوں۔
تاہم حالیہ ہڑتال محض ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ اس نے پاکستان کے مال برداری کے پورے نظام سے متعلق کئی بنیادی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگر چند دنوں کی ہڑتال ملک کے اندر اشیائے ضروریہ کی ترسیل، صنعتوں کے لیے خام مال کی فراہمی، بندرگاہوں کی سرگرمیوں اور مجموعی اقتصادی عمل کو اس حد تک متاثر کر سکتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا موجودہ مال برداری کا نظام کسی ایک ذریعے پر ضرورت سے زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں جدید معیشتیں سڑک، ریل، سمندری اور دیگر ذرائع کو ایک مربوط نظام کے تحت استعمال کرتی ہیں تاکہ کسی ایک ذریعے میں رکاوٹ آنے کی صورت میں دوسرے ذرائع سے ترسیل کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔
پاکستان میں اس تناظر میں ریلوے کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت ملک کو ایک نسبتاً وسیع ریلوے نیٹ ورک ورثے میں ملا تھا۔ ایک زمانے میں ریلوے نہ صرف مسافروں کی نقل و حمل بلکہ ملک بھر میں مال کی ترسیل کا بھی ایک اہم ذریعہ تھا۔ زرعی پیداوار، صنعتی خام مال، کوئلہ، سیمنٹ، گندم اور دیگر اشیا بڑی مقدار میں ریل کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچائی جاتی تھیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریلوے کا بنیادی ڈھانچہ کمزور ہوتا گیا، انجنوں اور بوگیوں کی حالت خراب ہوئی، ٹریکس کی دیکھ بھال میں مسائل پیدا ہوئے اور ادارہ انتظامی و مالی مشکلات کا شکار ہوتا چلا گیا۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ریلوے کی زبوں حالی کی ذمہ داری صرف کسی ایک حکومت یا دور پر عائد ہوتی ہے۔ یہ کئی دہائیوں پر محیط انتظامی غفلت، ناقص منصوبہ بندی، سیاسی مداخلت، وسائل کے غیر مؤثر استعمال، مالی مشکلات اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ تاہم ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لینے کا مقصد الزام تراشی نہیں بلکہ مستقبل کی سمت متعین کرنا ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان کو اپنی معیشت کو مستحکم اور ترسیل کے نظام کو مؤثر بنانا ہے تو ریلوے کے کارگو شعبے کو نظرانداز کرنا اب قابلِ عمل حکمت عملی نہیں رہی۔
موجودہ حالات میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، گاڑیوں کے آپریشنل اخراجات، ٹول ٹیکس، ٹائروں اور اسپیئر پارٹس کی قیمتیں اور دیگر اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ان حالات میں سڑک کے ذریعے ہر قسم کی مال برداری پر انحصار ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کے لیے بھی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر بڑی مقدار میں سامان طویل فاصلے تک ریل کے ذریعے منتقل کیا جائے اور آخری مرحلے کی ترسیل ٹرکوں کے ذریعے مکمل کی جائے تو اخراجات میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بھاری گاڑیوں کا دباؤ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کے کردار کو محدود یا ختم کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں سڑک کے ذریعے مال برداری کا ایک وسیع اور ضروری نیٹ ورک موجود ہے۔ بندرگاہوں، صنعتی علاقوں، منڈیوں، گوداموں اور دور دراز علاقوں کے درمیان سامان کی آخری مرحلے تک ترسیل میں ٹرک اور دیگر مال بردار گاڑیاں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان جیسے جغرافیائی طور پر متنوع ملک میں سڑکوں کے ذریعے ترسیل ناگزیر ہے۔ مسئلہ سڑک اور ریل میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں بلکہ دونوں کے درمیان بہتر اشتراک اور توازن پیدا کرنے کا ہے۔
