تجزیہ بی این پی
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور ان پر عائد مختلف محصولات گزشتہ کئی برس سے پاکستانی عوام کے لیے مسلسل بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کی علامت بن چکے ہیں۔ پٹرول محض ایک ایسی شے نہیں جس کا تعلق گاڑیوں کے ایندھن تک محدود ہو، بلکہ اس کی قیمت میں ہونے والا معمولی سا اضافہ بھی معیشت کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے لے کر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں تک، بجلی اور صنعتی پیداوار سے لے کر روزگار اور کاروباری سرگرمیوں تک، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر عام آدمی کی زندگی پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے لاہور سمیت کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں جاری دھرنوں نے ایک اہم قومی بحث کو جنم دیا ہے کہ حکومت اپنے مالی مسائل کا بوجھ آخر کب تک عام شہری پر منتقل کرتی رہے گی؟
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے لاہور میں دھرنے کے مقام پر خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم لیوی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور حکومت سے پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لٹر مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بلوں، نئے ٹیکسوں اور روزمرہ استعمال کی اشیائ کی بڑھتی قیمتوں کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کے بقول حکومت کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے اشرافیہ کی مراعات، غیر ضروری اخراجات اور حکومتی شاہ خرچیوں میں کمی کرنی چاہئے۔ جماعت اسلامی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ احتجاج پْرامن انداز میں جاری رکھا جائے گا اور حکومت کو عوامی مطالبات سننے پر مجبور کیا جائے گا۔
یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ پٹرولیم لیوی حکومت کے لیے محض ایک اضافی محصول نہیں بلکہ بجٹ کے مالیاتی اہداف پورے کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ بجٹ خسارے کو محدود رکھنے اور قومی محاصل کے اہداف پورے کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی عائد کرنا ناگزیر ہے۔ لیکن یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کو ہر مالی مشکل کا حل بالواسطہ ٹیکسوں میں نظر آئے گا تو پھر ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرنے والے طبقے کی معاشی گنجائش کہاں تک باقی رہے گی؟ ایک ایسا ملک جہاں متوسط طبقہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ گھر کے بنیادی اخراجات، تعلیم، صحت، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اور خوراک پر خرچ کرتا ہو، وہاں پٹرولیم مصنوعات پر مسلسل اضافی بوجھ بالآخر مہنگائی کی نئی لہروں کو جنم دیتا ہے۔
پٹرولیم لیوی کی مخالفت کرنے والی جماعتوں اور حلقوں کا یہ موقف نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ عوام سے محصول وصول کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو اپنے اخراجات کا بھی جائزہ لینا چاہئے۔ ریاستی وسائل محدود ہوں تو سب سے پہلے غیر ضروری اخراجات، شاہانہ مراعات، سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی اور ایسے منصوبوں کا جائزہ لینا چاہئے جن سے فوری طور پر عوامی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔ اگر قومی معیشت کا بوجھ صرف تنخواہ دار، مزدور، چھوٹے تاجر، کسان اور عام صارف اٹھائیں گے جبکہ صاحبِ ثروت طبقات اپنی آمدنی کے تناسب سے مناسب حصہ ادا نہیں کریں گے تو ٹیکس نظام کے بارے میں عوام کا اعتماد کم ہونا فطری امر ہے۔تاہم اس مسئلے کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ حکومت اگر پٹرولیم لیوی مکمل طور پر ختم کر دے تو اس سے قومی خزانے کو ہونے والی آمدنی میں کمی کیسے پوری کی جائے گی؟ یہ سوال محض حکومتی موقف کی حمایت نہیں بلکہ ایک سنجیدہ معاشی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ریاست کو تعلیم، صحت، دفاع، انفراسٹرکچر، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر بنیادی ذمہ داریوں کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں۔ اگر ایک اہم ذریعہ آمدن ختم کیا جاتا ہے تو اس کے متبادل کا واضح اور قابلِ عمل منصوبہ بھی سامنے آنا چاہئے۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ پٹرول سستا کر دیا جائے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کمی کو قومی بجٹ میں کس طرح پورا کیا جائے گا۔