ایک مؤثر نظام میں بڑے پیمانے پر اور طویل فاصلے کی ترسیل کے لیے ریل کو استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ مختصر فاصلے اور آخری مرحلے کی ترسیل سڑک کے ذریعے مکمل کی جا سکتی ہے۔ اس تصور کو دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک میں کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسے پاکستان میں بھی مرحلہ وار متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ بندرگاہوں سے بڑے صنعتی مراکز تک مخصوص کارگو ریل سروسز، خشک بندرگاہوں سے رابطہ، بڑے شہروں کے قریب لاجسٹک ٹرمینلز اور جدید گوداموں کا قیام اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق حالیہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کو صرف ایک صنعتی تنازع کے طور پر دیکھنا مسئلے کی اصل نوعیت کو محدود کر دینا ہوگا۔ یہ واقعہ دراصل ملک کے لاجسٹکس نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بندرگاہوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر درآمدات و برآمدات ہوتی ہیں، جہاں زرعی پیداوار ایک صوبے سے دوسرے صوبے منتقل ہوتی ہے اور جہاں صنعتی پیداوار کے لیے خام مال مسلسل درکار ہوتا ہے، وہاں مال برداری کے ایک متوازن، مربوط اور متبادل ذرائع پر مشتمل نظام کا ہونا قومی ضرورت ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ موجودہ بحران کے خاتمے پر اکتفا نہ کرے بلکہ ایک جامع قومی مال برداری پالیسی تشکیل دے۔ اس پالیسی میں سڑک، ریلوے، بندرگاہوں، خشک بندرگاہوں، گوداموں اور لاجسٹک کمپنیوں کے کردار کو ایک مربوط فریم ورک میں شامل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹرز کی مشکلات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ اگر ٹرانسپورٹرز کو غیر ضروری ٹیکسوں، بھاری جرمانوں، سڑکوں کی خراب حالت، غیر واضح قوانین یا بار بار تبدیل ہونے والی پالیسیوں کا سامنا ہو تو اس کے اثرات بالآخر صارف اور پوری معیشت پر پڑتے ہیں۔
اسی طرح حکومت کو ٹرانسپورٹ سیکٹر کو محض محصولات حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اسے قومی اقتصادی ڈھانچے کا اہم حصہ تصور کرنا چاہیے۔ مال بردار گاڑیوں کی فٹنس، ڈرائیوروں کی تربیت، سڑکوں کی حالت، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ایسے شعبے ہیں جن میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر ٹرانسپورٹرز کو سہولت، شفافیت اور طویل المدتی پالیسی فراہم کی جائے تو وہ بھی قومی معاشی نظام میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ریل کارگو کی بحالی کے لیے صرف نئے انجن خرید لینا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے لیے پورے نظام کی جدید کاری ضروری ہے۔ ٹریکس کی اپ گریڈیشن، سگنلنگ نظام کی بہتری، جدید مال بردار بوگیوں کی فراہمی، کارگو ٹرمینلز کی تعمیر، ڈیجیٹل بکنگ، سامان کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بروقت ترسیل کی ضمانت جیسے اقدامات کرنا ہوں گے۔ کاروباری طبقے کو اس وقت ریل کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے جب اسے یقین ہو کہ اس کا سامان محفوظ، تیز رفتاری سے اور مقررہ وقت پر منزل تک پہنچے گا۔
اس سلسلے میں نجی شعبے کی شمولیت بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ حکومت بنیادی ڈھانچہ اور قواعد و ضوابط فراہم کرے جبکہ نجی شعبے کو کارگو آپریشنز، گوداموں، لاجسٹک ٹرمینلز اور دیگر متعلقہ خدمات میں سرمایہ کاری کے مواقع دیے جائیں۔ تاہم نجی شعبے کی شمولیت کے ساتھ شفاف نگرانی اور واضح ضابطہ کار بھی ضروری ہوگا تاکہ عوامی اثاثے محض تجارتی مفادات کی نذر نہ ہوں۔
پاکستان کی معیشت میں برآمدات کا فروغ ایک اہم قومی ہدف ہے۔ برآمدی مصنوعات کی قیمت میں صرف پیداواری لاگت ہی شامل نہیں ہوتی بلکہ ان کی بندرگاہ تک ترسیل کا خرچ بھی عالمی منڈی میں مسابقت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر مال برداری مہنگی ہو تو پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی منڈی میں نسبتاً مہنگی پڑ سکتی ہیں۔ اس لیے کم لاگت اور مؤثر مال برداری کا نظام براہ راست برآمدات، صنعت، زراعت اور روزگار کے مواقع سے جڑا ہوا ہے۔
اسی طرح زرعی شعبہ بھی بہتر مال برداری کے نظام سے بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال بڑی مقدار میں زرعی اجناس پیدا ہوتی ہیں مگر مناسب ذخیرہ، کولڈ چین اور بروقت ترسیل نہ ہونے کے باعث پیداوار کا ایک حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر ریلوے اور سڑکوں کے مربوط نظام کے ساتھ جدید گودام اور کولڈ اسٹوریج مراکز قائم کیے جائیں تو کسانوں کو بہتر منڈی تک رسائی مل سکتی ہے اور شہری علاقوں میں اشیائے خوراک کی قیمتوں پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
حالیہ ہڑتال نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی بھی شعبے میں پالیسی بنانے سے پہلے متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ حکومت، ٹرانسپورٹرز، صنعت کاروں، درآمد کنندگان، برآمد کنندگان، ریلوے حکام اور ماہرینِ معیشت کو ایک مستقل مشاورتی فورم پر اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ اس فورم کے ذریعے نہ صرف موجودہ مسائل حل کیے جائیں بلکہ مستقبل کے لیے بھی قابلِ عمل پالیسیاں تیار کی جائیں۔ بار بار بحران پیدا ہونے اور پھر ہنگامی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے بجائے مستقل ادارہ جاتی مکالمہ زیادہ مفید ثابت ہوگا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ احتجاج کے حق اور قومی معیشت کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔ ٹرانسپورٹرز یا کسی بھی کاروباری طبقے کو اپنے جائز مطالبات پیش کرنے اور احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن طویل ہڑتال سے اگر خوراک، ادویات، صنعتی پیداوار یا برآمدی سرگرمیاں متاثر ہوں تو نقصان صرف حکومت یا کسی ایک فریق کا نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی طاقت یا انتظامی دباؤ کے بجائے مذاکرات، شفاف پالیسی اور بروقت فیصلوں کو ترجیح دینی چاہیے۔
مستقبل کے لیے سب سے اہم سبق یہی ہے کہ بحران کے خاتمے کے بعد اسے بھول نہ جایا جائے۔ پاکستان میں اکثر کسی بڑے مسئلے کے سامنے آنے کے بعد وقتی طور پر اقدامات کیے جاتے ہیں، لیکن بنیادی اصلاحات مؤخر ہو جاتی ہیں۔ نتیجتاً کچھ عرصے بعد وہی مسئلہ زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ سامنے آ جاتا ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹیشن کا موجودہ بحران بھی اگر صرف مذاکرات کے ذریعے ہڑتال ختم کرنے تک محدود رہا تو اس سے حاصل ہونے والا سبق ضائع ہو جائے گا۔حکومت کو ایک واضح ٹائم لائن کے ساتھ ریلوے کارگو کی بحالی کا منصوبہ بنانا چاہیے۔ بڑے صنعتی مراکز اور بندرگاہوں کے درمیان مخصوص کارگو کوریڈورز تیار کیے جائیں، نجی سرمایہ کاری کے لیے مراعات دی جائیں، ریلوے کے موجودہ اثاثوں کو بہتر بنایا جائے اور جدید لاجسٹک نظام سے منسلک کیا جائے۔ اس کے ساتھ سڑکوں کے نیٹ ورک کو بھی بہتر بنایا جائے تاکہ ریل سے اترنے والا سامان باآسانی اپنی آخری منزل تک پہنچ سکے۔
**تجزیہ بی این پی** کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ پاکستان کو مال برداری کے شعبے میں کسی ایک ذریعے پر انحصار کے بجائے کثیرالجہتی نظام کی طرف بڑھنا ہوگا۔ سڑک اور ریل ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز ملکی معیشت کے اہم شراکت دار ہیں اور ریلوے قومی انفراسٹرکچر کا اہم ستون ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے مربوط نظام کا حصہ بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
حالیہ نو روزہ ہڑتال نے ملکی معیشت کو جو نقصان پہنچایا، اسے محض ایک مالی رقم سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ بندرگاہوں پر سامان کی نقل و حرکت رکنے سے کاروباری فیصلے متاثر ہوتے ہیں، صنعتوں میں خام مال کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، برآمدی آرڈرز متاثر ہو سکتے ہیں اور ملک کی کاروباری ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچنے کے لیے مضبوط متبادل نظام کی تعمیر ضروری ہے۔
پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ہر بحران کے بعد وقتی انتظامات کرتا رہے گا یا بحرانوں کی بنیادی وجوہات کا مستقل حل تلاش کرے گا۔ گڈز ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں حالیہ واقعہ اصلاحات کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ حکومت اگر اس موقع کو سنجیدگی سے استعمال کرے، ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کرے، ریلوے کارگو کو جدید بنائے، نجی شعبے کو شفاف انداز میں شریک کرے اور سڑک و ریل کے درمیان مربوط نظام قائم کرے تو مستقبل میں نہ صرف ہڑتالوں کے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت کے مجموعی اخراجات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔
آخرکار ایک مضبوط معیشت کے لیے صرف فیکٹریاں، منڈیاں اور بندرگاہیں کافی نہیں ہوتیں؛ ان سب کو ایک دوسرے سے جوڑنے والا مؤثر ترسیلی نظام بھی ناگزیر ہوتا ہے۔ پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کا حجم بڑھانے، صنعت کو فروغ دینے، زرعی پیداوار کو منڈیوں تک پہنچانے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور عام صارف کو مناسب قیمت پر اشیائے ضروریہ فراہم کرنے کے لیے جدید مال برداری کا نظام بنیادی ضرورت ہے۔ حالیہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نے اس ضرورت کو پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔اب وقت ہے کہ حکومت، کاروباری طبقہ، ٹرانسپورٹرز اور ریلوے حکام وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ قومی حکمت عملی تشکیل دیں۔ مذاکرات کے ذریعے ہڑتال کا خاتمہ خوش آئند ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب آئندہ کسی ہڑتال یا بحران کے باعث ملکی معیشت کا پہیہ یرغمال نہ بن سکے۔ ریل کارگو کی بحالی، سڑکوں کی بہتری، جدید لاجسٹک نظام، شفاف قوانین اور تمام فریقوں کے درمیان مسلسل مشاورت ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مضبوط، کم لاگت اور قابلِ اعتماد مال برداری کے نظام کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یہی مستقبل کی معیشت کی ضرورت ہے اور یہی قومی مفاد کا تقاضا بھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- ایران کے محافظ آپ کی ٹانگیں توڑ دیں گے،ایرانی آرمی چیف کی ٹرمپ کو دھمکی
- امریکا کا چین کی جانب سے امریکی ٹیرف سے بچنے کیلئے تجارتی دھوکے بازی کا الزام
- ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کے ساتھ کرد صدر کے ذریعے خفیہ رابطے کیے، امریکی ویب سائٹ کا انکشاف
- ایران،امریکا جنگ؛ خلیجی اتحادی ٹرمپ سے مایوس، امریکی بیسز کی موجودگی پر سوالات اٹھانا شروع
- پاکستان میں ٹماٹر، پیاز، کدو اور برائلر گوشت مہنگا، سرکاری نرخوں کے برعکس سبزیاں مہنگی فروخت ہونے لگیں
- پاکستانی صارفین ریسٹورنٹس ،ہوٹلز سے خدمات لیتے وقت ڈیجیٹل رسید ضرور حاصل کریں’ پی آر اے
- جولائی 2026میں تنخواہ دار طبقے سے 44ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیاگیا
- ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری،پاکستان چین اسپورٹس فٹ ویئر تعاون کے معاہدے پر دستخط
- گال ٹیسٹ، امپائر راڈ ٹکر کی طبیعت ناساز، تیسرے روز فرائض ادانہ کر سکے
- فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی کے گولفر جیک وہیلی 1911 کے بعد سے یو ایس امیچور چیمپئن شپ جیتنے والے دوسرے انگلش کھلاڑی بن گئے