جماعت اسلامی کی جانب سے مختلف شہروں میں دھرنے سیاسی اور جمہوری احتجاج کا حصہ ہیں۔ آئین شہریوں کو اپنے مطالبات کے اظہار، اجتماع اور پْرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اختلافی آوازوں کو سنے اور انہیں طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے مکالمے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اس معاملے پر بات چیت کی گنجائش موجود ہے اور اسے وسیع کیا جانا چاہئے۔
لیکن احتجاج کے ساتھ ایک دوسرا اصول بھی وابستہ ہے اور وہ ہے حقوق العباد کا احترام۔ لاہور کے مال روڈ پر چیئرنگ کراس کے مقام پر دھرنے کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور شہریوں کو متبادل راستوں پر سفر کرنا پڑا۔ کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں بھی دھرنوں کے باعث معمولات زندگی متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اگرچہ دھرنے پْرامن ہوں اور کسی قسم کا تشدد نہ ہو، تب بھی طویل عرصے تک اہم شاہراہوں کی بندش شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
احتجاج کا مقصد اگر عوام کے مسائل اجاگر کرنا ہے تو احتجاج کے ایسے طریقے اختیار کیے جانے چاہئیں جن میں عوام ہی کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مزدور، طالب علم، مریض، سرکاری ملازم، کاروباری افراد اور روزانہ سفر کرنے والے شہری کسی سیاسی تنازع کے فریق نہیں ہوتے۔ ایک شہری اگر کسی اسپتال پہنچنے، امتحان دینے، روزگار پر جانے یا ضروری کام کے لیے گھر سے نکلتا ہے تو اسے کئی گھنٹے ٹریفک میں پھنسنا نہ پڑے، یہ بھی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اسلامی تعلیمات میں بھی راستے اور عوامی سہولت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ راستہ عام لوگوں کی مشترکہ ضرورت ہے اور اسے بلاوجہ روکنا دوسروں کے لیے اذیت کا باعث بنتا ہے۔ اسی لیے احتجاج کرنے والے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو بھی اس امر کا خیال رکھنا چاہئے کہ ان کا احتجاج حکومت کے خلاف ہو، عام شہری کے خلاف نہیں۔ حکومت کو دباؤ میں لانے کے لیے ایسے طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں جو پْرامن بھی ہوں اور شہری زندگی کے لیے کم سے کم مشکلات کا سبب بھی بنیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر حکومت عوامی احتجاج کو صرف ٹریفک کی رکاوٹ سمجھ کر نظرانداز کرے گی تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ دھرنے کے پیچھے موجود معاشی اضطراب کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بجلی کے بل، اشیائے خورونوش، کرایے، تعلیمی اخراجات اور علاج معالجے کی لاگت پہلے ہی عام آدمی کے لیے پریشانی کا باعث بن چکی ہو، پٹرول کی قیمت میں اضافہ پورے معاشی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے۔
پٹرول مہنگا ہونے سے صرف گاڑی چلانے والے شخص کا خرچ نہیں بڑھتا بلکہ سبزی، دودھ، آٹا، پھل، گوشت، ادویات اور دیگر سامان کی نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے۔ فیکٹریوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، کاروبار کے اخراجات بڑھتے ہیں، ٹرانسپورٹ کے کرائے متاثر ہوتے ہیں اور بالآخر اس کا اثر صارف تک پہنچتا ہے۔ اس لیے پٹرولیم قیمتوں کا معاملہ صرف ایک محصول یا ایک بجٹ آئٹم نہیں بلکہ مہنگائی کے پورے نظام سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
حکومت کو چاہئے کہ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر عوام کے سامنے مکمل شفافیت اختیار کرے۔ بتایا جائے کہ لیوی سے سالانہ کتنی آمدنی حاصل ہوتی ہے، یہ رقم کہاں خرچ ہوتی ہے، اس کے بغیر بجٹ میں کتنی کمی پیدا ہوگی اور حکومت اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کون سے متبادل ذرائع اختیار کر سکتی ہے۔ اسی طرح اگر حکومت کے لیے لیوی ختم کرنا فوری طور پر ممکن نہیں تو اس میں مرحلہ وار کمی کا منصوبہ بھی سامنے لایا جا سکتا ہے۔
جماعت اسلامی کے احتجاج میں اٹھائے گئے سوالات کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے حکومت کے مالیاتی فیصلوں کو عوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ تاہم صرف احتجاج اور مطالبات کافی نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اب اپنے متبادل معاشی پروگرام بھی پیش کرنے چاہئیں۔ اگر کسی جماعت کا موقف ہے کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے تو اسے یہ بھی بتانا چاہئے کہ اس کے نتیجے میں ہونے والی آمدنی کی کمی کیسے پوری کی جائے گی۔
اسی تناظر میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی جانب سے حکومتی بجٹ کے بعد متبادل یا شیڈو بجٹ پیش کرنے کی مثال قابلِ غور ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان بھی اگر پٹرولیم لیوی پر حکومت کو چیلنج کر رہی ہے تو وہ ایک مکمل متبادل مالیاتی منصوبہ سامنے لا سکتی ہے۔ اس میں غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی، اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ، ٹیکس چوری کی روک تھام، جائیداد اور بڑے کاروباری مفادات سے مؤثر ٹیکس وصولی، سرکاری اداروں کی اصلاح، برآمدات میں اضافہ اور توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات شامل کی جا سکتی ہیں۔
**تجزیہ بی این پی** کے مطابق، اصل ضرورت محض پٹرول سستا کرنے یا مہنگا کرنے کی بحث سے آگے بڑھنے کی ہے۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی آمدنی اور اخراجات کے درمیان مستقل خلیج موجود ہے۔ جب تک ٹیکس کا دائرہ وسیع نہیں کیا جاتا، دستاویزی معیشت کو فروغ نہیں دیا جاتا، ٹیکس چوری روکی نہیں جاتی اور غیر پیداواری اخراجات کم نہیں کیے جاتے، حکومت کسی نہ کسی شکل میں عوام سے مزید محصولات وصول کرنے پر مجبور ہوتی رہے گی۔
اس لیے پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کو ایک بڑے معاشی مکالمے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ اپوزیشن یا مذہبی و سیاسی جماعتوں کے احتجاج کو محض سیاسی سرگرمی سمجھنے کے بجائے اس میں موجود عوامی شکایات کا جائزہ لے۔ اگر عوام کا ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کر رہا ہے کہ ٹیکسوں کا بوجھ منصفانہ نہیں تو اس احساس کا ازالہ اعداد و شمار، پالیسی اور عملی اقدامات سے ہونا چاہئے۔
پاکستان میں ٹیکس نظام کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ٹیکس دینا نہیں چاہتے، بلکہ یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ کس تناسب سے کس طبقے پر پڑتا ہے۔ جب ایک عام شہری پٹرول، بجلی، موبائل فون، اشیائے خورونوش اور دیگر روزمرہ ضروریات پر بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے تو اسے یہ توقع بھی ہوتی ہے کہ صاحبِ ثروت افراد اور بڑے کاروباری طبقات اپنی حقیقی آمدنی کے مطابق براہِ راست ٹیکس ادا کریں گے۔
ریاست اگر عوام سے قربانی مانگتی ہے تو حکمران طبقات کو بھی مثال قائم کرنا ہوگی۔ سرکاری مراعات، غیر ضروری گاڑیاں، وسیع سرکاری پروٹوکول، غیر ضروری بیرونی دورے، خسارہ دینے والے اداروں کے اخراجات اور ایسے انتظامی ڈھانچے جن کی افادیت محدود ہو، ان سب پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے۔ مالیاتی نظم و ضبط صرف عام آدمی کے لیے نہیں بلکہ حکومت اور اشرافیہ کے لیے بھی یکساں ہونا چاہئے۔
پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی رقم اگر قومی تعمیر و ترقی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں پر شفاف انداز میں خرچ ہو تو عوام شاید اس کے جواز کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ لیکن جب انہیں اپنے اردگرد بنیادی سہولتوں کی کمی نظر آئے اور دوسری جانب ٹیکسوں میں مسلسل اضافہ ہوتا دکھائی دے تو بے چینی میں اضافہ ناگزیر ہے۔
موجودہ دھرنے حکومت کے لیے ایک موقع بھی ہیں۔ حکومت چاہے تو اس احتجاج کو تصادم کے بجائے مکالمے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کے نمائندوں کو باضابطہ مذاکرات کی دعوت دی جائے، ان کے معاشی مطالبات سنے جائیں اور پٹرولیم لیوی کے مکمل مالیاتی اثرات پر مشترکہ بریفنگ دی جائے۔ اگر مطالبہ قابلِ عمل ہو تو حکومت مرحلہ وار اقدامات کرے اور اگر کوئی مطالبہ قومی معیشت کے لیے ناقابلِ عمل ہو تو اس کی وجوہات عوام کے سامنے واضح کرے۔
اسی طرح جماعت اسلامی کو بھی احتجاج کی طاقت کو مثبت معاشی تجاویز کے ساتھ جوڑنا چاہئے۔ سڑکیں بند کرنے کے بجائے ایسے مقامات پر بڑے اجتماعات، عوامی سماعتیں، معاشی سیمینار اور متبادل بجٹ کی پیشکش زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے احتجاج کا پیغام بھی زیادہ دور تک پہنچے گا اور عام شہری بھی غیر ضروری مشکلات سے محفوظ رہیں گے۔
بالآخر پٹرولیم لیوی کا معاملہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان محض سیاسی کشمکش نہیں ہونا چاہئے۔ یہ پاکستان کے ٹیکس نظام، مالیاتی نظم، عوامی سہولت، مہنگائی اور معاشی انصاف کا مسئلہ ہے۔ حکومت کو عوام کی قوتِ خرید اور معاشی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے محصولات کی پالیسی مرتب کرنا ہوگی، جبکہ سیاسی جماعتوں کو بھی محض نعرے اور مطالبات نہیں بلکہ قابلِ عمل متبادل پیش کرنا ہوں گے۔
تجزیہ بی این پی یہ واضح کرتا ہے کہ احتجاج جمہوریت کی روح ہے اور عوامی مسائل کے اظہار کا بنیادی ذریعہ بھی، مگر احتجاج کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ حکومت پر دباؤ ڈالنا سیاسی حق ہے لیکن شہریوں کے راستے بند کرنا اس حق کی حدود کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر مالیاتی مسئلے کا فوری حل عوام پر نیا بوجھ ڈالنا نہیں۔ پٹرولیم لیوی اگر واقعی قومی ضرورت ہے تو اس کا جواز شفافیت سے ثابت کیا جائے، اور اگر اس میں کمی کی گنجائش ہے تو عوام کو ریلیف دیا جائے۔
پاکستان کو آج ایسے سیاسی رویے کی ضرورت ہے جس میں احتجاج بھی ہو مگر تخریب نہ ہو، اختلاف بھی ہو مگر دشمنی نہ ہو، مطالبہ بھی ہو مگر متبادل حل بھی موجود ہو۔ پٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے اگر اسی وسیع تر معاشی بحث کو جنم دینے میں کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں ایک مثبت سیاسی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت عوامی اضطراب کو سمجھے، جماعت اسلامی اپنے مطالبات کے ساتھ متبادل مالیاتی خاکہ پیش کرے اور دونوں فریق اس بات پر متفق ہوں کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر عام شہری کے معمولات زندگی اور حقوق العباد کا تحفظ ہر حال میں مقدم رہنا چاہئے۔
حقیقی حل یہی ہے کہ حکومت اخراجات میں کفایت، ٹیکس نظام میں انصاف، محصولات کے دائرے میں توسیع، اشرافیہ کی مراعات میں کمی اور معیشت کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کی طرف بڑھے۔ عوام کو بار بار پٹرول، بجلی اور دیگر بنیادی ضرورتوں کی قیمتوں کے ذریعے مالیاتی بحران کا بوجھ منتقل کرنے کی پالیسی طویل مدت میں نہ حکومت کے لیے قابلِ عمل ہے اور نہ معیشت کے لیے۔ پائیدار راستہ وہی ہے جس میں ریاست بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے، سیاسی جماعتیں بھی ذمہ دارانہ متبادل دیں اور عوام بھی احتجاج کے حق کو دوسروں کے حقوق کے احترام کے ساتھ استعمال کریں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Trending
- پاکستان میں پٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے، عوامی احتجاج اور معاشی ذمہ داری کا سوال
- پاکستان میں نئے صوبے: ضرورت، اتفاقِ رائے اور مضبوط بلدیاتی نظام
- صاف پانی کی فراہمی، پنجاب حکومت کی عوامی خدمت کا قابلِ ستائش قدم
- دالبندین، این-40 پر مسلح افراد نے سامان سے لدے ٹرک کو نذرِ آتش کردیا
- محکمہ آبپاشی کے سرکاری اثاثوں کی سستے داموں نیلامی کا انکشاف، اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کر لیا
- پی ٹی سی ایل نے ملک کے 22 اضلاع میں خواتین کی ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ کیلئے آئی آر ایم سے اشتراک کر لیا
- فتنة الہندوستان کے دہشتگردوں کو بیرونی سرپرستی اور مالی معاونت کے مزید شواہد سامنے آ گئے
- بانی پی ٹی آئی کی 1 آنکھ نارمل ہو چکی، اہلیہ سے 84 ملاقاتیں کروائیں،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع
- سانحہ زیارت منگی ڈیم، بلوچستان حکومت نے عدالتی انکوائری شروع کردی، جسٹس محمد عامر نواز رانا کمیشن کے سربراہ مقرر
- کوئٹہ، جناح روڈ پر منشیات کے عادی افراد کی بھر مار، خواتین اور بچوں سمیت شہری و تاجر شدید تشویش میں مبتلا